<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 13:14:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 13:14:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شام: غوطہ میں بمباری سے عمارتیں تباہ، ہلاکتوں کی تعداد 1102 سے تجاوز</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1074892/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;ul class="story__toc" style="display: none"&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_0"&gt;یہ بھی پڑھیں:مشرقی غوطہ میں بمباری جاری، ہلاکتیں 900 سے متجاوز&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;a href="#toc_1"&gt;مزید پڑھیں:شام: مشرقی غوطہ میں بمباری، ہلاکتیں 800 سے تجاوز کر گئیں&lt;/a&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;شام کے مشرقی علاقے غوطہ میں حکومت کی جانب سے تازہ بمباری کے باعث  شہر کے کئی علاقوں میں گڑھے پڑ گئے اور درجنوں عمارتیں تباہ ہوگئیں جبکہ علاقے میں جاری لڑائی کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار 102 سے تجاوز کرگئی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;عالمی برادری کی جانب سے جنگ بندی کے مطالبات کے باوجود شامی حکومت اور روسی حمایت یافتہ فوج کی جانب سے غوطہ میں باغیوں کے خلاف فضائی کارروائی کا سلسلہ بدستور جاری ہے جبکہ علاقے کا قبضہ حاصل کرنے کے لیے زمینی کارروائی بھی کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;تین ہفتوں سے جاری لڑائی میں 50 فیصد سے زائد علاقے میں قبضہ کیا گیا ہے تاہم باقی علاقہ اب بھی باغیوں کا مرکز بنا ہوا ہے جس کا دیگر علاقوں سے رابطہ واضح طور پر کٹ گیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;شامی تنظیم ایس او ایچ آر کے مطابق حکومت کی جانب سے اتوار کو شامی فوجی نے فضائی کارروائی، بمباری اور راکٹ کے ذریعے باغیوں کے کئی پوسٹس کو تباہ کردیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;h6 id="toc_0"&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1074732' &gt;مشرقی غوطہ میں بمباری جاری، ہلاکتیں 900 سے متجاوز&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;ایس او ایچ آر کے سربراہ رامی عبدالرحمٰن کا کہنا تھا کہ &amp;#39;جھڑپیں اب میدیرا تک محدود ہیں جو تین علاقوں کا مرکز ہے جہاں پر باغیوں کی جانب سے شدید مزاحمت ہورہی ہے&amp;#39;۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;حکومتی بمباری کی زد میں عربین سمیت  کئی قریبی علاقے بھی آگئے جہاں کم از کم 3 شہری ہلاک ہوگئے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;مبصر اداروں کے مطابق تازہ حملوں کے بعد شہریوں کی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد ایک ہزار 102 سے تجاوز کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دوسری جانب حموریہ، سقبا اور مسرابا میں بمباری سے تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے تلے کئی افراد دب گئے ہیں جہاں کئی ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;&lt;h6 id="toc_1"&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1074610' &gt;شام: مشرقی غوطہ میں بمباری، ہلاکتیں 800 سے تجاوز کر گئیں&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;
&lt;p class=''&gt;اے ایف پی کے رپورٹر کے مطابق انھوں نے حموریہ میں تباہ شدہ عمارت کے پاس ایک زخمی نوجوان کو دیکھا جو اپنے پیاروں کی تلاش میں تھا جہاں ان کے والدین سمیت 3 بہن بھائیوں کو فضائی کارروائی میں ہلاک کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;حموریہ میں ہونے والی تباہی کے بعد امدادی کارروائی بھی شروع نہیں کی جاسکی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;خیال رہے کہ ایک روز قبل ہی غوطہ میں امدادی &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1074852/' &gt;&lt;strong&gt;قافلے محصور شہریوں کو کھانے پینے کا سامان&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; لے پہنچ گئے تھے لیکن بمباری کا سلسلہ بھی جاری تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;یاد رہے کہ شام کے علاقے مشرقی غوطہ میں 2013 کے بعد سے حکومت مخالف باغیوں کا اثر و رسوخ ہے اور یہاں تقریباً 4 لاکھ کے قریب افراد رہائش پذیر ہیں لیکن حالیہ صورت حال کا آغاز 18 فروری کے بعد سے ہوا، جب روس کی حمایت یافتہ شامی فورسز نے باغیوں پر دباؤ بڑھانے کے لیے آپریشن شروع کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس آپریشن کے دوران فضائی اور زمینی سطح پر کارروائیاں کی جارہی ہیں جس کے بعد مشرقی غوطہ کی صورت حال انتہائی کشیدہ ہے اور شہریوں کو خوراک اور ادویات کی سخت کمی کا سامنا ہے جبکہ اقوام متحدہ کی جانب سے جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'><ul class="story__toc" style="display: none">
<li>
<a href="#toc_0">یہ بھی پڑھیں:مشرقی غوطہ میں بمباری جاری، ہلاکتیں 900 سے متجاوز</a>
</li>
<li>
<a href="#toc_1">مزید پڑھیں:شام: مشرقی غوطہ میں بمباری، ہلاکتیں 800 سے تجاوز کر گئیں</a>
</li>
</ul>
</div><p class=''>شام کے مشرقی علاقے غوطہ میں حکومت کی جانب سے تازہ بمباری کے باعث  شہر کے کئی علاقوں میں گڑھے پڑ گئے اور درجنوں عمارتیں تباہ ہوگئیں جبکہ علاقے میں جاری لڑائی کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار 102 سے تجاوز کرگئی۔</p><p class=''>عالمی برادری کی جانب سے جنگ بندی کے مطالبات کے باوجود شامی حکومت اور روسی حمایت یافتہ فوج کی جانب سے غوطہ میں باغیوں کے خلاف فضائی کارروائی کا سلسلہ بدستور جاری ہے جبکہ علاقے کا قبضہ حاصل کرنے کے لیے زمینی کارروائی بھی کی جارہی ہے۔</p><p class=''>تین ہفتوں سے جاری لڑائی میں 50 فیصد سے زائد علاقے میں قبضہ کیا گیا ہے تاہم باقی علاقہ اب بھی باغیوں کا مرکز بنا ہوا ہے جس کا دیگر علاقوں سے رابطہ واضح طور پر کٹ گیا ہے۔</p><p class=''>شامی تنظیم ایس او ایچ آر کے مطابق حکومت کی جانب سے اتوار کو شامی فوجی نے فضائی کارروائی، بمباری اور راکٹ کے ذریعے باغیوں کے کئی پوسٹس کو تباہ کردیا گیا۔</p><h6 id="toc_0">یہ بھی پڑھیں:<a href='https://www.dawnnews.tv/news/1074732' >مشرقی غوطہ میں بمباری جاری، ہلاکتیں 900 سے متجاوز</a></h6>
<p class=''>ایس او ایچ آر کے سربراہ رامی عبدالرحمٰن کا کہنا تھا کہ &#39;جھڑپیں اب میدیرا تک محدود ہیں جو تین علاقوں کا مرکز ہے جہاں پر باغیوں کی جانب سے شدید مزاحمت ہورہی ہے&#39;۔</p><p class=''>حکومتی بمباری کی زد میں عربین سمیت  کئی قریبی علاقے بھی آگئے جہاں کم از کم 3 شہری ہلاک ہوگئے۔</p><p class=''>مبصر اداروں کے مطابق تازہ حملوں کے بعد شہریوں کی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد ایک ہزار 102 سے تجاوز کر چکی ہے۔</p><p class=''>دوسری جانب حموریہ، سقبا اور مسرابا میں بمباری سے تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے تلے کئی افراد دب گئے ہیں جہاں کئی ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔</p><h6 id="toc_1">مزید پڑھیں:<a href='https://www.dawnnews.tv/news/1074610' >شام: مشرقی غوطہ میں بمباری، ہلاکتیں 800 سے تجاوز کر گئیں</a></h6>
<p class=''>اے ایف پی کے رپورٹر کے مطابق انھوں نے حموریہ میں تباہ شدہ عمارت کے پاس ایک زخمی نوجوان کو دیکھا جو اپنے پیاروں کی تلاش میں تھا جہاں ان کے والدین سمیت 3 بہن بھائیوں کو فضائی کارروائی میں ہلاک کردیا گیا تھا۔</p><p class=''>حموریہ میں ہونے والی تباہی کے بعد امدادی کارروائی بھی شروع نہیں کی جاسکی۔</p><p class=''>خیال رہے کہ ایک روز قبل ہی غوطہ میں امدادی <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1074852/' ><strong>قافلے محصور شہریوں کو کھانے پینے کا سامان</strong></a> لے پہنچ گئے تھے لیکن بمباری کا سلسلہ بھی جاری تھا۔</p><p class=''>یاد رہے کہ شام کے علاقے مشرقی غوطہ میں 2013 کے بعد سے حکومت مخالف باغیوں کا اثر و رسوخ ہے اور یہاں تقریباً 4 لاکھ کے قریب افراد رہائش پذیر ہیں لیکن حالیہ صورت حال کا آغاز 18 فروری کے بعد سے ہوا، جب روس کی حمایت یافتہ شامی فورسز نے باغیوں پر دباؤ بڑھانے کے لیے آپریشن شروع کیا۔</p><p class=''>اس آپریشن کے دوران فضائی اور زمینی سطح پر کارروائیاں کی جارہی ہیں جس کے بعد مشرقی غوطہ کی صورت حال انتہائی کشیدہ ہے اور شہریوں کو خوراک اور ادویات کی سخت کمی کا سامنا ہے جبکہ اقوام متحدہ کی جانب سے جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا جا چکا ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1074892</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Mar 2018 00:12:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/03/5aa57cce348b5.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/03/5aa57cce348b5.jpg"/>
        <media:title>—فوٹو:اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/03/5aa57cf9d0f98.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/03/5aa57cf9d0f98.jpg"/>
        <media:title>—فوٹو:اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/03/5aa57d02f294a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/03/5aa57d02f294a.jpg"/>
        <media:title>—فوٹو:اے ایف پی</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
