<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions - Editorial</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 23:02:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 23:02:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداریہ: عاصمہ جہانگیر نہیں رہیں، مگر کام اب بھی باقی ہے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1073261/12feb2018-asma-the-fearless-editorial</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;ان کی اچانک موت سے پہنچنے والا صدمہ نہایت شدید ہے، مگر اتنا ہی شدید فخر کا یہ احساس بھی ہے کہ وہ ہمارے درمیان زندہ رہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;عاصمہ جہانگیر وہ شہری تھیں جن پر پورا پاکستان فخر کر سکتا تھا، اور جن جیسا بننے کی ہم میں سے زیادہ تر صرف امید ہی کر سکتے ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;طاغوت کا سامنے کرنے، کمزوروں کا دفاع کرنے، اور پاکستان کو جمہوری، آئینی اور سیکیولر بنیادوں پر استوار کرنے کی بااصول اور باہمت عاصمہ کی خواہش اور عزم نے انہیں بلاشبہ مثالی کردار بنا دیا تھا۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اپنی بالغ زندگی کا بڑا حصہ عوام میں رہ کر گزارنے والی عاصمہ نے اپنی ذاتی تشہیر کو ان مسائل پر قربان کر دیا جس کی فکر درست سوچ رکھنے والے ہر باشعور شہری کو ہونی چاہیے۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;عاصمہ ایک بے خوف وکیل اور نہایت دانشمند شخصیت تھیں، اور وہ ہمیشہ کمزوروں کے حقوق اور طاقتوروں کے احتساب کی زبان بولتی تھیں۔ ہر جگہ کے مجبوروں اور مظلوموں کے لیے ان کا بے خوف دفاع یاد کیا جائے گا۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;عاصمہ نے جہاں انسانی حقوق اور دیگر قابلِ تعریف مقاصد کے لیے ملک اور دنیا بھر کا سفر کیا، وہاں آمریت اور مطلق العنانیت کے خلاف ان کی زندگی بھر طویل جدوجہد ہے جو صرف انہی کی شخصیت کا خاصہ ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کے والد ملک غلام جیلانی نے بہادری سے سابقہ مشرقی پاکستان میں فوج کی زیادتیوں کی مخالفت کی، اور کچھ ہی عرصے بعد عاصمہ بھی سڑکوں پر ضیاء الحق کی آمریت کے خلاف میدانِ عمل میں تھیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جنرل ضیاء کے دور میں قید کاٹنے اور پھر ایک اور آمر جنرل مشرف کے دور میں نظربند ہونے والی عاصمہ نے کبھی بھی آمریت اور مطلق العنانیت کے خلاف بولنا نہیں چھوڑا۔ ان کی کاٹ دار تنقید کی وجہ سے زیادہ تر مطلق العنان حکمران اور اشراف ان سے خوف زدہ نظر آتے تھے۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اور انہیں ہونا بھی چاہیے تھا۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;عاصمہ کے بااصول مؤقف کی وجہ سے وہ ایک خطرناک حریف تھیں۔ حالیہ دنوں میں ان کے اصولوں کی گہرائی تب سامنے نظر آتی جب جب ایم کیو ایم کی بات آتی۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;کراچی میں ایم کیو ایم کی عسکریت پسندی اور تشدد کی مذمت کرنے کی وجہ سے الطاف حسین عاصمہ کو سخت ناپسند کرتے تھے، مگر عاصمہ اس پارٹی کے خلاف ریاست کے سخت ترین ایکشن کے خلاف تنقید کرتی رہیں، اور انہوں نے ووٹروں کے اپنے پسندیدہ نمائندوں کو چننے کے حق کا ہمیشہ دفاع کیا۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انسانی حقوق کی ایک مثالی چیمپیئن، اور جمہوریت اور قانون کی بالادستی کی علمبردار کو کھو دینا کسی بھی معاشرے کے لیے نہایت مشکل ہوگا۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;عاصمہ جہانگیر پاکستان سے ایک ایسے تاریخی موڑ پر بچھڑی ہیں جب ملک میں جمہوری مرحلے پر بے یقینی کے سائے لہرا رہے ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جمہوریت شاید چلتے رہنے کے لیے راستہ ڈھونڈ لے، مگر جمہوریت کو جمہوریت مخالف اور سیاسی، دونوں ہی حلقوں سے لاحق خطرات نہایت گہرے ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جمہوری ادارے اس وقت کمزور ہیں اور بنیادی حقوق کے محافظ نظام جو پہلے ہی خامیوں کا شکار تھے، اب مزید حملوں کی زد میں ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اپنے آخری دنوں تک عاصمہ جہانگیر نے ایک زبردست لڑائی لڑی۔ ان کا کام اب ختم ہو چکا ہے، مگر پاکستان کا کام ابھی ختم نہیں ہوا ہے کیوں کہ اندھیرا اب بھی ملک بھر میں پھیلا ہوا ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;امید ہے کہ انسانی اچھائی، جمہوریت، اور حقوق کے نئے علمبردار اٹھیں گے، اور جلد اٹھیں گے۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;a href='https://www.dawn.com/news/1388808/asma-the-fearless' &gt;انگلش میں پڑھیں۔&lt;/a&gt; &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یہ اداریہ ڈان اخبار میں 12 فروری 2018 کو شائع ہوا۔ &lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'></div><p class=''>ان کی اچانک موت سے پہنچنے والا صدمہ نہایت شدید ہے، مگر اتنا ہی شدید فخر کا یہ احساس بھی ہے کہ وہ ہمارے درمیان زندہ رہیں۔ </p><p class=''>عاصمہ جہانگیر وہ شہری تھیں جن پر پورا پاکستان فخر کر سکتا تھا، اور جن جیسا بننے کی ہم میں سے زیادہ تر صرف امید ہی کر سکتے ہیں۔ </p><p class=''>طاغوت کا سامنے کرنے، کمزوروں کا دفاع کرنے، اور پاکستان کو جمہوری، آئینی اور سیکیولر بنیادوں پر استوار کرنے کی بااصول اور باہمت عاصمہ کی خواہش اور عزم نے انہیں بلاشبہ مثالی کردار بنا دیا تھا۔ </p><p class=''>اپنی بالغ زندگی کا بڑا حصہ عوام میں رہ کر گزارنے والی عاصمہ نے اپنی ذاتی تشہیر کو ان مسائل پر قربان کر دیا جس کی فکر درست سوچ رکھنے والے ہر باشعور شہری کو ہونی چاہیے۔ </p><p class=''>عاصمہ ایک بے خوف وکیل اور نہایت دانشمند شخصیت تھیں، اور وہ ہمیشہ کمزوروں کے حقوق اور طاقتوروں کے احتساب کی زبان بولتی تھیں۔ ہر جگہ کے مجبوروں اور مظلوموں کے لیے ان کا بے خوف دفاع یاد کیا جائے گا۔ </p><p class=''>عاصمہ نے جہاں انسانی حقوق اور دیگر قابلِ تعریف مقاصد کے لیے ملک اور دنیا بھر کا سفر کیا، وہاں آمریت اور مطلق العنانیت کے خلاف ان کی زندگی بھر طویل جدوجہد ہے جو صرف انہی کی شخصیت کا خاصہ ہے۔ </p><p class=''>ان کے والد ملک غلام جیلانی نے بہادری سے سابقہ مشرقی پاکستان میں فوج کی زیادتیوں کی مخالفت کی، اور کچھ ہی عرصے بعد عاصمہ بھی سڑکوں پر ضیاء الحق کی آمریت کے خلاف میدانِ عمل میں تھیں۔ </p><p class=''>جنرل ضیاء کے دور میں قید کاٹنے اور پھر ایک اور آمر جنرل مشرف کے دور میں نظربند ہونے والی عاصمہ نے کبھی بھی آمریت اور مطلق العنانیت کے خلاف بولنا نہیں چھوڑا۔ ان کی کاٹ دار تنقید کی وجہ سے زیادہ تر مطلق العنان حکمران اور اشراف ان سے خوف زدہ نظر آتے تھے۔ </p><p class=''>اور انہیں ہونا بھی چاہیے تھا۔ </p><p class=''>عاصمہ کے بااصول مؤقف کی وجہ سے وہ ایک خطرناک حریف تھیں۔ حالیہ دنوں میں ان کے اصولوں کی گہرائی تب سامنے نظر آتی جب جب ایم کیو ایم کی بات آتی۔ </p><p class=''>کراچی میں ایم کیو ایم کی عسکریت پسندی اور تشدد کی مذمت کرنے کی وجہ سے الطاف حسین عاصمہ کو سخت ناپسند کرتے تھے، مگر عاصمہ اس پارٹی کے خلاف ریاست کے سخت ترین ایکشن کے خلاف تنقید کرتی رہیں، اور انہوں نے ووٹروں کے اپنے پسندیدہ نمائندوں کو چننے کے حق کا ہمیشہ دفاع کیا۔ </p><p class=''>انسانی حقوق کی ایک مثالی چیمپیئن، اور جمہوریت اور قانون کی بالادستی کی علمبردار کو کھو دینا کسی بھی معاشرے کے لیے نہایت مشکل ہوگا۔ </p><p class=''>عاصمہ جہانگیر پاکستان سے ایک ایسے تاریخی موڑ پر بچھڑی ہیں جب ملک میں جمہوری مرحلے پر بے یقینی کے سائے لہرا رہے ہیں۔ </p><p class=''>جمہوریت شاید چلتے رہنے کے لیے راستہ ڈھونڈ لے، مگر جمہوریت کو جمہوریت مخالف اور سیاسی، دونوں ہی حلقوں سے لاحق خطرات نہایت گہرے ہیں۔ </p><p class=''>جمہوری ادارے اس وقت کمزور ہیں اور بنیادی حقوق کے محافظ نظام جو پہلے ہی خامیوں کا شکار تھے، اب مزید حملوں کی زد میں ہیں۔ </p><p class=''>اپنے آخری دنوں تک عاصمہ جہانگیر نے ایک زبردست لڑائی لڑی۔ ان کا کام اب ختم ہو چکا ہے، مگر پاکستان کا کام ابھی ختم نہیں ہوا ہے کیوں کہ اندھیرا اب بھی ملک بھر میں پھیلا ہوا ہے۔ </p><p class=''>امید ہے کہ انسانی اچھائی، جمہوریت، اور حقوق کے نئے علمبردار اٹھیں گے، اور جلد اٹھیں گے۔ </p><p class=''><a href='https://www.dawn.com/news/1388808/asma-the-fearless' >انگلش میں پڑھیں۔</a> </p><p class=''>یہ اداریہ ڈان اخبار میں 12 فروری 2018 کو شائع ہوا۔ </p>]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1073261</guid>
      <pubDate>Mon, 19 Feb 2018 12:38:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/02/5a816332d28c5.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/02/5a816332d28c5.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
