<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 18:47:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 18:47:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیس بک کی جانب سے پورنوگرافی سے متعلق متنازع سروے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1074570/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;ul class="story__toc" style="display: none"&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_0"&gt;یہ بھی پڑھیں: جعلی خبروں کا پتہ لگانے کا فیس بک سروے سامنے آگیا&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_1"&gt;مزید پڑھیں: فیس بک میں ایک اور بہت بڑی تبدیلی&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;فیس بک جہاں گزشتہ 2 سال سے ویب سائٹ میں مسلسل تبدیلیاں لانے کے لیے کوشاں ہے وہیں اس عمل میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ کو دنیا بھر میں تنقید کاسامنا بھی بنایا جا رہا ہے، تاہم پھر بھی فیس بک اپنی پالیسیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;فیس بک نے رواں برس کے آغاز میں ہی ویب سائٹ میں سب سے بڑی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1071553/' &gt;&lt;strong&gt;نیوز فیڈ کو تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس نئی تبدیلی کے تحت ویب سائٹ پر خبروں اور اشتہارات کے بجائے عام صارفین کی پوسٹوں کو زیادہ ترجیح دی گئی، تاہم اس تبدیلی پر بھی فیس بک کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس تبدیلی کے بعد خود پر ہونے والی تنقید کے بعد فیس بک نے سلسلہ وار سروے کرنے کا سلسلہ شروع کردیا، تاکہ ویب سائٹ کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کی خواہش کے عین مطابق بنایا جاسکے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اسی سلسلے میں فیس بک نے حال ہی میں برطانیہ کے محدود صارفین سے سروے کیا، جس میں ان سے متنازع سوالات کیے گئے۔&lt;/p&gt;&lt;h6 id="toc_0"&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1072439' &gt;جعلی خبروں کا پتہ لگانے کا فیس بک سروے سامنے آگیا&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;فیس بک کی جانب سے متنازع اور دنیا کے کئی ممالک میں جرائم کے زمرے میں آنے والے سوالات کو سروے میں شامل کیے جانے پر نہ صرف برطانوی عوام بلکہ وہاں کے اراکین پارلیمنٹ بھی غصے میں آگئے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2018/03/5a9eacd43ca15.jpg'  alt='&amp;mdash;اسکرین شاٹ' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;—اسکرین شاٹ&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;برطانوی اخبار ’دی گارجین‘ کے مطابق لوگوں اور قانون سازوں کے غصے کے بعد &lt;a href='https://www.theguardian.com/technology/2018/mar/05/facebook-men-children-sexual-images' &gt;&lt;strong&gt;فیس بک نے متنازع سروے پر معزرت کرتے ہوئے اسے اپنی غلطی قرار دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;فیس بک کے ترجمان نے جاری بیان میں تسلیم کیا کہ سروے میں شامل سوالات یا مواد جارحانہ تھا، جس سے کئی لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ساتھ ہی ترجمان نے کہا کہ ایسے مواد کی تشہیر کرنا فیس بک پر ممنوع ہے، ایسے مواد کو ویب سائٹ پر ہرگز ہرگز استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ترجمان نے وضاحت کی کہ ویب سائٹ پر کئی سال سے بچوں کی پورنو گرافی، ان کی نازیبا تصاویر شیئر کرنے اور انہیں دودھ پلانے جیسی تصاویر اور ویڈیوز کی ممانعت ہے۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;
            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/JonathanHaynes/status/970234868016787456"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;فیس بک نے یہ وضاحتی بیان اس سروے کے سوالات سامنے آنے کے بعد کیا جس میں محدود صارفین سے ویب سائٹ پر فحش یا ممنوع مواد کی تشہیر سے متعلق سوالات پوچھے گئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;فیس بک کی جانب سے یہ سوالات محدود صارفین سے کیے گئے تھے، ان سوالات کے حوالے سے سب سے پہلے ’دی گارجین‘ کے ڈیجیٹل ایڈیٹر جوناتھن ہائنز نے ٹوئیٹ کیے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کی جانب سے ٹوئیٹ کیے گیے سروے سے پتہ چلتا ہے کہ سماجی ویب سائٹ نے صارفین سے ممنوع مواد کو ویب سائٹ پر استعمال کرنے سے متعلق سوالات پوچھے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;
            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/JonathanHaynes/status/970235172355477505"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;h6 id="toc_1"&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1074399/' &gt;فیس بک میں ایک اور بہت بڑی تبدیلی&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;ایک سوال میں صارفین سے پوچھا گیا تھا کہ اگر کوئی مرد کسی 14 سالہ لڑکی سے پرائیویٹ میسیج میں اس کی برہنہ تصویر کا مطالبہ کرتا ہے تو اس معاملے کو فیس بک پر کس طرح استعمال کیا جائے؟&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس سوال کا جواب دینے کے لیے صارفین کو چار آپشن دیے گئے تھے، جس میں پہلا آپشن اس مواد کو فیس بک پر استعمال کرنے کی اجازت دینے سے متعلق تھا۔&lt;/p&gt;&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;
            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/JonathanHaynes/status/970235448089042944"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			
&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دوسرا آپشن بھی اسے فیس بک پر استعمال کی اجازت سے متعلق تھا، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا تھا کہ اسے صارف دیکھنا پسند نہیں کرے گا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تیسرے آپشن میں ایسے مواد کو فیس بک پر استعمال نہ کرنے کی اجازت نہ دینے سے متعلق تھا، جب کہ چوتھے آپشن میں اس معاملے پر صارف کی کوئی رائے نہ رکھنے کا کہا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اسی طرح صارفین سے بچوں کو دودھ پلانے والی تصاویر کو فیس بک پر شیئر کرنے سے متعلق بھی پوچھا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;علاوہ ازیں اطلاعات ہیں کہ سروے میں بچوں سے ’ریپ‘ کے واقعات کی خبروں اور تصاویر سے متعلق بھی متنازع سوالات کیے گئے تھے، جس پر نہ صرف عوام بلکہ برطانوی قانون سازوں نے بھی سماجی ویب سائٹ کو آڑے ہاتھوں لیا۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'><ul class="story__toc" style="display: none">
<li>
<a href="#toc_0">یہ بھی پڑھیں: جعلی خبروں کا پتہ لگانے کا فیس بک سروے سامنے آگیا</a>
</li>
<li>
<a href="#toc_1">مزید پڑھیں: فیس بک میں ایک اور بہت بڑی تبدیلی</a>
</li>
</ul>
</div><p class=''>فیس بک جہاں گزشتہ 2 سال سے ویب سائٹ میں مسلسل تبدیلیاں لانے کے لیے کوشاں ہے وہیں اس عمل میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ کو دنیا بھر میں تنقید کاسامنا بھی بنایا جا رہا ہے، تاہم پھر بھی فیس بک اپنی پالیسیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔</p><p class=''>فیس بک نے رواں برس کے آغاز میں ہی ویب سائٹ میں سب سے بڑی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1071553/' ><strong>نیوز فیڈ کو تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔</strong></a></p><p class=''>اس نئی تبدیلی کے تحت ویب سائٹ پر خبروں اور اشتہارات کے بجائے عام صارفین کی پوسٹوں کو زیادہ ترجیح دی گئی، تاہم اس تبدیلی پر بھی فیس بک کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔</p><p class=''>اس تبدیلی کے بعد خود پر ہونے والی تنقید کے بعد فیس بک نے سلسلہ وار سروے کرنے کا سلسلہ شروع کردیا، تاکہ ویب سائٹ کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کی خواہش کے عین مطابق بنایا جاسکے۔</p><p class=''>اسی سلسلے میں فیس بک نے حال ہی میں برطانیہ کے محدود صارفین سے سروے کیا، جس میں ان سے متنازع سوالات کیے گئے۔</p><h6 id="toc_0">یہ بھی پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1072439' >جعلی خبروں کا پتہ لگانے کا فیس بک سروے سامنے آگیا</a></h6>
<p class=''>فیس بک کی جانب سے متنازع اور دنیا کے کئی ممالک میں جرائم کے زمرے میں آنے والے سوالات کو سروے میں شامل کیے جانے پر نہ صرف برطانوی عوام بلکہ وہاں کے اراکین پارلیمنٹ بھی غصے میں آگئے۔</p><figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2018/03/5a9eacd43ca15.jpg'  alt='&mdash;اسکرین شاٹ' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">—اسکرین شاٹ</figcaption>
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>برطانوی اخبار ’دی گارجین‘ کے مطابق لوگوں اور قانون سازوں کے غصے کے بعد <a href='https://www.theguardian.com/technology/2018/mar/05/facebook-men-children-sexual-images' ><strong>فیس بک نے متنازع سروے پر معزرت کرتے ہوئے اسے اپنی غلطی قرار دیا۔</strong></a></p><p class=''>فیس بک کے ترجمان نے جاری بیان میں تسلیم کیا کہ سروے میں شامل سوالات یا مواد جارحانہ تھا، جس سے کئی لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے۔</p><p class=''>ساتھ ہی ترجمان نے کہا کہ ایسے مواد کی تشہیر کرنا فیس بک پر ممنوع ہے، ایسے مواد کو ویب سائٹ پر ہرگز ہرگز استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔</p><p class=''>ترجمان نے وضاحت کی کہ ویب سائٹ پر کئی سال سے بچوں کی پورنو گرافی، ان کی نازیبا تصاویر شیئر کرنے اور انہیں دودھ پلانے جیسی تصاویر اور ویڈیوز کی ممانعت ہے۔</p><figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>
            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/JonathanHaynes/status/970234868016787456"></a>
            </blockquote>
</div>
				
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>فیس بک نے یہ وضاحتی بیان اس سروے کے سوالات سامنے آنے کے بعد کیا جس میں محدود صارفین سے ویب سائٹ پر فحش یا ممنوع مواد کی تشہیر سے متعلق سوالات پوچھے گئے تھے۔</p><p class=''>فیس بک کی جانب سے یہ سوالات محدود صارفین سے کیے گئے تھے، ان سوالات کے حوالے سے سب سے پہلے ’دی گارجین‘ کے ڈیجیٹل ایڈیٹر جوناتھن ہائنز نے ٹوئیٹ کیے تھے۔</p><p class=''>ان کی جانب سے ٹوئیٹ کیے گیے سروے سے پتہ چلتا ہے کہ سماجی ویب سائٹ نے صارفین سے ممنوع مواد کو ویب سائٹ پر استعمال کرنے سے متعلق سوالات پوچھے ہیں۔</p><figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>
            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/JonathanHaynes/status/970235172355477505"></a>
            </blockquote>
</div>
				
			</figure>
<p>			
</p><h6 id="toc_1">مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1074399/' >فیس بک میں ایک اور بہت بڑی تبدیلی</a></h6>
<p class=''>ایک سوال میں صارفین سے پوچھا گیا تھا کہ اگر کوئی مرد کسی 14 سالہ لڑکی سے پرائیویٹ میسیج میں اس کی برہنہ تصویر کا مطالبہ کرتا ہے تو اس معاملے کو فیس بک پر کس طرح استعمال کیا جائے؟</p><p class=''>اس سوال کا جواب دینے کے لیے صارفین کو چار آپشن دیے گئے تھے، جس میں پہلا آپشن اس مواد کو فیس بک پر استعمال کرنے کی اجازت دینے سے متعلق تھا۔</p><figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>
            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/JonathanHaynes/status/970235448089042944"></a>
            </blockquote>
</div>
				
			</figure>
<p>			
</p><p class=''>دوسرا آپشن بھی اسے فیس بک پر استعمال کی اجازت سے متعلق تھا، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا تھا کہ اسے صارف دیکھنا پسند نہیں کرے گا۔</p><p class=''>تیسرے آپشن میں ایسے مواد کو فیس بک پر استعمال نہ کرنے کی اجازت نہ دینے سے متعلق تھا، جب کہ چوتھے آپشن میں اس معاملے پر صارف کی کوئی رائے نہ رکھنے کا کہا گیا تھا۔</p><p class=''>اسی طرح صارفین سے بچوں کو دودھ پلانے والی تصاویر کو فیس بک پر شیئر کرنے سے متعلق بھی پوچھا گیا تھا۔</p><p class=''>علاوہ ازیں اطلاعات ہیں کہ سروے میں بچوں سے ’ریپ‘ کے واقعات کی خبروں اور تصاویر سے متعلق بھی متنازع سوالات کیے گئے تھے، جس پر نہ صرف عوام بلکہ برطانوی قانون سازوں نے بھی سماجی ویب سائٹ کو آڑے ہاتھوں لیا۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1074570</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Mar 2018 20:57:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/03/5a9ea87e37be3.jpg?r=155379379" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/03/5a9ea87e37be3.jpg?r=218492178"/>
        <media:title>—فوٹو: دی سن</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
