<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 23:55:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 23:55:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>طیبہ تشدد کیس: سابق جج راجا خرم اور اہلیہ کی درخواست ضمانت منظور
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1077035/</link>
      <description>&lt;ul class="story__toc" style="display:none;"&gt;&lt;li class='story__toc__item'&gt;&lt;a href='#کیس-کا-پس-منظر5ad6c664b7613'&gt;کیس کا پس منظر&lt;/a&gt;&lt;/li&gt;&lt;/ul&gt;&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ نے گھریلو ملازمہ طیبہ تشدد کیس میں سابق جج راجا خرم علی خان اور ان کی اہلیہ کو ایک، ایک سال قید اور 50، 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس عامر فاروق نے طیبہ تشدد کیس کے محفوظ فیصلے میں ملزمان کو سزا سنائی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جسٹس عامر فاروق نے گھریلو ملازمہ طیبہ تشدد کیس میں سابق جج اور ان کی اہلیہ کو ایک، ایک سال قید اور 50، 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی جبکہ کیس کا تحریری فیصلہ بعد میں جاری کیا جانا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں عدالت نے طیبہ تشدد کیس کا 21 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا، جو جسٹس عامر فاروق نے خود تحریر کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1050301/"&gt;طیبہ کو پاکستان سویٹ ہوم کی تحویل میں دینے کا حکم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ حتمی دلائل مکمل ہونے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے 27 مارچ 2018 کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس مقدمے میں مجموعی طور پر 19 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے تھے، جن میں 11 سرکاری جبکہ طیبہ کے والدین سمیت 8 عام شہری شامل تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب طیبہ تشدد کیس میں سزا حاصل کرنے والے سابق جج راجا خرم علی خان نے ضمانت کے لیے درخواست دائر کردی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;راجا خرم علی خان کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ اس سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی، جس کے لیے ضمانت دی جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق جج اور ان کی اہلیہ کی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے تک درخواست ضمانت منظور کرلی, ساتھ ہی انہیں ایک ہفتے کے اندر اپیل دائر کرنے کی ہدایت بھی کی۔ &lt;/p&gt;

&lt;h3 id="کیس-کا-پس-منظر5ad6c664b7613"&gt;کیس کا پس منظر&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ 27 دسمبر 2016 کو اسلام آباد کی گھریلو ملازمہ طیبہ پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راجا خرم علی خان کے گھر میں تشدد کا واقعہ منظرعام پر آیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1054510"&gt;طیبہ تشدد کیس کا ٹرائل اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوگا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولیس نے 29 دسمبر کو جج راجا خرم  اور ان کی اہلیہ کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا اور دونوں افراد کے خلاف تھانہ آئی نائن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم 3 مارچ 2017 کو طیبہ کے والدین نے راجا خرم اور ان کی اہلیہ کو معاف کردیا تھا، تاہم اس صلح نامے کی خبر نشر ہونے کے بعد چیف جسٹس نے واقعے کا ازخود نوٹس لیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس نے رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کو حکم دیا تھا کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر اندر معاملے کی تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1049869"&gt;سپریم کورٹ نے ملازمہ پر 'تشدد' کا از خود نوٹس لے لیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں 8 جنوری 2017 کو سپریم کورٹ کے حکم پر پولیس نے طیبہ کو بازیاب کرا کے عدالت میں پیش کیا تھا، جس کے بعد عدالتی حکم پر 12 جنوری کو &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1050406"&gt;&lt;strong&gt;جج راجا خرم کو ان کے عہدے سے برطرف&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے بعد چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کیس کا ٹرائل اسلام آباد ہائی کورٹ بھیج دیا تھا، جہاں متعدد سماعتوں کے بعد 16 مئی 2017 کو ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ گھریلو ملازمین پر تشدد کے واقعات اکثر میڈیا پر رپورٹ نہیں ہوتے تاہم طیبہ تشدد کا واقعہ سامنے آنے کے بعد ملازمین پر تشدد سے متعلق متعدد واقعات نہ صرف میڈیا پر رپورٹ ہوئے بلکہ ان پر ملزمان کو مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح مارچ 2017 میں ملتان میں بھی ایک  &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1054142"&gt;&lt;strong&gt;کم سن گھریلو ملازمہ کو بدترین تشدد کا نشانہ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کا واقعہ رپورٹ ہوا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے گھریلو تشدد کے واقعات کے خلاف تحفظِ نسواں جیسے بل بھی منظور ہوچکے ہیں لیکن عام خیال یہی ہے کہ ان قوانین پر مناسب عملدرآمد نہ ہونے کے باعث آج بھی متعد ملازمین ایسے واقعات کا نشانہ بن رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<ul class="story__toc" style="display:none;"><li class='story__toc__item'><a href='#کیس-کا-پس-منظر5ad6c664b7613'>کیس کا پس منظر</a></li></ul><p>اسلام آباد ہائی کورٹ نے گھریلو ملازمہ طیبہ تشدد کیس میں سابق جج راجا خرم علی خان اور ان کی اہلیہ کو ایک، ایک سال قید اور 50، 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔</p>

<p>اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس عامر فاروق نے طیبہ تشدد کیس کے محفوظ فیصلے میں ملزمان کو سزا سنائی۔</p>

<p>جسٹس عامر فاروق نے گھریلو ملازمہ طیبہ تشدد کیس میں سابق جج اور ان کی اہلیہ کو ایک، ایک سال قید اور 50، 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی جبکہ کیس کا تحریری فیصلہ بعد میں جاری کیا جانا تھا۔</p>

<p>بعد ازاں عدالت نے طیبہ تشدد کیس کا 21 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا، جو جسٹس عامر فاروق نے خود تحریر کیا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1050301/">طیبہ کو پاکستان سویٹ ہوم کی تحویل میں دینے کا حکم</a></strong></p>

<p>خیال رہے کہ حتمی دلائل مکمل ہونے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے 27 مارچ 2018 کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔</p>

<p>اس مقدمے میں مجموعی طور پر 19 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے تھے، جن میں 11 سرکاری جبکہ طیبہ کے والدین سمیت 8 عام شہری شامل تھے۔</p>

<p>دوسری جانب طیبہ تشدد کیس میں سزا حاصل کرنے والے سابق جج راجا خرم علی خان نے ضمانت کے لیے درخواست دائر کردی۔</p>

<p>راجا خرم علی خان کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ اس سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی، جس کے لیے ضمانت دی جائے۔</p>

<p>بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق جج اور ان کی اہلیہ کی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے تک درخواست ضمانت منظور کرلی, ساتھ ہی انہیں ایک ہفتے کے اندر اپیل دائر کرنے کی ہدایت بھی کی۔ </p>

<h3 id="کیس-کا-پس-منظر5ad6c664b7613">کیس کا پس منظر</h3>

<p>یاد رہے کہ 27 دسمبر 2016 کو اسلام آباد کی گھریلو ملازمہ طیبہ پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راجا خرم علی خان کے گھر میں تشدد کا واقعہ منظرعام پر آیا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1054510">طیبہ تشدد کیس کا ٹرائل اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوگا</a></strong></p>

<p>پولیس نے 29 دسمبر کو جج راجا خرم  اور ان کی اہلیہ کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا اور دونوں افراد کے خلاف تھانہ آئی نائن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔</p>

<p>تاہم 3 مارچ 2017 کو طیبہ کے والدین نے راجا خرم اور ان کی اہلیہ کو معاف کردیا تھا، تاہم اس صلح نامے کی خبر نشر ہونے کے بعد چیف جسٹس نے واقعے کا ازخود نوٹس لیا۔ </p>

<p>چیف جسٹس نے رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کو حکم دیا تھا کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر اندر معاملے کی تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1049869">سپریم کورٹ نے ملازمہ پر 'تشدد' کا از خود نوٹس لے لیا</a></strong></p>

<p>بعد ازاں 8 جنوری 2017 کو سپریم کورٹ کے حکم پر پولیس نے طیبہ کو بازیاب کرا کے عدالت میں پیش کیا تھا، جس کے بعد عدالتی حکم پر 12 جنوری کو <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1050406"><strong>جج راجا خرم کو ان کے عہدے سے برطرف</strong></a> کردیا گیا تھا۔</p>

<p>اس کے بعد چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کیس کا ٹرائل اسلام آباد ہائی کورٹ بھیج دیا تھا، جہاں متعدد سماعتوں کے بعد 16 مئی 2017 کو ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔</p>

<p>یاد رہے کہ گھریلو ملازمین پر تشدد کے واقعات اکثر میڈیا پر رپورٹ نہیں ہوتے تاہم طیبہ تشدد کا واقعہ سامنے آنے کے بعد ملازمین پر تشدد سے متعلق متعدد واقعات نہ صرف میڈیا پر رپورٹ ہوئے بلکہ ان پر ملزمان کو مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔</p>

<p>اسی طرح مارچ 2017 میں ملتان میں بھی ایک  <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1054142"><strong>کم سن گھریلو ملازمہ کو بدترین تشدد کا نشانہ</strong></a> کا واقعہ رپورٹ ہوا تھا۔</p>

<p>واضح رہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے گھریلو تشدد کے واقعات کے خلاف تحفظِ نسواں جیسے بل بھی منظور ہوچکے ہیں لیکن عام خیال یہی ہے کہ ان قوانین پر مناسب عملدرآمد نہ ہونے کے باعث آج بھی متعد ملازمین ایسے واقعات کا نشانہ بن رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1077035</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Apr 2018 09:15:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد عمرانویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/04/5ad59c0c430a0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/04/5ad59c0c430a0.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
