<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 18:15:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 18:15:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نواز شریف اور جہانگیر ترین تاحیات نااہل قرار
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1076817/</link>
      <description>&lt;ul class="story__toc" style="display:none;"&gt;&lt;li class='story__toc__item'&gt;&lt;a href='#نااہلی-کیس5ad1a80351b20'&gt;نااہلی کیس&lt;/a&gt;&lt;/li&gt;&lt;li class='story__toc__item'&gt;&lt;a href='#پاناما-کیس5ad1a80351c30'&gt;پاناما کیس&lt;/a&gt;&lt;/li&gt;&lt;/ul&gt;&lt;p&gt;اسلام آباد: سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کیس کا فیصلہ سنا دیا، جس کے تحت آئین کی اس شق کے ذریعے نااہل قرار دیے گئے ارکانِ پارلیمنٹ تاحیات نااہل ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ نے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کے لیے 13 درخواستوں کی سماعت کے بعد 14 فروری  2018 محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم عدالت میں آج سنائے گئے فیصلے میں بینچ کے ایک رکن جسٹس سجاد علی شاہ اسلام آباد سے باہرہونے کے باعث شریک نہیں ہوسکے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت میں جسٹس عمر عطا بندیال نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیے گئے شخص کی نااہلی کی مدت تاحیات ہوگی اور وہ شخص عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1076822/tahayat-na-ahli-kya-ab-bhi-rasta-mojud-hai-tajzia-kar-kiya-kehte-hain"&gt;تاحیات نااہلی: کیا اب بھی راستہ موجود ہے؟تجزیہ کار کیا کہتے ہیں؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس فیصلے کے تحت سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور پاکستان تحریک انصاف کے سابق سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کی نااہلی کی مدت کو تاحیات قرار دیا گیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فیصلے میں کہا گیا کہ آرٹیکل کے تحت اراکین کا صادق اور آمین ہونا ضروری ہے، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی تاحیات ہوگی اور  جب تک سپریم کورٹ کا فیصلہ رہے گا نااہلیت بھی رہے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق مسلم اور غیر مسلم دونوں پر ہوگا اور جب تک عدالتی ڈیکلیریشن موجود رہے گی، 62 ون ایف کے تحت نااہلی ہمیشہ برقرار رہے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فیصلے کے مطابق اخلاقی جرائم دھوکا دہی، اعتماد توڑنا، بے ایمانی بھی 62 ون ایف کے زمرے میں آتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ امیدوار کا 62 ون ایف کی اہلیت پر پورا اترنا لازم ہے اور اس آرٹیکل میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں ہے اور آئین میں جہاں نااہلی کی مدت کا تعین نا ہو وہاں نااہلی تاحیات سمجھی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سپریم کورٹ کی جانب سے دیے گئے فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کا آرٹیکل 62 ون ایف اسلامی اقدار کے مطابق ہے اور اس کی یہی ممکنہ تشریح بنتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی اپنی حثیت ہے، جس کا مقصد پارلیمان میں دیانتدار، راست گو اور شفاف اراکین منتخب ہوں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالتی فیصلے کے مطابق 18 ویں ترمیم میں آرٹیکل 63 میں مدت کا تعین ہوا اور آرٹیکل 62 ون ایف میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں ہوا، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی تاحیات ہوگی اورجب تک سپریم کورٹ کا فیصلہ رہے گا، نااہلیت بھی رہے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فیصلے میں مزید کہا کہ آئین کے آرٹیکل 17 اے سے 62 ون ایف متاثرنہیں ہوتا جبکہ فیصلہ میں نصیرآباد سے (ن) لیگ کے امیدوار عبدالغفور لہڑی کی تاحیات نااہلی کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ عبدالغفور لہڑی کیس میں جھوٹے بیان حلفی پرآرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ آرٹیکل 62 ون ایف کا 63 ون ایچ سے موازنہ نہیں ہوسکتا اور کسی شخص کے خلاف عدالتی حکم ہوکہ وہ صادق اورامین نہیں تو وہ رکن پارلیمان نہیں بن سکتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ عدالت کی جانب سے پانچوں ججز کے اس متفقہ فیصلے کو جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریر کیا جبکہ 60 صفحات پر مشتمل اس فیصلے میں جسٹس عظمت سعید کے 8 صفحات کا اضافی نوٹ بھی شامل کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس اضافی نوٹ میں جسٹس عظمت سعید نے لکھا کہ انہیں فیصلے سے اتفاق لیکن اس کی وجوہات سے مکمل اتفاق نہیں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے لکھا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کی بنیاد ہماری اسلامی اقدارہیں اورایسی شقوں کی تشریح انتہائی محتاط اندازمیں کرنی چاہیے ، ساتھ ہی انہوں نے اٹارنی جنرل کے موقف کو درست قراردیتے ہوئے کہا کہ معاملہ پارلیمان کوطے کرنے سے متعلق اٹارنی جنرل کا موقف درست تھا جبکہ بعض وکلا کے مطابق تاحیات نااہلی ایک سخت فیصلہ ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ دلیل مجلس شوریٰ کے لیے زیادہ مناسب ہے کیوںکہ عدالت آئین کی تشریح کرسکتی ہے، اس میں ترمیم نہیں کرسکتی جبکہ عدالت ایک سے زائد مرتبہ کہہ چکی ہے کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی دائمی ہوگی اور عدالتی فیصلے کی موجودگی تک متعلقہ شخص نااہل رہے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ 14 فروری 2018 کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ آئین میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا اور عدالت کو ہر کیس میں نااہلی کی مدت کا علیحدہ علیحدہ تعین کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id="نااہلی-کیس5ad1a80351b20"&gt;نااہلی کیس&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کی ضرورت اس وقت پیش آئی تھی، جب سابق وزیر اعظم نواز شریف اور سابق سیکریٹری جنرل تحریک انصاف جہانگیر ترین کی نااہلی کی مدت پر ایک بحث کا آغاز ہوا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ برس 28 جولائی کو سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے خلاف پاناما لیکس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1073069/"&gt;نااہلی مدت کیس: آرٹیکل 62 ون ایف میں ابہام ہے، چیف جسٹس&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت کی جانب سے  پانچ رکنی لارجر بینچ کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت نواز شریف کو بطور وزیراعظم نااہل قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس فیصلے کے بعد نواز شریف مسلم لیگ (ن) کی پارٹی صدارت سے بھی نااہل ہوگئے تھے، تاہم انہوں نے انتخابی اصلاحات ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے خود کو دوبارہ (ن) لیگ کا صدر منتخب کرا لیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم 21 فروری 2018 کو عدالت عظمیٰ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ کیس 2017 کے خلاف دائر درخواستوں کا فیصلہ سنایا تھا، جس کے نتیجے میں سابق وزیر اعظم نواز شریف مسلم لیگ (ن) کی صدارت کے لیے بھی نااہل ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل جہانگری ترین کی نااہلی کی بات کی جائے تو 15 دسمبر 2017 کو سپریم کورٹ نے غیر ملکی فنڈنگ کیس کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کے خلاف ان کی پٹیشن کو خارج کردیا تھا جبکہ جہانگیر ترین کو آئین کے آرٹیکل 62 کے تحت نا اہل قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ جہانگیر ترین صادق اور امین نہیں رہے اور عدالت عظمیٰ نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کو ان کے خلاف ان سائیڈ ٹریڈنگ سے متعلق کارروائی کرنے کی ہدایت کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان دونوں شخصیات کی نااہلی کے بعد اس بحث کا آغاز ہوا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیے گئے ارکان اسمبلی کی نااہلی کی مدت کتنی ہوگی، جس کے بعد اس مدت کا تعین کرنے کے لیے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف اور تحریک انصاف  کے سابق سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کو ذاتی حیثیت میں یا وکیل کے ذریعے پیش ہونے کے نوٹسز بھی جاری کیے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی جانب سے آرٹیکل ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کیس میں براہ راست عدالتی کارروائی کا حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھی تعینات کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب سپریم کورٹ میں رجسٹرار کی جانب سے جاری کیے گئے پاسز رکھنے والوں کو ہی داخلے کی اجازت دی گئی اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو ریڈ زون میں داخلے کی اجازت نہیں تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id="پاناما-کیس5ad1a80351c30"&gt;پاناما کیس&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;یہ بھی یاد رہے کہ پاناما لیکس کے معاملے نے ملکی سیاست میں اُس وقت ہلچل مچائی تھی، جب 2016 اپریل میں بیرون ملک ٹیکس کے حوالے سے کام کرنے والی پاناما کی مشہور لا فرم موزیک فانسیکا کی افشا ہونے والی انتہائی خفیہ دستاویزات سے پاکستان سمیت دنیا کی کئی طاقت ور اور سیاسی شخصیات کے 'آف شور' مالی معاملات عیاں ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان انکشافات میں جن شخصیات کے نام سامنے آئے تھے اس میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور دیگر حکمران بھی شامل تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1069917/"&gt;عدالت عظمیٰ نے کئی تاریخی فیصلے جمعے کے دن سنائے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاناما لیکس کے انکشافات کے بعد اپوزیشن جماعتوں بالخصوص پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا تھا اور بعدازاں اس حوالے سے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے ان درخواستوں پر سماعت کے لیے نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کی مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی  کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی تھی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جے آئی ٹی نے 2 ماہ کی تحقیقات کے بعد  10 جولائی  2017 کو سپریم کورٹ میں اپنی حتمی رپورٹ جمع کروائی تھی، 10 جلدوں پر مشتمل اس رپورٹ میں وزیراعظم سمیت شریف خاندان پر کئی الزامات لگاتے ہوئے مختلف شواہد سامنے لائے گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس کے بعد جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں  سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے پاناما عملدرآمد کیس کا فیصلہ سنایا تھا، جس میں نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<ul class="story__toc" style="display:none;"><li class='story__toc__item'><a href='#نااہلی-کیس5ad1a80351b20'>نااہلی کیس</a></li><li class='story__toc__item'><a href='#پاناما-کیس5ad1a80351c30'>پاناما کیس</a></li></ul><p>اسلام آباد: سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کیس کا فیصلہ سنا دیا، جس کے تحت آئین کی اس شق کے ذریعے نااہل قرار دیے گئے ارکانِ پارلیمنٹ تاحیات نااہل ہوں گے۔</p>

<p>چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ نے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کے لیے 13 درخواستوں کی سماعت کے بعد 14 فروری  2018 محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔</p>

<p>تاہم عدالت میں آج سنائے گئے فیصلے میں بینچ کے ایک رکن جسٹس سجاد علی شاہ اسلام آباد سے باہرہونے کے باعث شریک نہیں ہوسکے۔ </p>

<p>عدالت میں جسٹس عمر عطا بندیال نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیے گئے شخص کی نااہلی کی مدت تاحیات ہوگی اور وہ شخص عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے گا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1076822/tahayat-na-ahli-kya-ab-bhi-rasta-mojud-hai-tajzia-kar-kiya-kehte-hain">تاحیات نااہلی: کیا اب بھی راستہ موجود ہے؟تجزیہ کار کیا کہتے ہیں؟</a></strong></p>

<p>اس فیصلے کے تحت سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور پاکستان تحریک انصاف کے سابق سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کی نااہلی کی مدت کو تاحیات قرار دیا گیا۔ </p>

<p>فیصلے میں کہا گیا کہ آرٹیکل کے تحت اراکین کا صادق اور آمین ہونا ضروری ہے، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی تاحیات ہوگی اور  جب تک سپریم کورٹ کا فیصلہ رہے گا نااہلیت بھی رہے گی۔</p>

<p>سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق مسلم اور غیر مسلم دونوں پر ہوگا اور جب تک عدالتی ڈیکلیریشن موجود رہے گی، 62 ون ایف کے تحت نااہلی ہمیشہ برقرار رہے گی۔</p>

<p>فیصلے کے مطابق اخلاقی جرائم دھوکا دہی، اعتماد توڑنا، بے ایمانی بھی 62 ون ایف کے زمرے میں آتے ہیں۔</p>

<p>عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ امیدوار کا 62 ون ایف کی اہلیت پر پورا اترنا لازم ہے اور اس آرٹیکل میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں ہے اور آئین میں جہاں نااہلی کی مدت کا تعین نا ہو وہاں نااہلی تاحیات سمجھی جاتی ہے۔</p>

<p>سپریم کورٹ کی جانب سے دیے گئے فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کا آرٹیکل 62 ون ایف اسلامی اقدار کے مطابق ہے اور اس کی یہی ممکنہ تشریح بنتی ہے۔</p>

<p>فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی اپنی حثیت ہے، جس کا مقصد پارلیمان میں دیانتدار، راست گو اور شفاف اراکین منتخب ہوں۔</p>

<p>عدالتی فیصلے کے مطابق 18 ویں ترمیم میں آرٹیکل 63 میں مدت کا تعین ہوا اور آرٹیکل 62 ون ایف میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں ہوا، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی تاحیات ہوگی اورجب تک سپریم کورٹ کا فیصلہ رہے گا، نااہلیت بھی رہے گی۔</p>

<p>فیصلے میں مزید کہا کہ آئین کے آرٹیکل 17 اے سے 62 ون ایف متاثرنہیں ہوتا جبکہ فیصلہ میں نصیرآباد سے (ن) لیگ کے امیدوار عبدالغفور لہڑی کی تاحیات نااہلی کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ عبدالغفور لہڑی کیس میں جھوٹے بیان حلفی پرآرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق کیا گیا۔</p>

<p>اس کے ساتھ ساتھ آرٹیکل 62 ون ایف کا 63 ون ایچ سے موازنہ نہیں ہوسکتا اور کسی شخص کے خلاف عدالتی حکم ہوکہ وہ صادق اورامین نہیں تو وہ رکن پارلیمان نہیں بن سکتا۔</p>

<p>واضح رہے کہ عدالت کی جانب سے پانچوں ججز کے اس متفقہ فیصلے کو جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریر کیا جبکہ 60 صفحات پر مشتمل اس فیصلے میں جسٹس عظمت سعید کے 8 صفحات کا اضافی نوٹ بھی شامل کیا گیا۔</p>

<p>اس اضافی نوٹ میں جسٹس عظمت سعید نے لکھا کہ انہیں فیصلے سے اتفاق لیکن اس کی وجوہات سے مکمل اتفاق نہیں ہے۔</p>

<p>انہوں نے لکھا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کی بنیاد ہماری اسلامی اقدارہیں اورایسی شقوں کی تشریح انتہائی محتاط اندازمیں کرنی چاہیے ، ساتھ ہی انہوں نے اٹارنی جنرل کے موقف کو درست قراردیتے ہوئے کہا کہ معاملہ پارلیمان کوطے کرنے سے متعلق اٹارنی جنرل کا موقف درست تھا جبکہ بعض وکلا کے مطابق تاحیات نااہلی ایک سخت فیصلہ ہوگا۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ یہ دلیل مجلس شوریٰ کے لیے زیادہ مناسب ہے کیوںکہ عدالت آئین کی تشریح کرسکتی ہے، اس میں ترمیم نہیں کرسکتی جبکہ عدالت ایک سے زائد مرتبہ کہہ چکی ہے کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی دائمی ہوگی اور عدالتی فیصلے کی موجودگی تک متعلقہ شخص نااہل رہے گا۔</p>

<p>خیال رہے کہ 14 فروری 2018 کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ آئین میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا اور عدالت کو ہر کیس میں نااہلی کی مدت کا علیحدہ علیحدہ تعین کرنا ہوگا۔</p>

<h3 id="نااہلی-کیس5ad1a80351b20">نااہلی کیس</h3>

<p>یاد رہے کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کی ضرورت اس وقت پیش آئی تھی، جب سابق وزیر اعظم نواز شریف اور سابق سیکریٹری جنرل تحریک انصاف جہانگیر ترین کی نااہلی کی مدت پر ایک بحث کا آغاز ہوا تھا۔</p>

<p>واضح رہے کہ گزشتہ برس 28 جولائی کو سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے خلاف پاناما لیکس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1073069/">نااہلی مدت کیس: آرٹیکل 62 ون ایف میں ابہام ہے، چیف جسٹس</a></strong></p>

<p>عدالت کی جانب سے  پانچ رکنی لارجر بینچ کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت نواز شریف کو بطور وزیراعظم نااہل قرار دیا تھا۔</p>

<p>اس فیصلے کے بعد نواز شریف مسلم لیگ (ن) کی پارٹی صدارت سے بھی نااہل ہوگئے تھے، تاہم انہوں نے انتخابی اصلاحات ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے خود کو دوبارہ (ن) لیگ کا صدر منتخب کرا لیا تھا۔</p>

<p>تاہم 21 فروری 2018 کو عدالت عظمیٰ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ کیس 2017 کے خلاف دائر درخواستوں کا فیصلہ سنایا تھا، جس کے نتیجے میں سابق وزیر اعظم نواز شریف مسلم لیگ (ن) کی صدارت کے لیے بھی نااہل ہوگئے تھے۔</p>

<p>دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل جہانگری ترین کی نااہلی کی بات کی جائے تو 15 دسمبر 2017 کو سپریم کورٹ نے غیر ملکی فنڈنگ کیس کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کے خلاف ان کی پٹیشن کو خارج کردیا تھا جبکہ جہانگیر ترین کو آئین کے آرٹیکل 62 کے تحت نا اہل قرار دیا تھا۔</p>

<p>سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ جہانگیر ترین صادق اور امین نہیں رہے اور عدالت عظمیٰ نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کو ان کے خلاف ان سائیڈ ٹریڈنگ سے متعلق کارروائی کرنے کی ہدایت کی تھی۔</p>

<p>ان دونوں شخصیات کی نااہلی کے بعد اس بحث کا آغاز ہوا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیے گئے ارکان اسمبلی کی نااہلی کی مدت کتنی ہوگی، جس کے بعد اس مدت کا تعین کرنے کے لیے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔</p>

<p>سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف اور تحریک انصاف  کے سابق سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کو ذاتی حیثیت میں یا وکیل کے ذریعے پیش ہونے کے نوٹسز بھی جاری کیے تھے۔</p>

<p>تاہم مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی جانب سے آرٹیکل ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کیس میں براہ راست عدالتی کارروائی کا حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔</p>

<p>بھی تعینات کیا گیا تھا۔</p>

<p>دوسری جانب سپریم کورٹ میں رجسٹرار کی جانب سے جاری کیے گئے پاسز رکھنے والوں کو ہی داخلے کی اجازت دی گئی اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو ریڈ زون میں داخلے کی اجازت نہیں تھی۔</p>

<h3 id="پاناما-کیس5ad1a80351c30">پاناما کیس</h3>

<p>یہ بھی یاد رہے کہ پاناما لیکس کے معاملے نے ملکی سیاست میں اُس وقت ہلچل مچائی تھی، جب 2016 اپریل میں بیرون ملک ٹیکس کے حوالے سے کام کرنے والی پاناما کی مشہور لا فرم موزیک فانسیکا کی افشا ہونے والی انتہائی خفیہ دستاویزات سے پاکستان سمیت دنیا کی کئی طاقت ور اور سیاسی شخصیات کے 'آف شور' مالی معاملات عیاں ہو گئے تھے۔</p>

<p>ان انکشافات میں جن شخصیات کے نام سامنے آئے تھے اس میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور دیگر حکمران بھی شامل تھے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1069917/">عدالت عظمیٰ نے کئی تاریخی فیصلے جمعے کے دن سنائے</a></strong></p>

<p>پاناما لیکس کے انکشافات کے بعد اپوزیشن جماعتوں بالخصوص پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا تھا اور بعدازاں اس حوالے سے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا۔</p>

<p>سپریم کورٹ نے ان درخواستوں پر سماعت کے لیے نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کی مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی  کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی تھی تھی۔</p>

<p>جے آئی ٹی نے 2 ماہ کی تحقیقات کے بعد  10 جولائی  2017 کو سپریم کورٹ میں اپنی حتمی رپورٹ جمع کروائی تھی، 10 جلدوں پر مشتمل اس رپورٹ میں وزیراعظم سمیت شریف خاندان پر کئی الزامات لگاتے ہوئے مختلف شواہد سامنے لائے گئے تھے۔</p>

<p>جس کے بعد جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں  سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے پاناما عملدرآمد کیس کا فیصلہ سنایا تھا، جس میں نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1076817</guid>
      <pubDate>Sat, 14 Apr 2018 12:04:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حسیب بھٹیویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/04/5ad05364c6837.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/04/5ad05364c6837.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
