<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 31 May 2026 17:39:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 31 May 2026 17:39:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈائنا سور کے عہد کی 'زندہ مچھلی' پہلی بار دریافت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1068028/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;یقین کرنا مشکل ہوجائے گا مگر سائنسدانوں نے ڈائنا سورز کے عہد کی مچھلی کو زندہ دریافت کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جی ہاں واقعی پرتگال میں سائنسدانوں نے آٹھ کروڑ سال پرانے عہد کی شارک کی نسل کی مچھلی کو دریافت کیا ہے جس نے دنیا بھر میں ماہرین کے ذہنوں کو گھما کر رکھ دیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ایسا نہیں کہ یہ مچھلی آٹھ کروڑ سال سے زندہ تھی، بلکہ اس کی نسل اتنے طویل عرصے میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں : &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1021190' &gt;دنیا کی پہلی گرم خون والی مچھلی دریافت&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سائنسدانوں کے مطابق شارک کی یہ قسم اس وقت سے زمین پر موجود ہے جب ڈائنا سورز یہاں موجود تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس مچھلی کو &amp;#39;لیونگ فوسل&amp;#39; کا نام دیا گیا ہے جسے پرتگال میں الگویرا ساحلی علاقے سے دریافت کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یہ مچھلی دیکھنے میں سانپ کی طرح ہے، جس کی لمبائی ڈیڑھ میٹر ہے اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سمندر میں 390 سے 4200 فٹ گہرائی میں رہتی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a099f5ec7a7a.jpg'  alt='فوٹو بشکریہ آئی پی ایم اے' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;فوٹو بشکریہ آئی پی ایم اے&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یہی وجہ ہے کہ اس مچھلی کو پہلے کبھی دریافت کرنے میں کامیابی نہیں مل سکی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں : &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1048371/' &gt;9 کروڑ 90 لاکھ پرانی ڈائنا سار کی دم دریافت&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پرتگال کے نیشنل میٹرولوجیکل، سیسمک، سی اینڈ آٹموسفیئر آرگنائزیشن (آئی پی ایم اے) سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں نے اس مچھلی کو دریافت کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس مچھلی کو اس کے انوکھے گلپھڑوں کے 12 جوڑوںکی وجہ سے Chlamydoselachus anguineus کا نام دیا گیا ہے جبکہ اس کے منہ میں تین سو دانت پچیس قطاروں میں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سائنسدانوں کے مطابق یہ بحر اوقیانوس اور بحرالکال میں پائی جاتی ہے اور اسے پکڑنا لگ بھگ ناممکن ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'></div><p class=''>یقین کرنا مشکل ہوجائے گا مگر سائنسدانوں نے ڈائنا سورز کے عہد کی مچھلی کو زندہ دریافت کرلیا ہے۔</p><p class=''>جی ہاں واقعی پرتگال میں سائنسدانوں نے آٹھ کروڑ سال پرانے عہد کی شارک کی نسل کی مچھلی کو دریافت کیا ہے جس نے دنیا بھر میں ماہرین کے ذہنوں کو گھما کر رکھ دیا ہے۔</p><p class=''>ایسا نہیں کہ یہ مچھلی آٹھ کروڑ سال سے زندہ تھی، بلکہ اس کی نسل اتنے طویل عرصے میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی۔</p><p class=''><strong>مزید پڑھیں : <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1021190' >دنیا کی پہلی گرم خون والی مچھلی دریافت</a></strong></p><p class=''>سائنسدانوں کے مطابق شارک کی یہ قسم اس وقت سے زمین پر موجود ہے جب ڈائنا سورز یہاں موجود تھے۔</p><p class=''>اس مچھلی کو &#39;لیونگ فوسل&#39; کا نام دیا گیا ہے جسے پرتگال میں الگویرا ساحلی علاقے سے دریافت کیا گیا ہے۔</p><p class=''>یہ مچھلی دیکھنے میں سانپ کی طرح ہے، جس کی لمبائی ڈیڑھ میٹر ہے اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سمندر میں 390 سے 4200 فٹ گہرائی میں رہتی ہے۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a099f5ec7a7a.jpg'  alt='فوٹو بشکریہ آئی پی ایم اے' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">فوٹو بشکریہ آئی پی ایم اے</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>یہی وجہ ہے کہ اس مچھلی کو پہلے کبھی دریافت کرنے میں کامیابی نہیں مل سکی تھی۔</p><p class=''><strong>یہ بھی پڑھیں : <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1048371/' >9 کروڑ 90 لاکھ پرانی ڈائنا سار کی دم دریافت</a></strong></p><p class=''>پرتگال کے نیشنل میٹرولوجیکل، سیسمک، سی اینڈ آٹموسفیئر آرگنائزیشن (آئی پی ایم اے) سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں نے اس مچھلی کو دریافت کیا۔</p><p class=''>اس مچھلی کو اس کے انوکھے گلپھڑوں کے 12 جوڑوںکی وجہ سے Chlamydoselachus anguineus کا نام دیا گیا ہے جبکہ اس کے منہ میں تین سو دانت پچیس قطاروں میں موجود ہیں۔</p><p class=''>سائنسدانوں کے مطابق یہ بحر اوقیانوس اور بحرالکال میں پائی جاتی ہے اور اسے پکڑنا لگ بھگ ناممکن ہوتا ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1068028</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Nov 2017 18:40:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/11/5a099f5ecb417.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/11/5a099f5ecb417.jpg"/>
        <media:title>— فوٹو بشکریہ آئی پی ایم اے</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
