<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 23:55:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 23:55:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسحٰق ڈار کے خلاف احتساب عدالت میں ضمنی ریفرنس دائر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1074049/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;ul class="story__toc" style="display: none"&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_0"&gt;احتساب عدالت کی اب تک کی کارروائی&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;قومی احتساب بیورو (نیب) نے احتساب عدالت میں اسحٰق ڈار کے خلاف آمد سے زائد اثاثے بنانے کے زیر سماعت ریفرنس سے متعلق ضمنی ریفرنس بھی دائر کردیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اسحٰق ڈار کے خلاف آمد سے زائد اثاثے بنانے کے حوالے سے دائر ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس موقع پر نیب کی جانب سے اسحٰق ڈار کے خلاف ضمنی ریفرنس دائر کیا گیا، جس میں تین نئے ملزمان کو شامل کیا گیا ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;نیب کے جانب سے نامزد نئے ملزمان میں صدر نیشنل بینک سعید احمد، سید منصور رضا رضوی اور نعیم محمود شامل ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1073910' &gt;نیب ریفرنس: اسحٰق ڈار کے خلاف عبوری ریفرنس میں تمام گواہوں کے بیانات مکمل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ سید منصور رضا رضوی اور نعیم محمود اسحٰق ڈار کی کمپنیوں کے ڈائریکٹرز ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں دائر کیا جانے والا ضمنی ریفرنس 7 والیمز پر مشتمل ہے، اس کے علاوہ ضمنی ریفرنس میں اسحٰق ڈار اور کمپنیوں کے مزید اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی شامل کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;نیب کے مطابق مذکورہ اکاؤنٹس سے مختلف اوقات میں 48 کروڑ 28 لاکھ روپے کی ٹرانزیکشنز کی گئی جبکہ اکاؤنٹس سے 40 لاکھ ڈالر سے زائد کی بھی ٹرانزیکشن ہوئی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;احتساب عدالت نے ضمنی ریفرنس میں نامزد تینوں ملزمان کو آئندہ سماعت پر طلب کر تے ہوئے  کیس کی سماعت 28 فروری تک کے لیے ملتوی کردی۔&lt;/p&gt;&lt;h3 id="toc_0"&gt;احتساب عدالت کی اب تک کی کارروائی&lt;/h3&gt;
&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کی روشنی میں قومی احتساب بیورو کو اسحٰق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس سے قبل &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1073910' &gt;&lt;strong&gt;23 فروری 2018&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو احتساب عدالت میں اسحٰق ڈار کے خلاف دائر عبوری ریفرنس میں تمام گواہوں کے بیانات مکمل ہوگئے تھے جبکہ نیب پراسیکیوٹر سابق وزیر خزانہ کے خلاف ضمنی ریفرنس دائر کرنے کا عندیہ دیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس سے قبل &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1073401' &gt;&lt;strong&gt;14 فروری 2018&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی جائیداد ضبط کرنے کے خلاف دائر درخواست مسترد کر دیا تھا، یہ فیصلہ 7 فروری کو دلائل مکمل ہونے پر محفوظ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;8 فروری کو پاناما پیپرز کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ اور استغاثہ کے گواہ &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1073056' &gt;&lt;strong&gt;واجد ضیا&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; احتساب عدالت میں پیش ہوئے تاہم اصل دستاویزات کی عدم دستیابی پر بیان ریکارڈ نہ ہو سکا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1072225/' &gt;&lt;strong&gt;24 جنوری 2018&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو احتساب عدالت نے سماعت کے دوران ہجویری ٹرسٹ اور فاؤنڈیشن کے منجمند اکاؤنٹس جزوی طور پر بحال کرنے کی ہدایت کردی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;22 جنوری 2018 کو پراسیکیوٹر کے &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1072112/' &gt;&lt;strong&gt;3 گواہان نے پیش&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; ہو کر عدالت کو اسحٰق ڈار اور ان کی اہلیہ کی جائیدادوں کی تفصیلات فراہم کردیں تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;18 جنوری 2018 کو احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثے بنانے سے متعلق سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف دائر ریفرنس میں قومی احتساب بیور (نیب) کو ملزم کے &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1071871' &gt;&lt;strong&gt;اعتراضات پر جواب جمع&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کرانے کے لیے آخری مہلت دی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1066188' &gt;نیب ریفرنس: اسحٰق ڈار احتساب عدالت میں چوتھی مرتبہ پیش&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1071442' &gt;&lt;strong&gt;11 جنوری 2018&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے احتساب عدالت میں اپنے فلاحی ادارے ہجویری ٹرسٹ کا بینک اکاؤنٹ بحال کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;20 دسمبر 2017 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے احتساب عدالت کو سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت روکنے کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;18 دسمبر کو استغاثہ کے مزید &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1070108/' &gt;&lt;strong&gt;4 گواہان نے اپنے بیانات ریکارڈ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کرائے جس میں ڈپٹی سیکریٹری کابینہ ڈویژن واصف حسین نے اسحٰق ڈار کی بطور اسمبلی رکن ملازمت جبکہ گواہ قمرالزماں نے ان کی تنخواہ، لوکل ٹی اے ڈی اے اور دیگر الاؤنسز کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1069860' &gt;&lt;strong&gt;14 دسمبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو ہونے والی سماعت کے دوران استغاثہ کے مزید گواہان نے اپنے بیانات قلمبند کرائے تھے جبکہ عدالت نے مزید 5 گواہان کو طلب کیا تھا اور اسحٰق ڈار کے ضامن احمد علی قدوسی کی منقولہ جائیداد قرق کرنے کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ 18 دسمبر تک جمع کرانے کی ہدایت جاری کی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیر صدارت نیب ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں اسحٰق ڈار کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے اور ان کو &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1069885' &gt;&lt;strong&gt;انٹرپول کے ذریعے گرفتار&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کرکے پاکستان لانے کا فیصلہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;11 دسمبر کو احتساب عدالت نے سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کو &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1069647' &gt;&lt;strong&gt;اشتہاری قرار&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; دے کر ان کے ضمانتی مچلکوں کو ضبط کرنے کا حکم دے دیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1071442/' &gt;اسحٰق ڈار کی جانب سے ہجویری ٹرسٹ کا اکاؤنٹ بحال کرنے کی درخواست&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;احتساب عدالت کی جانب سے اسحٰق ڈار کو عدالت میں پیش ہونے یا تین روز میں 50 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اگر مقررہ وقت میں ضمانتی مچلکے جمع نہیں کرائے گئے تو ضامن کی جائیداد ضبط کرلی جائے گی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1069218' &gt;&lt;strong&gt;4 دسمبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے عدالت میں میڈیکل رپورٹ پیش کرتے ہوئے اشتہاری قرار دینے کی کارروائی روکنے کی استدعا کی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;عدالت میں پیش کردہ میڈیکل رپورٹ کے حوالے سے اسحٰق ڈار کے وکیل کا کہنا تھا کہ آئندہ ہفتے تک معلوم ہو جائے گا کہ ان کے موکل کو کیا بیماری ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;29 نومبر کو احتساب عدالت میں ہونے والی سماعت میں بھی اسحٰق ڈار پیش نہیں ہوئے تھے جبکہ &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1068928' &gt;&lt;strong&gt;ان کے وکیل نے 50 لاکھ روپے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے ضمانتی مچلکے ضبط نہ کرنے کے معاملے پر دلائل دیئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1068669' &gt;&lt;strong&gt;24 نومبر 2017&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو اسحٰق ڈار کے ضامن احمد علی قدوسی نے عدالت کے شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرایا تھا اور عدالت سے استدعا کی تھی کہ ملزم کو عدالت میں پیش کرنے کے لیے 3 ہفتوں تک کی مہلت دی جائے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یاد رہے کہ 21 نومبر 2017 کو مذکورہ &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1068473' &gt;&lt;strong&gt;کیس کی سماعت&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے دوران احتساب عدالت نے نیب کی جانب سے دائر ریفرنس کے سلسلے میں عدالت میں پیشی کے لیے اسحٰق ڈار کی اٹارنی اور نمائندہ مقرر کرنے کی درخواست مسترد کردی تھی اور انہیں مفرور قرار دے دیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اسحٰق ڈار کے وکیل نے اپنے موکل کی 16 نومبر کی میڈیکل رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی تھی جس پر وکیلِ استغاثہ نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی گزشتہ رپورٹ اور موجودہ رپورٹ میں تضاد موجود ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;بعد ازاں احتساب عدالت نے خزانہ اسحٰق ڈار کی عدالت میں غیر حاضری کی وجہ سے &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1068075' &gt;&lt;strong&gt;ناقابلِ وارنٹ گرفتاری برقرار&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; رکھنے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ 8 نومبر کو ہونے والی سماعت میں بھی عدم پیشی پر ان کے &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1067736' &gt;&lt;strong&gt;ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; رکھنے کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے اسحٰق ڈار کے خلاف نیب کی جانب سے ریفرنس کی آٹھویں سماعت میں عدم پیشی پر اسحٰق ڈار کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس سے قبل اسحٰق ڈار 23 اکتوبر کو عدالت میں پیش ہوئے تھے جہاں نجی بینک کے ملازمین عبدالرحمٰن گوندل اور مسعود غنی نے عدالت کے سامنے اپنے بیانات قلمبند کرائے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;18 اکتوبر کو ہونے والی سماعت کے دوران اسحٰق ڈار احتساب عدالت میں پیش ہوئے تھے تاہم ان کے وکیل کی عدم موجودگی کی وجہ سے عدالتی کارروائی ملتوی کردی گئی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ 16 اکتوبر کے دوران عدالت نے اسحٰق ڈار کے وکلا کی جانب سے ان کے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی تھی جسے عدالت نے مسترد کردیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ 12 اکتوبر کو 8 گھنٹے طویل سماعت کے دوران نیب پروسیکیوٹر کی جانب سے پیش کیے جانے والے گواہان، البرکہ بینک کے نائب صدر طارق جاوید اور نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ (این آئی ٹی) کے سربراہ شاہد عزیز نے عدالت کے سامنے اپنے بیانات قلمبند کرائے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یہ بھی یاد رہے کہ &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1065732/' &gt;&lt;strong&gt;4 اکتوبر 2017&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو ہونے والی سماعت کے دوران نیب کی جانب سے لاہور کے ایک نجی بینک (بینک الفلاح) کے سابق مینیجر اشتیاق علی کو بطور گواہ پیش کیا گیا جنہوں نے عدالت میں بیان ریکارڈ کروایا تھا کہ اسحٰق ڈار کی اہلیہ تبسم اسحٰق ڈار کے نام سے 2001 میں مذکورہ بینک میں اکاؤنٹ کھلوایا گیا تھا، جس کی تفصیلات میں انہوں نے اپنی ایک سیکیورٹی کمپنی کے بارے میں بتایا جس کا نام ایچ ڈی ایس سیکیورٹیز پرائیویٹ لمیٹڈ ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;استغاثہ گواہ اشتیاق علی نے بتایا تھا کہ بینک میں کمپنی کے علاوہ اسحٰق ڈار کا ذاتی اکاؤنٹ بھی ہے جو انہوں نے 2005 میں کھولا تھا تاہم اسے 2006 میں بند کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اسحٰق ڈار پر 27 ستمبر کو نیب ریفرنسز کے سلسلے میں احتساب عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران فردِ جرم عائد کی گئی تھی، تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کردیا تھا۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'><ul class="story__toc" style="display: none">
<li>
<a href="#toc_0">احتساب عدالت کی اب تک کی کارروائی</a>
</li>
</ul>
</div><p class=''>قومی احتساب بیورو (نیب) نے احتساب عدالت میں اسحٰق ڈار کے خلاف آمد سے زائد اثاثے بنانے کے زیر سماعت ریفرنس سے متعلق ضمنی ریفرنس بھی دائر کردیا۔</p><p class=''>اسحٰق ڈار کے خلاف آمد سے زائد اثاثے بنانے کے حوالے سے دائر ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی۔</p><p class=''>اس موقع پر نیب کی جانب سے اسحٰق ڈار کے خلاف ضمنی ریفرنس دائر کیا گیا، جس میں تین نئے ملزمان کو شامل کیا گیا ہے۔ </p><p class=''>نیب کے جانب سے نامزد نئے ملزمان میں صدر نیشنل بینک سعید احمد، سید منصور رضا رضوی اور نعیم محمود شامل ہیں۔ </p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1073910' >نیب ریفرنس: اسحٰق ڈار کے خلاف عبوری ریفرنس میں تمام گواہوں کے بیانات مکمل</a></strong></p><p class=''>خیال رہے کہ سید منصور رضا رضوی اور نعیم محمود اسحٰق ڈار کی کمپنیوں کے ڈائریکٹرز ہیں۔ </p><p class=''>نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں دائر کیا جانے والا ضمنی ریفرنس 7 والیمز پر مشتمل ہے، اس کے علاوہ ضمنی ریفرنس میں اسحٰق ڈار اور کمپنیوں کے مزید اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی شامل کی گئی ہیں۔</p><p class=''>نیب کے مطابق مذکورہ اکاؤنٹس سے مختلف اوقات میں 48 کروڑ 28 لاکھ روپے کی ٹرانزیکشنز کی گئی جبکہ اکاؤنٹس سے 40 لاکھ ڈالر سے زائد کی بھی ٹرانزیکشن ہوئی۔</p><p class=''>احتساب عدالت نے ضمنی ریفرنس میں نامزد تینوں ملزمان کو آئندہ سماعت پر طلب کر تے ہوئے  کیس کی سماعت 28 فروری تک کے لیے ملتوی کردی۔</p><h3 id="toc_0">احتساب عدالت کی اب تک کی کارروائی</h3>
<p class=''>خیال رہے کہ پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کی روشنی میں قومی احتساب بیورو کو اسحٰق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔</p><p class=''>اس سے قبل <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1073910' ><strong>23 فروری 2018</strong></a> کو احتساب عدالت میں اسحٰق ڈار کے خلاف دائر عبوری ریفرنس میں تمام گواہوں کے بیانات مکمل ہوگئے تھے جبکہ نیب پراسیکیوٹر سابق وزیر خزانہ کے خلاف ضمنی ریفرنس دائر کرنے کا عندیہ دیا تھا۔</p><p class=''>اس سے قبل <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1073401' ><strong>14 فروری 2018</strong></a> کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی جائیداد ضبط کرنے کے خلاف دائر درخواست مسترد کر دیا تھا، یہ فیصلہ 7 فروری کو دلائل مکمل ہونے پر محفوظ کیا گیا تھا۔</p><p class=''>8 فروری کو پاناما پیپرز کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ اور استغاثہ کے گواہ <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1073056' ><strong>واجد ضیا</strong></a> احتساب عدالت میں پیش ہوئے تاہم اصل دستاویزات کی عدم دستیابی پر بیان ریکارڈ نہ ہو سکا تھا۔</p><p class=''><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1072225/' ><strong>24 جنوری 2018</strong></a> کو احتساب عدالت نے سماعت کے دوران ہجویری ٹرسٹ اور فاؤنڈیشن کے منجمند اکاؤنٹس جزوی طور پر بحال کرنے کی ہدایت کردی تھی۔</p><p class=''>22 جنوری 2018 کو پراسیکیوٹر کے <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1072112/' ><strong>3 گواہان نے پیش</strong></a> ہو کر عدالت کو اسحٰق ڈار اور ان کی اہلیہ کی جائیدادوں کی تفصیلات فراہم کردیں تھی۔</p><p class=''>18 جنوری 2018 کو احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثے بنانے سے متعلق سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف دائر ریفرنس میں قومی احتساب بیور (نیب) کو ملزم کے <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1071871' ><strong>اعتراضات پر جواب جمع</strong></a> کرانے کے لیے آخری مہلت دی تھی۔</p><p class=''><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1066188' >نیب ریفرنس: اسحٰق ڈار احتساب عدالت میں چوتھی مرتبہ پیش</a></strong></p><p class=''><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1071442' ><strong>11 جنوری 2018</strong></a> کو سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے احتساب عدالت میں اپنے فلاحی ادارے ہجویری ٹرسٹ کا بینک اکاؤنٹ بحال کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔</p><p class=''>20 دسمبر 2017 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے احتساب عدالت کو سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت روکنے کا حکم دیا تھا۔</p><p class=''>18 دسمبر کو استغاثہ کے مزید <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1070108/' ><strong>4 گواہان نے اپنے بیانات ریکارڈ</strong></a> کرائے جس میں ڈپٹی سیکریٹری کابینہ ڈویژن واصف حسین نے اسحٰق ڈار کی بطور اسمبلی رکن ملازمت جبکہ گواہ قمرالزماں نے ان کی تنخواہ، لوکل ٹی اے ڈی اے اور دیگر الاؤنسز کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا۔</p><p class=''><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1069860' ><strong>14 دسمبر</strong></a> کو ہونے والی سماعت کے دوران استغاثہ کے مزید گواہان نے اپنے بیانات قلمبند کرائے تھے جبکہ عدالت نے مزید 5 گواہان کو طلب کیا تھا اور اسحٰق ڈار کے ضامن احمد علی قدوسی کی منقولہ جائیداد قرق کرنے کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ 18 دسمبر تک جمع کرانے کی ہدایت جاری کی تھی۔</p><p class=''>چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیر صدارت نیب ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں اسحٰق ڈار کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے اور ان کو <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1069885' ><strong>انٹرپول کے ذریعے گرفتار</strong></a> کرکے پاکستان لانے کا فیصلہ کیا گیا۔</p><p class=''>11 دسمبر کو احتساب عدالت نے سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کو <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1069647' ><strong>اشتہاری قرار</strong></a> دے کر ان کے ضمانتی مچلکوں کو ضبط کرنے کا حکم دے دیا تھا۔</p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1071442/' >اسحٰق ڈار کی جانب سے ہجویری ٹرسٹ کا اکاؤنٹ بحال کرنے کی درخواست</a></strong></p><p class=''>احتساب عدالت کی جانب سے اسحٰق ڈار کو عدالت میں پیش ہونے یا تین روز میں 50 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اگر مقررہ وقت میں ضمانتی مچلکے جمع نہیں کرائے گئے تو ضامن کی جائیداد ضبط کرلی جائے گی۔</p><p class=''><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1069218' ><strong>4 دسمبر</strong></a> کو سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے عدالت میں میڈیکل رپورٹ پیش کرتے ہوئے اشتہاری قرار دینے کی کارروائی روکنے کی استدعا کی تھی۔</p><p class=''>عدالت میں پیش کردہ میڈیکل رپورٹ کے حوالے سے اسحٰق ڈار کے وکیل کا کہنا تھا کہ آئندہ ہفتے تک معلوم ہو جائے گا کہ ان کے موکل کو کیا بیماری ہے۔</p><p class=''>29 نومبر کو احتساب عدالت میں ہونے والی سماعت میں بھی اسحٰق ڈار پیش نہیں ہوئے تھے جبکہ <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1068928' ><strong>ان کے وکیل نے 50 لاکھ روپے</strong></a> کے ضمانتی مچلکے ضبط نہ کرنے کے معاملے پر دلائل دیئے تھے۔</p><p class=''><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1068669' ><strong>24 نومبر 2017</strong></a> کو اسحٰق ڈار کے ضامن احمد علی قدوسی نے عدالت کے شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرایا تھا اور عدالت سے استدعا کی تھی کہ ملزم کو عدالت میں پیش کرنے کے لیے 3 ہفتوں تک کی مہلت دی جائے۔</p><p class=''>یاد رہے کہ 21 نومبر 2017 کو مذکورہ <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1068473' ><strong>کیس کی سماعت</strong></a> کے دوران احتساب عدالت نے نیب کی جانب سے دائر ریفرنس کے سلسلے میں عدالت میں پیشی کے لیے اسحٰق ڈار کی اٹارنی اور نمائندہ مقرر کرنے کی درخواست مسترد کردی تھی اور انہیں مفرور قرار دے دیا تھا۔</p><p class=''>اسحٰق ڈار کے وکیل نے اپنے موکل کی 16 نومبر کی میڈیکل رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی تھی جس پر وکیلِ استغاثہ نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی گزشتہ رپورٹ اور موجودہ رپورٹ میں تضاد موجود ہے۔</p><p class=''>بعد ازاں احتساب عدالت نے خزانہ اسحٰق ڈار کی عدالت میں غیر حاضری کی وجہ سے <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1068075' ><strong>ناقابلِ وارنٹ گرفتاری برقرار</strong></a> رکھنے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ 8 نومبر کو ہونے والی سماعت میں بھی عدم پیشی پر ان کے <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1067736' ><strong>ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار</strong></a> رکھنے کا حکم دیا تھا۔</p><p class=''>واضح رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے اسحٰق ڈار کے خلاف نیب کی جانب سے ریفرنس کی آٹھویں سماعت میں عدم پیشی پر اسحٰق ڈار کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے تھے۔</p><p class=''>اس سے قبل اسحٰق ڈار 23 اکتوبر کو عدالت میں پیش ہوئے تھے جہاں نجی بینک کے ملازمین عبدالرحمٰن گوندل اور مسعود غنی نے عدالت کے سامنے اپنے بیانات قلمبند کرائے تھے۔</p><p class=''>18 اکتوبر کو ہونے والی سماعت کے دوران اسحٰق ڈار احتساب عدالت میں پیش ہوئے تھے تاہم ان کے وکیل کی عدم موجودگی کی وجہ سے عدالتی کارروائی ملتوی کردی گئی تھی۔</p><p class=''>واضح رہے کہ 16 اکتوبر کے دوران عدالت نے اسحٰق ڈار کے وکلا کی جانب سے ان کے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی تھی جسے عدالت نے مسترد کردیا تھا۔</p><p class=''>خیال رہے کہ 12 اکتوبر کو 8 گھنٹے طویل سماعت کے دوران نیب پروسیکیوٹر کی جانب سے پیش کیے جانے والے گواہان، البرکہ بینک کے نائب صدر طارق جاوید اور نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ (این آئی ٹی) کے سربراہ شاہد عزیز نے عدالت کے سامنے اپنے بیانات قلمبند کرائے تھے۔</p><p class=''>یہ بھی یاد رہے کہ <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1065732/' ><strong>4 اکتوبر 2017</strong></a> کو ہونے والی سماعت کے دوران نیب کی جانب سے لاہور کے ایک نجی بینک (بینک الفلاح) کے سابق مینیجر اشتیاق علی کو بطور گواہ پیش کیا گیا جنہوں نے عدالت میں بیان ریکارڈ کروایا تھا کہ اسحٰق ڈار کی اہلیہ تبسم اسحٰق ڈار کے نام سے 2001 میں مذکورہ بینک میں اکاؤنٹ کھلوایا گیا تھا، جس کی تفصیلات میں انہوں نے اپنی ایک سیکیورٹی کمپنی کے بارے میں بتایا جس کا نام ایچ ڈی ایس سیکیورٹیز پرائیویٹ لمیٹڈ ہے۔</p><p class=''>استغاثہ گواہ اشتیاق علی نے بتایا تھا کہ بینک میں کمپنی کے علاوہ اسحٰق ڈار کا ذاتی اکاؤنٹ بھی ہے جو انہوں نے 2005 میں کھولا تھا تاہم اسے 2006 میں بند کردیا گیا تھا۔</p><p class=''>اسحٰق ڈار پر 27 ستمبر کو نیب ریفرنسز کے سلسلے میں احتساب عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران فردِ جرم عائد کی گئی تھی، تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کردیا تھا۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1074049</guid>
      <pubDate>Mon, 26 Feb 2018 11:47:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد عمرانویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/02/5a93a9024e718.jpg?r=2115800279" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/02/5a93a9024e718.jpg?r=1908494454"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
