<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 20:19:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 20:19:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ساجد مسیح تشدد کیس: ایف آئی اے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی تجویز</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1074114/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;ul class="story__toc" style="display: none"&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_0"&gt;انسانی حقوق کی تنظیموں کا احتجاج&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;لاہور: فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی کمیٹی نے توہینِ مذہب کے مبینہ ملزم کو تشدد کا نشانہ بنانے والے چار تفتیش کاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کرنے کی تجویز پیش کردی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;کمیٹی نے اپنی تجاویز ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ایف آئی اے بشیر احمد میمن کو ارسال کیں، جن میں ساجد مسیح کے خلاف مزید کارروائی کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل بشیر احمد میمن نے ایف آئی اے لاہور ہیڈکوارٹر میں ساجد مسیح کو تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل ڈائریکٹر سید فرید علی شاہ کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یاد رہے کہ ساجد مسیح نے لاہور میں ایف آئی اے کے ہیڈکوارٹر کی عمارت سے چھلانگ لگادی تھی اور بعد میں الزام عائد کیا تھا کہ ایف آئی اے اہلکاروں نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1074022/' &gt;توہینِ مذہب میں ملوث مشتبہ شخص کا ایف آئی اے پر تشدد کا الزام&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تحقیقات ایف آئی اے کے انسپکٹر خالد سعید شاہ، فرانزک ڈپارٹمنٹ کے اہلکار علی افروز اور دیگر دو اہلکاروں کے خلاف کی گئی تھیں جن پر الزام تھا کہ انہوں نے ساجد مسیح کو دورانِ تفتیش شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں نازیباں الفاظ کہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ساجد مسیح نے الزام عائد کیا تھا کہ ایف آئی اے حکام نے بعد میں اس سے اپنے کزن کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے لیے کہا لیکن وہ خاموش رہا اور اچانک سے عمارت سے چھلانگ لگا دی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ایک تحقیقاتی افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان کو بتایا کہ ایف آئی اے حکام اور ساجد مسیح کے بیان کا بیان ریکارڈ کروانے کے بعد اب تحقیقات ختم ہو چکی ہے، جس میں ایف آئی اے کے تفتیش کاروں کو ملوث پایا گیا ہے تاہم ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی تجویز پیش کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دریں اثنا سیسل اینڈ اریس فاؤنڈیشن (سی آئی سی ایف) کی صدر مِشل چوہدری نے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے سائبر کرائم سیل کے اس رویے سے ہم خوفزدہ ہونے کے ساتھ ساتھ واقعے پر شدید غم و غصہ ہے، تاہم ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کی تحقیقات کروا کر ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے کیونکہ ایسے واقعات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔&lt;/p&gt;&lt;h3 id="toc_0"&gt;انسانی حقوق کی تنظیموں کا احتجاج&lt;/h3&gt;
&lt;p class=''&gt;ادھر انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے افراد نے لاہور پریس کلب پر ایف آئی اے لاہور کے ہیڈ کوارٹر میں ہونے والے واقعے پر احتجاج ریکارڈ کروایا۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس حوالے سے ملک کی تقریباً 175 سول سوسائٹی کی تنظمیوں نے ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن (ڈی آر ایف) کی جانب سے جاری کردہ بیان کی توثیق کی۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;مذکورہ بیان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے ساجد مسیح پر ہونے والے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس واقعے میں نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی بلکہ اس سے قانونی نافذ کرنے والے اداروں کی پاکستان کے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت پر بھی سوالات اٹھے ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انسانی حقوق کی ایک تنظیم کی جانب سے ہونے والے احتجاج میں مظاہریں نے ایف آئی اے کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی کو بھی مسترد کردیا جس نے ساجد مسیح کو تشدد کا نشانہ بنانے والوں کے خلاف تحقیقات کیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1074022/' &gt;&lt;strong&gt;ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ وسائل کی کمی کا شکار&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دوسری جانب سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ساجد مسیح کو انصاف فراہم کرنے اور اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;مظاہرین نے ساجد مسیح کے معاملے میں ایف آئی اے کی رپورٹ بھی منظر عام پر لانے اور ساجد مسیح کا علاج کے لیے میڈیکل ٹیم بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اطلاعات کے مطابق ساجد مسیح کی وکیل نے الزام عائد کیا ہے کہ ایف آئی اے حکام کی جانب سے انہیں ان کے موکل سے ملاقات نہیں کرنے دی جارہی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے وزارتِ داخلہ، سینیٹ کمیٹی برائے انسانی حقوق اور انسانی حقوق کمیشن پاکستان کو خط ارصال کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ان کی موکل سے ملاقات نہ ہونا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 27 فروری 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'><ul class="story__toc" style="display: none">
<li>
<a href="#toc_0">انسانی حقوق کی تنظیموں کا احتجاج</a>
</li>
</ul>
</div><p class=''>لاہور: فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی کمیٹی نے توہینِ مذہب کے مبینہ ملزم کو تشدد کا نشانہ بنانے والے چار تفتیش کاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کرنے کی تجویز پیش کردی۔</p><p class=''>کمیٹی نے اپنی تجاویز ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ایف آئی اے بشیر احمد میمن کو ارسال کیں، جن میں ساجد مسیح کے خلاف مزید کارروائی کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ </p><p class=''>خیال رہے کہ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل بشیر احمد میمن نے ایف آئی اے لاہور ہیڈکوارٹر میں ساجد مسیح کو تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل ڈائریکٹر سید فرید علی شاہ کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کی تھی۔</p><p class=''>یاد رہے کہ ساجد مسیح نے لاہور میں ایف آئی اے کے ہیڈکوارٹر کی عمارت سے چھلانگ لگادی تھی اور بعد میں الزام عائد کیا تھا کہ ایف آئی اے اہلکاروں نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔</p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1074022/' >توہینِ مذہب میں ملوث مشتبہ شخص کا ایف آئی اے پر تشدد کا الزام</a></strong></p><p class=''>تحقیقات ایف آئی اے کے انسپکٹر خالد سعید شاہ، فرانزک ڈپارٹمنٹ کے اہلکار علی افروز اور دیگر دو اہلکاروں کے خلاف کی گئی تھیں جن پر الزام تھا کہ انہوں نے ساجد مسیح کو دورانِ تفتیش شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں نازیباں الفاظ کہے۔</p><p class=''>ساجد مسیح نے الزام عائد کیا تھا کہ ایف آئی اے حکام نے بعد میں اس سے اپنے کزن کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے لیے کہا لیکن وہ خاموش رہا اور اچانک سے عمارت سے چھلانگ لگا دی۔</p><p class=''>ایک تحقیقاتی افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان کو بتایا کہ ایف آئی اے حکام اور ساجد مسیح کے بیان کا بیان ریکارڈ کروانے کے بعد اب تحقیقات ختم ہو چکی ہے، جس میں ایف آئی اے کے تفتیش کاروں کو ملوث پایا گیا ہے تاہم ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی تجویز پیش کی گئی ہے۔</p><p class=''>دریں اثنا سیسل اینڈ اریس فاؤنڈیشن (سی آئی سی ایف) کی صدر مِشل چوہدری نے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کیا۔</p><p class=''>انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے سائبر کرائم سیل کے اس رویے سے ہم خوفزدہ ہونے کے ساتھ ساتھ واقعے پر شدید غم و غصہ ہے، تاہم ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کی تحقیقات کروا کر ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے کیونکہ ایسے واقعات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔</p><h3 id="toc_0">انسانی حقوق کی تنظیموں کا احتجاج</h3>
<p class=''>ادھر انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے افراد نے لاہور پریس کلب پر ایف آئی اے لاہور کے ہیڈ کوارٹر میں ہونے والے واقعے پر احتجاج ریکارڈ کروایا۔ </p><p class=''>اس حوالے سے ملک کی تقریباً 175 سول سوسائٹی کی تنظمیوں نے ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن (ڈی آر ایف) کی جانب سے جاری کردہ بیان کی توثیق کی۔ </p><p class=''>مذکورہ بیان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے ساجد مسیح پر ہونے والے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس واقعے میں نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی بلکہ اس سے قانونی نافذ کرنے والے اداروں کی پاکستان کے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت پر بھی سوالات اٹھے ہیں۔ </p><p class=''>انسانی حقوق کی ایک تنظیم کی جانب سے ہونے والے احتجاج میں مظاہریں نے ایف آئی اے کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی کو بھی مسترد کردیا جس نے ساجد مسیح کو تشدد کا نشانہ بنانے والوں کے خلاف تحقیقات کیں۔</p><p class=''>یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1074022/' ><strong>ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ وسائل کی کمی کا شکار</strong></a></p><p class=''>دوسری جانب سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ساجد مسیح کو انصاف فراہم کرنے اور اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا مطالبہ کیا۔</p><p class=''>مظاہرین نے ساجد مسیح کے معاملے میں ایف آئی اے کی رپورٹ بھی منظر عام پر لانے اور ساجد مسیح کا علاج کے لیے میڈیکل ٹیم بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔</p><p class=''>اطلاعات کے مطابق ساجد مسیح کی وکیل نے الزام عائد کیا ہے کہ ایف آئی اے حکام کی جانب سے انہیں ان کے موکل سے ملاقات نہیں کرنے دی جارہی۔</p><p class=''>انہوں نے وزارتِ داخلہ، سینیٹ کمیٹی برائے انسانی حقوق اور انسانی حقوق کمیشن پاکستان کو خط ارصال کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ان کی موکل سے ملاقات نہ ہونا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔</p><hr>
<p class=''><strong>یہ خبر 27 فروری 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</strong></p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1074114</guid>
      <pubDate>Tue, 27 Feb 2018 13:19:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمران گبولسارہ ایلیزر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/02/5a94e2a8090d1.jpg?r=934366363" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/02/5a94e2a8090d1.jpg?r=1816505975"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
