<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 06 May 2026 08:39:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 06 May 2026 08:39:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیب کا ملکی و غیر ملکی این جی اوز کے معاملات کی تحقیقات کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1072350/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں کام کرنے والی قومی اور بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے تمام معاملات کی تحقیقات کرے گا۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;نیب کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ نیب ایگزیکٹو بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام این جی اوز اور آئی این جی اوز کی جانچ پڑتال کی جائے گی کیونکہ ان پر نہ صرف غلط استعمال بلکہ غلط طریقے سے فنڈنگ کا الزام بھی لگتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس حوالے سے نیب حکام نے ڈان کو بتایا کہ نیب کو کچھ شکایات موصول ہوئی تھیں، جس کی بنیاد پر این جی اوز اور آئی این جی اوز کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1072050' &gt;801 این جی اوز کی رجسٹریشن منسوخ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے نیب وزارت داخلہ اور اقتصادی امور ڈویژن سے تمام این جی اوز اور آئی این جی اوز کے کام، مقاصد اور غیر ملکی فنڈنگ کے حوالے سے تفصیلات حاصل کرے گا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;حکام نے بتایا کہ نیب کی جانب سے ایک سوال نامہ تیار کیا گیا ہے، جو مزید معلومات کے لیے تمام این جی اوز اور آئی این جی اوز کو بھیجا جائے گا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلی مرتبہ ہےکہ نیب این جی اوز اور آئی این جی اوز کے خلاف اس طرح کی کوئی کارروائی کرنے جارہا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں آئی این جی اوز کا معاملہ اس وقت زیر غور آیا تھا جب سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ زیادہ تر آئی این جی اوز تعلیم، صحت، قانون اور پولیس اصلاحات جیسے مختتلف شعبوں کے لیے دیے گئے فنڈز کو غلط استعمال کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے کہا تھا کہ جب میں نے تمام آئی این جی اوز پابندی لگائی تھی تو امریکا اور برطانیہ کی حکومت کی جانب سے واویلا مچایا گیا تھا اور اس فیصلے کی مخالفت کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے کہا تھا کہ میں حیران تھا کہ کیوں یہ دونوں حکومتیں آئی این جی اوز کی حمایت میں سامنے آرہی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے کہا تھا کہ امریکی اور برطانوی حکومتوں کی جانب سے مختلف شعبوں کے لیے جاری کیے گئے فنڈز کو آئی این جی اوز ہڑپ کرلیتی تھیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کی جانب سے آئی این جی اوز کے کام رکاوٹیں لگائی تھی جبکہ ان کی پارٹی کے رکن اور موجودہ وزیر داخلہ احسن اقبال نے تمام اداروں کو دوبارہ کام کرنے اجازت دی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;احسن اقبال نے کہا تھا کہ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری میں غیر ضروری رکاوٹیں پیدا کرنا نہیں چاہتی اور آئی این جی اوز کو صفائی کے لیے موقع اور وقت دینا چاہیے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے حکومت کے حالیہ اقدام کی حمایت کی جس میں کہا گیا تھا کہ جب تک آئی این جی اوز کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کی درخواستوں پر حتمی فیصلہ نہیں آتا تمام آئی این جی اوز کام جاری رکھ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1071440' &gt;ممنوعہ غیرملکی این جی اوز کو حتمی فیصلےتک سرگرمیاں جاری رکھنےکی اجازت&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کا کہنا تھا کہ آئی این جی اوز کی رجسٹریش کے طریقہ کار میں کچھ رکاوٹیں حائل تھیں، جنہیں وزارت داخلہ نے ختم کردیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ آئی این جی اوز کو اپنی رجسٹریشن کی منسوخی کے خلاف 90 روز میں اپیل دائر کرنے کا حق دیا گیا تھا جبکہ قوانین کے تحت اس طرح کی تنظیموں کا 60 دن کے اندر ملک چھوڑنا ضروری تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;نیب بورڈ نے 10 ریفرنسز،5 تحقیقات اور 6 انکوائریز کی بھی منظور دی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یہ ریفرنسز سابق چیف سیکریٹری سندھ صدیق میمن، سابق اسپیکر بلوچستان اسمبلی جان محمد جمالی اور سابق سیکریٹری عظیم دیوی، سابق ایڈیشنل سیکریٹری بلوچستان علی ظہیر، بلوچستان کے میڈیکل اسٹور ڈپارٹمنٹ اور ریونیو ڈپارٹمنٹ کے میاں ابوذر شاد، خالد محمود چھڈا اور سید آصف اختر ہاشمی کے خلاف دائر کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 26 جنوری 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'></div><p class=''>اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں کام کرنے والی قومی اور بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے تمام معاملات کی تحقیقات کرے گا۔ </p><p class=''>نیب کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ نیب ایگزیکٹو بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام این جی اوز اور آئی این جی اوز کی جانچ پڑتال کی جائے گی کیونکہ ان پر نہ صرف غلط استعمال بلکہ غلط طریقے سے فنڈنگ کا الزام بھی لگتا ہے۔</p><p class=''>اس حوالے سے نیب حکام نے ڈان کو بتایا کہ نیب کو کچھ شکایات موصول ہوئی تھیں، جس کی بنیاد پر این جی اوز اور آئی این جی اوز کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔</p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1072050' >801 این جی اوز کی رجسٹریشن منسوخ</a></strong></p><p class=''>انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے نیب وزارت داخلہ اور اقتصادی امور ڈویژن سے تمام این جی اوز اور آئی این جی اوز کے کام، مقاصد اور غیر ملکی فنڈنگ کے حوالے سے تفصیلات حاصل کرے گا۔</p><p class=''>حکام نے بتایا کہ نیب کی جانب سے ایک سوال نامہ تیار کیا گیا ہے، جو مزید معلومات کے لیے تمام این جی اوز اور آئی این جی اوز کو بھیجا جائے گا۔</p><p class=''>ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلی مرتبہ ہےکہ نیب این جی اوز اور آئی این جی اوز کے خلاف اس طرح کی کوئی کارروائی کرنے جارہا ہے۔</p><p class=''>خیال رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں آئی این جی اوز کا معاملہ اس وقت زیر غور آیا تھا جب سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ زیادہ تر آئی این جی اوز تعلیم، صحت، قانون اور پولیس اصلاحات جیسے مختتلف شعبوں کے لیے دیے گئے فنڈز کو غلط استعمال کر رہی ہیں۔</p><p class=''>انہوں نے کہا تھا کہ جب میں نے تمام آئی این جی اوز پابندی لگائی تھی تو امریکا اور برطانیہ کی حکومت کی جانب سے واویلا مچایا گیا تھا اور اس فیصلے کی مخالفت کی گئی تھی۔</p><p class=''>انہوں نے کہا تھا کہ میں حیران تھا کہ کیوں یہ دونوں حکومتیں آئی این جی اوز کی حمایت میں سامنے آرہی ہیں۔</p><p class=''>انہوں نے کہا تھا کہ امریکی اور برطانوی حکومتوں کی جانب سے مختلف شعبوں کے لیے جاری کیے گئے فنڈز کو آئی این جی اوز ہڑپ کرلیتی تھیں۔</p><p class=''>واضح رہے کہ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کی جانب سے آئی این جی اوز کے کام رکاوٹیں لگائی تھی جبکہ ان کی پارٹی کے رکن اور موجودہ وزیر داخلہ احسن اقبال نے تمام اداروں کو دوبارہ کام کرنے اجازت دی تھی۔</p><p class=''>احسن اقبال نے کہا تھا کہ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری میں غیر ضروری رکاوٹیں پیدا کرنا نہیں چاہتی اور آئی این جی اوز کو صفائی کے لیے موقع اور وقت دینا چاہیے۔</p><p class=''>انہوں نے حکومت کے حالیہ اقدام کی حمایت کی جس میں کہا گیا تھا کہ جب تک آئی این جی اوز کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کی درخواستوں پر حتمی فیصلہ نہیں آتا تمام آئی این جی اوز کام جاری رکھ سکتی ہیں۔</p><p class=''><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1071440' >ممنوعہ غیرملکی این جی اوز کو حتمی فیصلےتک سرگرمیاں جاری رکھنےکی اجازت</a></strong></p><p class=''>ان کا کہنا تھا کہ آئی این جی اوز کی رجسٹریش کے طریقہ کار میں کچھ رکاوٹیں حائل تھیں، جنہیں وزارت داخلہ نے ختم کردیا ہے۔</p><p class=''>خیال رہے کہ آئی این جی اوز کو اپنی رجسٹریشن کی منسوخی کے خلاف 90 روز میں اپیل دائر کرنے کا حق دیا گیا تھا جبکہ قوانین کے تحت اس طرح کی تنظیموں کا 60 دن کے اندر ملک چھوڑنا ضروری تھا۔</p><p class=''>نیب بورڈ نے 10 ریفرنسز،5 تحقیقات اور 6 انکوائریز کی بھی منظور دی۔</p><p class=''>یہ ریفرنسز سابق چیف سیکریٹری سندھ صدیق میمن، سابق اسپیکر بلوچستان اسمبلی جان محمد جمالی اور سابق سیکریٹری عظیم دیوی، سابق ایڈیشنل سیکریٹری بلوچستان علی ظہیر، بلوچستان کے میڈیکل اسٹور ڈپارٹمنٹ اور ریونیو ڈپارٹمنٹ کے میاں ابوذر شاد، خالد محمود چھڈا اور سید آصف اختر ہاشمی کے خلاف دائر کیے جائیں گے۔</p><hr>
<p class=''><strong>یہ خبر 26 جنوری 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</strong></p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1072350</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Jan 2018 12:04:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید عرفان رضا)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/01/5a6ab48175e67.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="728">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/01/5a6ab48175e67.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
