<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 04:35:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 22 Jun 2026 04:35:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیاسی کشیدگی میں پاک بھارت آبی مسائل پر مذاکرات کا آغاز
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1075966/</link>
      <description>&lt;ul class="story__toc" style="display:none;"&gt;&lt;/ul&gt;&lt;p&gt;نئی دہلی: پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی کشیدگی کے دوران پرمننٹ انڈس کمیشن ( پی آئی سی)  کے دو روزہ اجلاس کا آغاز ہوگیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے آبی معاہدے کے بعد یہ  پی آئی سی کا 114 واں اجلاس تھا، جہاں پانی کی تقسیم پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے 6 رکنی وفد کی سربراہی سید محمد مہر علی شاہ نے کی جبکہ بھارتی وفد میں انڈس واٹر کمشنر پی کے سکسینا، بھارت کے خارجی امور کے نمائندے اور تکنیکی ماہرین نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1062781"&gt;مثبت مذاکرات سے پاک-بھارت آبی تنازع کے حل کی امید&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ ملاقاتیں دونوں ممالک کے درمیان سفارتکاروں کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور دیگر اہم مسائل کے پس منظر میں ہوئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ پی آئی سی انڈس واٹر ٹریٹی ( سندھ طاس معاہدے)  کے نظام کے تحت قائم کی گئی تھی اور اس کا مقصد پانی کی تقسیم کے معاہدے پر عملدرآمد اور پاکستان اور بھارت کے درمیان انڈس واٹر سسٹم کی ترقی کے لیے تعاون کو بڑھانا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اجلاس کے حوالے سے اخبار اکنامک ٹائمز کا کہنا تھا کہ پاکستان کی طرف سے دریائے چاناب پر بھارت کے ریٹلے ( 850 میگاواٹ) پاکل دل (1000 میگاواٹ) اور لوئر کالنئی ( 48میگا واٹ ) منصوبوں کے ڈیزائن پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ انڈس واٹر ٹریٹی کے خلاف ہیں۔
تاہم بھارت کی جانب سے کہا گیا کہ یہ تمام منصوبوں کے ڈیزائن انڈس واٹر ٹریٹی کے عین مطابق ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اجلاس کے دوران اسلام آباد کی طرف سے دریائے جہلم پر کشن گنگا اور ولر بیراج پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا، تاہم ذرائع کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے سیلابی صورتحال اور انتظامی معاملات کا حوالے سے معلومات کا تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1063792"&gt;پاکستان ’آبی وسائل کی قلت‘ کے شکار 15 ممالک میں شامل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت 6 دریاؤں کو پانی کی تقسیم اور اشتراک کے حقوق حاصل ہیں، جن میں بیاس، راوی ، ستلج، دریائے سندھ، چناب اور جہلم شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انڈس واٹر ٹریٹی کے مطابق مغربی دریاؤں میں دریائے سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کے لیے مخصوص ہیں جبکہ مشرقی دریا راوی، ستلج اور بیاس بھارت کے لیے مخصوص ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ملاقات کے دوسرا دور جمعہ 30 مارچ کو بھی جاری رہے گا، جس میں پاکستان کی جانب سے بھارت کے ہائیڈرو پاور منصوبوں کے ڈیزائن پر اعتراض اور دیگر معاملہ زیر غور آئیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 30 مارچ 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<ul class="story__toc" style="display:none;"></ul><p>نئی دہلی: پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی کشیدگی کے دوران پرمننٹ انڈس کمیشن ( پی آئی سی)  کے دو روزہ اجلاس کا آغاز ہوگیا۔</p>

<p>1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے آبی معاہدے کے بعد یہ  پی آئی سی کا 114 واں اجلاس تھا، جہاں پانی کی تقسیم پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔</p>

<p>اس حوالے سے ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے 6 رکنی وفد کی سربراہی سید محمد مہر علی شاہ نے کی جبکہ بھارتی وفد میں انڈس واٹر کمشنر پی کے سکسینا، بھارت کے خارجی امور کے نمائندے اور تکنیکی ماہرین نے شرکت کی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1062781">مثبت مذاکرات سے پاک-بھارت آبی تنازع کے حل کی امید</a></strong></p>

<p>یہ ملاقاتیں دونوں ممالک کے درمیان سفارتکاروں کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور دیگر اہم مسائل کے پس منظر میں ہوئیں۔</p>

<p>خیال رہے کہ پی آئی سی انڈس واٹر ٹریٹی ( سندھ طاس معاہدے)  کے نظام کے تحت قائم کی گئی تھی اور اس کا مقصد پانی کی تقسیم کے معاہدے پر عملدرآمد اور پاکستان اور بھارت کے درمیان انڈس واٹر سسٹم کی ترقی کے لیے تعاون کو بڑھانا ہے۔</p>

<p>اجلاس کے حوالے سے اخبار اکنامک ٹائمز کا کہنا تھا کہ پاکستان کی طرف سے دریائے چاناب پر بھارت کے ریٹلے ( 850 میگاواٹ) پاکل دل (1000 میگاواٹ) اور لوئر کالنئی ( 48میگا واٹ ) منصوبوں کے ڈیزائن پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ انڈس واٹر ٹریٹی کے خلاف ہیں۔
تاہم بھارت کی جانب سے کہا گیا کہ یہ تمام منصوبوں کے ڈیزائن انڈس واٹر ٹریٹی کے عین مطابق ہیں۔</p>

<p>اجلاس کے دوران اسلام آباد کی طرف سے دریائے جہلم پر کشن گنگا اور ولر بیراج پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا، تاہم ذرائع کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے سیلابی صورتحال اور انتظامی معاملات کا حوالے سے معلومات کا تبادلہ خیال کیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1063792">پاکستان ’آبی وسائل کی قلت‘ کے شکار 15 ممالک میں شامل</a></strong></p>

<p>خیال رہے کہ انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت 6 دریاؤں کو پانی کی تقسیم اور اشتراک کے حقوق حاصل ہیں، جن میں بیاس، راوی ، ستلج، دریائے سندھ، چناب اور جہلم شامل ہیں۔</p>

<p>انڈس واٹر ٹریٹی کے مطابق مغربی دریاؤں میں دریائے سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کے لیے مخصوص ہیں جبکہ مشرقی دریا راوی، ستلج اور بیاس بھارت کے لیے مخصوص ہیں۔</p>

<p>اس ملاقات کے دوسرا دور جمعہ 30 مارچ کو بھی جاری رہے گا، جس میں پاکستان کی جانب سے بھارت کے ہائیڈرو پاور منصوبوں کے ڈیزائن پر اعتراض اور دیگر معاملہ زیر غور آئیں گے۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 30 مارچ 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1075966</guid>
      <pubDate>Fri, 30 Mar 2018 12:49:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/03/5abdebd78fe2f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/03/5abdebd78fe2f.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
