<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 20:27:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 20:27:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں استعمال شدہ کاروں کی درآمدات میں 70 فیصد اضافہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1072356/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;کراچی: آٹو صنعت کے حالیہ اعداد و شمار میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ 2016 کے مقابلے میں 2017 میں پاکستان میں استعمال شدہ درآمد کی جانے والی کاروں اور منی وینز کی تعداد میں تقریباً 70 فیصد تک اضافہ ہوا اور یہ تعداد 38 ہزار 676 سے بڑھ کر 65 ہزار 723 تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس کے علاوہ اسپورٹ یوٹیلٹی گاڑیوں (ایس یو ویز) کی درآمد بھی 59 فیصد بڑھ کر 7ہزار758 یونٹس تک پہنچ گئی جبکہ پک اپس اور وینز کی تعداد 9 فیصد اضافے کے ساتھ 3 ہزار 154 یونٹس تک درآمد کی گئیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;مقامی صنعت کی جانب سے امپورٹ جنرل مینیفیسٹ (آئی جی ایم) کے ذریعے ہر نئی اور پرانی درآمد شدہ گاڑی کا ریکارڈ مرتب کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے ہر درآمد شدہ کار کسٹم کے عمل سے گزرتی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;2017 کے اعداد و شمار کے مطابق ٹویوٹا وٹز درآمد شدہ گاڑیوں میں سب سے زیادہ مقبول رہی اور اس کے 8 ہزار 680 یونٹس پاکستان آئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد اضافہ تھا، اس کے ساتھ ساتھ ڈائی ہاٹسو میرا کی تعداد 73.1 فیصد بڑھی اور 6 ہزار 91 یونٹس ملک میں درآمد کیے گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1070513' &gt;ٹویوٹا نے کاروں کی قمتیوں میں 60 ہزار روپے تک اضافہ کردیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اعداد و شمار کے مطابق 2016 میں ٹویوٹا ایکوا کے 3 ہزار 622 یونٹس درآمد کیے گئے تھے جبکہ 2017 میں یہ تعداد 96 فیصد بڑھی اور 7ہزار 123 یونٹس کی درآمدات ہوئی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس کے ساتھ ساتھ 2017 میں سوزوکی ایوری کے 5 ہزار 88 یونٹس پاکستان آئے جو ایک سال کے دوران 14.6 فیصد تک اضافہ تھا جبکہ ڈائی ہاٹسو ہائی جیٹ کی درآمد میں 34.5 فیصد اضافہ ہوا اوراس کی تعداد 3 ہزار 367 یونٹس رہی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;درآمد شدہ گاڑیوں میں سوزوکی آلٹو کی تعداد میں دوگنا اضافہ ہوا اور یہ ایک سال کے دوران 2ہزار 13 یونٹس سے بڑھ کر 4 ہزار 158 یونٹس تک پہنچ گئی جبکہ سوزوکی ویگن آر کی درآمدات میں 115 فیصد اضافہ ہوا اور 3 ہزار 574 یونٹس ملک میں آئے۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سالانہ اعداد و شمار کے مطابق ہونڈا ویزل کی درآمد 57.5 فیصد بڑھی اور 2ہزار 431 یونٹس پاکستان آئے جبکہ ٹویوٹا لینڈ کروزر کی تعداد میں 55.7 تک اضافہ ہوا اور 3 ہزر 301 یونٹس کی درآمدات ہوئی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2017 میں  استعمال شدہ گاڑیوں کی کل درآمدات میں 65 فیصد اضافہ ہوا اور یہ تعداد 76 ہزار 635 یونٹس رہی جو ایک سال قبل 46 ہزار 500 یونٹس تک محدود تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال کیا جارہا ہے کہ کم شرح سود، بینکوں کی جانب سے آٹو فنانسنگ میں اضافہ اور ٹیکسی سروس کریم اور اوبر کی جانب سے گاڑیوں کی خریداری کے باعث استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات تیزی سے بڑھی ہیں جبکہ مقامی سطح پر اسمبلڈ ہونے والی گاڑیوں کی فروخت میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;مقامی سطح پر تیار ہونے والی گاڑیوں کی تعداد میں ایک سال کے دوران 20.4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ جولائی سے دسمبر کے درمیان ایک لاکھ 3 ہزار 432 یونٹس فروخت کیے گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;پاکستان بیورو آف اسٹیٹ اسٹکس کے مطابق جولائی سے دسمبر کے درمیان درآمد شدہ کاروں کی کل تعداد میں 64 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ان کی مالیت 27 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1070368' &gt;مقامی کمپنی کا 800 سی سی کار متعارف کرانے کا اعلان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس حوالے سے پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹو پارٹس اینڈ ایسسزیز مینوفیکچرز کے سابق چیئرمین عامر اللہ والا کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس مقامی وینڈنگ صنعت کی آمدنی میں اندازاً 23 ارب روپے کی کمی آئی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے کہا کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات موجودہ اسمبلرز،  نئے آنے والوں اور پرزے بنانے والوں کی طرف کی جانی والی سرمایہ کاری میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت کو استعمال گاڑیوں کی درآمدات سے متعلق ڈیوٹیز اور ٹیکسز کے طریقہ کار میں ترمیم کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 26 جنوری 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'></div><p class=''>کراچی: آٹو صنعت کے حالیہ اعداد و شمار میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ 2016 کے مقابلے میں 2017 میں پاکستان میں استعمال شدہ درآمد کی جانے والی کاروں اور منی وینز کی تعداد میں تقریباً 70 فیصد تک اضافہ ہوا اور یہ تعداد 38 ہزار 676 سے بڑھ کر 65 ہزار 723 تک پہنچ گئی۔</p><p class=''>اس کے علاوہ اسپورٹ یوٹیلٹی گاڑیوں (ایس یو ویز) کی درآمد بھی 59 فیصد بڑھ کر 7ہزار758 یونٹس تک پہنچ گئی جبکہ پک اپس اور وینز کی تعداد 9 فیصد اضافے کے ساتھ 3 ہزار 154 یونٹس تک درآمد کی گئیں۔</p><p class=''>مقامی صنعت کی جانب سے امپورٹ جنرل مینیفیسٹ (آئی جی ایم) کے ذریعے ہر نئی اور پرانی درآمد شدہ گاڑی کا ریکارڈ مرتب کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے ہر درآمد شدہ کار کسٹم کے عمل سے گزرتی ہے۔</p><p class=''>2017 کے اعداد و شمار کے مطابق ٹویوٹا وٹز درآمد شدہ گاڑیوں میں سب سے زیادہ مقبول رہی اور اس کے 8 ہزار 680 یونٹس پاکستان آئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد اضافہ تھا، اس کے ساتھ ساتھ ڈائی ہاٹسو میرا کی تعداد 73.1 فیصد بڑھی اور 6 ہزار 91 یونٹس ملک میں درآمد کیے گئے۔</p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1070513' >ٹویوٹا نے کاروں کی قمتیوں میں 60 ہزار روپے تک اضافہ کردیا</a></strong></p><p class=''>اعداد و شمار کے مطابق 2016 میں ٹویوٹا ایکوا کے 3 ہزار 622 یونٹس درآمد کیے گئے تھے جبکہ 2017 میں یہ تعداد 96 فیصد بڑھی اور 7ہزار 123 یونٹس کی درآمدات ہوئی۔</p><p class=''>اس کے ساتھ ساتھ 2017 میں سوزوکی ایوری کے 5 ہزار 88 یونٹس پاکستان آئے جو ایک سال کے دوران 14.6 فیصد تک اضافہ تھا جبکہ ڈائی ہاٹسو ہائی جیٹ کی درآمد میں 34.5 فیصد اضافہ ہوا اوراس کی تعداد 3 ہزار 367 یونٹس رہی۔</p><p class=''>درآمد شدہ گاڑیوں میں سوزوکی آلٹو کی تعداد میں دوگنا اضافہ ہوا اور یہ ایک سال کے دوران 2ہزار 13 یونٹس سے بڑھ کر 4 ہزار 158 یونٹس تک پہنچ گئی جبکہ سوزوکی ویگن آر کی درآمدات میں 115 فیصد اضافہ ہوا اور 3 ہزار 574 یونٹس ملک میں آئے۔ </p><p class=''>سالانہ اعداد و شمار کے مطابق ہونڈا ویزل کی درآمد 57.5 فیصد بڑھی اور 2ہزار 431 یونٹس پاکستان آئے جبکہ ٹویوٹا لینڈ کروزر کی تعداد میں 55.7 تک اضافہ ہوا اور 3 ہزر 301 یونٹس کی درآمدات ہوئی۔</p><p class=''>اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2017 میں  استعمال شدہ گاڑیوں کی کل درآمدات میں 65 فیصد اضافہ ہوا اور یہ تعداد 76 ہزار 635 یونٹس رہی جو ایک سال قبل 46 ہزار 500 یونٹس تک محدود تھی۔</p><p class=''>خیال کیا جارہا ہے کہ کم شرح سود، بینکوں کی جانب سے آٹو فنانسنگ میں اضافہ اور ٹیکسی سروس کریم اور اوبر کی جانب سے گاڑیوں کی خریداری کے باعث استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات تیزی سے بڑھی ہیں جبکہ مقامی سطح پر اسمبلڈ ہونے والی گاڑیوں کی فروخت میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ </p><p class=''>مقامی سطح پر تیار ہونے والی گاڑیوں کی تعداد میں ایک سال کے دوران 20.4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ جولائی سے دسمبر کے درمیان ایک لاکھ 3 ہزار 432 یونٹس فروخت کیے گئے۔</p><p class=''>پاکستان بیورو آف اسٹیٹ اسٹکس کے مطابق جولائی سے دسمبر کے درمیان درآمد شدہ کاروں کی کل تعداد میں 64 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ان کی مالیت 27 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھی۔</p><p class=''><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1070368' >مقامی کمپنی کا 800 سی سی کار متعارف کرانے کا اعلان</a></strong></p><p class=''>اس حوالے سے پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹو پارٹس اینڈ ایسسزیز مینوفیکچرز کے سابق چیئرمین عامر اللہ والا کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس مقامی وینڈنگ صنعت کی آمدنی میں اندازاً 23 ارب روپے کی کمی آئی تھی۔</p><p class=''>انہوں نے کہا کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات موجودہ اسمبلرز،  نئے آنے والوں اور پرزے بنانے والوں کی طرف کی جانی والی سرمایہ کاری میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔</p><p class=''>انہوں نے کہا کہ حکومت کو استعمال گاڑیوں کی درآمدات سے متعلق ڈیوٹیز اور ٹیکسز کے طریقہ کار میں ترمیم کرنی چاہیے۔</p><hr>
<p class=''><strong>یہ خبر 26 جنوری 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</strong></p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1072356</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Jan 2018 12:17:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عامر شفاعت خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/01/5a6ad0d50d592.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/01/5a6ad0d50d592.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
