<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Kashmir</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 17:13:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 17:13:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کے بیس پر حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 6 ہوگئی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1073229/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;مقبوضہ کشمیر میں ایک روز قبل بھارتی فوج کے کیمپ پر دہشت گردوں کے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے جہاں 5 فوجی سمیت 6 افراد ہلاک ہوگئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;امریکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق فوجی کیمپ پر بھارتی فوج اور دہشتگردوں کے درمیان دو دن سے جاری فائرنگ کے تبادلے میں 11 افراد زخمی بھی ہوئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آزاد جموں و کشمیر کے اعلیٰ پولیس حکام ایس پی وائد کے مطابق فائرنگ کا آغاز ہفتے کی صبح سویرے شروع ہوا جب دہشت گردوں نے جموں شہر کے مضافاتی علاقے میں قائم سنجوان فوجی بیس پر حملہ کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کا کہنا تھا کہ دونوں اطراف سے فائرنگ اتوار کے دن تک جاری رہی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1073173' &gt;کشمیر: بھارتی فورسز کے کیمپ پر حملہ، 2 اہلکار ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی فوج کے سپاہیوں کے اہل خانہ کی وہاں موجودگی کی وجہ سے سیکیورٹی اہلکار کیمپ کو آہستہ آہستہ کلیئر کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تاہم اب تک یہ بات واضح نہیں ہوسکی کے حملے میں کتنے دہشت گرد ملوث تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ حملے کے بعد ملٹری اسٹیشن اور اس کے اطراف کے علاقوں کی ناکہ بندی بھی کردی گئی ہے جبکہ تمام اسکولوں کو بھی بند کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یاد رہے کہ 31 دسمبر 2017 کو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھارتی پیرا ملٹری فورس کے کیمپ پر عسکریت پسندوں کے حملے میں &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1070890' &gt;&lt;strong&gt;4 بھارتی فوجی ہلاک&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; ہوگئے تھے جبکہ فورسز کی جوابی کارروائی میں تین حملہ آوار بھی مارے گئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ گزشتہ برس کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کے اعداد و شمار میں کہا گیا تھا کہ حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کے قتل کے بعد سے  بھارتی فورسز نے مقبوضہ وادی میں خواتین اور کم عمر لڑکوں سمیت وادی میں &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1072902' &gt;&lt;strong&gt;515 افراد کو قتل&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کردیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1065686/' &gt;کشمیر: بھارتی فوجی کیمپ پر حملہ، ایک اہلکار ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ 1989 سے جیشِ محمد سمیت متعدد گروپ بھارتی فوج اور ہمالیہ کے علاقوں میں تعینات پولیس سے لڑتے آئے ہیں اور وہ پاکستان سے انضمام یا کشمیر کی آزادی چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس لڑائی کے دوران اب تک ہزاروں لوگ مارے جاچکے ہیں، جس میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;کشمیر میں جاری اس تشدد میں گزشتہ دہائی میں تیزی سے کمی آئی تھی لیکن اس سال بھارتی فوج کے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن آل آؤٹ کے نتیجے میں 350 اموات ہوئیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;حکام اور دائیں بازو کے گروپ کا کہنا ہے کہ رواں سال 210 مشتبہ عسکریت پسند جن میں بیشتر مقامی شہری تھے، 57 عام شہری اور 82 فوجی یا پولیس اہلکار قتل ہوئے۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'></div><p class=''>مقبوضہ کشمیر میں ایک روز قبل بھارتی فوج کے کیمپ پر دہشت گردوں کے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے جہاں 5 فوجی سمیت 6 افراد ہلاک ہوگئے۔</p><p class=''>امریکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق فوجی کیمپ پر بھارتی فوج اور دہشتگردوں کے درمیان دو دن سے جاری فائرنگ کے تبادلے میں 11 افراد زخمی بھی ہوئے۔</p><p class=''>آزاد جموں و کشمیر کے اعلیٰ پولیس حکام ایس پی وائد کے مطابق فائرنگ کا آغاز ہفتے کی صبح سویرے شروع ہوا جب دہشت گردوں نے جموں شہر کے مضافاتی علاقے میں قائم سنجوان فوجی بیس پر حملہ کیا۔</p><p class=''>ان کا کہنا تھا کہ دونوں اطراف سے فائرنگ اتوار کے دن تک جاری رہی تھی۔</p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1073173' >کشمیر: بھارتی فورسز کے کیمپ پر حملہ، 2 اہلکار ہلاک</a></strong></p><p class=''>انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی فوج کے سپاہیوں کے اہل خانہ کی وہاں موجودگی کی وجہ سے سیکیورٹی اہلکار کیمپ کو آہستہ آہستہ کلیئر کر رہے ہیں۔</p><p class=''>تاہم اب تک یہ بات واضح نہیں ہوسکی کے حملے میں کتنے دہشت گرد ملوث تھے۔</p><p class=''>خیال رہے کہ حملے کے بعد ملٹری اسٹیشن اور اس کے اطراف کے علاقوں کی ناکہ بندی بھی کردی گئی ہے جبکہ تمام اسکولوں کو بھی بند کردیا گیا ہے۔</p><p class=''>یاد رہے کہ 31 دسمبر 2017 کو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھارتی پیرا ملٹری فورس کے کیمپ پر عسکریت پسندوں کے حملے میں <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1070890' ><strong>4 بھارتی فوجی ہلاک</strong></a> ہوگئے تھے جبکہ فورسز کی جوابی کارروائی میں تین حملہ آوار بھی مارے گئے تھے۔</p><p class=''>واضح رہے کہ گزشتہ برس کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کے اعداد و شمار میں کہا گیا تھا کہ حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کے قتل کے بعد سے  بھارتی فورسز نے مقبوضہ وادی میں خواتین اور کم عمر لڑکوں سمیت وادی میں <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1072902' ><strong>515 افراد کو قتل</strong></a> کردیا ہے۔</p><p class=''><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1065686/' >کشمیر: بھارتی فوجی کیمپ پر حملہ، ایک اہلکار ہلاک</a></strong></p><p class=''>خیال رہے کہ 1989 سے جیشِ محمد سمیت متعدد گروپ بھارتی فوج اور ہمالیہ کے علاقوں میں تعینات پولیس سے لڑتے آئے ہیں اور وہ پاکستان سے انضمام یا کشمیر کی آزادی چاہتے ہیں۔</p><p class=''>اس لڑائی کے دوران اب تک ہزاروں لوگ مارے جاچکے ہیں، جس میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔</p><p class=''>کشمیر میں جاری اس تشدد میں گزشتہ دہائی میں تیزی سے کمی آئی تھی لیکن اس سال بھارتی فوج کے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن آل آؤٹ کے نتیجے میں 350 اموات ہوئیں۔</p><p class=''>حکام اور دائیں بازو کے گروپ کا کہنا ہے کہ رواں سال 210 مشتبہ عسکریت پسند جن میں بیشتر مقامی شہری تھے، 57 عام شہری اور 82 فوجی یا پولیس اہلکار قتل ہوئے۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1073229</guid>
      <pubDate>Sun, 11 Feb 2018 21:44:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/02/5a8063da40b05.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/02/5a8063da40b05.jpg"/>
        <media:title>مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے سنجوان بیس پر اہلکار دہشت گردوں سے مقابلہ کر رہے ہیں — فوٹو: اے پی</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
