<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 22:54:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 22:54:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قلت کے خدشات پر اسٹیٹ بینک کا اہم فیصلہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1070973/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;کراچی: اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قلت کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات کے باعث اسٹیٹ بینک آف پاکستان ( ایس بی پی ) نے فیصلہ کیا ہے کہ غیر ملکی کرنسیوں کی برآمدات کے مقابلے میں کیش ڈالر کی درآمدی ضرورت کو 35 فیصد تک محدود کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;مرکزی بینک کی جانب سے گزشتہ روز جاری کیے گئے سرکلر میں کرنسی ایکسچینچ کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ غیر ملکی کرنسیوں کو دبئی برآمد کرنے کے لیے 100فیصد کے بجائے صرف 35 فیصد کیش ڈالر استعمال کریں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سرکلر کے مطابق یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایکسچینچ کمپنیاں غیر ملکی کرنسی کے مقابلے میں کیش ڈالر کی درآمد جاری رکھ سکتی ہیں، تاہم ایک ماہ میں کیش ڈالر کی درآمد غیر ملکی کرنسی کی کل برآمدات کے 35 فیصد سے تجاوز نہیں کرے گی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1070549/' &gt;روپے کی قدر میں کمی سے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اسٹیٹ بینک کے سرکلر میں اس حوالے سے نہیں بتایا گیا کہ باقی کے 65 فیصد ڈالر کی درآمدات کیسے ہوگی لیکن ایکسچینچ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ بقیہ رقم بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کی جائے گی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای سی اے پی) کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ حیران کن ہے اور اس سے مارکیٹ کے میکانزم کو نقصان پہنچے گا کیونکہ ڈالر کی آمد کو محدود کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے پہلے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی کثیر تعداد میں دستیابی پر غیر ملکی کرنسیوں کے برآمدات کے مقابلے میں 100 فیصد کیش ڈالر کی درآمد کی اجازت دی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے کہا کہ نئے فیصلے نے اس عمل کو روک دیا ہے اور ہم دوبارہ ڈالر کے حصول کے لیے بینکوں پر انحصار کریں گے، ان کا مزید کہنا تھا کہ بینکوں کے ذریعے 65 فیصد ڈالر کی درآمد کا مطلب یہ ہے کہ ایکسچینچ کمپنیوں تک ڈالر پہنچنے میں 3 سے 4 دن لگیں گے جبکہ اس وقت 100 فیصد کیش اسی دن دستیاب ہوسکتا ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تاہم فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک بوستان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایکسچینچ کمپنیوں سے مشاورت کے بعد کیا گیا اور اس سے درآمدی لاگت میں کمی ہوگی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے کہا کہ انشورنس اور دیگر اخراجات کے باعث غیر ملکی کرنسیوں کی برآمدات کے مقابلے میں ڈالر کی درآمدی قیمت زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1069853/' &gt;اسٹیٹ بینک کی مداخلت کے بعد روپے کی قدر مستحکم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کا کہنا تھا کہ بینکوں کے پاس ڈالر کے کافی ذخائر ہیں اور بینکوں کی جانب سے تاخیر یا اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی کمی کا کوئی امکان نہیں ہے جبکہ باقی 65 فیصد درآمد شدہ ڈالر جلد ہی دستیاب ہوں گے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ کچھ کرنسی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نئے فیصلے کے بعد ڈالر کی قلت ہوگی اور اوپن مارکیٹ اور بینکنگ مارکیٹ کی قیمتوں کے فرق میں اضافہ ہوگا۔ &lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 02 جنوری 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'></div><p class=''>کراچی: اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قلت کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات کے باعث اسٹیٹ بینک آف پاکستان ( ایس بی پی ) نے فیصلہ کیا ہے کہ غیر ملکی کرنسیوں کی برآمدات کے مقابلے میں کیش ڈالر کی درآمدی ضرورت کو 35 فیصد تک محدود کیا جائے گا۔</p><p class=''>مرکزی بینک کی جانب سے گزشتہ روز جاری کیے گئے سرکلر میں کرنسی ایکسچینچ کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ غیر ملکی کرنسیوں کو دبئی برآمد کرنے کے لیے 100فیصد کے بجائے صرف 35 فیصد کیش ڈالر استعمال کریں۔</p><p class=''>سرکلر کے مطابق یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایکسچینچ کمپنیاں غیر ملکی کرنسی کے مقابلے میں کیش ڈالر کی درآمد جاری رکھ سکتی ہیں، تاہم ایک ماہ میں کیش ڈالر کی درآمد غیر ملکی کرنسی کی کل برآمدات کے 35 فیصد سے تجاوز نہیں کرے گی۔</p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1070549/' >روپے کی قدر میں کمی سے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ</a></strong></p><p class=''>اسٹیٹ بینک کے سرکلر میں اس حوالے سے نہیں بتایا گیا کہ باقی کے 65 فیصد ڈالر کی درآمدات کیسے ہوگی لیکن ایکسچینچ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ بقیہ رقم بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کی جائے گی۔</p><p class=''>ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای سی اے پی) کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ حیران کن ہے اور اس سے مارکیٹ کے میکانزم کو نقصان پہنچے گا کیونکہ ڈالر کی آمد کو محدود کردیا گیا ہے۔</p><p class=''>انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے پہلے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی کثیر تعداد میں دستیابی پر غیر ملکی کرنسیوں کے برآمدات کے مقابلے میں 100 فیصد کیش ڈالر کی درآمد کی اجازت دی تھی۔</p><p class=''>انہوں نے کہا کہ نئے فیصلے نے اس عمل کو روک دیا ہے اور ہم دوبارہ ڈالر کے حصول کے لیے بینکوں پر انحصار کریں گے، ان کا مزید کہنا تھا کہ بینکوں کے ذریعے 65 فیصد ڈالر کی درآمد کا مطلب یہ ہے کہ ایکسچینچ کمپنیوں تک ڈالر پہنچنے میں 3 سے 4 دن لگیں گے جبکہ اس وقت 100 فیصد کیش اسی دن دستیاب ہوسکتا ہے۔ </p><p class=''>تاہم فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک بوستان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایکسچینچ کمپنیوں سے مشاورت کے بعد کیا گیا اور اس سے درآمدی لاگت میں کمی ہوگی۔</p><p class=''>انہوں نے کہا کہ انشورنس اور دیگر اخراجات کے باعث غیر ملکی کرنسیوں کی برآمدات کے مقابلے میں ڈالر کی درآمدی قیمت زیادہ ہے۔</p><p class=''><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1069853/' >اسٹیٹ بینک کی مداخلت کے بعد روپے کی قدر مستحکم</a></strong></p><p class=''>ان کا کہنا تھا کہ بینکوں کے پاس ڈالر کے کافی ذخائر ہیں اور بینکوں کی جانب سے تاخیر یا اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی کمی کا کوئی امکان نہیں ہے جبکہ باقی 65 فیصد درآمد شدہ ڈالر جلد ہی دستیاب ہوں گے۔</p><p class=''>خیال رہے کہ کچھ کرنسی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نئے فیصلے کے بعد ڈالر کی قلت ہوگی اور اوپن مارکیٹ اور بینکنگ مارکیٹ کی قیمتوں کے فرق میں اضافہ ہوگا۔ </p><hr>
<p class=''><strong>یہ خبر 02 جنوری 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</strong></p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1070973</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jan 2018 11:40:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہد اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/01/5a4b1a3f236ca.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/01/5a4b1a3f236ca.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
