<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 15:57:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 15:57:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مساجد میں 4 لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کیلئے آرڈیننس نافذ کرنے کا اعلان
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1076812/</link>
      <description>&lt;ul class="story__toc" style="display:none;"&gt;&lt;/ul&gt;&lt;p&gt;لاہور: صوبائی حکومت نے پنجاب ساؤنڈ سسٹم ( ریگولیش) (ترمیمی) آرڈیننس نافذ کرنے کا اعلان کردیا، جس کے تحت صوبے بھر کی مساجد میں 4 بیرونی لاؤڈاسپیکر کی اجازت ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ پنجاب ساؤنڈ سسٹم ریگولیشن ایکٹ 2015 کے آرڈیننس میں ترمیم کی گئی ہے جو پنجاب حکومت کی جانب سے عسکریت پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بنائے گئے 5 قوانین میں سے ایک تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل اس قانون کے تحت مساجد میں ایک لاؤڈ اسپیکر کی اجازت تھی اور اس کا استعمال بھی محدود تھا جبکہ خلاف ورزی پر سزا بھی دی جاتی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1075676"&gt;مساجد، امام بارگاہوں میں منتخب کردہ موضوعات پر وعظ کی ہدایت&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم نئے ترمیمی آرڈیننس میں حکام کی جانب سے کہا گیا کہ گورنر کی جانب سے اس آرڈیننس پر دستخط کردیے گئے اور جمعے تک اس کو شائع کیے جانے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے اس قانون میں ترمیم پر رواں برس کے آغاز میں اس وقت رضا مندی ظاہر کی گئی تھی جب انتخابی اصلاحات ایکٹ میں ترمیم کرکے حلف نامے کے الفاظ تبدیل کرنے کی کوشش پر مذہبی حلقوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ پنجاب ساؤنڈ سسٹم ریگولیشن ایکٹ 2015 کے قانون کا مقصد ’عوام کو پریشانی اور متازع تقاریر سے محفوظ رکھنا تھا اور دہشت گردی کا فروغ یا کسی جرم میں اکسانے سے بچانا تھا‘۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس قانون کے ایک آرٹیکل کے تحت ایک ساؤنڈ سسٹم سے مساجد میں اذان، جمعے، عید اور نماز جنازہ کے عربی خطے یا کسی کی گمشدگی کے اعلان کی اجازت تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم حکام کا کہنا تھا کہ نئے آرڈیننس کے تحت مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کی تعداد کو بڑھانے کی اجازت ہوگی جبکہ دیگر تمام شق پہلے کے مطابق رہیں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1035238"&gt;لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی، ایک ہفتے میں 4 خطیبوں پر مقدمے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکام نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے اس آرڈیننس کو نافذ کرنے کا اعلان کچھ مذہبی حلقوں کی درخواست کی منظوری کے بعد کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایک سے زائد لاؤڈ اسپیکر پر پابندی مناسب نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کچھ حلقوں کی جانب سے احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ اذان کی آواز چاروں سمت میں گونجنی چاہیے جو ایک لاؤڈ اسپیکر سے ممکن نہیں جبکہ ایک درخواست میں کہا گیا تھا کہ مساجد میں صرف ایک لاؤڈ اسپیکر کی پابندی پنجاب کی حد تک ہے جو امتیازی سلوک تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 13 اپریل 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<ul class="story__toc" style="display:none;"></ul><p>لاہور: صوبائی حکومت نے پنجاب ساؤنڈ سسٹم ( ریگولیش) (ترمیمی) آرڈیننس نافذ کرنے کا اعلان کردیا، جس کے تحت صوبے بھر کی مساجد میں 4 بیرونی لاؤڈاسپیکر کی اجازت ہوگی۔</p>

<p>خیال رہے کہ پنجاب ساؤنڈ سسٹم ریگولیشن ایکٹ 2015 کے آرڈیننس میں ترمیم کی گئی ہے جو پنجاب حکومت کی جانب سے عسکریت پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بنائے گئے 5 قوانین میں سے ایک تھا۔</p>

<p>اس سے قبل اس قانون کے تحت مساجد میں ایک لاؤڈ اسپیکر کی اجازت تھی اور اس کا استعمال بھی محدود تھا جبکہ خلاف ورزی پر سزا بھی دی جاتی تھی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1075676">مساجد، امام بارگاہوں میں منتخب کردہ موضوعات پر وعظ کی ہدایت</a></strong></p>

<p>تاہم نئے ترمیمی آرڈیننس میں حکام کی جانب سے کہا گیا کہ گورنر کی جانب سے اس آرڈیننس پر دستخط کردیے گئے اور جمعے تک اس کو شائع کیے جانے کا امکان ہے۔</p>

<p>خیال رہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے اس قانون میں ترمیم پر رواں برس کے آغاز میں اس وقت رضا مندی ظاہر کی گئی تھی جب انتخابی اصلاحات ایکٹ میں ترمیم کرکے حلف نامے کے الفاظ تبدیل کرنے کی کوشش پر مذہبی حلقوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ </p>

<p>واضح رہے کہ پنجاب ساؤنڈ سسٹم ریگولیشن ایکٹ 2015 کے قانون کا مقصد ’عوام کو پریشانی اور متازع تقاریر سے محفوظ رکھنا تھا اور دہشت گردی کا فروغ یا کسی جرم میں اکسانے سے بچانا تھا‘۔ </p>

<p>اس قانون کے ایک آرٹیکل کے تحت ایک ساؤنڈ سسٹم سے مساجد میں اذان، جمعے، عید اور نماز جنازہ کے عربی خطے یا کسی کی گمشدگی کے اعلان کی اجازت تھی۔</p>

<p>تاہم حکام کا کہنا تھا کہ نئے آرڈیننس کے تحت مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کی تعداد کو بڑھانے کی اجازت ہوگی جبکہ دیگر تمام شق پہلے کے مطابق رہیں گی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1035238">لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی، ایک ہفتے میں 4 خطیبوں پر مقدمے</a></strong></p>

<p>حکام نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے اس آرڈیننس کو نافذ کرنے کا اعلان کچھ مذہبی حلقوں کی درخواست کی منظوری کے بعد کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایک سے زائد لاؤڈ اسپیکر پر پابندی مناسب نہیں۔</p>

<p>کچھ حلقوں کی جانب سے احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ اذان کی آواز چاروں سمت میں گونجنی چاہیے جو ایک لاؤڈ اسپیکر سے ممکن نہیں جبکہ ایک درخواست میں کہا گیا تھا کہ مساجد میں صرف ایک لاؤڈ اسپیکر کی پابندی پنجاب کی حد تک ہے جو امتیازی سلوک تھا۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 13 اپریل 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1076812</guid>
      <pubDate>Fri, 13 Apr 2018 14:15:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انتخاب حنیف)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/04/5ad0418a28405.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/04/5ad0418a28405.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
