<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 18:12:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 18:12:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دنیا کے واحد نر سفید گینڈے کو مار دیا گیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1075419/</link>
      <description>&lt;ul class="story__toc" style="display:none;"&gt;&lt;/ul&gt;&lt;p&gt;دنیا میں موجود واحد ترین شمالی نسل کے سفید گینڈے کو طویل العمری اور متعدد بیماریوں کے باعث 45 سال کی عمر میں مجبوری کے تحت موت کی نیند سلادیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ دنیا کے نایاب ترین شمالی نسل کا یہ واحد سفید نر گینڈا تھا، اس کے علاوہ دنیا میں کہیں بھی اس نسل کا کوئی بھی نر گینڈا نہیں تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس گینڈے کی پیدائش 1973  جنوبی سوڈان میں ہوئی تھی، جس وجہ سے اس کا نام بھی سوڈان رکھا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس نر گینڈے کے علاوہ اس اعلیٰ نسل کی دنیا میں مزید 2 مادائیں رہ گئی ہیں، جن کی عمریں 17 اور 28 سال بتائی جا رہی ہیں۔
شمالی نسل کے سفید سوڈان نامی نر گینڈے کو طویل العمری کے باعث متعدد بیماریاں لاحق تھیں اور گزشتہ چند سال سے اسے انتہائی نگہداشت میں رکھ کر علاج کیا جا رہا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق سوڈان اپنے زندگی کے آخری ایام میں اٹھنے کے قابل بھی نہیں رہا تھا، جس وجہ سے اس کی نگرانی کرنے والے ماہرین نے اسے آرام کی موت دینے کے لیے مصنوعی طریقے سے مار دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سوڈان نے اپنی زندگی کے آخری ایام وسطی کینیا کے اول پیجیتا کنزروینسی میں گزارے، جو قریبا 90 ہزار ایکڑ پر مشتمل تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;90 ہزار ایکڑ پر مشتمل کنزروینسی میں سوڈان کے ساتھ ان کی 2 مادائیں بھی رہائش پذیر تھیں، تاہم نر گینڈا طویل عرصے سے بیمار تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سوڈان کی موت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب دنیا کے متعدد ممالک کے ماہرین اور حکومتی عہدیدار کولمبیا میں دنیا بھر میں مختلف حشریات اور جانوروں کی نسل کے خاتمے پر ہونے والی کانفرنس میں شرکت کے لیے جمع ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شمالی نسل کے سفید گینڈوں کی نسل کشی کے حوالے سے ان کا کئی سال سے غیرقانونی شکار اور افریقا میں جاری خانہ جنگی کو قرار دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس نسل کے گینڈوں کو قتل کرنے کے بعد ان کے سینگوں کو چین میں فروخت کردیا جاتا ہے، جہاں انہیں دوائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شمالی نسل کے سفید گینڈوں کے سینگوں کو چین میں 1970 سے دوائیوں میں استعمال کیا جانا شروع ہوا، جس وجہ سے 1970 سے 1980 کے دوران یوگنڈا، یمن، چاڈ، سوڈان اور وسطی افریقی ممالک سے ان گینڈوں کا غیر قانونی شکار کیا جانے لگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال کیا جاتا ہے کہ کانگو میں 1990 سے 2000 تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے دوران بھی اس نسل کے 20 سے 30 گینڈوں کو قتل کردیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اب ماہرین اس نسل کی بچ جانے والی 2 مادا گینڈوں سے مصنوعی طریقے سے نسل کی افزائش کے بارے میں سوچ رہے ہیں، جس کے لیے خطیر رقم درکار ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اول پیجیتا کنزروینسی کے عہدیداروں کے مطابق اب اس نسل کے گینڈوں کی افزائش کے لیے واحد امید ان کی مصنوعی طریقے سے پیدائش ہے، جس کے لیے نر گینڈوں کے نطفے کو آخری بچ جانے والی ماداؤں میں منتقل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سوڈان سمیت اس نسل کے دیگر نر گینڈوں کے نطفوں کو اس وقت جرمنی کے شہر برلن کی ایک لیبارٹری میں محفوظ رکھا گیا ہے، جسے دونوں ماداؤں کے انڈوں میں منتقل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم اس کام کے لیے اندازا ایک ارب روپے کی خطیر رقم کی ضرورت ہوگی۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2018/03/5ab12480345c4.jpg'  alt='بچ جانے والی آخری 2 مادائیں&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;بچ جانے والی آخری 2 مادائیں—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2018/03/5ab125368fbbc.jpg'  alt='بچ جانے والی فیٹو کی عمر 17 برس ہے&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;بچ جانے والی فیٹو کی عمر 17 برس ہے—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2018/03/5ab1258b6bab0.jpg'  alt='بچ جانے والی دوسری مادہ نانجن کی عمر 28 برس ہے&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;بچ جانے والی دوسری مادہ نانجن کی عمر 28 برس ہے—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2018/03/5ab0df3dbfaa7.jpg'  alt='سوڈان کی بہت خدمت کی گئی&amp;mdash;فوٹو: اے پی' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;سوڈان کی بہت خدمت کی گئی—فوٹو: اے پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2018/03/5ab0df5a6dbad.jpg'  alt='سوڈان کی 2017 میں کھینچی گئی تصویر&amp;mdash;فوٹو: اے پی' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;سوڈان کی 2017 میں کھینچی گئی تصویر—فوٹو: اے پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2018/03/5ab123cf9227d.jpg'  alt='کینیا کے مسائی قبیلے کے لوگوں کی سوڈان کے ساتھ 2017 میں کھینچی گئی یادگار تصویر&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کینیا کے مسائی قبیلے کے لوگوں کی سوڈان کے ساتھ 2017 میں کھینچی گئی یادگار تصویر—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2018/03/5ab0df587b4f0.jpg'  alt='سوڈان کی 2009 میں کھینچی گئی تصویر&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;سوڈان کی 2009 میں کھینچی گئی تصویر—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2018/03/5ab0df62d5a9d.jpg'  alt='برطانوی اداکارہ لز ہریلی نے 2016 میں سوڈان کے ساتھ تصویر کھچوائی&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;برطانوی اداکارہ لز ہریلی نے 2016 میں سوڈان کے ساتھ تصویر کھچوائی—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2018/03/5ab0e0003e203.jpg'  alt='سوڈان کی نگہداشت پر خصوصی ماہرین مقرر کیے گئے تھے&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;سوڈان کی نگہداشت پر خصوصی ماہرین مقرر کیے گئے تھے—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2018/03/5ab1273543cf4.jpg'  alt='ماہرین نے سوڈان کی صحت یابی کی بہت کوششیں کیں&amp;mdash;فوٹو: اے پی' /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ماہرین نے سوڈان کی صحت یابی کی بہت کوششیں کیں—فوٹو: اے پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<ul class="story__toc" style="display:none;"></ul><p>دنیا میں موجود واحد ترین شمالی نسل کے سفید گینڈے کو طویل العمری اور متعدد بیماریوں کے باعث 45 سال کی عمر میں مجبوری کے تحت موت کی نیند سلادیا گیا۔</p>

<p>واضح رہے کہ دنیا کے نایاب ترین شمالی نسل کا یہ واحد سفید نر گینڈا تھا، اس کے علاوہ دنیا میں کہیں بھی اس نسل کا کوئی بھی نر گینڈا نہیں تھا۔</p>

<p>اس گینڈے کی پیدائش 1973  جنوبی سوڈان میں ہوئی تھی، جس وجہ سے اس کا نام بھی سوڈان رکھا گیا تھا۔</p>

<p>اس نر گینڈے کے علاوہ اس اعلیٰ نسل کی دنیا میں مزید 2 مادائیں رہ گئی ہیں، جن کی عمریں 17 اور 28 سال بتائی جا رہی ہیں۔
شمالی نسل کے سفید سوڈان نامی نر گینڈے کو طویل العمری کے باعث متعدد بیماریاں لاحق تھیں اور گزشتہ چند سال سے اسے انتہائی نگہداشت میں رکھ کر علاج کیا جا رہا تھا۔</p>

<p>خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق سوڈان اپنے زندگی کے آخری ایام میں اٹھنے کے قابل بھی نہیں رہا تھا، جس وجہ سے اس کی نگرانی کرنے والے ماہرین نے اسے آرام کی موت دینے کے لیے مصنوعی طریقے سے مار دیا۔</p>

<p>سوڈان نے اپنی زندگی کے آخری ایام وسطی کینیا کے اول پیجیتا کنزروینسی میں گزارے، جو قریبا 90 ہزار ایکڑ پر مشتمل تھی۔</p>

<p>90 ہزار ایکڑ پر مشتمل کنزروینسی میں سوڈان کے ساتھ ان کی 2 مادائیں بھی رہائش پذیر تھیں، تاہم نر گینڈا طویل عرصے سے بیمار تھا۔</p>

<p>سوڈان کی موت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب دنیا کے متعدد ممالک کے ماہرین اور حکومتی عہدیدار کولمبیا میں دنیا بھر میں مختلف حشریات اور جانوروں کی نسل کے خاتمے پر ہونے والی کانفرنس میں شرکت کے لیے جمع ہوئے تھے۔</p>

<p>شمالی نسل کے سفید گینڈوں کی نسل کشی کے حوالے سے ان کا کئی سال سے غیرقانونی شکار اور افریقا میں جاری خانہ جنگی کو قرار دیا جاتا ہے۔</p>

<p>اس نسل کے گینڈوں کو قتل کرنے کے بعد ان کے سینگوں کو چین میں فروخت کردیا جاتا ہے، جہاں انہیں دوائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔</p>

<p>شمالی نسل کے سفید گینڈوں کے سینگوں کو چین میں 1970 سے دوائیوں میں استعمال کیا جانا شروع ہوا، جس وجہ سے 1970 سے 1980 کے دوران یوگنڈا، یمن، چاڈ، سوڈان اور وسطی افریقی ممالک سے ان گینڈوں کا غیر قانونی شکار کیا جانے لگا۔</p>

<p>خیال کیا جاتا ہے کہ کانگو میں 1990 سے 2000 تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے دوران بھی اس نسل کے 20 سے 30 گینڈوں کو قتل کردیا گیا۔</p>

<p>اب ماہرین اس نسل کی بچ جانے والی 2 مادا گینڈوں سے مصنوعی طریقے سے نسل کی افزائش کے بارے میں سوچ رہے ہیں، جس کے لیے خطیر رقم درکار ہوگی۔</p>

<p>اول پیجیتا کنزروینسی کے عہدیداروں کے مطابق اب اس نسل کے گینڈوں کی افزائش کے لیے واحد امید ان کی مصنوعی طریقے سے پیدائش ہے، جس کے لیے نر گینڈوں کے نطفے کو آخری بچ جانے والی ماداؤں میں منتقل کیا جائے گا۔</p>

<p>سوڈان سمیت اس نسل کے دیگر نر گینڈوں کے نطفوں کو اس وقت جرمنی کے شہر برلن کی ایک لیبارٹری میں محفوظ رکھا گیا ہے، جسے دونوں ماداؤں کے انڈوں میں منتقل کیا جائے گا۔</p>

<p>تاہم اس کام کے لیے اندازا ایک ارب روپے کی خطیر رقم کی ضرورت ہوگی۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2018/03/5ab12480345c4.jpg'  alt='بچ جانے والی آخری 2 مادائیں&mdash;فوٹو: اے ایف پی' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">بچ جانے والی آخری 2 مادائیں—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2018/03/5ab125368fbbc.jpg'  alt='بچ جانے والی فیٹو کی عمر 17 برس ہے&mdash;فوٹو: اے ایف پی' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">بچ جانے والی فیٹو کی عمر 17 برس ہے—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2018/03/5ab1258b6bab0.jpg'  alt='بچ جانے والی دوسری مادہ نانجن کی عمر 28 برس ہے&mdash;فوٹو: اے ایف پی' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">بچ جانے والی دوسری مادہ نانجن کی عمر 28 برس ہے—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2018/03/5ab0df3dbfaa7.jpg'  alt='سوڈان کی بہت خدمت کی گئی&mdash;فوٹو: اے پی' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">سوڈان کی بہت خدمت کی گئی—فوٹو: اے پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2018/03/5ab0df5a6dbad.jpg'  alt='سوڈان کی 2017 میں کھینچی گئی تصویر&mdash;فوٹو: اے پی' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">سوڈان کی 2017 میں کھینچی گئی تصویر—فوٹو: اے پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2018/03/5ab123cf9227d.jpg'  alt='کینیا کے مسائی قبیلے کے لوگوں کی سوڈان کے ساتھ 2017 میں کھینچی گئی یادگار تصویر&mdash;فوٹو: اے ایف پی' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کینیا کے مسائی قبیلے کے لوگوں کی سوڈان کے ساتھ 2017 میں کھینچی گئی یادگار تصویر—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2018/03/5ab0df587b4f0.jpg'  alt='سوڈان کی 2009 میں کھینچی گئی تصویر&mdash;فوٹو: اے ایف پی' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">سوڈان کی 2009 میں کھینچی گئی تصویر—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2018/03/5ab0df62d5a9d.jpg'  alt='برطانوی اداکارہ لز ہریلی نے 2016 میں سوڈان کے ساتھ تصویر کھچوائی&mdash;فوٹو: اے ایف پی' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">برطانوی اداکارہ لز ہریلی نے 2016 میں سوڈان کے ساتھ تصویر کھچوائی—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2018/03/5ab0e0003e203.jpg'  alt='سوڈان کی نگہداشت پر خصوصی ماہرین مقرر کیے گئے تھے&mdash;فوٹو: اے ایف پی' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">سوڈان کی نگہداشت پر خصوصی ماہرین مقرر کیے گئے تھے—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2018/03/5ab1273543cf4.jpg'  alt='ماہرین نے سوڈان کی صحت یابی کی بہت کوششیں کیں&mdash;فوٹو: اے پی' /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ماہرین نے سوڈان کی صحت یابی کی بہت کوششیں کیں—فوٹو: اے پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1075419</guid>
      <pubDate>Fri, 30 Mar 2018 18:34:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/03/5ab1234b837b1.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/03/5ab1234b837b1.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/03/5ab1275703bf8.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/03/5ab1275703bf8.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
