<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 21:02:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 21:02:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کریم اور اوبرکا سعودی عرب میں خواتین ڈرائیورز بھرتی کرنے کا آغاز</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1071478/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;ul class="story__toc" style="display: none"&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_0"&gt;یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت مل گئی&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_1"&gt;مزید پڑھیں: وہ کام جس کی سعودی خواتین کو پہلے اجازت نہ تھی&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_2"&gt;یہ بھی پڑھیں:اوبر بمقابلہ کریم : کونسی سروس زیادہ بہتر؟&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;آن لائن سفری سہولیات فراہم کرنے والی عالمی کمپنیوں ’کریم‘ اور ’اوبر‘ نے سعودی عرب میں خواتین ڈرائیورز کو بھرتی کرنے کا آغاز کردیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دونوں کمپنیوں نے خواتین ڈرائیورز کو بھرتی کرنے کے پروگرام کا آغاز سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے کےفیصلے کے بعد کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ سعودی حکومت نے گزشتہ برس ستمبر میں پہلی بار خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;حکومتی منصوبے کے تحت جون 2018 تک خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کردیے جائیں گے، جس کے بعد وہ گاڑیاں چلا سکیں گی۔&lt;/p&gt;&lt;h6 id="toc_0"&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1065370' &gt;سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت مل گئی&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2018/01/5a574c9512b32.jpg'  alt='کریم نے مختلف شہروں میں سیشنز کا آغاز کردیا&amp;mdash;فوٹو: سی این این' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کریم نے مختلف شہروں میں سیشنز کا آغاز کردیا—فوٹو: سی این این&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ نے اپنی خبر میں بتایا کہ خواتین کو گاڑیاں چلانے کی اجازت ملنے کے بعد ’اوبر‘ اور ’کریم‘ نے &lt;a href='http://edition.cnn.com/2018/01/10/asia/saudi-uber-women-drivers-ime/index.html' &gt;&lt;strong&gt;عورت ڈرائیورز کو بھرتی کرنے کے پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے مختلف شہروں میں ٹریننگ سیشنز کا آغاز کردیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;’کریم‘ نے سعودی عرب کے دارالحکومت ’ریاض، جدہ اور الخوبر‘ میں خواتین ڈرائیورز کی بھرتی کے لیے 90 منٹ کے ٹریننگ سیشنز کا انعقاد کیا، جس دوران سیکڑوں خواتین کو سرٹیفائڈ کرلیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان سیشنز کے دوران ان خواتین کی ڈرائیونگ کے لیے تصدیق کی گئی، جن خواتین کے پاس پہلے ہی ڈرائیونگ لائسنس موجود تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان خواتین نے بیرون ممالک میں رہائش کے دوران ڈرائیونگ لائسنس حاصل کر رکھے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سعودی عرب میں ’کریم‘ کی چیف پرائیویسی آفیسر عبداللہ الیاس کے مطابق انہیں ہزاروں خواتین پہلے ہی ڈرائیونگ کے لیے درخواست دے چکی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;h6 id="toc_1"&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1057280' &gt;وہ کام جس کی سعودی خواتین کو پہلے اجازت نہ تھی&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;عبداللہ الیاس کے مطابق ان کی کمپنی جون 2018 تک 10 ہزار خواتین ڈرائیورز کو بھرتی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ادھر سعودی عرب میں ’اوبر‘ کے جنرل مینیجر زید ہریس کے مطابق ان کی کمپنی نے بھی خواتین کو بھرتی کرنے کے حوالے سے ملک کے مختلف شہروں میں سیشنز کا انعقاد کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;زید ہریس کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی بھی خواتین ڈرائیورز کو بھرتی کرے گی، تاکہ خواتین صارفین کو محفوظ اور آرامدہ سفر کی سہولیات پہنچائی جاسکیں۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2018/01/5a574dba7f90f.jpg'  alt='کریم جون 2018 تک 10 ہزار خواتین ڈرائیورز بھرتی کرے گی&amp;mdash;فوٹو: سی این این' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کریم جون 2018 تک 10 ہزار خواتین ڈرائیورز بھرتی کرے گی—فوٹو: سی این این&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دونوں کمپنیوں کے مطابق ان کے خواتین صارفین کی تعداد مردوں کے مقابلے کہیں زیادہ ہے، جب کہ دونوں کمپنیوں کے پاس اس وقت صرف مرد ڈرائیورز خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;h6 id="toc_2"&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1047807' &gt;اوبر بمقابلہ کریم : کونسی سروس زیادہ بہتر؟&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;’اوبر‘ اور ’کریم‘ کے مطابق ان کے زیادہ تر مرد ڈرائیورز کا تعلق سعودی عرب سے ہی ہے، جو اپنی گاڑیوں کے ذریعے اپنی مالی پوزیشن مضبوط کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ اس وقت سعودی عرب کی 80 فیصد خواتین اپنی سفری سہولیات کے لیے امریکی کمپنی’اوبر‘  جب کہ 70 فیصد خواتین دبئی کی کمپنی ’کریم‘ کی سروس استعمال کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;’کریم‘ اس وقت سعودی عرب، مشرق وسطیٰ و افریقی ممالک اور پاکستان سمیت دنیا کے 13 ممالک میں کام کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جب کہ ’اوبر‘ بھی سعودی عرب، پاکستان، مشرقی وسطی و افریقی ممالک سمیت یورپ و امریکی ممالک میں بھی خدمات سر انجام دے رہی ہے۔  &lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'><ul class="story__toc" style="display: none">
<li>
<a href="#toc_0">یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت مل گئی</a>
</li>
<li>
<a href="#toc_1">مزید پڑھیں: وہ کام جس کی سعودی خواتین کو پہلے اجازت نہ تھی</a>
</li>
<li>
<a href="#toc_2">یہ بھی پڑھیں:اوبر بمقابلہ کریم : کونسی سروس زیادہ بہتر؟</a>
</li>
</ul>
</div><p class=''>آن لائن سفری سہولیات فراہم کرنے والی عالمی کمپنیوں ’کریم‘ اور ’اوبر‘ نے سعودی عرب میں خواتین ڈرائیورز کو بھرتی کرنے کا آغاز کردیا۔</p><p class=''>دونوں کمپنیوں نے خواتین ڈرائیورز کو بھرتی کرنے کے پروگرام کا آغاز سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے کےفیصلے کے بعد کیا۔</p><p class=''>خیال رہے کہ سعودی حکومت نے گزشتہ برس ستمبر میں پہلی بار خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دی تھی۔</p><p class=''>حکومتی منصوبے کے تحت جون 2018 تک خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کردیے جائیں گے، جس کے بعد وہ گاڑیاں چلا سکیں گی۔</p><h6 id="toc_0">یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1065370' >سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت مل گئی</a></h6>
<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2018/01/5a574c9512b32.jpg'  alt='کریم نے مختلف شہروں میں سیشنز کا آغاز کردیا&mdash;فوٹو: سی این این' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کریم نے مختلف شہروں میں سیشنز کا آغاز کردیا—فوٹو: سی این این</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ نے اپنی خبر میں بتایا کہ خواتین کو گاڑیاں چلانے کی اجازت ملنے کے بعد ’اوبر‘ اور ’کریم‘ نے <a href='http://edition.cnn.com/2018/01/10/asia/saudi-uber-women-drivers-ime/index.html' ><strong>عورت ڈرائیورز کو بھرتی کرنے کے پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے مختلف شہروں میں ٹریننگ سیشنز کا آغاز کردیا۔</strong></a></p><p class=''>’کریم‘ نے سعودی عرب کے دارالحکومت ’ریاض، جدہ اور الخوبر‘ میں خواتین ڈرائیورز کی بھرتی کے لیے 90 منٹ کے ٹریننگ سیشنز کا انعقاد کیا، جس دوران سیکڑوں خواتین کو سرٹیفائڈ کرلیا گیا۔</p><p class=''>ان سیشنز کے دوران ان خواتین کی ڈرائیونگ کے لیے تصدیق کی گئی، جن خواتین کے پاس پہلے ہی ڈرائیونگ لائسنس موجود تھا۔</p><p class=''>ان خواتین نے بیرون ممالک میں رہائش کے دوران ڈرائیونگ لائسنس حاصل کر رکھے تھے۔</p><p class=''>سعودی عرب میں ’کریم‘ کی چیف پرائیویسی آفیسر عبداللہ الیاس کے مطابق انہیں ہزاروں خواتین پہلے ہی ڈرائیونگ کے لیے درخواست دے چکی ہیں۔</p><h6 id="toc_1">مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1057280' >وہ کام جس کی سعودی خواتین کو پہلے اجازت نہ تھی</a></h6>
<p class=''>عبداللہ الیاس کے مطابق ان کی کمپنی جون 2018 تک 10 ہزار خواتین ڈرائیورز کو بھرتی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔</p><p class=''>ادھر سعودی عرب میں ’اوبر‘ کے جنرل مینیجر زید ہریس کے مطابق ان کی کمپنی نے بھی خواتین کو بھرتی کرنے کے حوالے سے ملک کے مختلف شہروں میں سیشنز کا انعقاد کیا۔</p><p class=''>زید ہریس کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی بھی خواتین ڈرائیورز کو بھرتی کرے گی، تاکہ خواتین صارفین کو محفوظ اور آرامدہ سفر کی سہولیات پہنچائی جاسکیں۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2018/01/5a574dba7f90f.jpg'  alt='کریم جون 2018 تک 10 ہزار خواتین ڈرائیورز بھرتی کرے گی&mdash;فوٹو: سی این این' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کریم جون 2018 تک 10 ہزار خواتین ڈرائیورز بھرتی کرے گی—فوٹو: سی این این</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>دونوں کمپنیوں کے مطابق ان کے خواتین صارفین کی تعداد مردوں کے مقابلے کہیں زیادہ ہے، جب کہ دونوں کمپنیوں کے پاس اس وقت صرف مرد ڈرائیورز خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔</p><h6 id="toc_2">یہ بھی پڑھیں:<a href='https://www.dawnnews.tv/news/1047807' >اوبر بمقابلہ کریم : کونسی سروس زیادہ بہتر؟</a></h6>
<p class=''>’اوبر‘ اور ’کریم‘ کے مطابق ان کے زیادہ تر مرد ڈرائیورز کا تعلق سعودی عرب سے ہی ہے، جو اپنی گاڑیوں کے ذریعے اپنی مالی پوزیشن مضبوط کر رہے ہیں۔</p><p class=''>خیال رہے کہ اس وقت سعودی عرب کی 80 فیصد خواتین اپنی سفری سہولیات کے لیے امریکی کمپنی’اوبر‘  جب کہ 70 فیصد خواتین دبئی کی کمپنی ’کریم‘ کی سروس استعمال کرتی ہیں۔</p><p class=''>’کریم‘ اس وقت سعودی عرب، مشرق وسطیٰ و افریقی ممالک اور پاکستان سمیت دنیا کے 13 ممالک میں کام کر رہی ہے۔</p><p class=''>جب کہ ’اوبر‘ بھی سعودی عرب، پاکستان، مشرقی وسطی و افریقی ممالک سمیت یورپ و امریکی ممالک میں بھی خدمات سر انجام دے رہی ہے۔  </p>]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1071478</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Jan 2018 17:31:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/01/5a574c42a8eae.jpg?r=112617123" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/01/5a574c42a8eae.jpg?r=1051825184"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: دی انڈیپینڈنٹ</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
