<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 11:45:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 11:45:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت میں ’اردو‘ کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیدیا گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1068363/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;ul class="story__toc" style="display: none"&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_0"&gt;یہ بھی پڑھیں: بھارت اور ’اردو‘&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_1"&gt;مزید پڑھیں: ’اردو کسی مخصوص حصے کی زبان نہیں‘&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;بھارتی کی نئی ترین ریاستوں میں سے ایک ’تلنگانہ‘ نے اردو زبان کو صوبے کی دوسری سرکاری زبان کا درجہ دے دیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ریاستی اسمبلی نے ’لیگویج ایکٹ ترمیمی بل 2017‘ کی منظوری دے کر ’تیلگو‘ کے بعد ’اردو‘ کو بھی دوسری سرکاری زبان کا درجہ دے دیا، اس بل پر عمل درآمد فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ریاستی اسمبلی نے لینگویج ایکٹ کے ترمیمی بل کو 2 دن قبل 17 نومبر کو بھاری اکثریت سے منظور کیا تھا، اسمبلی میں موجود تمام سیاسی جماعتوں نے اس بل کی حمایت کی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;این ڈی ٹی وی کے مطابق تلنگانہ کے روڈ اینڈ بلڈنگ کے وزیر تمالا نگیشوارا راؤ نے &lt;a href='https://www.ndtv.com/telangana-news/urdu-made-telanganas-second-offical-language-1776436' &gt;&lt;strong&gt;اردو زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دینے کا بل اسمبلی میں پیش کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a115c7f180a0.jpg'  alt='بل پاس ہونے کے سرکاری عہدیدار اردو کو سرکاری زبان کے طور پر استعمال کرنے کے پابند ہیں، وزیر اعلیٰ&amp;mdash;فائل فوٹو: نیوز 18' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;بل پاس ہونے کے سرکاری عہدیدار اردو کو سرکاری زبان کے طور پر استعمال کرنے کے پابند ہیں، وزیر اعلیٰ—فائل فوٹو: نیوز 18&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;لینگویج ایکٹ 1996 کے سیکشن 2 میں ترمیم کرکے ریاست تلنگانہ کے لیے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دے دیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;h6 id="toc_0"&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1047822' &gt;بھارت اور ’اردو‘&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;اردو کو ریاست کی دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کے اس بل کی یونین حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) اور حزب اختلاف کی بڑی پارٹی کانگریس سمیت دیگر سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی بھی حمایت حاصل رہی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اردو زبان کو ریاست کی دوسری سرکاری زبان قرار دیے جانے کے بل کی جہاں تمام سیاسی پارٹیوں نے حمایت کی، وہیں سیاسی و سماجی رہنماؤ نے بھی اس فیصلے کا خیر مقدم کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بل کو اسمبلی سے پاس کرانے سے چند روز قبل ہی تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ نے کہا تھا کہ بل پاس ہوتے ہی ریاست کے تمام سرکاری عہدیدار اس بات کے پابند ہوجائیں گے کہ وہ تیلگو سمیت اردو میں بھی دفتری کام کریں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ ریاست تلنگانہ کو 2014 میں شمال مغربی ریاست آندھرا پردیش سے الگ کرکے بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;شروع میں اس ریاست میں صرف 10 اضلاع تھے، جن کی دوبارہ تشکیل کرکے گزشتہ برس انہیں 31 اضلاع میں تقسیم کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;h6 id="toc_1"&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1065111' &gt;’اردو کسی مخصوص حصے کی زبان نہیں‘&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;اگرچہ ریاست تلنگانہ کی زیادہ تر آبادی ’تیلگو‘ زبان بولتی ہے، مگر ’اردو‘ بولنے والے افراد کی آبادی میں 12 فیصد سے بھی زائد کی شرح سے اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال کیا جاتا ہے کہ آندھرا پردیش سے الگ کیے جانے کے بعد ریاست تلنگانہ میں زیادہ تر ان اضلاع کو شامل کیا گیا، جہاں اردو بولنے والے افراد کی آبادی زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ریاست تلنگانہ کے بعض سیاست دان یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ریاست آندھرا پردیش نے بھی 1966 میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دیا تھا۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'><ul class="story__toc" style="display: none">
<li>
<a href="#toc_0">یہ بھی پڑھیں: بھارت اور ’اردو‘</a>
</li>
<li>
<a href="#toc_1">مزید پڑھیں: ’اردو کسی مخصوص حصے کی زبان نہیں‘</a>
</li>
</ul>
</div><p class=''>بھارتی کی نئی ترین ریاستوں میں سے ایک ’تلنگانہ‘ نے اردو زبان کو صوبے کی دوسری سرکاری زبان کا درجہ دے دیا۔</p><p class=''>ریاستی اسمبلی نے ’لیگویج ایکٹ ترمیمی بل 2017‘ کی منظوری دے کر ’تیلگو‘ کے بعد ’اردو‘ کو بھی دوسری سرکاری زبان کا درجہ دے دیا، اس بل پر عمل درآمد فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔</p><p class=''>ریاستی اسمبلی نے لینگویج ایکٹ کے ترمیمی بل کو 2 دن قبل 17 نومبر کو بھاری اکثریت سے منظور کیا تھا، اسمبلی میں موجود تمام سیاسی جماعتوں نے اس بل کی حمایت کی۔</p><p class=''>این ڈی ٹی وی کے مطابق تلنگانہ کے روڈ اینڈ بلڈنگ کے وزیر تمالا نگیشوارا راؤ نے <a href='https://www.ndtv.com/telangana-news/urdu-made-telanganas-second-offical-language-1776436' ><strong>اردو زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دینے کا بل اسمبلی میں پیش کیا۔</strong></a></p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a115c7f180a0.jpg'  alt='بل پاس ہونے کے سرکاری عہدیدار اردو کو سرکاری زبان کے طور پر استعمال کرنے کے پابند ہیں، وزیر اعلیٰ&mdash;فائل فوٹو: نیوز 18' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">بل پاس ہونے کے سرکاری عہدیدار اردو کو سرکاری زبان کے طور پر استعمال کرنے کے پابند ہیں، وزیر اعلیٰ—فائل فوٹو: نیوز 18</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>لینگویج ایکٹ 1996 کے سیکشن 2 میں ترمیم کرکے ریاست تلنگانہ کے لیے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دے دیا گیا۔</p><h6 id="toc_0">یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1047822' >بھارت اور ’اردو‘</a></h6>
<p class=''>اردو کو ریاست کی دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کے اس بل کی یونین حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) اور حزب اختلاف کی بڑی پارٹی کانگریس سمیت دیگر سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی بھی حمایت حاصل رہی۔</p><p class=''>اردو زبان کو ریاست کی دوسری سرکاری زبان قرار دیے جانے کے بل کی جہاں تمام سیاسی پارٹیوں نے حمایت کی، وہیں سیاسی و سماجی رہنماؤ نے بھی اس فیصلے کا خیر مقدم کیا۔</p><p class=''>بل کو اسمبلی سے پاس کرانے سے چند روز قبل ہی تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ نے کہا تھا کہ بل پاس ہوتے ہی ریاست کے تمام سرکاری عہدیدار اس بات کے پابند ہوجائیں گے کہ وہ تیلگو سمیت اردو میں بھی دفتری کام کریں۔</p><p class=''>خیال رہے کہ ریاست تلنگانہ کو 2014 میں شمال مغربی ریاست آندھرا پردیش سے الگ کرکے بنایا گیا تھا۔</p><p class=''>شروع میں اس ریاست میں صرف 10 اضلاع تھے، جن کی دوبارہ تشکیل کرکے گزشتہ برس انہیں 31 اضلاع میں تقسیم کیا گیا تھا۔</p><h6 id="toc_1">مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1065111' >’اردو کسی مخصوص حصے کی زبان نہیں‘</a></h6>
<p class=''>اگرچہ ریاست تلنگانہ کی زیادہ تر آبادی ’تیلگو‘ زبان بولتی ہے، مگر ’اردو‘ بولنے والے افراد کی آبادی میں 12 فیصد سے بھی زائد کی شرح سے اضافہ ہوا۔</p><p class=''>خیال کیا جاتا ہے کہ آندھرا پردیش سے الگ کیے جانے کے بعد ریاست تلنگانہ میں زیادہ تر ان اضلاع کو شامل کیا گیا، جہاں اردو بولنے والے افراد کی آبادی زیادہ ہے۔</p><p class=''>ریاست تلنگانہ کے بعض سیاست دان یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ریاست آندھرا پردیش نے بھی 1966 میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دیا تھا۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1068363</guid>
      <pubDate>Sun, 19 Nov 2017 15:30:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/11/5a115b440f5bf.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/11/5a115b440f5bf.jpg"/>
        <media:title>اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دینے کا بل اسمبلی سے 17 نومبر کو پاس کیا گیا—فائل فوٹو: نیوز 18</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
