<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 22:05:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 22:05:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’آئٹم گانے عورتوں کی تضحیک‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1074492/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;ul class="story__toc" style="display: none"&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_0"&gt;یہ بھی پڑھیں: کرن جوہر فلموں میں آئٹم سانگ شامل کرنے پر شرمندہ&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_1"&gt;مزید پڑھیں: ڈانس کوئین کو ایک اور آئٹم سانگ کی پیشکش&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_2"&gt;یہ بھی پڑھیں: جوہی چاولہ اپنے آئٹم سانگ کی وجہ سے &amp;#39;پریشان&amp;#39;&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;بولی وڈ کی ورسٹائل اداکارہ شبانہ اعظمی نے ایک بار پھر آئٹم گانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں عورتوں کی تضحیک قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;شبانہ اعظمی سمجھتی ہیں کہ آئٹم سانگ کا مطلب عورتوں کو مردوں کی آنکھوں کے حوالے کرنا ہے، یعنی یہ عمل خواتین کو مردوں کی نظروں میں گرانے کے مترادف ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کے مطابق بہت سارے لوگ آئٹم گانوں کو خواتین کی شہوت پرستی کا آزادانہ استعمال سمجھتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس کو ایک طرح سے خواتین کی خودمختاری قرار دیا جاتا ہے، تاہم درحقیقت یہ عمل انہیں مردوں کو مسلسل گھورنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;a href='http://www.ficci-frames.com/' &gt;&lt;strong&gt;فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف آئی سی سی آئی)&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے ہونے والے سالانہ عالمی کنوینشن کے ایک سیشن میں خطاب کے دوران شبانہ اعظمی نے ایک بار پھر بولی وڈ فلموں میں شامل کیے جانے والے آئٹم سانگس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ اس سے قبل 2016 میں بھی شبانہ اعظمی نے 2012 میں ریلیز ہونے والی بولی وڈ فلم ’دبنگ 2‘ میں شامل کیے گئے کرینہ کپور کے آئٹم گانے ’فیوی کول سے‘ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے خواتین کی تضحیک ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;h6 id="toc_0"&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1069146' &gt;کرن جوہر فلموں میں آئٹم سانگ شامل کرنے پر شرمندہ&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/zE7Pwgl6sLA?enablejsapi=1&amp;showinfo=0&amp;rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انڈین ایکسپریس کے مطابق ایف آئی سی سی 2018 کے عالمی کنونشن کے ایک سیشن میں خطاب کے دوران ماضی کی مقبول اداکارہ کا کہنا تھا کہ وہ فلموں میں آئٹم گانوں کو شامل کرنے کے حوالے سے سخت مؤقف رکھتی ہیں، کیوں کہ انہیں فلموں کی کہانی میں مرکزی حیثیت حاصل نہیں ہوتی، انہیں مخصوص ذہنیت اور مقصد کے لیے شامل کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;شبانہ اعظمی نے وضاحت کی کہ انہیں فلم میں کسی خاتون کے مرکزی کردار سے کوئی اختلاف نہیں اور نہ ہی وہ مرکزی اداکاری کی جانب سے کسی گانے پر پرفارمنس کو وہ غلط سمجھتی ہیں، تاہم آئٹم گانے کا مطلب عورتوں کی شہوت پرستی کا آزادانہ استعمال ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;فلم انڈسٹری اور اسکرین پر خواتین کی نمائندگی اور انہیں پیش کرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شبانہ اعظمی نے کہا کہ کیمرے کے سامنے خواتین کی عریانیت کو ظاہر کرنے کے حوالے سے ایک ڈائریکٹر کا نقطہ نظر انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیوں کہ جب کوئی پردے پر کسی عورت کو اپنے ہی جسم کو کاٹتے ہوئے، اس کی چھاتی اور ناف کو ہلتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ آزادانہ طور پر اسے نظروں سے لوٹ رہا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2018/03/5a9d4222f189c.jpg'  alt='&amp;mdash;اسکرین شاٹ' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;—اسکرین شاٹ&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;h6 id="toc_1"&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/104753' &gt;ڈانس کوئین کو ایک اور آئٹم سانگ کی پیشکش&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;شبانہ اعظمی نے اپنی گفتگو کے دوران 2011 میں ریلیز ہونے والی زویا اختر کی فلم ’زندگی نہ ملے گی دوبارہ‘ میں کترینہ کیف کے حلیے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فلم میں بکنی میں ملبوس نظر آتی ہیں، ساتھ ہی وہ مردوں کو پانی میں تیرنے کی تربیت بھی دیتی ہیں، مگر کیمرہ ان کے جسمانی خدوخال کو فوکس نہیں کرتا، انہیں دور سے دکھاتا ہے، اور دیکھنے والا آسانی سے سمجھ جاتا ہے کہ یہ پانی میں تیراکی سکھانے کی استاد ہے، تاہم اگر کوئی اور ڈائریکٹر ہوتا تو شاید وہ کترینہ کیف کو اسی طرح نہ دکھاتا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اداکارہ نے فلم ڈائریکٹرز کو آئٹم گانے فلموں میں شامل کرنے پر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ایسے گانے سماج میں عریانیت پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2018/03/5a9d449f6c106.jpg'  alt='&amp;mdash;فوٹو: انڈیا ڈاٹ کام' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;—فوٹو: انڈیا ڈاٹ کام&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;شبانہ اعظمی کا کہنا تھا کہ آج اگر 4 سال کی بچی جب ’میں تندوری مرغی ہوں، گٹکا لے مجھے الکوحل کے ساتھ‘ پر پرفارمنس کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے گانے میں سماج میں بے راہ روی اور عریانیت پھیلانے کا باعث ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;واضح رہے کہ شبانہ اعظمی ماضی میں خود کئی فلموں میں آئٹم گانوں پر پرفارمنس کر چکی ہیں، تاہم وہ جدید دور کے گانوں کو ماضی کے مقابلے زیادہ بولڈ سمجھتی ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;h6 id="toc_2"&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1038397' &gt;جوہی چاولہ اپنے آئٹم سانگ کی وجہ سے &amp;#39;پریشان&amp;#39;&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;شبانہ اعظمی آئٹم گانوں پر تنقید کرنے والی واحد فلمی اسٹار نہیں ہیں، اس سے قبل فلم ساز کرن جوہر بھی آئٹم سانگس کو فلموں میں شامل کرنے کو غیر ضروری قرار دے چکے ہیں، انہوں نے اب تک اپنی فلموں میں آئٹم سانگ شامل کرنے پر معزرت کرتے ہوئے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ وہ آئندہ اپنی فلموں میں ایسے گانے شامل نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2018/03/5a9d445560902.jpg'  alt='&amp;mdash;فائل فوٹو: انڈیا ٹی وی' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;—فائل فوٹو: انڈیا ٹی وی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'><ul class="story__toc" style="display: none">
<li>
<a href="#toc_0">یہ بھی پڑھیں: کرن جوہر فلموں میں آئٹم سانگ شامل کرنے پر شرمندہ</a>
</li>
<li>
<a href="#toc_1">مزید پڑھیں: ڈانس کوئین کو ایک اور آئٹم سانگ کی پیشکش</a>
</li>
<li>
<a href="#toc_2">یہ بھی پڑھیں: جوہی چاولہ اپنے آئٹم سانگ کی وجہ سے &#39;پریشان&#39;</a>
</li>
</ul>
</div><p class=''>بولی وڈ کی ورسٹائل اداکارہ شبانہ اعظمی نے ایک بار پھر آئٹم گانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں عورتوں کی تضحیک قرار دیا ہے۔</p><p class=''>شبانہ اعظمی سمجھتی ہیں کہ آئٹم سانگ کا مطلب عورتوں کو مردوں کی آنکھوں کے حوالے کرنا ہے، یعنی یہ عمل خواتین کو مردوں کی نظروں میں گرانے کے مترادف ہے۔</p><p class=''>ان کے مطابق بہت سارے لوگ آئٹم گانوں کو خواتین کی شہوت پرستی کا آزادانہ استعمال سمجھتے ہیں۔</p><p class=''>انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس کو ایک طرح سے خواتین کی خودمختاری قرار دیا جاتا ہے، تاہم درحقیقت یہ عمل انہیں مردوں کو مسلسل گھورنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔</p><p class=''><a href='http://www.ficci-frames.com/' ><strong>فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف آئی سی سی آئی)</strong></a> کے ہونے والے سالانہ عالمی کنوینشن کے ایک سیشن میں خطاب کے دوران شبانہ اعظمی نے ایک بار پھر بولی وڈ فلموں میں شامل کیے جانے والے آئٹم سانگس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔</p><p class=''>خیال رہے کہ اس سے قبل 2016 میں بھی شبانہ اعظمی نے 2012 میں ریلیز ہونے والی بولی وڈ فلم ’دبنگ 2‘ میں شامل کیے گئے کرینہ کپور کے آئٹم گانے ’فیوی کول سے‘ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے خواتین کی تضحیک ہوتی ہے۔</p><h6 id="toc_0">یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1069146' >کرن جوہر فلموں میں آئٹم سانگ شامل کرنے پر شرمندہ</a></h6>
<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/zE7Pwgl6sLA?enablejsapi=1&showinfo=0&rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>انڈین ایکسپریس کے مطابق ایف آئی سی سی 2018 کے عالمی کنونشن کے ایک سیشن میں خطاب کے دوران ماضی کی مقبول اداکارہ کا کہنا تھا کہ وہ فلموں میں آئٹم گانوں کو شامل کرنے کے حوالے سے سخت مؤقف رکھتی ہیں، کیوں کہ انہیں فلموں کی کہانی میں مرکزی حیثیت حاصل نہیں ہوتی، انہیں مخصوص ذہنیت اور مقصد کے لیے شامل کیا جاتا ہے۔</p><p class=''>شبانہ اعظمی نے وضاحت کی کہ انہیں فلم میں کسی خاتون کے مرکزی کردار سے کوئی اختلاف نہیں اور نہ ہی وہ مرکزی اداکاری کی جانب سے کسی گانے پر پرفارمنس کو وہ غلط سمجھتی ہیں، تاہم آئٹم گانے کا مطلب عورتوں کی شہوت پرستی کا آزادانہ استعمال ہے۔ </p><p class=''>فلم انڈسٹری اور اسکرین پر خواتین کی نمائندگی اور انہیں پیش کرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شبانہ اعظمی نے کہا کہ کیمرے کے سامنے خواتین کی عریانیت کو ظاہر کرنے کے حوالے سے ایک ڈائریکٹر کا نقطہ نظر انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیوں کہ جب کوئی پردے پر کسی عورت کو اپنے ہی جسم کو کاٹتے ہوئے، اس کی چھاتی اور ناف کو ہلتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ آزادانہ طور پر اسے نظروں سے لوٹ رہا ہوتا ہے۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2018/03/5a9d4222f189c.jpg'  alt='&mdash;اسکرین شاٹ' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">—اسکرین شاٹ</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><h6 id="toc_1">مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/104753' >ڈانس کوئین کو ایک اور آئٹم سانگ کی پیشکش</a></h6>
<p class=''>شبانہ اعظمی نے اپنی گفتگو کے دوران 2011 میں ریلیز ہونے والی زویا اختر کی فلم ’زندگی نہ ملے گی دوبارہ‘ میں کترینہ کیف کے حلیے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فلم میں بکنی میں ملبوس نظر آتی ہیں، ساتھ ہی وہ مردوں کو پانی میں تیرنے کی تربیت بھی دیتی ہیں، مگر کیمرہ ان کے جسمانی خدوخال کو فوکس نہیں کرتا، انہیں دور سے دکھاتا ہے، اور دیکھنے والا آسانی سے سمجھ جاتا ہے کہ یہ پانی میں تیراکی سکھانے کی استاد ہے، تاہم اگر کوئی اور ڈائریکٹر ہوتا تو شاید وہ کترینہ کیف کو اسی طرح نہ دکھاتا۔</p><p class=''>اداکارہ نے فلم ڈائریکٹرز کو آئٹم گانے فلموں میں شامل کرنے پر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ایسے گانے سماج میں عریانیت پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2018/03/5a9d449f6c106.jpg'  alt='&mdash;فوٹو: انڈیا ڈاٹ کام' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">—فوٹو: انڈیا ڈاٹ کام</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>شبانہ اعظمی کا کہنا تھا کہ آج اگر 4 سال کی بچی جب ’میں تندوری مرغی ہوں، گٹکا لے مجھے الکوحل کے ساتھ‘ پر پرفارمنس کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے گانے میں سماج میں بے راہ روی اور عریانیت پھیلانے کا باعث ہیں۔</p><p class=''>واضح رہے کہ شبانہ اعظمی ماضی میں خود کئی فلموں میں آئٹم گانوں پر پرفارمنس کر چکی ہیں، تاہم وہ جدید دور کے گانوں کو ماضی کے مقابلے زیادہ بولڈ سمجھتی ہیں۔</p><h6 id="toc_2">یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1038397' >جوہی چاولہ اپنے آئٹم سانگ کی وجہ سے &#39;پریشان&#39;</a></h6>
<p class=''>شبانہ اعظمی آئٹم گانوں پر تنقید کرنے والی واحد فلمی اسٹار نہیں ہیں، اس سے قبل فلم ساز کرن جوہر بھی آئٹم سانگس کو فلموں میں شامل کرنے کو غیر ضروری قرار دے چکے ہیں، انہوں نے اب تک اپنی فلموں میں آئٹم سانگ شامل کرنے پر معزرت کرتے ہوئے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ وہ آئندہ اپنی فلموں میں ایسے گانے شامل نہیں کریں گے۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2018/03/5a9d445560902.jpg'  alt='&mdash;فائل فوٹو: انڈیا ٹی وی' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">—فائل فوٹو: انڈیا ٹی وی</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p>]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1074492</guid>
      <pubDate>Mon, 05 Mar 2018 18:25:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/03/5a9d368334fb1.jpg?r=1252774252" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/03/5a9d368334fb1.jpg?r=1912434549"/>
        <media:title>—فوٹو: انڈین ایکسپریس</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
