<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 09:27:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 09:27:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد ہائی کورٹ نے پرویز مشرف کے وکیل کو دلائل دینے سے روک دیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1072364/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات قومی احتساب بیور (نیب) سے کرانے سے متعلق درخواست کے دوران سابق آرمی چیف کے وکیل کو دلائل دینے سے روکتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href='https://www.dawn.com/news/1385367/ihc-bench-refuses-to-hear-musharrafs-counsel' &gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے درخواست گزار کے مختصر دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ یہ درخواست لیفٹننٹ کرنل ( ر) انعام الرحمٰن کی جانب سے جنوری 2014 میں دائر کی گئی تھی جس پر فیصلہ زیر التوا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1070669' &gt;بینظیر بھٹو کو پرویز مشرف نے قتل کروایا، بلاول بھٹو زرداری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی جانب سے درخواست کی سماعت کے دوران بینچ نے سابق آرمی چیف کے وکیل میجر (ر) اختر شاہ کے اعتراضات سننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل مفرور ہیں اور جب تک وہ اپنے آپ کو قانون کے حوالے نہیں کرتے ان کے وکیل کو دلائل دینے کا موقع نہیں دیا جاسکتا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سماعت کے دوران درخواست گزار نے الزام لگایا کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہے، جس کے مطابق وہ اپنے ملک کا دفاع کرنے اور شہریوں کی حفاظت کے ذمہ دار تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;درخواست گزار نے مزید الزام لگایا کہ پرویز مشرف نے مسلح افواج کے سینئر عہدیداروں کو ان کے استحقاق سے زیادہ پلاٹس دے کر بدعنوانی کی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;درخواست گزار کے مطابق جب اس مبینہ کرپشن کے خلاف نیب سے رابطہ کیا گیا تھا تو نیب نے اس درخواست پر تحقیقات سے انکار کردیا اور کہا تھا کہ نیب کے مشاہدے کے مطابق ان الزامات کے وقت  پرویز مشرف ملک کے آرمی چیف اور صدر پاکستان تھے  اور وہ1999 کے  قومی احتساب آرڈیننس ( این اے او) کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;2014 میں پرویز مشرف کی طرف سے ان کے وکیل اختر شاہ نے جواب جمع کرایا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ نیب آرڈیننس 1999 کسی آرمی چیف کی مدت ملازمت کے دوران ان پر کرپشن کے حوالے سے لگائے گئے الزامات پر کارروائی کا مجاز نہیں رکھتا، لہٰذا نیب کی جانب سے درخواست درست واپس کی گئی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;گزشتہ روز سماعت کے دوران درخواست گزار نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ نیب کو پرویز مشرف کے خلاف کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کرے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بینچ نے درخواست گزار سے پوچھا کہ عدالت کس طرح نیب کو حکم دے سکتی ہے جب نیب کے پاس شکایات سے نمٹنے کے لیے آرڈیننس 1999 موجود ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1071590' &gt;پرویز مشرف، طاہرالقادری کو میڈیا میں نہ آنے دیا جائے، پٹیشن دائر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل لئیق سواتی نے کہا کہ 28 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ کے فیصلے میں نیب کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ریفرنس تیار کرے اور اسے جمع کرائے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے کہا کہ وہ ایک ریفرنس دائر کرنے کی دخواست نہیں کر رہے لیکن عدالت اس معاملے کی شفاف انکوائری کے لیے اسے انسداد دہشتگردی عدالت کو تو بھیج سکتی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس موقع پر ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز مشرف کے وکیل نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ عدالت اس درخواست کو مسترد کردے گی کیونکہ یہ بالکل غیر سنجیدہ ہے جبکہ ان کے موکل کی جانب سے توہین آمیز الزمات لگانے پر درخواست گزار کے خلاف درخواست دائر کی جائے گی۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'></div><p class=''>اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات قومی احتساب بیور (نیب) سے کرانے سے متعلق درخواست کے دوران سابق آرمی چیف کے وکیل کو دلائل دینے سے روکتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا۔</p><p class=''>ڈان اخبار کی <a href='https://www.dawn.com/news/1385367/ihc-bench-refuses-to-hear-musharrafs-counsel' ><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے درخواست گزار کے مختصر دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا۔</p><p class=''>خیال رہے کہ یہ درخواست لیفٹننٹ کرنل ( ر) انعام الرحمٰن کی جانب سے جنوری 2014 میں دائر کی گئی تھی جس پر فیصلہ زیر التوا تھا۔</p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1070669' >بینظیر بھٹو کو پرویز مشرف نے قتل کروایا، بلاول بھٹو زرداری</a></strong></p><p class=''>جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی جانب سے درخواست کی سماعت کے دوران بینچ نے سابق آرمی چیف کے وکیل میجر (ر) اختر شاہ کے اعتراضات سننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل مفرور ہیں اور جب تک وہ اپنے آپ کو قانون کے حوالے نہیں کرتے ان کے وکیل کو دلائل دینے کا موقع نہیں دیا جاسکتا۔</p><p class=''>سماعت کے دوران درخواست گزار نے الزام لگایا کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہے، جس کے مطابق وہ اپنے ملک کا دفاع کرنے اور شہریوں کی حفاظت کے ذمہ دار تھے۔</p><p class=''>درخواست گزار نے مزید الزام لگایا کہ پرویز مشرف نے مسلح افواج کے سینئر عہدیداروں کو ان کے استحقاق سے زیادہ پلاٹس دے کر بدعنوانی کی۔</p><p class=''>درخواست گزار کے مطابق جب اس مبینہ کرپشن کے خلاف نیب سے رابطہ کیا گیا تھا تو نیب نے اس درخواست پر تحقیقات سے انکار کردیا اور کہا تھا کہ نیب کے مشاہدے کے مطابق ان الزامات کے وقت  پرویز مشرف ملک کے آرمی چیف اور صدر پاکستان تھے  اور وہ1999 کے  قومی احتساب آرڈیننس ( این اے او) کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔</p><p class=''>2014 میں پرویز مشرف کی طرف سے ان کے وکیل اختر شاہ نے جواب جمع کرایا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ نیب آرڈیننس 1999 کسی آرمی چیف کی مدت ملازمت کے دوران ان پر کرپشن کے حوالے سے لگائے گئے الزامات پر کارروائی کا مجاز نہیں رکھتا، لہٰذا نیب کی جانب سے درخواست درست واپس کی گئی۔</p><p class=''>گزشتہ روز سماعت کے دوران درخواست گزار نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ نیب کو پرویز مشرف کے خلاف کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کرے۔</p><p class=''>بینچ نے درخواست گزار سے پوچھا کہ عدالت کس طرح نیب کو حکم دے سکتی ہے جب نیب کے پاس شکایات سے نمٹنے کے لیے آرڈیننس 1999 موجود ہے۔</p><p class=''><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1071590' >پرویز مشرف، طاہرالقادری کو میڈیا میں نہ آنے دیا جائے، پٹیشن دائر</a></strong></p><p class=''>اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل لئیق سواتی نے کہا کہ 28 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ کے فیصلے میں نیب کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ریفرنس تیار کرے اور اسے جمع کرائے۔</p><p class=''>انہوں نے کہا کہ وہ ایک ریفرنس دائر کرنے کی دخواست نہیں کر رہے لیکن عدالت اس معاملے کی شفاف انکوائری کے لیے اسے انسداد دہشتگردی عدالت کو تو بھیج سکتی ہے۔</p><p class=''>اس موقع پر ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز مشرف کے وکیل نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ عدالت اس درخواست کو مسترد کردے گی کیونکہ یہ بالکل غیر سنجیدہ ہے جبکہ ان کے موکل کی جانب سے توہین آمیز الزمات لگانے پر درخواست گزار کے خلاف درخواست دائر کی جائے گی۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1072364</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Jan 2018 14:46:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ملک اسد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/01/5a6af25a97165.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="180" width="300">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/01/5a6af25a97165.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
