<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Africa</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 26 May 2026 22:39:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 26 May 2026 22:39:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیلسن منڈیلا کی سابقہ اہلیہ 81 سال کی عمر میں چل بسیں
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1076201/</link>
      <description>&lt;ul class="story__toc" style="display:none;"&gt;&lt;/ul&gt;&lt;p&gt;&lt;p&gt;جوہانسبرگ: رنگ و نسل پرستی کے خلاف جنوبی افریقا میں طویل جدوجہد کرنے والے قابل احترام رہنما اور بیسویں صدی کی ایک قد آور سیاسی شخصیت نیلسن مینڈیلا کی سابقہ اہلیہ 81 سال کی عمر میں انتقال کرگئیں۔&lt;/p&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;p&gt;فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایس پی کے مطابق ان کے اہل خانہ کے ترجمان وکٹر سلامینی کا کہنا تھا کہ ونی منڈیلا طویل علالت کے بعد جوہانسبرگ کے ہسپتال میں انتقال کرگئیں۔&lt;/p&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;p&gt;نیلسن منڈیلا کے ساتھ 38 سال تک زندگی گزارنے والی ونی منڈیلا نے گورے اقلیتوں کے راج کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کیا تاہم تاریخ کو ان پر تشدد کے الزامات اور تنازعات کے داغ سے بھر دیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1000462"&gt;جرأت مندی کا نشان، عالمی رہنما نیلسن منڈیلا رخصت ہوئے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;p&gt;ان کے خاندان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ 'ہم انتہائی افسوس کے ساتھ عوام کو بتانا چاہتے ہیں کہ ونی منڈیلا جنوبی افریقا کے شہر جوہانسبرگ میں نیٹ کیئر ملپارک ہسپتال میں انتقال کرگئی ہیں'۔&lt;/p&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ 'ونی منڈیلا رواں سال کے آغاز سے ہسپتالوں کے چکر لگارہی تھیں تاہم وہ طویل علالت کے بعد انتقال کرگئیں، ان کا انتقال پیر کی صبح اپنے اہل خانہ اور پیاروں کے پہلو میں ہوا'۔&lt;/p&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;p&gt;خراج تحسین پیش کرتے ہوئے، نسل پرستی کے خلاف مہم چلانے والے ڈیسمونڈ ٹوٹو نے ونی منڈیلا کو ان کے کام میں 'ایک مقررہ علامت' قرار دیا۔&lt;/p&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1000476"&gt;نیلسن مینڈیلا۔ ایک عہد ساز شخصیت&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ونی منڈیلا نے ان کے شوہر کے قید کیے جانے، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ان کے اہل خانہ کو ہراساں کرنے، قید کرنے اور پابندی لگانے کے باوجود جھکنے سے انکار کیا۔&lt;/p&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;p&gt;افریقن نیشنل کانگریس کے پالیسی سربراہ نے ان کی ہمت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے لیے اور سرگرم کارکنان کے لیے انتہائی متاثر کن خاتون تھیں۔&lt;/p&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;p&gt;ونی منڈیلا کی نیلسن منڈیلا سے شادی کا زیادہ تر حصہ ان سے الگ گزرا کیونکہ نیلسن منڈیلا کو 27 سال کے لیے جیل میں قید کردیا گیا تھا جس کی وجہ سے انہوں نے اپنی دو بیٹوں کی اکیلے پرورش کی اور نیلسن منڈیلا کے سیاسی خواب کو زندہ رکھا۔&lt;/p&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<ul class="story__toc" style="display:none;"></ul><p><p>جوہانسبرگ: رنگ و نسل پرستی کے خلاف جنوبی افریقا میں طویل جدوجہد کرنے والے قابل احترام رہنما اور بیسویں صدی کی ایک قد آور سیاسی شخصیت نیلسن مینڈیلا کی سابقہ اہلیہ 81 سال کی عمر میں انتقال کرگئیں۔</p></p>

<p><p>فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایس پی کے مطابق ان کے اہل خانہ کے ترجمان وکٹر سلامینی کا کہنا تھا کہ ونی منڈیلا طویل علالت کے بعد جوہانسبرگ کے ہسپتال میں انتقال کرگئیں۔</p></p>

<p><p>نیلسن منڈیلا کے ساتھ 38 سال تک زندگی گزارنے والی ونی منڈیلا نے گورے اقلیتوں کے راج کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کیا تاہم تاریخ کو ان پر تشدد کے الزامات اور تنازعات کے داغ سے بھر دیا گیا۔</p></p>

<p><p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1000462">جرأت مندی کا نشان، عالمی رہنما نیلسن منڈیلا رخصت ہوئے</a></strong></p></p>

<p><p>ان کے خاندان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ 'ہم انتہائی افسوس کے ساتھ عوام کو بتانا چاہتے ہیں کہ ونی منڈیلا جنوبی افریقا کے شہر جوہانسبرگ میں نیٹ کیئر ملپارک ہسپتال میں انتقال کرگئی ہیں'۔</p></p>

<p><p>ان کا کہنا تھا کہ 'ونی منڈیلا رواں سال کے آغاز سے ہسپتالوں کے چکر لگارہی تھیں تاہم وہ طویل علالت کے بعد انتقال کرگئیں، ان کا انتقال پیر کی صبح اپنے اہل خانہ اور پیاروں کے پہلو میں ہوا'۔</p></p>

<p><p>خراج تحسین پیش کرتے ہوئے، نسل پرستی کے خلاف مہم چلانے والے ڈیسمونڈ ٹوٹو نے ونی منڈیلا کو ان کے کام میں 'ایک مقررہ علامت' قرار دیا۔</p></p>

<p><p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1000476">نیلسن مینڈیلا۔ ایک عہد ساز شخصیت</a></strong></p></p>

<p><p>ان کا کہنا تھا کہ ونی منڈیلا نے ان کے شوہر کے قید کیے جانے، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ان کے اہل خانہ کو ہراساں کرنے، قید کرنے اور پابندی لگانے کے باوجود جھکنے سے انکار کیا۔</p></p>

<p><p>افریقن نیشنل کانگریس کے پالیسی سربراہ نے ان کی ہمت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے لیے اور سرگرم کارکنان کے لیے انتہائی متاثر کن خاتون تھیں۔</p></p>

<p><p>ونی منڈیلا کی نیلسن منڈیلا سے شادی کا زیادہ تر حصہ ان سے الگ گزرا کیونکہ نیلسن منڈیلا کو 27 سال کے لیے جیل میں قید کردیا گیا تھا جس کی وجہ سے انہوں نے اپنی دو بیٹوں کی اکیلے پرورش کی اور نیلسن منڈیلا کے سیاسی خواب کو زندہ رکھا۔</p></p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1076201</guid>
      <pubDate>Tue, 03 Apr 2018 14:47:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/04/5ac3432eb44fd.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="645">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/04/5ac3432eb44fd.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
