<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 22:19:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 22:19:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عدالت کا 3 مجرموں کی سزائے موت پر عمل درآمد روکنے کا حکم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1072101/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;ul class="story__toc" style="display: none"&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_0"&gt;8 سال بعد عمر قید کے ملزم کی رہائی کا حکم&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;اسلام آباد: سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے ملزمان کی اپیلوں کی سماعت کرتے ہوئے سزاؤں پر عمل درآمد روک دیا اور فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے ملزمان شفقت، صابر شاہ اور محمد لیاقت کی اپیلوں کی سماعت ہوئی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان اپیلوں کی سماعت جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;عدالت عظمیٰ نے اپیلوں پر سماعت کے دوران ملزمان کی سزاؤں پرعمل درآمد روکتے ہوئے تمام فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1050051/' &gt;فوجی عدالتوں کی مدت ختم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بعد ازاں عدالت نے اپیلوں کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ ملزم لیاقت پر ایک صحافی پر حملے کا الزام ہے جبکہ شفقت اور صابر شاہ پر لاہور میں ایک وکیل ارشد علی کے قتل کا الزام تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ تینوں ملزمان کو فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یاد رہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے فوجی عدالتوں سے سزا موت کے قیدیوں کی جانب سے اپیلوں کی سماعت کے دوران سزاؤں پر عمل درآمد روک دیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دسمبر 2014 میں دہشت گردوں کی جانب سے پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے دہشت گردی کے حملے میں 145 سے زائد افراد کو ہلاک کیا گیا تھا، ہلاک ہونے والوں میں بیشتر اسکول کے طلباء تھے، 2015 میں پہلی مرتبہ دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کے لیے فوجی عدالتیں قیام کی گئیں تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1022621' &gt;فوجی عدالتوں کے فیصلوں کی تفصیلات طلب&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پاکستان آرمی ترمیمی ایکٹ 2015 کے تحت وفاقی حکومت کو کسی بھی مقدمے کو فوجی عدالتوں میں بھیجنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;فوجی عدالتوں نے متعدد دہشت گردوں کو سزائے موت سمیت دیگر سزائیں سنائی تھیں اور اس تناظر میں متعدد دہشت گردوں کی سزائے موت پر عمل درآمد بھی کرایا گیا جن میں بیشتر پر سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے کا الزام تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;فوجی عدالت کے فیصلوں کے خلاف &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1024944' &gt;&lt;strong&gt;پہلی اپیل 8 اگست 2015&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو کی گئی تھی جس میں درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے حیدر علی کو 2009 میں 14 سال کی عمر میں گرفتار کیا گیا تھا جبکہ فوجی حکام کے مطالبے پر حیدر علی کو پیش کیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سپریم کورٹ میں دائر درخواست کے مطابق حیدر علی کی گرفتاری کے 6 سال بعد معلوم ہوا کہ حیدر علی لوئر دیر کی تیمرگرہ جیل میں قید ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس سے قبل اگست 2015 میں ہی پشاور ہائی کورٹ نے سوات سے تعلق رکھنے والے 10ویں جماعت کے طالب علم حیدر علی کی سزائے موت پر بھی عمل درآمد روکنے کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس کے علاوہ 29 اگست 2015 میں &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1042833' &gt;&lt;strong&gt;پشاور ہائی کورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; نے فوجی عدالت سے سزائے موت پانے والے ملزم کی سزا معطل کردی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1014658' &gt;فوجی عدالتوں کا قیام:آئینی ترمیمی بل اسمبلی میں پیش&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1031898' &gt;&lt;strong&gt;11 جنوری 2016&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو پاکستان میں انسانی حقوق کمیشن کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نے فوجی عدالت کی جانب سے دہشت گردی کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائے جانے اور اس پر پشاور ہائی کورٹ کے 9 دسمبر 2015 کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چلینج کردیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1037053' &gt;&lt;strong&gt;11 مئی 2016 کو سپریم کورٹ نے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے 3 مجرمان کی سزاؤں پر عمل درآمد روکتے ہوئے اٹارنی جنرل سے مجرمان کی جانب سے درخواست میں لگائے جانے والے الزامات پر جواب طلب کرلیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1042800' &gt;&lt;strong&gt;29 اگست 2016 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ پشاور کے آرمی پبلک اسکول سمیت دہشت گردی کے متعدد واقعات میں ملوث 16 مجرموں کی سزائے موت کے خلاف اپیلیں مسترد کردیں تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1050394/' &gt;&lt;strong&gt;12 جنوری 2017 کو پشاور ہائی کورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; نے فوجی عدالت سے سزائے موت پانے والے مجرم قاسم شاہ کی سزا پر عمل درآمد پر حکم امتناع جاری کردیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1058732' &gt;&lt;strong&gt;30 مئی 2017 کو سپریم کورٹ کے ایک خصوصی بینچ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; نے فوجی عدالتوں کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت سے معذرت کر لی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;h3 id="toc_0"&gt;8 سال بعد عمر قید کے ملزم کی رہائی کا حکم&lt;/h3&gt;
&lt;p class=''&gt;دوسری جانب سپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ایک علیحدہ کیس کی سماعت کرتے ہوئے 8 سال بعد عمر قید کے ملزم کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس موقع پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ کیس سچا ہوتا ہے مگر گواہیاں جھوٹی ہوتی ہیں اور بناوٹی شہادتوں کی بنا پر اصل ملزم بری ہوجاتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے کہا کہ اگر مدعی کی تسلی کو دیکھیں تو عدالتی نظام ہی تباہ ہوجائے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف کیس ثابت نہ کرسکا جبکہ گواہان کی شہادتوں میں بھی تضاد ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ ملزم شاہ راز کے خلاف تھانہ درگئی ملاکنڈ میں اغوا برائے تاوان کا مقدمہ درج ہوا تھا اور ٹرائل کورٹ نے اسے عمر قید کی سزا سنائی تھی جبکہ ہائی کورٹ نے اپیل پر عمر قید کی سزا برقرار رکھی تھی۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'><ul class="story__toc" style="display: none">
<li>
<a href="#toc_0">8 سال بعد عمر قید کے ملزم کی رہائی کا حکم</a>
</li>
</ul>
</div><p class=''>اسلام آباد: سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے ملزمان کی اپیلوں کی سماعت کرتے ہوئے سزاؤں پر عمل درآمد روک دیا اور فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے۔ </p><p class=''>سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے ملزمان شفقت، صابر شاہ اور محمد لیاقت کی اپیلوں کی سماعت ہوئی۔</p><p class=''>ان اپیلوں کی سماعت جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی۔</p><p class=''>عدالت عظمیٰ نے اپیلوں پر سماعت کے دوران ملزمان کی سزاؤں پرعمل درآمد روکتے ہوئے تمام فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے۔</p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1050051/' >فوجی عدالتوں کی مدت ختم</a></strong></p><p class=''>بعد ازاں عدالت نے اپیلوں کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔</p><p class=''>خیال رہے کہ ملزم لیاقت پر ایک صحافی پر حملے کا الزام ہے جبکہ شفقت اور صابر شاہ پر لاہور میں ایک وکیل ارشد علی کے قتل کا الزام تھا۔</p><p class=''>واضح رہے کہ تینوں ملزمان کو فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔</p><p class=''>یاد رہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے فوجی عدالتوں سے سزا موت کے قیدیوں کی جانب سے اپیلوں کی سماعت کے دوران سزاؤں پر عمل درآمد روک دیا۔</p><p class=''>دسمبر 2014 میں دہشت گردوں کی جانب سے پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے دہشت گردی کے حملے میں 145 سے زائد افراد کو ہلاک کیا گیا تھا، ہلاک ہونے والوں میں بیشتر اسکول کے طلباء تھے، 2015 میں پہلی مرتبہ دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کے لیے فوجی عدالتیں قیام کی گئیں تھی۔</p><p class=''><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1022621' >فوجی عدالتوں کے فیصلوں کی تفصیلات طلب</a></strong></p><p class=''>پاکستان آرمی ترمیمی ایکٹ 2015 کے تحت وفاقی حکومت کو کسی بھی مقدمے کو فوجی عدالتوں میں بھیجنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔</p><p class=''>فوجی عدالتوں نے متعدد دہشت گردوں کو سزائے موت سمیت دیگر سزائیں سنائی تھیں اور اس تناظر میں متعدد دہشت گردوں کی سزائے موت پر عمل درآمد بھی کرایا گیا جن میں بیشتر پر سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے کا الزام تھا۔</p><p class=''>فوجی عدالت کے فیصلوں کے خلاف <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1024944' ><strong>پہلی اپیل 8 اگست 2015</strong></a> کو کی گئی تھی جس میں درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے حیدر علی کو 2009 میں 14 سال کی عمر میں گرفتار کیا گیا تھا جبکہ فوجی حکام کے مطالبے پر حیدر علی کو پیش کیا گیا۔</p><p class=''>سپریم کورٹ میں دائر درخواست کے مطابق حیدر علی کی گرفتاری کے 6 سال بعد معلوم ہوا کہ حیدر علی لوئر دیر کی تیمرگرہ جیل میں قید ہے۔</p><p class=''>اس سے قبل اگست 2015 میں ہی پشاور ہائی کورٹ نے سوات سے تعلق رکھنے والے 10ویں جماعت کے طالب علم حیدر علی کی سزائے موت پر بھی عمل درآمد روکنے کا حکم دیا تھا۔</p><p class=''>اس کے علاوہ 29 اگست 2015 میں <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1042833' ><strong>پشاور ہائی کورٹ</strong></a> نے فوجی عدالت سے سزائے موت پانے والے ملزم کی سزا معطل کردی تھی۔</p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1014658' >فوجی عدالتوں کا قیام:آئینی ترمیمی بل اسمبلی میں پیش</a></strong></p><p class=''><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1031898' ><strong>11 جنوری 2016</strong></a> کو پاکستان میں انسانی حقوق کمیشن کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نے فوجی عدالت کی جانب سے دہشت گردی کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائے جانے اور اس پر پشاور ہائی کورٹ کے 9 دسمبر 2015 کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چلینج کردیا تھا۔</p><p class=''><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1037053' ><strong>11 مئی 2016 کو سپریم کورٹ نے</strong></a> فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے 3 مجرمان کی سزاؤں پر عمل درآمد روکتے ہوئے اٹارنی جنرل سے مجرمان کی جانب سے درخواست میں لگائے جانے والے الزامات پر جواب طلب کرلیا تھا۔</p><p class=''><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1042800' ><strong>29 اگست 2016 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے</strong></a> فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ پشاور کے آرمی پبلک اسکول سمیت دہشت گردی کے متعدد واقعات میں ملوث 16 مجرموں کی سزائے موت کے خلاف اپیلیں مسترد کردیں تھی۔</p><p class=''><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1050394/' ><strong>12 جنوری 2017 کو پشاور ہائی کورٹ</strong></a> نے فوجی عدالت سے سزائے موت پانے والے مجرم قاسم شاہ کی سزا پر عمل درآمد پر حکم امتناع جاری کردیا تھا۔</p><p class=''><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1058732' ><strong>30 مئی 2017 کو سپریم کورٹ کے ایک خصوصی بینچ</strong></a> نے فوجی عدالتوں کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت سے معذرت کر لی تھی۔</p><h3 id="toc_0">8 سال بعد عمر قید کے ملزم کی رہائی کا حکم</h3>
<p class=''>دوسری جانب سپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ایک علیحدہ کیس کی سماعت کرتے ہوئے 8 سال بعد عمر قید کے ملزم کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ </p><p class=''>اس موقع پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ کیس سچا ہوتا ہے مگر گواہیاں جھوٹی ہوتی ہیں اور بناوٹی شہادتوں کی بنا پر اصل ملزم بری ہوجاتے ہیں۔</p><p class=''>انہوں نے کہا کہ اگر مدعی کی تسلی کو دیکھیں تو عدالتی نظام ہی تباہ ہوجائے۔</p><p class=''>عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف کیس ثابت نہ کرسکا جبکہ گواہان کی شہادتوں میں بھی تضاد ہے۔</p><p class=''>خیال رہے کہ ملزم شاہ راز کے خلاف تھانہ درگئی ملاکنڈ میں اغوا برائے تاوان کا مقدمہ درج ہوا تھا اور ٹرائل کورٹ نے اسے عمر قید کی سزا سنائی تھی جبکہ ہائی کورٹ نے اپیل پر عمر قید کی سزا برقرار رکھی تھی۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1072101</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Feb 2018 22:04:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حسیب بھٹیویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/01/5a659a4e8102c.jpg?r=1049988735" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/01/5a659a4e8102c.jpg?r=772124693"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
