<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - KP-FATA</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 14:40:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 14:40:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد میں محسود قبائل کے دھرنے کا متحرک نوجوان قتل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1074012/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;ڈیرہ اسمٰعیل خان: کراچی میں نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف اسلام آباد میں ہونے والے محسود قبائل کے دھرنے میں متحرک نوجوان آفتاب محسود پراسرار طور پر قتل ہوگئے۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ڈیرہ اسمٰعیل خان کے صدر پولیس اسٹیشن کے ایک اہلکار عطااللہ نے ڈان کو بتایا کہ آفتاب محسود کی نقشبند ٹاؤن میں ایک زیرِ تعمیر گھر سے گولیوں سے چھلنی لاش برآمد ہوئی۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتول کی لاش کے نزدیک سے ایک پرچی بھی ملی جس پر اس کا نام، اس کے والد کا نام اور اس کا ٹیلی فون نمبر لکھا ہوا تھا۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1071945' &gt;’نقیب اللہ محسود کے معاملے پر جلد اہم پیش رفت متوقع’&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آفتاب محسود کے والد خیر بادشاہ محسود نے پولیس کو بتایا کہ ان کا بیٹا جمعہ کی رات کو گھر سے کہیں گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں اگلے ہی روز ایک فون کام موصول ہوئی، جس میں بیٹے کی لاش کے حوالے سے اطلاع دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;آفتاب محسود ڈیرہ اسمٰعیل خان کی گومل یونیورسٹی کا طالبِ علم تھا، اور وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کی ایجنسی جنوبی ویزرستان کے علاقے مکین کا رہائشی تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ملیر راؤ انوار کی سربراہی میں مبینہ طور پر ماورائے عدالت نقیب اللہ محسود کے قتل کے بعد آفتاب محسود نے اسلام آباد میں ہونے والے دھرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1072048' &gt;’نقیب اللہ کے معاملے پر کارروائی نہ ہوئی تو وزیر اعلیٰ سندھ کو قاتل سمجھیں گے‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;نقیب اللہ محسود کے قاتلوں کی گرفتاری کے علاوہ دھرنے میں موجود شرکاء نے فاٹا سے لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;علاوہ ازیں مطاہرین نے سیکیورٹی چیک پوسٹس پر قبائلی عوام کے ساتھ مبینہ طور پر ہونے والے ناروا سلوک کے خلاف بھی احتجاج کیا تھا۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اعلیٰ حکومتی عہدیداران کی جانب سے مظاہرین کے کچھ مطالبات کو پورا کرنے کی یقین دہانی کے بعد اسلام آباد میں اس 10 روز طویل دھرنے کو ختم کردیا گیا تھا۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ڈیرہ اسمٰعیل خان کی پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف آفتاف محسود کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 25 فروری 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'></div><p class=''>ڈیرہ اسمٰعیل خان: کراچی میں نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف اسلام آباد میں ہونے والے محسود قبائل کے دھرنے میں متحرک نوجوان آفتاب محسود پراسرار طور پر قتل ہوگئے۔ </p><p class=''>ڈیرہ اسمٰعیل خان کے صدر پولیس اسٹیشن کے ایک اہلکار عطااللہ نے ڈان کو بتایا کہ آفتاب محسود کی نقشبند ٹاؤن میں ایک زیرِ تعمیر گھر سے گولیوں سے چھلنی لاش برآمد ہوئی۔ </p><p class=''>ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتول کی لاش کے نزدیک سے ایک پرچی بھی ملی جس پر اس کا نام، اس کے والد کا نام اور اس کا ٹیلی فون نمبر لکھا ہوا تھا۔ </p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1071945' >’نقیب اللہ محسود کے معاملے پر جلد اہم پیش رفت متوقع’</a></strong></p><p class=''>آفتاب محسود کے والد خیر بادشاہ محسود نے پولیس کو بتایا کہ ان کا بیٹا جمعہ کی رات کو گھر سے کہیں گیا تھا۔</p><p class=''>ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں اگلے ہی روز ایک فون کام موصول ہوئی، جس میں بیٹے کی لاش کے حوالے سے اطلاع دی گئی تھی۔</p><p class=''>آفتاب محسود ڈیرہ اسمٰعیل خان کی گومل یونیورسٹی کا طالبِ علم تھا، اور وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کی ایجنسی جنوبی ویزرستان کے علاقے مکین کا رہائشی تھا۔</p><p class=''>ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ملیر راؤ انوار کی سربراہی میں مبینہ طور پر ماورائے عدالت نقیب اللہ محسود کے قتل کے بعد آفتاب محسود نے اسلام آباد میں ہونے والے دھرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ </p><p class=''><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1072048' >’نقیب اللہ کے معاملے پر کارروائی نہ ہوئی تو وزیر اعلیٰ سندھ کو قاتل سمجھیں گے‘</a></strong></p><p class=''>نقیب اللہ محسود کے قاتلوں کی گرفتاری کے علاوہ دھرنے میں موجود شرکاء نے فاٹا سے لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ </p><p class=''>علاوہ ازیں مطاہرین نے سیکیورٹی چیک پوسٹس پر قبائلی عوام کے ساتھ مبینہ طور پر ہونے والے ناروا سلوک کے خلاف بھی احتجاج کیا تھا۔ </p><p class=''>اعلیٰ حکومتی عہدیداران کی جانب سے مظاہرین کے کچھ مطالبات کو پورا کرنے کی یقین دہانی کے بعد اسلام آباد میں اس 10 روز طویل دھرنے کو ختم کردیا گیا تھا۔ </p><p class=''>ڈیرہ اسمٰعیل خان کی پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف آفتاف محسود کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔</p><hr>
<p class=''><strong>یہ خبر 25 فروری 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</strong></p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1074012</guid>
      <pubDate>Sun, 25 Feb 2018 10:33:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/02/5a92435f22711.jpg?r=1982326269" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/02/5a92435f22711.jpg?r=1888067405"/>
        <media:title>— فوٹو، ڈان اخبار</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
