<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Business</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 22:13:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 22:13:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیکس دہندگان اپنے اکاؤنٹ میں ڈالر جمع کراسکتے ہیں، اسٹیٹ بینک
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1076836/</link>
      <description>&lt;ul class="story__toc" style="display:none;"&gt;&lt;/ul&gt;&lt;p&gt;کراچی: اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق پاکستانی میں مقیم افراد اگر ٹیکس دہندگان ہیں تو وہ اپنے اکاؤنٹ میں ڈالر جمع کراسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اعلامیے کے مطابق غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹ رکھنے والے پاکستانی شہری اپنے اکاؤنٹ میں غیر ملکی کرنسی بھی جمع کراسکتے ہیں تاہم اسٹیٹ بینک نے اس کے لیے شرط لگائی کہ اکاؤنٹ ہولڈر کو انکم ٹیکس آرڈیننس 2011 کے تحت ٹیکس دہندگان ہونا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1070973"&gt;اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قلت کے خدشات پر اسٹیٹ بینک کا اہم فیصلہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قبل ازیں پاکستان میں غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹ ہولڈرز کو ٹیکس دہندگان ہونا ضروری نہیں تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے اس اقدام کا مقصد ڈالر رکھنے والے افراد کا ریکارڈ رکھنا اور غیر قانونی طور پر ڈالر کی شکل میں پیسوں کو سفید کرنے سے روکنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1075378"&gt;اوپن مارکیٹ میں ڈالر 116 روپے تک پہنچ گیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اعلامیے میں کہا گیا کہ غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹ کو بیرون ملک سے ملنے والی رقم، پاکستان کے باہر سے جاری ہونے والے سفری چیک اور حکومت پاکستان کی جانب سے جاری ہونے والے سیکیورٹیز کے غیر ملکی  تبادلے کی صورت میں بھرا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;یہ خبر ڈان اخبار میں 13 اپریل 2018 کو شائع ہوئی&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<ul class="story__toc" style="display:none;"></ul><p>کراچی: اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق پاکستانی میں مقیم افراد اگر ٹیکس دہندگان ہیں تو وہ اپنے اکاؤنٹ میں ڈالر جمع کراسکتے ہیں۔</p>

<p>اعلامیے کے مطابق غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹ رکھنے والے پاکستانی شہری اپنے اکاؤنٹ میں غیر ملکی کرنسی بھی جمع کراسکتے ہیں تاہم اسٹیٹ بینک نے اس کے لیے شرط لگائی کہ اکاؤنٹ ہولڈر کو انکم ٹیکس آرڈیننس 2011 کے تحت ٹیکس دہندگان ہونا ضروری ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1070973">اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قلت کے خدشات پر اسٹیٹ بینک کا اہم فیصلہ</a></strong></p>

<p>قبل ازیں پاکستان میں غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹ ہولڈرز کو ٹیکس دہندگان ہونا ضروری نہیں تھا۔</p>

<p>اسٹیٹ بینک کے اس اقدام کا مقصد ڈالر رکھنے والے افراد کا ریکارڈ رکھنا اور غیر قانونی طور پر ڈالر کی شکل میں پیسوں کو سفید کرنے سے روکنا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1075378">اوپن مارکیٹ میں ڈالر 116 روپے تک پہنچ گیا</a></strong></p>

<p>اعلامیے میں کہا گیا کہ غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹ کو بیرون ملک سے ملنے والی رقم، پاکستان کے باہر سے جاری ہونے والے سفری چیک اور حکومت پاکستان کی جانب سے جاری ہونے والے سیکیورٹیز کے غیر ملکی  تبادلے کی صورت میں بھرا جا سکتا ہے۔</p>

<hr />

<p>یہ خبر ڈان اخبار میں 13 اپریل 2018 کو شائع ہوئی</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1076836</guid>
      <pubDate>Fri, 13 Apr 2018 16:06:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/04/5ad08ed2b85fb.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/04/5ad08ed2b85fb.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
