<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 11:03:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 11:03:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملک کی 13 جامعات میں پی ایچ ڈی پروگرام پر پابندی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1075320/</link>
      <description>&lt;div style='display: none'&gt;&lt;/div&gt;&lt;p class=''&gt;ہائر ایجوکیشن کمیشن ( ایچ ای سی ) نے ملک کی 13 جامعات میں پی ایچ ڈی اور ایم فل پروگرام پر پابندی عائد کردی گئی۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ایچ ای سی کی جانب سے یہ ان پروگرام پر پابندی ’فاصلاتی تعلیمی پروگرام‘ کی شرائط پوری نہ کرنے پر لگائی گئی،اس حوالے سے ایچ ای سی کے نمائندے محمد اسماعیل کی جانب سے تمام جامعات کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا کہ  کمیٹی کی جانب سے حتمی تجاویز تک جامعات فاصلاتی تعلیمی پروگرام میں مزید داخلہ نہیں دے سکتیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1063572' &gt;سرکاری یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی کرنے کے چور دروازے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;اس اقدام سے تقریباً 4 ہزار طلباء و طالبات متاثر ہوں گے، تاہم ایچ ای سی کی جانب سے ہدایت کی گئی ہے کہ ایم ایس، ایم فل، پی ایچ ڈی پروگرامز میں انرول طالب علم اپنی تعلیم کے نقصان کے بغیر کسی دوسری جامعہ میں داخلہ لے سکتے ہیں اور اس حوالے سے ایچ ای سی کی ہدایت پر عمل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ایچ ای سی کی جانب سے جن جامعات پر اس پابندی کا اطلاق ہوگا ان میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد، ورچوئل کیمپس کومسیٹ انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اسلام آباد، یونیورسٹی آف پشاور، گومل یویورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، یونیورسٹی آف ایگری کلچر فیصل آباد، یونیورسٹی آف فیصل آباد، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی ملتان، سکھر آئی بی اے، شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیرپور، یونیورسٹی آف سندھ جامشورو اور یونیورسٹی آف کوئٹہ بلوچستان شامل ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;دوسری جانب ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر مختار نے ڈان نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اقدام طالب علموں کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھین: &lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1025401' &gt;اصلی طلباء کی جعلی ریسرچ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;انہوں نے کہا کہ یہ وہ جامعات تھیں جو قانونی طور پر فاصلاتی تعلیمی پروگرام اکی پشکش نہیں کر رہی تھیإ اور ایچ ای سی کی جانب سے کہا گیا تھا کہ پرائیویٹ پروگرام ختم کرکے ان طلباء کو رجسٹرڈ کیا جائے اور انہیں انڈر گریجویٹ کی سطح پر ڈگری پروگرام میں شامل کیا جائے لیکن ان جامعات نے اس پروگرام میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کو بھی شامل کرلیا جو قانونی طور پر درست نہیں تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی متعدد جامعات کا دورہ کیا گیا تھا اور ایچ ای سی کی ضروریات پر پورا نہ اترنے والی جامعات میں ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرام بند کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p class=''&gt;ڈاکٹر مختیار نے کہا کہ پی ایچ ڈی پروگرام کرانے کے لیے اس کی فکیلٹی کا ہونا ضروری ہے اور انرولمنٹ کے لیے بھی ایک حد مقرر ہے، اس کے ساتھ جس فکیلٹی میں ایم فل اور پی ایچ ڈی نہیں ہے وہ جامعہ وہ کیسے کرواسکتی ہیں۔ &lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<div style='display: none'></div><p class=''>ہائر ایجوکیشن کمیشن ( ایچ ای سی ) نے ملک کی 13 جامعات میں پی ایچ ڈی اور ایم فل پروگرام پر پابندی عائد کردی گئی۔</p><p class=''>ایچ ای سی کی جانب سے یہ ان پروگرام پر پابندی ’فاصلاتی تعلیمی پروگرام‘ کی شرائط پوری نہ کرنے پر لگائی گئی،اس حوالے سے ایچ ای سی کے نمائندے محمد اسماعیل کی جانب سے تمام جامعات کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا کہ  کمیٹی کی جانب سے حتمی تجاویز تک جامعات فاصلاتی تعلیمی پروگرام میں مزید داخلہ نہیں دے سکتیں۔</p><p class=''><strong>مزید پڑھیں: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1063572' >سرکاری یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی کرنے کے چور دروازے</a></strong></p><p class=''>اس اقدام سے تقریباً 4 ہزار طلباء و طالبات متاثر ہوں گے، تاہم ایچ ای سی کی جانب سے ہدایت کی گئی ہے کہ ایم ایس، ایم فل، پی ایچ ڈی پروگرامز میں انرول طالب علم اپنی تعلیم کے نقصان کے بغیر کسی دوسری جامعہ میں داخلہ لے سکتے ہیں اور اس حوالے سے ایچ ای سی کی ہدایت پر عمل کیا جائے گا۔</p><p class=''>ایچ ای سی کی جانب سے جن جامعات پر اس پابندی کا اطلاق ہوگا ان میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد، ورچوئل کیمپس کومسیٹ انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اسلام آباد، یونیورسٹی آف پشاور، گومل یویورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، یونیورسٹی آف ایگری کلچر فیصل آباد، یونیورسٹی آف فیصل آباد، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی ملتان، سکھر آئی بی اے، شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیرپور، یونیورسٹی آف سندھ جامشورو اور یونیورسٹی آف کوئٹہ بلوچستان شامل ہیں۔</p><p class=''>دوسری جانب ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر مختار نے ڈان نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اقدام طالب علموں کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔</p><p class=''><strong>یہ بھی پڑھین: <a href='https://www.dawnnews.tv/news/1025401' >اصلی طلباء کی جعلی ریسرچ</a></strong></p><p class=''>انہوں نے کہا کہ یہ وہ جامعات تھیں جو قانونی طور پر فاصلاتی تعلیمی پروگرام اکی پشکش نہیں کر رہی تھیإ اور ایچ ای سی کی جانب سے کہا گیا تھا کہ پرائیویٹ پروگرام ختم کرکے ان طلباء کو رجسٹرڈ کیا جائے اور انہیں انڈر گریجویٹ کی سطح پر ڈگری پروگرام میں شامل کیا جائے لیکن ان جامعات نے اس پروگرام میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کو بھی شامل کرلیا جو قانونی طور پر درست نہیں تھا۔</p><p class=''>ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی متعدد جامعات کا دورہ کیا گیا تھا اور ایچ ای سی کی ضروریات پر پورا نہ اترنے والی جامعات میں ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرام بند کردیا گیا تھا۔</p><p class=''>ڈاکٹر مختیار نے کہا کہ پی ایچ ڈی پروگرام کرانے کے لیے اس کی فکیلٹی کا ہونا ضروری ہے اور انرولمنٹ کے لیے بھی ایک حد مقرر ہے، اس کے ساتھ جس فکیلٹی میں ایم فل اور پی ایچ ڈی نہیں ہے وہ جامعہ وہ کیسے کرواسکتی ہیں۔ </p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1075320</guid>
      <pubDate>Mon, 19 Mar 2018 14:50:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید وسیمویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/03/5aaf71ab8f294.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/03/5aaf71ab8f294.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
