<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Apr 2026 19:20:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Apr 2026 19:20:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد دھرنے کا اختتام: دو مغوی پولیس اہلکار زخمی حالت میں بازیاب</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1068867/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;راولپنڈی: اسلام آباد کے فیض آباد انٹر چینج پر دھرنا دینے والے مذہبی جماعتوں کے مبینہ ارکان کی جانب سے اغوا کیے گئے دو پولیس اہلکار دھرنا ختم ہونے کے بعد سوہن میں سڑک کے قریب سے مل گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دونوں پولیس اہلکاروں کو مبینہ طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال سے اغوا کیا گیا تھا تاہم جس وقت یہ ملے تو ان اہلکاروں کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور ان پر تشدد کے نشانات بھی موجود تھے۔  &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دونوں اہلکار پولیس کی پیٹرولنگ ٹیم کو ملے جنہیں علاج معالجے کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ڈاکٹرز کے مطابق پولیس اہلکاروں کو اندرونی چوٹیں آئی ہیں جبکہ سب انسپکٹر اسلم حیات کی الٹی کہنی میں فریکچر ہوا ہے، دونوں اہلکاروں کو پلاسٹک کی تاروں، ٹنڈوں اور لاٹھیوں سے مارا گیا اور ان کے جسموں پر اس کے زخم بھی موجود ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1063370' &gt;راجن پور سے اغواء ہونے والے 7 پولیس اہلکار بازیاب&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تاہم لیگل میڈیکل رپورٹ کے بعد ہی تشدد اور زخموں کی شدت کا اندازہ لگایا جاسکے گا جس کے بعد گنج منڈی پولیس کی جانب سے درج ایف آئی آر میں قانون کی مزید دفعات کو شامل کیا جائے گا۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سٹی سرکل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس نے کہا کہ ایس آئی اسلم حیات اور امانت علی کو اغوا کاروں کی جانب سے بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ انہیں اغوا کے بعد فیض آباد دھرنے میں ایک خیمے میں رکھا گیا تھا۔  &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے بتایا کہ دونوں اہلکاروں کی صحت اب بہتر ہے اور پولیس ان کا بیان ریکارڈ کرے گی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پولیس اہلکاروں کو مظاہرین کی جانب سے اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ ہفتے کو ہونے والے آپریشن میں قتل کیے گئے لوگوں کے پوسٹ مارٹم کے لیے لاش کے ساتھ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں موجود تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;مذہبی جماعتوں کا ایک گروہ ہسپتال کے مردہ خانے میں داخل ہوا اور ایس آئی سے بحث کی اور مظاہرین جو چاہتے تھے اس پر لکھنے سے انکار کیا، جس کے بعد انہوں نے پولیس اہلکار کو تشدد کا نشانہ بنایااور گاڑی میں ڈال کر ساتھ لے گئے۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس کے بعد مظاہرین دوسرے پولیس اہلکار کی جانب متوجہ ہوئے اور اسے بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور مردہ خانے سے باہر لے آئے جبکہ ان اہلکاروں کے ساتھ موجود پولیس کانسٹیبل جان بچا کر بھاگنے پر مجبور ہوا۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس نے تحقیقاتی یونٹ سے تعلق رکھنے والے ایس آئی اسلم اور ان کے اسسٹنٹ امانت علی کے اغوا کا نوٹس لے لیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دریں اثناء صادق آباد پولیس نے ہفتے کے تشدد کے واقعے میں 7 افراد کے قتل اور مختلف زخمیوں سے متعلق مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1068413' &gt;اسلام آباد دھرنا: مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں میں تصادم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) انسپکٹر ذوالفقارعلی کی مدعیت میں درج ہونے والی ایف آئی آر میں قتل، اقدام قتل، اغوا، تشدد اور دیگر آٹھ دفعات شامل کی گئی ہیں تاہم دہشت گردی کے الزامات نہیں لگائے گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ایف آئی آر کے مطابق مظاہرین نے مشتعل ہو کر دکانوں، پولیس اور نجی گاڑیوں کو آگ لگائی، اس کے علاوہ فائرنگ کے نتیجے میں متعدد لوگوں کی اموات ہوئیں اور کافی  زخمی بھی ہوئے جبکہ جواب میں مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ایف آئی آر کے مطابق پر تشدد واقعات میں 15 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ کانسٹیبل وقاص احمد کو مظاہرین نے اغواء کیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ کچھ لوگ شرپسندوں کی جانب سے پولیس پر کی گئی فائرنگ سے ہلاک ہوئے تاہم پولیس کی جانب سے مذہبی جماعت کے کسی اہم رہنما یا کارکن کو مقدمات میں نامزد نہیں کیا گیا۔ &lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 28 نومبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'></div><p class=''>راولپنڈی: اسلام آباد کے فیض آباد انٹر چینج پر دھرنا دینے والے مذہبی جماعتوں کے مبینہ ارکان کی جانب سے اغوا کیے گئے دو پولیس اہلکار دھرنا ختم ہونے کے بعد سوہن میں سڑک کے قریب سے مل گئے۔</p><p class=''>دونوں پولیس اہلکاروں کو مبینہ طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال سے اغوا کیا گیا تھا تاہم جس وقت یہ ملے تو ان اہلکاروں کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور ان پر تشدد کے نشانات بھی موجود تھے۔  </p><p class=''>دونوں اہلکار پولیس کی پیٹرولنگ ٹیم کو ملے جنہیں علاج معالجے کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا گیا۔</p><p class=''>ڈاکٹرز کے مطابق پولیس اہلکاروں کو اندرونی چوٹیں آئی ہیں جبکہ سب انسپکٹر اسلم حیات کی الٹی کہنی میں فریکچر ہوا ہے، دونوں اہلکاروں کو پلاسٹک کی تاروں، ٹنڈوں اور لاٹھیوں سے مارا گیا اور ان کے جسموں پر اس کے زخم بھی موجود ہیں۔ </p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1063370' >راجن پور سے اغواء ہونے والے 7 پولیس اہلکار بازیاب</a></strong></p><p class=''>تاہم لیگل میڈیکل رپورٹ کے بعد ہی تشدد اور زخموں کی شدت کا اندازہ لگایا جاسکے گا جس کے بعد گنج منڈی پولیس کی جانب سے درج ایف آئی آر میں قانون کی مزید دفعات کو شامل کیا جائے گا۔ </p><p class=''>سٹی سرکل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس نے کہا کہ ایس آئی اسلم حیات اور امانت علی کو اغوا کاروں کی جانب سے بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ انہیں اغوا کے بعد فیض آباد دھرنے میں ایک خیمے میں رکھا گیا تھا۔  </p><p class=''>انہوں نے بتایا کہ دونوں اہلکاروں کی صحت اب بہتر ہے اور پولیس ان کا بیان ریکارڈ کرے گی۔</p><p class=''>پولیس اہلکاروں کو مظاہرین کی جانب سے اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ ہفتے کو ہونے والے آپریشن میں قتل کیے گئے لوگوں کے پوسٹ مارٹم کے لیے لاش کے ساتھ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں موجود تھے۔</p><p class=''>مذہبی جماعتوں کا ایک گروہ ہسپتال کے مردہ خانے میں داخل ہوا اور ایس آئی سے بحث کی اور مظاہرین جو چاہتے تھے اس پر لکھنے سے انکار کیا، جس کے بعد انہوں نے پولیس اہلکار کو تشدد کا نشانہ بنایااور گاڑی میں ڈال کر ساتھ لے گئے۔ </p><p class=''>اس کے بعد مظاہرین دوسرے پولیس اہلکار کی جانب متوجہ ہوئے اور اسے بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور مردہ خانے سے باہر لے آئے جبکہ ان اہلکاروں کے ساتھ موجود پولیس کانسٹیبل جان بچا کر بھاگنے پر مجبور ہوا۔ </p><p class=''>انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس نے تحقیقاتی یونٹ سے تعلق رکھنے والے ایس آئی اسلم اور ان کے اسسٹنٹ امانت علی کے اغوا کا نوٹس لے لیا۔</p><p class=''>دریں اثناء صادق آباد پولیس نے ہفتے کے تشدد کے واقعے میں 7 افراد کے قتل اور مختلف زخمیوں سے متعلق مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلیا۔</p><p class=''><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1068413' >اسلام آباد دھرنا: مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں میں تصادم</a></strong></p><p class=''>اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) انسپکٹر ذوالفقارعلی کی مدعیت میں درج ہونے والی ایف آئی آر میں قتل، اقدام قتل، اغوا، تشدد اور دیگر آٹھ دفعات شامل کی گئی ہیں تاہم دہشت گردی کے الزامات نہیں لگائے گئے۔</p><p class=''>ایف آئی آر کے مطابق مظاہرین نے مشتعل ہو کر دکانوں، پولیس اور نجی گاڑیوں کو آگ لگائی، اس کے علاوہ فائرنگ کے نتیجے میں متعدد لوگوں کی اموات ہوئیں اور کافی  زخمی بھی ہوئے جبکہ جواب میں مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔</p><p class=''>ایف آئی آر کے مطابق پر تشدد واقعات میں 15 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ کانسٹیبل وقاص احمد کو مظاہرین نے اغواء کیا تھا۔</p><p class=''>ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ کچھ لوگ شرپسندوں کی جانب سے پولیس پر کی گئی فائرنگ سے ہلاک ہوئے تاہم پولیس کی جانب سے مذہبی جماعت کے کسی اہم رہنما یا کارکن کو مقدمات میں نامزد نہیں کیا گیا۔ </p><hr>
<p class=''><strong>یہ خبر 28 نومبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</strong></p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1068867</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Nov 2017 11:34:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد اصغر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/11/5a1d02fa641ee.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/11/5a1d02fa641ee.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
