<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 12:11:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 12:11:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی کی خاتون لندن پولیس میں سپرنٹنڈنٹ بن گئیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1068816/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;پاکستانی نژاد برطانوی خاتون شبنم چوہدری برطانیہ کی نیو اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس میں نہ صرف پہلی پاکستانی و ایشیائی بلکہ پہلی خاتون مسلم سپرنٹنڈنٹ بھی بن گئیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;شبنم چوہدری صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں پیدا ہوئیں، مگر ان کی پیدائش کے بعد جلد ہی ان کے والدین برطانیہ منتقل ہوگئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;شبنم چوہدری جب 2 سال کی تھیں، تب ان کے والدین نے لندن کے نواحی علاقے نیو ہیم منتقل ہوگئے، جہاں شبنم نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1989 میں شبنم چوہدری نے برطانیہ کی میٹروپولیٹن پولیس سروس کو جوائن کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;میٹروپولیٹن پولیس کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق &lt;a href='http://news.met.police.uk/news/police-officer-honoured-for-her-contribution-toward-fighting-hate-crime-268121' &gt;&lt;strong&gt;شبنم چوہدری کو پہلی بار 2010 میں ڈٹیکٹو چیف انسپکٹر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے عہدے پر ترقی دی گئی۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a1bee02badf7.jpg'  alt='شبنم چوہدری کو اکتوبر میں کرائم ایوارڈز سے بھی نوازا گیا&amp;mdash;فوٹو:میٹروپولیٹن پولیس ویب سائٹ' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شبنم چوہدری کو اکتوبر میں کرائم ایوارڈز سے بھی نوازا گیا—فوٹو:میٹروپولیٹن پولیس ویب سائٹ&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;شبم چوہدری کو شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر رواں برس 10 اکتوبر کو پولیس کے اعلیٰ ایوارڈ ’ 28 کرائم ایوارڈ 2017‘ سے بھی نوازا گیا، جب کہ ساتھ ہی انہیں مزید ترقی بھی دی گئی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہیں اس ایوارڈ کے لیے اگست 2017 میں ہی نامزد کرلیا گیا تھا، جس کے ساتھ ہی انہیں ترقی دے کر ’ڈٹیکٹو سپرنٹڈنٹ‘ بھی بنادیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہیں لندن میں پولیس کے شعبے میں انتہائی پیشہ ورانہ خدمات سر انجام دینے پر 28 سال بعد سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر ترقی دی گئی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ان کے والدین پہلے تو ان کی کم عمری میں ہی شادی کروانا چاہتے تھے، اور ان کی جانب سے نوکری کے لیے محکمہ پولیس کو منتخب کرنے پر خفا بھی تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;شبنم چوہدری کے مطابق تاہم وقت کے ساتھ ساتھ ان کے خاندان کی سوچ بھی تبدیل ہوگئی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پہلی پاکستانی و مسلم خاتون سپرٹنڈنٹ نے کرائم ایوارڈ اور ترقی دیے جانے پر محکمہ پولیس کا شکریہ بھی ادا کیا۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/YSo__fJtQ1Q?enablejsapi=1&amp;showinfo=0&amp;rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'></div><p class=''>پاکستانی نژاد برطانوی خاتون شبنم چوہدری برطانیہ کی نیو اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس میں نہ صرف پہلی پاکستانی و ایشیائی بلکہ پہلی خاتون مسلم سپرنٹنڈنٹ بھی بن گئیں۔</p><p class=''>شبنم چوہدری صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں پیدا ہوئیں، مگر ان کی پیدائش کے بعد جلد ہی ان کے والدین برطانیہ منتقل ہوگئے۔</p><p class=''>شبنم چوہدری جب 2 سال کی تھیں، تب ان کے والدین نے لندن کے نواحی علاقے نیو ہیم منتقل ہوگئے، جہاں شبنم نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔</p><p class=''>اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1989 میں شبنم چوہدری نے برطانیہ کی میٹروپولیٹن پولیس سروس کو جوائن کیا۔</p><p class=''>میٹروپولیٹن پولیس کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق <a href='http://news.met.police.uk/news/police-officer-honoured-for-her-contribution-toward-fighting-hate-crime-268121' ><strong>شبنم چوہدری کو پہلی بار 2010 میں ڈٹیکٹو چیف انسپکٹر</strong></a> کے عہدے پر ترقی دی گئی۔</p><figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a1bee02badf7.jpg'  alt='شبنم چوہدری کو اکتوبر میں کرائم ایوارڈز سے بھی نوازا گیا&mdash;فوٹو:میٹروپولیٹن پولیس ویب سائٹ' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شبنم چوہدری کو اکتوبر میں کرائم ایوارڈز سے بھی نوازا گیا—فوٹو:میٹروپولیٹن پولیس ویب سائٹ</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>شبم چوہدری کو شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر رواں برس 10 اکتوبر کو پولیس کے اعلیٰ ایوارڈ ’ 28 کرائم ایوارڈ 2017‘ سے بھی نوازا گیا، جب کہ ساتھ ہی انہیں مزید ترقی بھی دی گئی۔</p><p class=''>انہیں اس ایوارڈ کے لیے اگست 2017 میں ہی نامزد کرلیا گیا تھا، جس کے ساتھ ہی انہیں ترقی دے کر ’ڈٹیکٹو سپرنٹڈنٹ‘ بھی بنادیا گیا تھا۔</p><p class=''>انہیں لندن میں پولیس کے شعبے میں انتہائی پیشہ ورانہ خدمات سر انجام دینے پر 28 سال بعد سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر ترقی دی گئی۔</p><p class=''>اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ان کے والدین پہلے تو ان کی کم عمری میں ہی شادی کروانا چاہتے تھے، اور ان کی جانب سے نوکری کے لیے محکمہ پولیس کو منتخب کرنے پر خفا بھی تھے۔</p><p class=''>شبنم چوہدری کے مطابق تاہم وقت کے ساتھ ساتھ ان کے خاندان کی سوچ بھی تبدیل ہوگئی۔</p><p class=''>پہلی پاکستانی و مسلم خاتون سپرٹنڈنٹ نے کرائم ایوارڈ اور ترقی دیے جانے پر محکمہ پولیس کا شکریہ بھی ادا کیا۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/YSo__fJtQ1Q?enablejsapi=1&showinfo=0&rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			
</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1068816</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Nov 2017 15:58:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/11/5a1bed8e6d2af.jpg?r=884619959" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/11/5a1bed8e6d2af.jpg?r=458022309"/>
        <media:title>انہیں اس عہدے پر اگست 2017 میں ترقی دی گئی تھی—فوٹو: میٹروپولیٹن پولیس ویب سائٹ</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
