<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 14:19:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 14:19:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سوات کی غیر معروف بلند ترین چوٹی 'فلک سیر' کی سیر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1067727/swat-ki-gair-maaruf-buland-tareen-choti-falak-sair-ki-sair-amjad-ali-sahaab</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;ul class="story__toc" style="display: none"&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_0"&gt;سوات کی غیر معروف بلند ترین چوٹی &amp;#39;فلک سیر&amp;#39; کی سیر&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;/div&gt;&lt;h1 id="toc_0"&gt;سوات کی غیر معروف بلند ترین چوٹی &amp;#39;فلک سیر&amp;#39; کی سیر&lt;/h1&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/authors/1864' &gt;امجد علی سحاب&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پاکستان کا شمار دنیا کے اُن گنے چُنے ملکوں میں ہوتا ہے جہاں درجنوں کے حساب سے فلک بوس پہاڑوں کی چوٹیاں واقع ہیں۔ اِس حوالے سے کیا یہ قدرت کی فیاضی نہیں کہ یہاں 108 چوٹیاں 7 ہزار میٹر سے زیادہ بلندی کی حامل ہیں؟ کم و بیش اتنی ہی چوٹیاں 6 ہزار میٹر سے بلند ہیں، جبکہ 5 ہزار اور 4 ہزار میٹر کے درمیان چوٹیوں کی تعداد نامعلوم ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اِس طرح دنیا کی پہلی 14 بلند ترین چوٹیوں میں سے 5 صرف پاکستان میں ہیں، جن میں سے 4 صرف کنکارڈیا میں واقع ہیں۔ مؤخرالذکر چوٹیوں میں K-2 تقریباً 8 ہزار 611 میٹر کی بلندی کے ساتھ پوری دنیا میں دوسری جبکہ پاکستان میں پہلی پوزیشن پر کھڑی ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اِس کے بعد نانگا پربت کی باری آتی ہے جسے عام طور پر ’قاتل پہاڑ‘ (Killer Mountain) بھی پکارا جاتا ہے۔ یہ چوٹی 8 ہزار 126 میٹر کی بلندی کے ساتھ پوری دنیا میں 9ویں جبکہ پاکستان میں دوسری پوزیشن کے ساتھ کھڑی ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پہاڑوں کا علم رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان کی سب سے بلند ترین چوٹیاں سلسلۂ قراقرم میں واقع ہیں، جو تقریباً سبھی گلگت بلتستان میں ہیں۔ کچھ چوٹیاں جو 7 ہزار میٹر سے زیادہ بلندی کی حامل ہیں، اُنہیں سلسلۂ ہمالیہ اور ہندوکش میں شمار کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;وہ تمام چوٹیاں جو 7 ہزار تا 8 ہزار میٹر بلند ہیں، تمام کی درجہ بندی کی گئی ہے، جبکہ 7 ہزار سے نیچے بے شمار چوٹیوں کو درجہ بندی کے بغیر رکھ چھوڑا گیا ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اِن بغیر درجہ بندی کی چوٹیوں میں سے ایک &amp;#39;فلک سیر&amp;#39; بھی ہے، جسے مقامی طور پر &amp;#39;شرمیلی چوٹی&amp;#39; بھی کہا جاتا ہے۔ ایک بات جس سے مجھے سخت چڑ ہے، وہ یہ کہ اسے مقامی لوگ &amp;#39;مِنی کے ٹو&amp;#39; (Mini k-2) کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ جس کی وجہ اِس چوٹی کی ساخت ہے۔ یہ بالکل ’k-2‘ جیسی دکھائی دیتی ہے۔ میرا مؤقف ہے کہ اِس طرح یہ چوٹی اپنی شناخت کھو بیٹھے گی اِس لیے بہتر ہوگا کہ اِسے ’فلک سیر‘ لکھا اور پکارا جائے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a02dc6eb9e19.jpg'  alt='چشمۂ شفا سے فلک سیر چوٹی کا منظر&amp;mdash;تصویر امجد علی سحاب' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;چشمۂ شفا سے فلک سیر چوٹی کا منظر—تصویر امجد علی سحاب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a02e31c066cf.jpg'  alt='راستہ میں آنے والی سوات کی سب سے بڑی آبشار&amp;mdash;تصویر امجد علی سحاب' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;راستہ میں آنے والی سوات کی سب سے بڑی آبشار—تصویر امجد علی سحاب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a02dc4bac02a.jpg'  alt='چشمۂ شفا میں صبح کا ناشتہ تیار کیا جا رہا ہے&amp;mdash;تصویر امجد علی سحاب' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;چشمۂ شفا میں صبح کا ناشتہ تیار کیا جا رہا ہے—تصویر امجد علی سحاب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تقریباً تین سال پہلے سپین خوڑ جھیل (وادئی اتروڑ، کالام سوات) سے واپسی کے وقت ہمارے سفید ریش مگر چاق و چوبند گائیڈ عمر رحیم نے فلک سیر چوٹی کے بارے میں پہلی بار مجھے ایک عام سی بات بتائی تھی کہ &amp;#39;یہ چوٹی دُلہن کی طرح شرمیلی ہے۔&amp;#39;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دراصل پشتون معاشرے میں جب کسی لڑکی کی شادی ہوتی ہے، تو وہ تین دن تک سسرال میں کسی کو اپنا چہرہ نہیں دکھاتی۔ عمر رحیم کے بقول، جب بھی کوئی سیاح فلک سیر کی سیر کا قصد کرتا ہے، تو اُسے مایوسی کا شکار ہونا پڑتا ہے، کیونکہ مذکورہ چوٹی ہر قریب جانے والے سے اپنا منہ مختلف حربوں سے چھپا لیتی ہے۔ جوں جوں سیاح چوٹی کے قریب پہنچتا ہے، توں توں یہ دینو ساری جاپانی پہلوانوں کی طرح کھڑے موٹے موٹے پہاڑوں کی اوٹ میں چھپنے کی کوشش کرتی ہے۔ اِس آنکھ مچولی میں اگر سیاح فلک سیر بیس کیمپ تک بھی پہنچ جائیں تو وہاں مذکورہ چوٹی کہر کی چادر اوڑھ کر سیاحوں کو اپنا دیدار کرائے بغیر واپس لوٹا دیتی ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;فلک سیر کی بلندی 5 ہزار 918 میٹر یعنی 19 ہزار 416 فٹ ہے۔ گوکہ فلک سیر قومی و بین الاقوامی دونوں لحاظ سے چوٹیوں کی دوڑ میں کافی پیچھے ہے، مگر پھر بھی اِسے یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ سوات میں سلسلۂ کوہِ ہندوکش کی سب سے بڑی چوٹی ہے۔ اِس کے بعد مانکیال چوٹی کی باری آتی ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a02dc4a58057.jpg'  alt='فلک سیر بیس کیمپ کی طرف پیش قدمی جاری ہے&amp;mdash;تصویر امجد علی سحاب' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;فلک سیر بیس کیمپ کی طرف پیش قدمی جاری ہے—تصویر امجد علی سحاب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a02e7a37616c.jpg'  alt='تھکنے کے بعد سستانے کا ایک منظر&amp;mdash;تصویر امجد علی سحاب' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;تھکنے کے بعد سستانے کا ایک منظر—تصویر امجد علی سحاب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a02dc4a19ae9.jpg'  alt='ایس پی ایس ٹریکنگ کلب کا سب سے چھوٹا ممبر جس کی عمر آٹھ سال ہے&amp;mdash;تصویر امجد علی سحاب' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ایس پی ایس ٹریکنگ کلب کا سب سے چھوٹا ممبر جس کی عمر آٹھ سال ہے—تصویر امجد علی سحاب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;مگر دوسری طرف اگر اِسے سر کرنے کی شرح کو دیکھا جائے تو آدمی ہکا بکا رہ جاتا ہے۔ اِس کو پہلے پہل 1957ء میں نیوزی لینڈ کے دو کوہِ پیماؤں W.K.A Berry اور C.H. Tyndale-Biscoe نے سر کرکے تاریخ رقم کی تھی۔ دونوں کوہ پیماؤں نے سخت مشقت کے بعد شمال کی طرف سے اِس چوٹی کو سر کیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دوسری بار اِسے سر کرنے کا معرکہ Dr. Wolf Gang Stephen نے انجام دیا تھا۔ تیسری بار فلک سیر کی چوٹی کو سر کرنے والے دو جاپانی (Yoshiyuki Nagahiro and Toshiyuki Akiyama) تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ٹریکنگ کے حوالے سے سرگرم ویب سائٹ کی ایک اسٹوری کے مطابق 2014ء میں 6 پاکستانیوں پر مشتمل ٹیم جس کی قیادت ڈاکٹر کرنل (ر) عبدالجبار بھٹی کر رہے تھے، تقریباً ایک ہفتے کی مسلسل کوششوں کے باوجود فلک سیر کی چوٹی کو سر کرنے میں ناکام رہی اور بے نوا واپس ہوئی۔ ٹیم کے دیگر ممبران احمد مجتبیٰ، محمود رشید، سعد محمد، سید محمد جواد اور ایم آصف بھٹی تھے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a02dc4ba337d.jpg'  alt='راستہ میں فلک سیر کی چوٹی کی لی گئی تصویر&amp;mdash;تصویر امجد علی سحاب' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;راستہ میں فلک سیر کی چوٹی کی لی گئی تصویر—تصویر امجد علی سحاب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a02dc4b52edf.jpg'  alt='اس زاویہ سے فلک سیر کی چوٹی پر K-2 کا گماں ہوتا ہے&amp;mdash;تصویر امجد علی سحاب' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;اس زاویہ سے فلک سیر کی چوٹی پر K-2 کا گماں ہوتا ہے—تصویر امجد علی سحاب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a02dc4b5bed6.jpg'  alt='فلک سیر بیس کیمپ کے راستے میں میٹھے پانی کے جھرنے جگہ جگہ دکھائی دیتے ہیں&amp;mdash;تصویر امجد علی سحاب' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;فلک سیر بیس کیمپ کے راستے میں میٹھے پانی کے جھرنے جگہ جگہ دکھائی دیتے ہیں—تصویر امجد علی سحاب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ مذکورہ پاکستانی ٹیم تقریباً 5 ہزار 325 میٹر کی صبر آزما مسافت طے کر چکی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;فلک سیر بیس کیمپ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے تحصیل مٹہ کے راستے بحرین تک 68 کلومیٹر کا فاصلہ پکی سڑک کی شکل میں باآسانی ڈیڑھ گھنٹے سے لے کر دو گھنٹے میں طے کیا جاسکتا ہے۔ اِس سے آگے کا راستہ کچی سڑک کی شکل میں فور بائے فور جیپ کے ذریعے طے کیا جاسکتا ہے۔ دوسرا مقام کالام بازار ہو تو از چہ بہتر؟ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بحرین سے کالام تک کا کچا راستہ تقریباً 35 کلومیٹر ہے، جو تین گھنٹے میں طے کیا جاسکتا ہے۔ کالام بازار میں دوپہر کا کھانا تناول فرمانے کے لیے ایک سے ایک بہتر ریسٹورنٹ موجود ہے۔ یہاں سے آگے اوشو مٹلتان کے راستے چشمۂ شفا کے لیے رختِ سفر باندھنا پڑتا ہے۔ یہ سفر بھی کافی صبر آزما ہے جسے ڈیڑھ سے دو گھنٹے میں طے کیا جاسکتا ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a02dc52048d3.jpg'  alt='فلک سیر بیس کیمپ&amp;mdash;تصویر امجد علی سحاب' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;فلک سیر بیس کیمپ—تصویر امجد علی سحاب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a02e9696cf02.jpg'  alt='شمال کی طرف سے فلک سیر چوٹی کی لی جانے والی ایک نایاب تصویر&amp;mdash;تصویر امجد علی سحاب' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شمال کی طرف سے فلک سیر چوٹی کی لی جانے والی ایک نایاب تصویر—تصویر امجد علی سحاب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;چشمۂ شفا میں کیمپنگ کے لیے فُٹ بال اسٹیڈیم جتنا وسیع میدان ہے۔ اِس مقام کی وجۂِ تسمیہ یہاں صدیوں سے جاری وہ چشمہ ہے جس کا پانی دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ سیاح جب بھی اِس مقام سے گزرتے ہیں، وہ اپنے ساتھ پانی کی بوتل لانا اور یہاں سے پانی بھرنا نہیں بھولتے۔ چشمۂ شفا میں کیمپنگ کرنے کے بعد اگلی صبح فلک سیر بیس کیمپ کے لیے دو چوائس ہیں۔ پہلی، پانچ گھنٹے کی صبر آزما ہائیکنگ کے بعد رات گزارنے کے لیے ’ڈھیرئی‘ نامی مقام پر کیمپنگ کی جائے اور تیسری صبح سویرے سویرے بیس کیمپ کے لئے پر تولے جائیں۔ دوسری چوائس یہ کہ 9 سے 10 گھنٹے کی صبر آزما ہائیکنگ کے بعد فلک سیر بیس کیمپ تک رسائی حاصل کی جائے اور وہاں رات گزاری جائے۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سطح سمندر سے فلک سیر بیس کیمپ کی اونچائی 4 ہزار 256 میٹر ہے۔ اکتوبر کے مہینے میں چونکہ بیس کیمپ کے پہاڑ برف کی سفید چادر اوڑھے دکھائی دیتے ہیں، اِس لیے وہاں کا ماحول کسی فریزر سے کم نہیں ہوتا۔ مئی کے اوائل سے ستمبر کے وسط تک کا دورانیہ فلک سیر بیس کیمپ کی سیاحت کے لیے موزوں ترین ہے۔ اگر کوہِ پیماؤں یا ہائیکنگ اور ٹریکنگ کرنے والوں نے فلک سیر بیس کیمپ کی طرف تھوڑی سی بھی توجہ دی، تو کوئی امر مانع نہیں کہ یہ بھی K-2 یا ماؤنٹ ایوریسٹ بیس کیمپ کی طرح قومی و بین الاقوامی شہرت کی حامل جگہ نہ بنے۔ &lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/6 w-full  media--right    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/urdu/users/1864.jpg?r=1880082112'  alt='' /&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			

امجد علی سحابؔ روزنامہ آزادی اسلام آباد اور باخبر سوات ڈاٹ کام کے ایڈیٹر ہیں۔ اردو کو بطور مضمون پڑھاتے ہیں۔ اس کے ساتھ فری لانس صحافی بھی ہیں۔ نئی دنیائیں کھوجنے کے ساتھ ساتھ تاریخ و تاریخی مقامات میں دلچسپی بھی رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'><ul class="story__toc" style="display: none">
<li>
<a href="#toc_0">سوات کی غیر معروف بلند ترین چوٹی &#39;فلک سیر&#39; کی سیر</a>
</li>
</ul>
</div><h1 id="toc_0">سوات کی غیر معروف بلند ترین چوٹی &#39;فلک سیر&#39; کی سیر</h1>
<p class=''><strong><a href='https://www.dawnnews.tv/authors/1864' >امجد علی سحاب</a></strong></p><p class=''>پاکستان کا شمار دنیا کے اُن گنے چُنے ملکوں میں ہوتا ہے جہاں درجنوں کے حساب سے فلک بوس پہاڑوں کی چوٹیاں واقع ہیں۔ اِس حوالے سے کیا یہ قدرت کی فیاضی نہیں کہ یہاں 108 چوٹیاں 7 ہزار میٹر سے زیادہ بلندی کی حامل ہیں؟ کم و بیش اتنی ہی چوٹیاں 6 ہزار میٹر سے بلند ہیں، جبکہ 5 ہزار اور 4 ہزار میٹر کے درمیان چوٹیوں کی تعداد نامعلوم ہے۔</p><p class=''>اِس طرح دنیا کی پہلی 14 بلند ترین چوٹیوں میں سے 5 صرف پاکستان میں ہیں، جن میں سے 4 صرف کنکارڈیا میں واقع ہیں۔ مؤخرالذکر چوٹیوں میں K-2 تقریباً 8 ہزار 611 میٹر کی بلندی کے ساتھ پوری دنیا میں دوسری جبکہ پاکستان میں پہلی پوزیشن پر کھڑی ہے۔ </p><p class=''>اِس کے بعد نانگا پربت کی باری آتی ہے جسے عام طور پر ’قاتل پہاڑ‘ (Killer Mountain) بھی پکارا جاتا ہے۔ یہ چوٹی 8 ہزار 126 میٹر کی بلندی کے ساتھ پوری دنیا میں 9ویں جبکہ پاکستان میں دوسری پوزیشن کے ساتھ کھڑی ہے۔ </p><p class=''>پہاڑوں کا علم رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان کی سب سے بلند ترین چوٹیاں سلسلۂ قراقرم میں واقع ہیں، جو تقریباً سبھی گلگت بلتستان میں ہیں۔ کچھ چوٹیاں جو 7 ہزار میٹر سے زیادہ بلندی کی حامل ہیں، اُنہیں سلسلۂ ہمالیہ اور ہندوکش میں شمار کیا جاتا ہے۔</p><p class=''>وہ تمام چوٹیاں جو 7 ہزار تا 8 ہزار میٹر بلند ہیں، تمام کی درجہ بندی کی گئی ہے، جبکہ 7 ہزار سے نیچے بے شمار چوٹیوں کو درجہ بندی کے بغیر رکھ چھوڑا گیا ہے۔ </p><p class=''>اِن بغیر درجہ بندی کی چوٹیوں میں سے ایک &#39;فلک سیر&#39; بھی ہے، جسے مقامی طور پر &#39;شرمیلی چوٹی&#39; بھی کہا جاتا ہے۔ ایک بات جس سے مجھے سخت چڑ ہے، وہ یہ کہ اسے مقامی لوگ &#39;مِنی کے ٹو&#39; (Mini k-2) کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ جس کی وجہ اِس چوٹی کی ساخت ہے۔ یہ بالکل ’k-2‘ جیسی دکھائی دیتی ہے۔ میرا مؤقف ہے کہ اِس طرح یہ چوٹی اپنی شناخت کھو بیٹھے گی اِس لیے بہتر ہوگا کہ اِسے ’فلک سیر‘ لکھا اور پکارا جائے۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a02dc6eb9e19.jpg'  alt='چشمۂ شفا سے فلک سیر چوٹی کا منظر&mdash;تصویر امجد علی سحاب' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">چشمۂ شفا سے فلک سیر چوٹی کا منظر—تصویر امجد علی سحاب</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a02e31c066cf.jpg'  alt='راستہ میں آنے والی سوات کی سب سے بڑی آبشار&mdash;تصویر امجد علی سحاب' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">راستہ میں آنے والی سوات کی سب سے بڑی آبشار—تصویر امجد علی سحاب</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a02dc4bac02a.jpg'  alt='چشمۂ شفا میں صبح کا ناشتہ تیار کیا جا رہا ہے&mdash;تصویر امجد علی سحاب' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">چشمۂ شفا میں صبح کا ناشتہ تیار کیا جا رہا ہے—تصویر امجد علی سحاب</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>تقریباً تین سال پہلے سپین خوڑ جھیل (وادئی اتروڑ، کالام سوات) سے واپسی کے وقت ہمارے سفید ریش مگر چاق و چوبند گائیڈ عمر رحیم نے فلک سیر چوٹی کے بارے میں پہلی بار مجھے ایک عام سی بات بتائی تھی کہ &#39;یہ چوٹی دُلہن کی طرح شرمیلی ہے۔&#39;</p><p class=''>دراصل پشتون معاشرے میں جب کسی لڑکی کی شادی ہوتی ہے، تو وہ تین دن تک سسرال میں کسی کو اپنا چہرہ نہیں دکھاتی۔ عمر رحیم کے بقول، جب بھی کوئی سیاح فلک سیر کی سیر کا قصد کرتا ہے، تو اُسے مایوسی کا شکار ہونا پڑتا ہے، کیونکہ مذکورہ چوٹی ہر قریب جانے والے سے اپنا منہ مختلف حربوں سے چھپا لیتی ہے۔ جوں جوں سیاح چوٹی کے قریب پہنچتا ہے، توں توں یہ دینو ساری جاپانی پہلوانوں کی طرح کھڑے موٹے موٹے پہاڑوں کی اوٹ میں چھپنے کی کوشش کرتی ہے۔ اِس آنکھ مچولی میں اگر سیاح فلک سیر بیس کیمپ تک بھی پہنچ جائیں تو وہاں مذکورہ چوٹی کہر کی چادر اوڑھ کر سیاحوں کو اپنا دیدار کرائے بغیر واپس لوٹا دیتی ہے۔ </p><p class=''>فلک سیر کی بلندی 5 ہزار 918 میٹر یعنی 19 ہزار 416 فٹ ہے۔ گوکہ فلک سیر قومی و بین الاقوامی دونوں لحاظ سے چوٹیوں کی دوڑ میں کافی پیچھے ہے، مگر پھر بھی اِسے یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ سوات میں سلسلۂ کوہِ ہندوکش کی سب سے بڑی چوٹی ہے۔ اِس کے بعد مانکیال چوٹی کی باری آتی ہے۔ </p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a02dc4a58057.jpg'  alt='فلک سیر بیس کیمپ کی طرف پیش قدمی جاری ہے&mdash;تصویر امجد علی سحاب' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">فلک سیر بیس کیمپ کی طرف پیش قدمی جاری ہے—تصویر امجد علی سحاب</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a02e7a37616c.jpg'  alt='تھکنے کے بعد سستانے کا ایک منظر&mdash;تصویر امجد علی سحاب' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">تھکنے کے بعد سستانے کا ایک منظر—تصویر امجد علی سحاب</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a02dc4a19ae9.jpg'  alt='ایس پی ایس ٹریکنگ کلب کا سب سے چھوٹا ممبر جس کی عمر آٹھ سال ہے&mdash;تصویر امجد علی سحاب' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ایس پی ایس ٹریکنگ کلب کا سب سے چھوٹا ممبر جس کی عمر آٹھ سال ہے—تصویر امجد علی سحاب</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>مگر دوسری طرف اگر اِسے سر کرنے کی شرح کو دیکھا جائے تو آدمی ہکا بکا رہ جاتا ہے۔ اِس کو پہلے پہل 1957ء میں نیوزی لینڈ کے دو کوہِ پیماؤں W.K.A Berry اور C.H. Tyndale-Biscoe نے سر کرکے تاریخ رقم کی تھی۔ دونوں کوہ پیماؤں نے سخت مشقت کے بعد شمال کی طرف سے اِس چوٹی کو سر کیا تھا۔</p><p class=''>دوسری بار اِسے سر کرنے کا معرکہ Dr. Wolf Gang Stephen نے انجام دیا تھا۔ تیسری بار فلک سیر کی چوٹی کو سر کرنے والے دو جاپانی (Yoshiyuki Nagahiro and Toshiyuki Akiyama) تھے۔</p><p class=''>ٹریکنگ کے حوالے سے سرگرم ویب سائٹ کی ایک اسٹوری کے مطابق 2014ء میں 6 پاکستانیوں پر مشتمل ٹیم جس کی قیادت ڈاکٹر کرنل (ر) عبدالجبار بھٹی کر رہے تھے، تقریباً ایک ہفتے کی مسلسل کوششوں کے باوجود فلک سیر کی چوٹی کو سر کرنے میں ناکام رہی اور بے نوا واپس ہوئی۔ ٹیم کے دیگر ممبران احمد مجتبیٰ، محمود رشید، سعد محمد، سید محمد جواد اور ایم آصف بھٹی تھے۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a02dc4ba337d.jpg'  alt='راستہ میں فلک سیر کی چوٹی کی لی گئی تصویر&mdash;تصویر امجد علی سحاب' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">راستہ میں فلک سیر کی چوٹی کی لی گئی تصویر—تصویر امجد علی سحاب</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a02dc4b52edf.jpg'  alt='اس زاویہ سے فلک سیر کی چوٹی پر K-2 کا گماں ہوتا ہے&mdash;تصویر امجد علی سحاب' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">اس زاویہ سے فلک سیر کی چوٹی پر K-2 کا گماں ہوتا ہے—تصویر امجد علی سحاب</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a02dc4b5bed6.jpg'  alt='فلک سیر بیس کیمپ کے راستے میں میٹھے پانی کے جھرنے جگہ جگہ دکھائی دیتے ہیں&mdash;تصویر امجد علی سحاب' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">فلک سیر بیس کیمپ کے راستے میں میٹھے پانی کے جھرنے جگہ جگہ دکھائی دیتے ہیں—تصویر امجد علی سحاب</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>واضح رہے کہ مذکورہ پاکستانی ٹیم تقریباً 5 ہزار 325 میٹر کی صبر آزما مسافت طے کر چکی تھی۔</p><p class=''>فلک سیر بیس کیمپ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے تحصیل مٹہ کے راستے بحرین تک 68 کلومیٹر کا فاصلہ پکی سڑک کی شکل میں باآسانی ڈیڑھ گھنٹے سے لے کر دو گھنٹے میں طے کیا جاسکتا ہے۔ اِس سے آگے کا راستہ کچی سڑک کی شکل میں فور بائے فور جیپ کے ذریعے طے کیا جاسکتا ہے۔ دوسرا مقام کالام بازار ہو تو از چہ بہتر؟ </p><p class=''>بحرین سے کالام تک کا کچا راستہ تقریباً 35 کلومیٹر ہے، جو تین گھنٹے میں طے کیا جاسکتا ہے۔ کالام بازار میں دوپہر کا کھانا تناول فرمانے کے لیے ایک سے ایک بہتر ریسٹورنٹ موجود ہے۔ یہاں سے آگے اوشو مٹلتان کے راستے چشمۂ شفا کے لیے رختِ سفر باندھنا پڑتا ہے۔ یہ سفر بھی کافی صبر آزما ہے جسے ڈیڑھ سے دو گھنٹے میں طے کیا جاسکتا ہے۔ </p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a02dc52048d3.jpg'  alt='فلک سیر بیس کیمپ&mdash;تصویر امجد علی سحاب' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">فلک سیر بیس کیمپ—تصویر امجد علی سحاب</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a02e9696cf02.jpg'  alt='شمال کی طرف سے فلک سیر چوٹی کی لی جانے والی ایک نایاب تصویر&mdash;تصویر امجد علی سحاب' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شمال کی طرف سے فلک سیر چوٹی کی لی جانے والی ایک نایاب تصویر—تصویر امجد علی سحاب</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>چشمۂ شفا میں کیمپنگ کے لیے فُٹ بال اسٹیڈیم جتنا وسیع میدان ہے۔ اِس مقام کی وجۂِ تسمیہ یہاں صدیوں سے جاری وہ چشمہ ہے جس کا پانی دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ سیاح جب بھی اِس مقام سے گزرتے ہیں، وہ اپنے ساتھ پانی کی بوتل لانا اور یہاں سے پانی بھرنا نہیں بھولتے۔ چشمۂ شفا میں کیمپنگ کرنے کے بعد اگلی صبح فلک سیر بیس کیمپ کے لیے دو چوائس ہیں۔ پہلی، پانچ گھنٹے کی صبر آزما ہائیکنگ کے بعد رات گزارنے کے لیے ’ڈھیرئی‘ نامی مقام پر کیمپنگ کی جائے اور تیسری صبح سویرے سویرے بیس کیمپ کے لئے پر تولے جائیں۔ دوسری چوائس یہ کہ 9 سے 10 گھنٹے کی صبر آزما ہائیکنگ کے بعد فلک سیر بیس کیمپ تک رسائی حاصل کی جائے اور وہاں رات گزاری جائے۔ </p><p class=''>سطح سمندر سے فلک سیر بیس کیمپ کی اونچائی 4 ہزار 256 میٹر ہے۔ اکتوبر کے مہینے میں چونکہ بیس کیمپ کے پہاڑ برف کی سفید چادر اوڑھے دکھائی دیتے ہیں، اِس لیے وہاں کا ماحول کسی فریزر سے کم نہیں ہوتا۔ مئی کے اوائل سے ستمبر کے وسط تک کا دورانیہ فلک سیر بیس کیمپ کی سیاحت کے لیے موزوں ترین ہے۔ اگر کوہِ پیماؤں یا ہائیکنگ اور ٹریکنگ کرنے والوں نے فلک سیر بیس کیمپ کی طرف تھوڑی سی بھی توجہ دی، تو کوئی امر مانع نہیں کہ یہ بھی K-2 یا ماؤنٹ ایوریسٹ بیس کیمپ کی طرح قومی و بین الاقوامی شہرت کی حامل جگہ نہ بنے۔ </p><hr>
<figure class='media  issue1144 sm:w-1/6 w-full  media--right    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/urdu/users/1864.jpg?r=1880082112'  alt='' /></div>
				
			</figure>
<p>			

امجد علی سحابؔ روزنامہ آزادی اسلام آباد اور باخبر سوات ڈاٹ کام کے ایڈیٹر ہیں۔ اردو کو بطور مضمون پڑھاتے ہیں۔ اس کے ساتھ فری لانس صحافی بھی ہیں۔ نئی دنیائیں کھوجنے کے ساتھ ساتھ تاریخ و تاریخی مقامات میں دلچسپی بھی رکھتے ہیں۔</p><hr>
<p class=''>ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1067727</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Nov 2017 12:09:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امجد علی سحاب)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/11/5a044849124d4.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/11/5a044849124d4.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
