<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 22:16:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 22:16:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>احتساب عدالت: اسحٰق ڈار کی جائیداد ضبط کرنے کے خلاف درخواست مسترد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1073401/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;ul class="story__toc" style="display: none"&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_0"&gt;احتساب عدالت کی اب تک کی کارروائی&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی جائیداد ضبط کرنے کے خلاف دائر درخواست مسترد کر دی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;وفاقی دارالحکومت کی احتساب عدالت میں جج محمد بشیر نے ایک ہفتہ قبل محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا، یہ فیصلہ 7 فروری کو دلائل مکمل ہونے پر محفوظ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ احتساب عدالت نے چیئرمین نیب کے فیصلے کی توثیق کی تھی جبکہ اسحٰق ڈار نے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا، تاہم 14 فروری کو سنائے گئے فیصلے میں عدالت نے سابق وزیر خزانہ کے تمام اعتراضات مسترد کردیے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;عدالت میں سماعت کے دوران جج محمد بشیر نے کہا کہ جائیداد ضبط کرنے کا فیصلہ یہ تھا کہ جائیداد فروخت نہ کی جائے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1073056/?preview' &gt;اثاثہ جات ریفرنس: پاناما جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء بطور گواہ پیش&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;جج محمد بشیر نے کہا کہ اسحٰق ڈار کی جائیداد سے متعلق عدالت کا وہی فیصلہ برقرار رہے گا اور ان کی جائیداد فروخت نہیں کی جاسکے گی&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس سے قبل اسلام آباد کی احتساب عدالت میں سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف دائر آمدن سے زائد اثاثے بنانے سے متعلق ریفرنس کی سماعت ہوئی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سماعت کے دوران  قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیر خزانہ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس میں اشتہاری قرار دیے گئے اسحٰق ڈار کے خلاف بھی ضمنی ریفرنس دائر کرنے کی درخواست کر دی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ اسحٰق ڈار کے ریفرنس میں نئے شواہد سامنے آئے ہیں اور ضمنی ریفرنس دائر کرنے میں ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ تفتیشی افسر نادر عباس نے ضمنی ریفرنس تیار کیا ہے اور اسے دائر کرنے کا وقت دیا جائے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انھوں نے کہا کہ ضمنی ریفرنس پر گواہان کے بیانات کے ساتھ ہی نادر عباس کا بیان بھی ریکارڈ کرا دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ تفتیشی افسر نادر عباس کے علاوہ انعام الحق کا بیان ریکارڈ ہونا باقی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ گواہ انعام الحق کو طلب کرنے کے لیے  وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں، جس پر جج محمد بشیر نے ریمارکس دیے کہ گواہ انعام الحق کو ایک موقع دیتے ہیں، اگر وہ پھر بھی پیش نہیں ہوئے تو وارنٹ جاری کریں گے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بعد ازاں عدالت نے نیب پراسیکوٹر کی ضمنی ریفرنس دائر کرنے کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت 23 فروری تک ملتوی کردی۔&lt;/p&gt;&lt;h3 id="toc_0"&gt;احتساب عدالت کی اب تک کی کارروائی&lt;/h3&gt;
&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کی روشنی میں قومی احتساب بیورو کو اسحٰق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;8 فروری کو پاناما پیپرز کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ اور استغاثہ کے گواہ &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1073056/?preview' &gt;&lt;strong&gt;واجد ضیا&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; احتساب عدالت میں پیش ہوئے تاہم اصل دستاویزات کی عدم دستیابی پر بیان ریکارڈ نہ ہو سکا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1068075' &gt;آمدن سے زائد اثاثے: اسحٰق ڈار کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1072225/' &gt;&lt;strong&gt;24 جنوری 2018&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو احتساب عدالت نے سماعت کے دوران ہجویری ٹرسٹ اور فاؤنڈیشن کے منجمند اکاؤنٹس جزوی طور پر بحال کرنے کی ہدایت کردی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1072112/' &gt;&lt;strong&gt;22 جنوری 2018&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو پراسیکیوٹر کے 3 گواہان نے پیش ہو کر عدالت کو اسحٰق ڈار اور ان کی اہلیہ کی جائیدادوں کی تفصیلات فراہم کردیں تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1071871' &gt;&lt;strong&gt;18 جنوری 2018&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثے بنانے سے متعلق سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف دائر ریفرنس میں قومی احتساب بیور (نیب) کو ملزم کے اعتراضات پر جواب جمع کرانے کے لیے آخری مہلت دی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1071442' &gt;&lt;strong&gt;11 جنوری 2018&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے احتساب عدالت میں اپنے فلاحی ادارے ہجویری ٹرسٹ کا بینک اکاؤنٹ بحال کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;20 دسمبر 2017 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے احتساب عدالت کو سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت روکنے کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1070108/' &gt;&lt;strong&gt;18 دسمبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو استغاثہ کے مزید 4 گواہان نے اپنے بیانات ریکارڈ کرائے جس میں ڈپٹی سیکریٹری کابینہ ڈویژن واصف حسین نے اسحٰق ڈار کی بطور اسمبلی رکن ملازمت جبکہ گواہ قمرالزماں نے ان کی تنخواہ، لوکل ٹی اے ڈی اے اور دیگر الاؤنسز کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1069860' &gt;&lt;strong&gt;14 دسمبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو ہونے والی سماعت کے دوران استغاثہ کے مزید گواہان نے اپنے بیانات قلمبند کرائے تھے جبکہ عدالت نے مزید 5 گواہان کو طلب کیا تھا اور اسحٰق ڈار کے ضامن احمد علی قدوسی کی منقولہ جائیداد قرق کرنے کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ 18 دسمبر تک جمع کرانے کی ہدایت جاری کی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیر صدارت نیب ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں اسحٰق ڈار کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے اور ان کو &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1069885' &gt;&lt;strong&gt;انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرکے پاکستان لانے کا فیصلہ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1069647' &gt;&lt;strong&gt;11 دسمبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو احتساب عدالت نے سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کو اشتہاری قرار دے کر ان کے ضمانتی مچلکوں کو ضبط کرنے کا حکم دے دیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;احتساب عدالت کی جانب سے اسحٰق ڈار کو عدالت میں پیش ہونے یا تین روز میں 50 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اگر مقررہ وقت میں ضمانتی مچلکے جمع نہیں کرائے گئے تو ضامن کی جائیداد ضبط کرلی جائے گی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1069218' &gt;&lt;strong&gt;4 دسمبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے عدالت میں میڈیکل رپورٹ پیش کرتے ہوئے اشتہاری قرار دینے کی کارروائی روکنے کی استدعا کی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;عدالت میں پیش کردہ میڈیکل رپورٹ کے حوالے سے اسحٰق ڈار کے وکیل کا کہنا تھا کہ آئندہ ہفتے تک معلوم ہو جائے گا کہ ان کے موکل کو کیا بیماری ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1068928' &gt;&lt;strong&gt;29 نومبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو احتساب عدالت میں ہونے والی سماعت میں بھی اسحٰق ڈار پیش نہیں ہوئے تھے جبکہ ان کے وکیل نے 50 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے ضبط نہ کرنے کے معاملے پر دلائل دیئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;24 نومبر 2017 کو اسحٰق ڈار کے ضامن احمد علی قدوسی نے عدالت کے شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرایا تھا اور عدالت سے استدعا کی تھی کہ &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1068669' &gt;&lt;strong&gt;ملزم کو عدالت میں پیش کرنے کے لیے 3 ہفتوں تک کی مہلت&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; دی جائے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یاد رہے کہ 21 نومبر 2017 کو مذکورہ &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1068473' &gt;&lt;strong&gt;کیس کی سماعت کے دوران&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; احتساب عدالت نے نیب کی جانب سے دائر ریفرنس کے سلسلے میں عدالت میں پیشی کے لیے اسحٰق ڈار کی اٹارنی اور نمائندہ مقرر کرنے کی درخواست مسترد کردی تھی اور انہیں مفرور قرار دے دیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اسحٰق ڈار کے وکیل نے اپنے موکل کی 16 نومبر کی میڈیکل رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی تھی جس پر وکیلِ استغاثہ نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی گزشتہ رپورٹ اور موجودہ رپورٹ میں تضاد موجود ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بعد ازاں احتساب عدالت نے خزانہ اسحٰق ڈار کی عدالت میں غیر حاضری کی وجہ سے &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1068075' &gt;&lt;strong&gt;ناقابلِ وارنٹ گرفتاری برقرار رکھنے کا فیصلہ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کیا تھا جبکہ 8 نومبر کو ہونے والی سماعت میں بھی عدم پیشی پر ان کے &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1067736' &gt;&lt;strong&gt;ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھنے کا حکم&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; دیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے اسحٰق ڈار کے خلاف نیب کی جانب سے ریفرنس کی آٹھویں سماعت میں عدم پیشی پر اسحٰق ڈار کے &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1067207/' &gt;&lt;strong&gt;قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کردیئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس سے قبل اسحٰق ڈار &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1066820' &gt;&lt;strong&gt;23 اکتوبر کو عدالت میں پیش&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; ہوئے تھے جہاں نجی بینک کے ملازمین عبدالرحمٰن گوندل اور مسعود غنی نے عدالت کے سامنے اپنے بیانات قلمبند کرائے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;18 اکتوبر کو ہونے والی سماعت کے دوران &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1066542' &gt;&lt;strong&gt;اسحٰق ڈار احتساب عدالت میں پیش&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; ہوئے تھے تاہم ان کے وکیل کی عدم موجودگی کی وجہ سے عدالتی کارروائی ملتوی کردی گئی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ 16 اکتوبر کے دوران عدالت نے اسحٰق ڈار کے وکلا کی جانب سے ان کے &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1066403' &gt;&lt;strong&gt;استثنیٰ کی درخواست دائر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کی گئی تھی جسے عدالت نے مسترد کردیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1071442/' &gt;اسحٰق ڈار کی جانب سے ہجویری ٹرسٹ کا اکاؤنٹ بحال کرنے کی درخواست&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ 12 اکتوبر کو 8 گھنٹے طویل سماعت کے دوران &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1066188' &gt;&lt;strong&gt;نیب پروسیکیوٹر کی جانب سے پیش کیے جانے والے گواہان&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;، البرکہ بینک کے نائب صدر طارق جاوید اور نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ (این آئی ٹی) کے سربراہ شاہد عزیز نے عدالت کے سامنے اپنے بیانات قلمبند کرائے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یہ بھی یاد رہے کہ 4 اکتوبر کو ہونے والی سماعت کے دوران نیب کی جانب سے لاہور کے ایک نجی بینک (بینک الفلاح) کے سابق مینیجر اشتیاق علی کو بطور گواہ پیش کیا گیا جنہوں نے عدالت میں بیان ریکارڈ کروایا تھا کہ اسحٰق ڈار کی اہلیہ تبسم اسحٰق ڈار کے نام سے 2001 میں مذکورہ بینک میں اکاؤنٹ کھلوایا گیا تھا، جس کی تفصیلات میں انہوں نے اپنی ایک سیکیورٹی کمپنی کے بارے میں بتایا جس کا نام ایچ ڈی ایس سیکیورٹیز پرائیویٹ لمیٹڈ ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;استغاثہ گواہ اشتیاق علی نے بتایا تھا کہ بینک میں کمپنی کے علاوہ اسحٰق ڈار کا ذاتی اکاؤنٹ بھی ہے جو انہوں نے 2005 میں کھولا تھا تاہم اسے 2006 میں بند کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اسحٰق ڈار پر 27 ستمبر کو نیب ریفرنسز کے سلسلے میں احتساب عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران فردِ جرم عائد کی گئی تھی، تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کردیا تھا۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'><ul class="story__toc" style="display: none">
<li>
<a href="#toc_0">احتساب عدالت کی اب تک کی کارروائی</a>
</li>
</ul>
</div><p class=''>اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی جائیداد ضبط کرنے کے خلاف دائر درخواست مسترد کر دی۔</p><p class=''>وفاقی دارالحکومت کی احتساب عدالت میں جج محمد بشیر نے ایک ہفتہ قبل محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا، یہ فیصلہ 7 فروری کو دلائل مکمل ہونے پر محفوظ کیا گیا تھا۔</p><p class=''>خیال رہے کہ احتساب عدالت نے چیئرمین نیب کے فیصلے کی توثیق کی تھی جبکہ اسحٰق ڈار نے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا، تاہم 14 فروری کو سنائے گئے فیصلے میں عدالت نے سابق وزیر خزانہ کے تمام اعتراضات مسترد کردیے۔</p><p class=''>عدالت میں سماعت کے دوران جج محمد بشیر نے کہا کہ جائیداد ضبط کرنے کا فیصلہ یہ تھا کہ جائیداد فروخت نہ کی جائے۔</p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1073056/?preview' >اثاثہ جات ریفرنس: پاناما جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء بطور گواہ پیش</a></strong></p><p class=''>جج محمد بشیر نے کہا کہ اسحٰق ڈار کی جائیداد سے متعلق عدالت کا وہی فیصلہ برقرار رہے گا اور ان کی جائیداد فروخت نہیں کی جاسکے گی</p><p class=''>اس سے قبل اسلام آباد کی احتساب عدالت میں سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف دائر آمدن سے زائد اثاثے بنانے سے متعلق ریفرنس کی سماعت ہوئی۔</p><p class=''>سماعت کے دوران  قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیر خزانہ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس میں اشتہاری قرار دیے گئے اسحٰق ڈار کے خلاف بھی ضمنی ریفرنس دائر کرنے کی درخواست کر دی۔</p><p class=''>سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ اسحٰق ڈار کے ریفرنس میں نئے شواہد سامنے آئے ہیں اور ضمنی ریفرنس دائر کرنے میں ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔</p><p class=''>نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ تفتیشی افسر نادر عباس نے ضمنی ریفرنس تیار کیا ہے اور اسے دائر کرنے کا وقت دیا جائے۔</p><p class=''>انھوں نے کہا کہ ضمنی ریفرنس پر گواہان کے بیانات کے ساتھ ہی نادر عباس کا بیان بھی ریکارڈ کرا دیا جائے گا۔</p><p class=''>سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ تفتیشی افسر نادر عباس کے علاوہ انعام الحق کا بیان ریکارڈ ہونا باقی ہے۔</p><p class=''>انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ گواہ انعام الحق کو طلب کرنے کے لیے  وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں، جس پر جج محمد بشیر نے ریمارکس دیے کہ گواہ انعام الحق کو ایک موقع دیتے ہیں، اگر وہ پھر بھی پیش نہیں ہوئے تو وارنٹ جاری کریں گے۔</p><p class=''>بعد ازاں عدالت نے نیب پراسیکوٹر کی ضمنی ریفرنس دائر کرنے کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت 23 فروری تک ملتوی کردی۔</p><h3 id="toc_0">احتساب عدالت کی اب تک کی کارروائی</h3>
<p class=''>خیال رہے کہ پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کی روشنی میں قومی احتساب بیورو کو اسحٰق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔</p><p class=''>8 فروری کو پاناما پیپرز کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ اور استغاثہ کے گواہ <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1073056/?preview' ><strong>واجد ضیا</strong></a> احتساب عدالت میں پیش ہوئے تاہم اصل دستاویزات کی عدم دستیابی پر بیان ریکارڈ نہ ہو سکا تھا۔</p><p class=''><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1068075' >آمدن سے زائد اثاثے: اسحٰق ڈار کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار</a></strong></p><p class=''><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1072225/' ><strong>24 جنوری 2018</strong></a> کو احتساب عدالت نے سماعت کے دوران ہجویری ٹرسٹ اور فاؤنڈیشن کے منجمند اکاؤنٹس جزوی طور پر بحال کرنے کی ہدایت کردی تھی۔</p><p class=''><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1072112/' ><strong>22 جنوری 2018</strong></a> کو پراسیکیوٹر کے 3 گواہان نے پیش ہو کر عدالت کو اسحٰق ڈار اور ان کی اہلیہ کی جائیدادوں کی تفصیلات فراہم کردیں تھی۔</p><p class=''><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1071871' ><strong>18 جنوری 2018</strong></a> کو احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثے بنانے سے متعلق سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف دائر ریفرنس میں قومی احتساب بیور (نیب) کو ملزم کے اعتراضات پر جواب جمع کرانے کے لیے آخری مہلت دی تھی۔</p><p class=''><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1071442' ><strong>11 جنوری 2018</strong></a> کو سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے احتساب عدالت میں اپنے فلاحی ادارے ہجویری ٹرسٹ کا بینک اکاؤنٹ بحال کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔</p><p class=''>20 دسمبر 2017 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے احتساب عدالت کو سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت روکنے کا حکم دیا تھا۔</p><p class=''><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1070108/' ><strong>18 دسمبر</strong></a> کو استغاثہ کے مزید 4 گواہان نے اپنے بیانات ریکارڈ کرائے جس میں ڈپٹی سیکریٹری کابینہ ڈویژن واصف حسین نے اسحٰق ڈار کی بطور اسمبلی رکن ملازمت جبکہ گواہ قمرالزماں نے ان کی تنخواہ، لوکل ٹی اے ڈی اے اور دیگر الاؤنسز کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا۔</p><p class=''><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1069860' ><strong>14 دسمبر</strong></a> کو ہونے والی سماعت کے دوران استغاثہ کے مزید گواہان نے اپنے بیانات قلمبند کرائے تھے جبکہ عدالت نے مزید 5 گواہان کو طلب کیا تھا اور اسحٰق ڈار کے ضامن احمد علی قدوسی کی منقولہ جائیداد قرق کرنے کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ 18 دسمبر تک جمع کرانے کی ہدایت جاری کی تھی۔</p><p class=''>چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیر صدارت نیب ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں اسحٰق ڈار کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے اور ان کو <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1069885' ><strong>انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرکے پاکستان لانے کا فیصلہ</strong></a> کیا گیا۔</p><p class=''><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1069647' ><strong>11 دسمبر</strong></a> کو احتساب عدالت نے سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کو اشتہاری قرار دے کر ان کے ضمانتی مچلکوں کو ضبط کرنے کا حکم دے دیا تھا۔</p><p class=''>احتساب عدالت کی جانب سے اسحٰق ڈار کو عدالت میں پیش ہونے یا تین روز میں 50 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اگر مقررہ وقت میں ضمانتی مچلکے جمع نہیں کرائے گئے تو ضامن کی جائیداد ضبط کرلی جائے گی۔</p><p class=''><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1069218' ><strong>4 دسمبر</strong></a> کو سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے عدالت میں میڈیکل رپورٹ پیش کرتے ہوئے اشتہاری قرار دینے کی کارروائی روکنے کی استدعا کی تھی۔</p><p class=''>عدالت میں پیش کردہ میڈیکل رپورٹ کے حوالے سے اسحٰق ڈار کے وکیل کا کہنا تھا کہ آئندہ ہفتے تک معلوم ہو جائے گا کہ ان کے موکل کو کیا بیماری ہے۔</p><p class=''><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1068928' ><strong>29 نومبر</strong></a> کو احتساب عدالت میں ہونے والی سماعت میں بھی اسحٰق ڈار پیش نہیں ہوئے تھے جبکہ ان کے وکیل نے 50 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے ضبط نہ کرنے کے معاملے پر دلائل دیئے تھے۔</p><p class=''>24 نومبر 2017 کو اسحٰق ڈار کے ضامن احمد علی قدوسی نے عدالت کے شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرایا تھا اور عدالت سے استدعا کی تھی کہ <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1068669' ><strong>ملزم کو عدالت میں پیش کرنے کے لیے 3 ہفتوں تک کی مہلت</strong></a> دی جائے۔</p><p class=''>یاد رہے کہ 21 نومبر 2017 کو مذکورہ <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1068473' ><strong>کیس کی سماعت کے دوران</strong></a> احتساب عدالت نے نیب کی جانب سے دائر ریفرنس کے سلسلے میں عدالت میں پیشی کے لیے اسحٰق ڈار کی اٹارنی اور نمائندہ مقرر کرنے کی درخواست مسترد کردی تھی اور انہیں مفرور قرار دے دیا تھا۔</p><p class=''>اسحٰق ڈار کے وکیل نے اپنے موکل کی 16 نومبر کی میڈیکل رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی تھی جس پر وکیلِ استغاثہ نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی گزشتہ رپورٹ اور موجودہ رپورٹ میں تضاد موجود ہے۔</p><p class=''>بعد ازاں احتساب عدالت نے خزانہ اسحٰق ڈار کی عدالت میں غیر حاضری کی وجہ سے <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1068075' ><strong>ناقابلِ وارنٹ گرفتاری برقرار رکھنے کا فیصلہ</strong></a> کیا تھا جبکہ 8 نومبر کو ہونے والی سماعت میں بھی عدم پیشی پر ان کے <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1067736' ><strong>ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھنے کا حکم</strong></a> دیا تھا۔</p><p class=''>واضح رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے اسحٰق ڈار کے خلاف نیب کی جانب سے ریفرنس کی آٹھویں سماعت میں عدم پیشی پر اسحٰق ڈار کے <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1067207/' ><strong>قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری</strong></a> کردیئے تھے۔</p><p class=''>اس سے قبل اسحٰق ڈار <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1066820' ><strong>23 اکتوبر کو عدالت میں پیش</strong></a> ہوئے تھے جہاں نجی بینک کے ملازمین عبدالرحمٰن گوندل اور مسعود غنی نے عدالت کے سامنے اپنے بیانات قلمبند کرائے تھے۔</p><p class=''>18 اکتوبر کو ہونے والی سماعت کے دوران <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1066542' ><strong>اسحٰق ڈار احتساب عدالت میں پیش</strong></a> ہوئے تھے تاہم ان کے وکیل کی عدم موجودگی کی وجہ سے عدالتی کارروائی ملتوی کردی گئی تھی۔</p><p class=''>واضح رہے کہ 16 اکتوبر کے دوران عدالت نے اسحٰق ڈار کے وکلا کی جانب سے ان کے <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1066403' ><strong>استثنیٰ کی درخواست دائر</strong></a> کی گئی تھی جسے عدالت نے مسترد کردیا تھا۔</p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1071442/' >اسحٰق ڈار کی جانب سے ہجویری ٹرسٹ کا اکاؤنٹ بحال کرنے کی درخواست</a></strong></p><p class=''>خیال رہے کہ 12 اکتوبر کو 8 گھنٹے طویل سماعت کے دوران <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1066188' ><strong>نیب پروسیکیوٹر کی جانب سے پیش کیے جانے والے گواہان</strong></a>، البرکہ بینک کے نائب صدر طارق جاوید اور نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ (این آئی ٹی) کے سربراہ شاہد عزیز نے عدالت کے سامنے اپنے بیانات قلمبند کرائے تھے۔</p><p class=''>یہ بھی یاد رہے کہ 4 اکتوبر کو ہونے والی سماعت کے دوران نیب کی جانب سے لاہور کے ایک نجی بینک (بینک الفلاح) کے سابق مینیجر اشتیاق علی کو بطور گواہ پیش کیا گیا جنہوں نے عدالت میں بیان ریکارڈ کروایا تھا کہ اسحٰق ڈار کی اہلیہ تبسم اسحٰق ڈار کے نام سے 2001 میں مذکورہ بینک میں اکاؤنٹ کھلوایا گیا تھا، جس کی تفصیلات میں انہوں نے اپنی ایک سیکیورٹی کمپنی کے بارے میں بتایا جس کا نام ایچ ڈی ایس سیکیورٹیز پرائیویٹ لمیٹڈ ہے۔</p><p class=''>استغاثہ گواہ اشتیاق علی نے بتایا تھا کہ بینک میں کمپنی کے علاوہ اسحٰق ڈار کا ذاتی اکاؤنٹ بھی ہے جو انہوں نے 2005 میں کھولا تھا تاہم اسے 2006 میں بند کردیا گیا تھا۔</p><p class=''>اسحٰق ڈار پر 27 ستمبر کو نیب ریفرنسز کے سلسلے میں احتساب عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران فردِ جرم عائد کی گئی تھی، تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کردیا تھا۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1073401</guid>
      <pubDate>Wed, 14 Feb 2018 18:14:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکانعام اللہ خٹک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/02/5a841f79d5306.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/02/5a841f79d5306.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
