<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 11:43:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 11:43:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ماحول دوست مینگرووز سے ہماری دشمنی کیوں؟
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1077750/04may2018-mahaul-dost-mangroves-se-hamari-dushmani-kiyun-bilal-karim-mughal</link>
      <description>&lt;h1 id='5ca5b6ee3d2fd'&gt;ماحول دوست مینگرووزسے ہماری دشمنی کیوں؟&lt;/h1&gt;

&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/authors/1557/bilal-karim-mughal"&gt;بلال کریم مغل&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قدرتی نظام میں کچھ عوامل ایسے ہیں جن پر انسان اثرانداز نہیں ہوسکتا، مثلاً زلزلے، یہ ضرور آئیں گے اور آپ انہیں روک نہیں سکتے۔ مگر موسم، آب و ہوا اور پانی کا نظام ایسے عوامل ہیں جن پر انسانی سرگرمیاں نہایت منفی اثرات مرتب کرتی ہیں، جس کا نتیجہ سال در سال بڑھتی ہوئی گرمی، سردیوں کے مختصر ہوتے ہوئے دورانیے اور موسموں کی عمومی شدت میں اضافے کی صورت میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان بھی اس صورتحال سے محفوظ نہیں ہے۔ پاکستان میں تقریباً ایک ہزار کلومیٹر طویل ساحلی پٹی موجود ہے جس کا اپنا ایک ماحولیاتی تنوع ہے۔ یہاں پر مخصوص انواع و اقسام کے پیڑ پودے صدیوں سے موجود ہیں، جن میں سب سے اہم پودے مینگرووز کے ہیں، جن کی سندھ کے ساحلی علاقوں میں سب سے زیادہ پائی جانے والی نسل تمر (Avicennia marina) ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کیا یہ پودے محض بے مقصد طور پر اگی ہوئی جھاڑیاں ہیں؟ نہیں۔ کسی بھی ساحلی علاقے میں مینگرووز کی موجودگی نہ صرف وہاں کے قدرتی ماحول کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے بلکہ سمندر کی اونچی لہروں سے بھی ساحلوں کو تحفظ دیتی ہے۔ یہ بات 2004ء میں سب سے زیادہ واضح تب ہوئی جب انڈونیشیا اور بحرِ ہند کے دیگر ساحلی ممالک میں سونامی نے 2 لاکھ سے زیادہ جانیں لیں جبکہ کروڑوں لوگ دربدر ہوئے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قدرتی آفات نقصان تو پہنچاتی ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ یہ ایک یاد دہانی، ایک وارننگ بھی ہوتی ہیں کہ ماحول دوست اقدامات کرنے کے لیے اب وقت تیزی کے ساتھ ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے۔ ہماری ساحلی پٹی پر بھی مینگروو کے گھنے جنگلات موجود ہیں جنہیں ترقیاتی کاموں، زمینوں پر قبضے اور لکڑی حاصل کرنے کے لیے کاٹا جاتا رہا ہے۔ ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کی جانب سے دہائیوں پر مبنی تحقیقی مطالعوں میں یہ بات سامنے آئی کہ سندھ کے ساحلی علاقوں میں مینگرووز کے جنگلات نے بتدریج اپنا رقبہ گنوایا ہے، مگر اب ان جنگلات کو معدوم ہونے سے پہلے بچا لینے کی کوششیں آہستہ آہستہ رنگ لانے لگی ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/04/5ae5c443979bf.jpg"  alt="سینڈزپٹ کے ساحل کی دوسری جانب موجود پانی اور مینگرووز کے جنگلات &amp;mdash; فوٹو بشکریہ لکھاری" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;سینڈزپٹ کے ساحل کی دوسری جانب موجود پانی اور مینگرووز کے جنگلات — فوٹو بشکریہ لکھاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/04/5ae5c443dea01.jpg"  alt="سینڈزپٹ کے ساحل کی دوسری جانب موجود پانی اور مینگرووز کے جنگلات &amp;mdash; فوٹو بشکریہ لکھاری" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;سینڈزپٹ کے ساحل کی دوسری جانب موجود پانی اور مینگرووز کے جنگلات — فوٹو بشکریہ لکھاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/04/5ae5c44579ada.jpg"  alt="سینڈزپٹ کے ساحل کی دوسری جانب موجود پانی اور مینگرووز کے جنگلات &amp;mdash; فوٹو بشکریہ لکھاری" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;سینڈزپٹ کے ساحل کی دوسری جانب موجود پانی اور مینگرووز کے جنگلات — فوٹو بشکریہ لکھاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2016/05/5745a2a40abce.jpg"  alt="مقامی افراد اپنے گھریلو استعمال کے لیے جبکہ بلڈرز زمین حاصل کرنے کے لیے مینگرووز کے درخت کاٹتے ہیں &amp;mdash; فوٹو بشکریہ ماہرہ عمر/ہیرالڈ" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;مقامی افراد اپنے گھریلو استعمال کے لیے جبکہ بلڈرز زمین حاصل کرنے کے لیے مینگرووز کے درخت کاٹتے ہیں — فوٹو بشکریہ ماہرہ عمر/ہیرالڈ&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی حوالے سے چند دن قبل ایک جرمن تنظیم ہائینریک بوئیل اسٹفٹونگ (جرمن گرین فاؤنڈیشن) اور ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے اشتراک سے صحافیوں کے لیے کراچی کے مینگرووز کے جنگلات سے متعلق ایک آگاہی سیشن اور مینگرووز کے جنگلات کے دورے کا انعقاد کیا گیا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ نے کراچی میں سینڈزپٹ کے ساحل کے پاس ہی اپنا ویٹ لینڈز سینٹر (Wetland Centre) قائم کر رکھا ہے۔ ویٹ لینڈ کسی بھی ایسی زمین کو کہا جاتا ہے جہاں سال کے کچھ موسموں میں یا پھر پورا سال پانی کی موجودگی رہتی ہے۔ یہ پانی کی موجودگی والے دیگر علاقوں سے اس طرح مختلف ہوتی ہے کہ یہاں پر آبی نباتات کی بہتات ہوتی ہے جن میں مینگرووز بھی شامل ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ تمر کے جنگلات سے کیا فائدے ہوتے ہیں؟&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/04/5ae5c4479fd22.jpg"  alt="سینڈزپٹ پر موجود ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کا ویٹ لینڈ سینٹر &amp;mdash; فوٹو بشکریہ لکھاری" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;سینڈزپٹ پر موجود ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کا ویٹ لینڈ سینٹر — فوٹو بشکریہ لکھاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;h4 id='5ca5b6ee3d386'&gt;فضائی آلودگی کم کرنے میں دوسرے درختوں سے بہتر&lt;/h4&gt;

&lt;p&gt;سب سے پہلا فائدہ تو یہ ہے کہ ایک درخت کی حیثیت سے یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور آکسیجن کا اخراج کرتے ہیں جو کہ ہمارا اور زمین پر موجود دیگر انواع کا سانس لینا ممکن بناتا ہے۔ ماہرین کے مطابق مینگرووز کے پودے دیگر پودوں کے مقابلے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی 18 فیصد زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں جس کی وجہ سے یہ نہایت ماحول دوست ہوتے ہیں۔ خاص طور پر کراچی جیسے شہر کے لیے جہاں پہلے ہی فضائی آلودگی بہت زیادہ ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1063136/"&gt;تمر کے جنگلات اور کراچی کے ساحل کی ماحولیاتی موت&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سینڈزپٹ کے سامنے موجود مینگرووز کے جنگلات میں جو پانی کے چینلز (بیک واٹرز) بہتے ہیں، وہاں پر داخل ہوتے ہی تیز بدبو آپ کا استقبال کرتی ہے۔ بتایا گیا کہ یہ چینل پہلے تازہ پانی سے بھرپور تھے جہاں پر طرح طرح کی مچھلیاں اور دیگر آبی حیات پائی جاتی تھیں۔ مگر سالہا سال سے صنعتی اور رہائشی علاقوں کا فضلہ لیاری ندی میں پھینکا جا رہا ہے جو سفر کرتا ہوا اس چینل میں آگرتا ہے، اور نتیجتاً یہاں پر اب آبی حیات نہ ہونے کے برابر ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/04/5ae5c446c8b99.jpg"  alt="مینگرووز کے جنگلات گندے پانی میں بھی اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہیں &amp;mdash; فوٹو بشکریہ لکھاری" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;مینگرووز کے جنگلات گندے پانی میں بھی اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہیں — فوٹو بشکریہ لکھاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/04/5ae5c44751788.jpg"  alt="کسی کسی جگہ جنگل نہایت گھنے ہیں جبکہ ان کی زمین عموماً کافی نرم ہوتی ہے &amp;mdash; فوٹو بشکریہ لکھاری" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کسی کسی جگہ جنگل نہایت گھنے ہیں جبکہ ان کی زمین عموماً کافی نرم ہوتی ہے — فوٹو بشکریہ لکھاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/04/5ae5c44820dca.jpg"  alt="مینگرووز کی جڑیں زمین کے اندر سے باہر کی جانب نکلی ہوتی ہیں &amp;mdash; فوٹو بشکریہ لکھاری" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;مینگرووز کی جڑیں زمین کے اندر سے باہر کی جانب نکلی ہوتی ہیں — فوٹو بشکریہ لکھاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2016/05/5745a2a2f3c5d.jpg"  alt="مائی کولاچی کے نزدیک سیوریج کا پانی بغیر ٹریٹمنٹ کے مینگرووز کے جنگلات میں جا رہا ہے &amp;mdash; فوٹو بشکریہ ماہرہ عمر/ہیرالڈ" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;مائی کولاچی کے نزدیک سیوریج کا پانی بغیر ٹریٹمنٹ کے مینگرووز کے جنگلات میں جا رہا ہے — فوٹو بشکریہ ماہرہ عمر/ہیرالڈ&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چینلز میں موجود پانی دھوپ میں سیاہی مائل نارنگی محسوس ہوا جس کی کافی چبھتی ہوئی سی بدبو تھی۔ مینگرووز کے پودوں میں جگہ جگہ خالی تھیلیاں، پینٹ (کلر) کی بالٹیاں، چھالیا کے ریپر، سگریٹ کی ڈبیاں اور دیگر کچرا الجھا ہوا دیکھ کر نہایت افسوس ہوا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ انڈس ڈیلٹا میں میٹھے پانی کی شدید کمی کے باعث یہاں تازہ پانی کی آمد تقریباً ختم ہوچکی ہے جس کا نقصان مینگرووز کے جنگلات کو بھی اٹھانا پڑا ہے، جبکہ سمندر آہستہ آہستہ آگے بڑھتا جا رہا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیے: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1014707"&gt;کراچی کو سونامی سے بچانے والی ڈھال خطرے میں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مینگرووز کے جنگلات گندے پانی میں اپنا وجود تو برقرار رکھے ہوئے ہیں مگر انہیں تازہ پانی کی اشد ضرورت ہے کیوں کہ اس سے ان کے بڑھنے کی شرح تیز ہوجاتی ہے۔ ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ سے تعلق رکھنے والے عمیر شاہد نے بتایا کہ تقریباً 415 ملین گیلن صنعتی فضلہ روزانہ سمندر میں پھینکا جا رہا ہے جس سے ماحولیات تیزی سے تباہی کی جانب گامزن ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;h4 id='5ca5b6ee3d3cf'&gt;زمین کے کٹاؤ اور سمندری طوفان سے تحفظ دیتے ہیں&lt;/h4&gt;

&lt;p&gt;مینگرووز کے جنگلات کا دوسرا بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ زمین کے کٹاؤ کو روکتے ہیں اور سمندر کی تیز لہروں کے خلاف ایک قدرتی دیوار کا کردار ادا کرتے ہیں۔ عمیر شاہد نے بتایا کہ پاکستان میں سال 2000ء تک مینگرووز کے جنگلات بلڈر اور ٹمبر مافیا کے ہاتھوں سکڑ کر اپنا زیادہ تر حصہ گنوا بیٹھے تھے، مگر سالہا سال کی کوششوں سے، بالخصوص 2004ء کے بحرِ ہند کے سونامی کے بعد ان کوششوں میں تیزی آئی اور اب مینگرووز کے جنگلات اپنا رقبہ بتدریج کھونے کے بجائے دوبارہ حاصل کر رہے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عمیر شاہد بتاتے ہیں کہ تاریخی طور پر پاکستان کے پاس دنیا کے چھٹے بڑے مینگرووز جنگلات تھے، لیکن مسلسل کٹائی کی وجہ سے پاکستان آٹھویں درجے تک جا پہنچا تھا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ آگاہی اور شجرکاری مہم کی وجہ سے ان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور اس حوالے سے ہماری عالمی رینکنگ میں ایک درجہ بہتری آئی ہے، اور اب ہم ساتویں نمبر پر ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;h4 id='5ca5b6ee3d413'&gt;ایندھن اور غذائی ضروریات پورا کرتے ہیں&lt;/h4&gt;

&lt;p&gt;ان کی ایک اور خصوصیت یہ بھی ہوتی ہے کہ ان کی جڑیں چھوٹی مچھلیوں، جھینگوں اور کیکڑوں کے لیے افزائشِ نسل کی نرسریوں کا کام انجام دیتی ہیں، مگر آلودہ پانی کی وجہ سے اب یہ نرسریاں ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وہاں موجود مقامی افراد کا کہنا تھا کہ پہلے ان چینلز میں اتنی آبی حیات ہوتی تھی کہ مقامی لوگ ان کا شکار کرکے آسانی سے گزر بسر کرسکتے تھے، مگر اب ایسا نہیں ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے عمیر شاہد کا کہنا تھا کہ فضلے میں امونیا اور دیگر مرکبات کی موجودگی کے سبب یہ گندہ پانی پودوں کے لیے کھاد کی خصوصیات تو فراہم کرتا ہے، مگر مینگرووز کے جنگلات میں آبی حیات اس کی وجہ سے ختم ہوتی جارہی ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مقامی آبادی مینگرووز کی لکڑی کو بطورِ ایندھن بھی استعمال کرتی ہے۔ یہ اس درخت کا انسانوں کے لیے تحفہ تو ہے، مگر یہ عمل بذاتِ خود قابلِ تحسین نہیں کیوں کہ مینگرووز کے جنگلات ویسے ہی کٹائی کے نشانے پر ہیں۔ ہونا یہ چاہیے کہ مقامی آبادی کو متبادل ایندھن فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنی ضروریات کے لیے اس کی لکڑی نہ کاٹتے رہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عمیر شاہد نے بتایا کہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مینگرووز کے پتوں کو بطور چارہ استعمال کرنے سے مویشیوں کے دودھ میں اضافہ ہوتا ہے، مگر اس حوالے سے کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/04/5ae5c448f2a5a.jpg"  alt="بیک واٹرز میں پانی کی آلودگی اس کے رنگ سے واضح ہے &amp;mdash; فوٹو بشکریہ لکھاری" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;بیک واٹرز میں پانی کی آلودگی اس کے رنگ سے واضح ہے — فوٹو بشکریہ لکھاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/04/5ae5c4493ec46.jpg"  alt="انفیکشن کا شکار ایک درخت &amp;mdash; فوٹو بشکریہ لکھاری" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;انفیکشن کا شکار ایک درخت — فوٹو بشکریہ لکھاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/04/5ae5c4463e422.jpg"  alt="ایک درخت سے پلاسٹک کی تھیلی لٹک رہی ہے &amp;mdash; فوٹو بشکریہ لکھاری" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ایک درخت سے پلاسٹک کی تھیلی لٹک رہی ہے — فوٹو بشکریہ لکھاری&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;h4 id='5ca5b6ee3d45b'&gt;مینگرووز کی شجرکاری کے ورلڈ ریکارڈز کتنے فائدہ مند؟&lt;/h4&gt;

&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق کسی بھی سونامی یا سمندری طوفان کے نتیجے میں مینگرووز کے جنگلات ساحلی پٹی کے لیے ڈھال کا کردار ادا کرسکتے ہیں، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ گھنے ہوں اور ان کی کٹائی پر پابندی عائد ہو۔ اس سلسلے میں سندھ کے محکمہ جنگلات کی جانب سے سب سے بڑی کوشش 2013ء میں کی گئی تھی جب حکومت اور غیر سرکاری اداروں نے مل کر مینگرووز کے 8 لاکھ سے زائد پودے ایک دن کے اندر لگا کر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں نام درج کروایا تھا۔ اب اپریل کے ہی مہینے میں حکومتِ سندھ نے اپنا ہی ریکارڈ توڑتے ہوئے 11 لاکھ سے اوپر مینگرووز کے پودے دوبارہ لگائے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جانیے: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1042420"&gt;ڈی ایچ اے کے خلاف قیوم آباد کی طویل جنگ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر پاکستان جیسے ملک میں جہاں ادارہ جاتی مفادات کے درمیان ٹکراؤ عام بات ہے، وہاں مینگرووز پر بھی اس ٹکراؤ کا سایہ منڈلاتا رہتا ہے کیوں کہ درخت محکمہ جنگلات کی ملکیت ہوتے ہیں جبکہ زمین محکمہ ریوینیو کی۔ لہٰذا ان کے درمیان کسی بھی قسم کے عدم اتفاق کا نقصان بالآخر ماحولیات کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اس حوالے سے متعلقہ قوانین میں تبدیلی کی ضرورت ہے تاکہ ایک بار اگر درخت لگا دیے جائیں، تو اس زمین کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر ماہرین کے مطابق پودے لگانے کے ورلڈ ریکارڈ جہاں خوش آئند ہیں، وہیں ساحلی علاقوں کی ماحولیات اور مینگرووز کے جنگلات کو بچانے کے لیے بڑے پیمانے پر کام کرنے کی ضرورت ہے جس میں انڈس ڈیلٹا کو صاف پانی کی دوبارہ فراہمی، بغیر ٹریٹمنٹ سیوریج کے پانی کو سمندر میں پھینکنے پر پابندی، رہائشی اسکیموں کی تعمیر اور دیگر کمرشل ضروریات کے لیے جنگلات کے کٹاؤ کی روک تھام اور عوام میں اس حوالے سے شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/6 w-full  media--right    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/urdu/users/1557.jpg?180310053817"  alt="" /&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			بلال کریم مغل ڈان کے سابق اسٹاف ممبر ہیں۔  &lt;/p&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں: &lt;a href="https://twitter.com/bilalkmughal"&gt;bilalkmughal@&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<h1 id='5ca5b6ee3d2fd'>ماحول دوست مینگرووزسے ہماری دشمنی کیوں؟</h1>

<p><a href="https://www.dawnnews.tv/authors/1557/bilal-karim-mughal">بلال کریم مغل</a></p>

<p>قدرتی نظام میں کچھ عوامل ایسے ہیں جن پر انسان اثرانداز نہیں ہوسکتا، مثلاً زلزلے، یہ ضرور آئیں گے اور آپ انہیں روک نہیں سکتے۔ مگر موسم، آب و ہوا اور پانی کا نظام ایسے عوامل ہیں جن پر انسانی سرگرمیاں نہایت منفی اثرات مرتب کرتی ہیں، جس کا نتیجہ سال در سال بڑھتی ہوئی گرمی، سردیوں کے مختصر ہوتے ہوئے دورانیے اور موسموں کی عمومی شدت میں اضافے کی صورت میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ </p>

<p>پاکستان بھی اس صورتحال سے محفوظ نہیں ہے۔ پاکستان میں تقریباً ایک ہزار کلومیٹر طویل ساحلی پٹی موجود ہے جس کا اپنا ایک ماحولیاتی تنوع ہے۔ یہاں پر مخصوص انواع و اقسام کے پیڑ پودے صدیوں سے موجود ہیں، جن میں سب سے اہم پودے مینگرووز کے ہیں، جن کی سندھ کے ساحلی علاقوں میں سب سے زیادہ پائی جانے والی نسل تمر (Avicennia marina) ہے۔ </p>

<p>کیا یہ پودے محض بے مقصد طور پر اگی ہوئی جھاڑیاں ہیں؟ نہیں۔ کسی بھی ساحلی علاقے میں مینگرووز کی موجودگی نہ صرف وہاں کے قدرتی ماحول کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے بلکہ سمندر کی اونچی لہروں سے بھی ساحلوں کو تحفظ دیتی ہے۔ یہ بات 2004ء میں سب سے زیادہ واضح تب ہوئی جب انڈونیشیا اور بحرِ ہند کے دیگر ساحلی ممالک میں سونامی نے 2 لاکھ سے زیادہ جانیں لیں جبکہ کروڑوں لوگ دربدر ہوئے۔ </p>

<p>قدرتی آفات نقصان تو پہنچاتی ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ یہ ایک یاد دہانی، ایک وارننگ بھی ہوتی ہیں کہ ماحول دوست اقدامات کرنے کے لیے اب وقت تیزی کے ساتھ ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے۔ ہماری ساحلی پٹی پر بھی مینگروو کے گھنے جنگلات موجود ہیں جنہیں ترقیاتی کاموں، زمینوں پر قبضے اور لکڑی حاصل کرنے کے لیے کاٹا جاتا رہا ہے۔ ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کی جانب سے دہائیوں پر مبنی تحقیقی مطالعوں میں یہ بات سامنے آئی کہ سندھ کے ساحلی علاقوں میں مینگرووز کے جنگلات نے بتدریج اپنا رقبہ گنوایا ہے، مگر اب ان جنگلات کو معدوم ہونے سے پہلے بچا لینے کی کوششیں آہستہ آہستہ رنگ لانے لگی ہیں۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/04/5ae5c443979bf.jpg"  alt="سینڈزپٹ کے ساحل کی دوسری جانب موجود پانی اور مینگرووز کے جنگلات &mdash; فوٹو بشکریہ لکھاری" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">سینڈزپٹ کے ساحل کی دوسری جانب موجود پانی اور مینگرووز کے جنگلات — فوٹو بشکریہ لکھاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/04/5ae5c443dea01.jpg"  alt="سینڈزپٹ کے ساحل کی دوسری جانب موجود پانی اور مینگرووز کے جنگلات &mdash; فوٹو بشکریہ لکھاری" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">سینڈزپٹ کے ساحل کی دوسری جانب موجود پانی اور مینگرووز کے جنگلات — فوٹو بشکریہ لکھاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/04/5ae5c44579ada.jpg"  alt="سینڈزپٹ کے ساحل کی دوسری جانب موجود پانی اور مینگرووز کے جنگلات &mdash; فوٹو بشکریہ لکھاری" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">سینڈزپٹ کے ساحل کی دوسری جانب موجود پانی اور مینگرووز کے جنگلات — فوٹو بشکریہ لکھاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2016/05/5745a2a40abce.jpg"  alt="مقامی افراد اپنے گھریلو استعمال کے لیے جبکہ بلڈرز زمین حاصل کرنے کے لیے مینگرووز کے درخت کاٹتے ہیں &mdash; فوٹو بشکریہ ماہرہ عمر/ہیرالڈ" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">مقامی افراد اپنے گھریلو استعمال کے لیے جبکہ بلڈرز زمین حاصل کرنے کے لیے مینگرووز کے درخت کاٹتے ہیں — فوٹو بشکریہ ماہرہ عمر/ہیرالڈ</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اسی حوالے سے چند دن قبل ایک جرمن تنظیم ہائینریک بوئیل اسٹفٹونگ (جرمن گرین فاؤنڈیشن) اور ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے اشتراک سے صحافیوں کے لیے کراچی کے مینگرووز کے جنگلات سے متعلق ایک آگاہی سیشن اور مینگرووز کے جنگلات کے دورے کا انعقاد کیا گیا تھا۔ </p>

<p>ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ نے کراچی میں سینڈزپٹ کے ساحل کے پاس ہی اپنا ویٹ لینڈز سینٹر (Wetland Centre) قائم کر رکھا ہے۔ ویٹ لینڈ کسی بھی ایسی زمین کو کہا جاتا ہے جہاں سال کے کچھ موسموں میں یا پھر پورا سال پانی کی موجودگی رہتی ہے۔ یہ پانی کی موجودگی والے دیگر علاقوں سے اس طرح مختلف ہوتی ہے کہ یہاں پر آبی نباتات کی بہتات ہوتی ہے جن میں مینگرووز بھی شامل ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ تمر کے جنگلات سے کیا فائدے ہوتے ہیں؟</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/04/5ae5c4479fd22.jpg"  alt="سینڈزپٹ پر موجود ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کا ویٹ لینڈ سینٹر &mdash; فوٹو بشکریہ لکھاری" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">سینڈزپٹ پر موجود ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کا ویٹ لینڈ سینٹر — فوٹو بشکریہ لکھاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<h4 id='5ca5b6ee3d386'>فضائی آلودگی کم کرنے میں دوسرے درختوں سے بہتر</h4>

<p>سب سے پہلا فائدہ تو یہ ہے کہ ایک درخت کی حیثیت سے یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور آکسیجن کا اخراج کرتے ہیں جو کہ ہمارا اور زمین پر موجود دیگر انواع کا سانس لینا ممکن بناتا ہے۔ ماہرین کے مطابق مینگرووز کے پودے دیگر پودوں کے مقابلے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی 18 فیصد زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں جس کی وجہ سے یہ نہایت ماحول دوست ہوتے ہیں۔ خاص طور پر کراچی جیسے شہر کے لیے جہاں پہلے ہی فضائی آلودگی بہت زیادہ ہے۔ </p>

<p><strong>پڑھیے: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1063136/">تمر کے جنگلات اور کراچی کے ساحل کی ماحولیاتی موت</a></strong></p>

<p>سینڈزپٹ کے سامنے موجود مینگرووز کے جنگلات میں جو پانی کے چینلز (بیک واٹرز) بہتے ہیں، وہاں پر داخل ہوتے ہی تیز بدبو آپ کا استقبال کرتی ہے۔ بتایا گیا کہ یہ چینل پہلے تازہ پانی سے بھرپور تھے جہاں پر طرح طرح کی مچھلیاں اور دیگر آبی حیات پائی جاتی تھیں۔ مگر سالہا سال سے صنعتی اور رہائشی علاقوں کا فضلہ لیاری ندی میں پھینکا جا رہا ہے جو سفر کرتا ہوا اس چینل میں آگرتا ہے، اور نتیجتاً یہاں پر اب آبی حیات نہ ہونے کے برابر ہے۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/04/5ae5c446c8b99.jpg"  alt="مینگرووز کے جنگلات گندے پانی میں بھی اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہیں &mdash; فوٹو بشکریہ لکھاری" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">مینگرووز کے جنگلات گندے پانی میں بھی اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہیں — فوٹو بشکریہ لکھاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/04/5ae5c44751788.jpg"  alt="کسی کسی جگہ جنگل نہایت گھنے ہیں جبکہ ان کی زمین عموماً کافی نرم ہوتی ہے &mdash; فوٹو بشکریہ لکھاری" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کسی کسی جگہ جنگل نہایت گھنے ہیں جبکہ ان کی زمین عموماً کافی نرم ہوتی ہے — فوٹو بشکریہ لکھاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/04/5ae5c44820dca.jpg"  alt="مینگرووز کی جڑیں زمین کے اندر سے باہر کی جانب نکلی ہوتی ہیں &mdash; فوٹو بشکریہ لکھاری" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">مینگرووز کی جڑیں زمین کے اندر سے باہر کی جانب نکلی ہوتی ہیں — فوٹو بشکریہ لکھاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2016/05/5745a2a2f3c5d.jpg"  alt="مائی کولاچی کے نزدیک سیوریج کا پانی بغیر ٹریٹمنٹ کے مینگرووز کے جنگلات میں جا رہا ہے &mdash; فوٹو بشکریہ ماہرہ عمر/ہیرالڈ" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">مائی کولاچی کے نزدیک سیوریج کا پانی بغیر ٹریٹمنٹ کے مینگرووز کے جنگلات میں جا رہا ہے — فوٹو بشکریہ ماہرہ عمر/ہیرالڈ</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>چینلز میں موجود پانی دھوپ میں سیاہی مائل نارنگی محسوس ہوا جس کی کافی چبھتی ہوئی سی بدبو تھی۔ مینگرووز کے پودوں میں جگہ جگہ خالی تھیلیاں، پینٹ (کلر) کی بالٹیاں، چھالیا کے ریپر، سگریٹ کی ڈبیاں اور دیگر کچرا الجھا ہوا دیکھ کر نہایت افسوس ہوا۔ </p>

<p>اس کے علاوہ انڈس ڈیلٹا میں میٹھے پانی کی شدید کمی کے باعث یہاں تازہ پانی کی آمد تقریباً ختم ہوچکی ہے جس کا نقصان مینگرووز کے جنگلات کو بھی اٹھانا پڑا ہے، جبکہ سمندر آہستہ آہستہ آگے بڑھتا جا رہا ہے۔ </p>

<p><strong>مزید پڑھیے: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1014707">کراچی کو سونامی سے بچانے والی ڈھال خطرے میں</a></strong></p>

<p>مینگرووز کے جنگلات گندے پانی میں اپنا وجود تو برقرار رکھے ہوئے ہیں مگر انہیں تازہ پانی کی اشد ضرورت ہے کیوں کہ اس سے ان کے بڑھنے کی شرح تیز ہوجاتی ہے۔ ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ سے تعلق رکھنے والے عمیر شاہد نے بتایا کہ تقریباً 415 ملین گیلن صنعتی فضلہ روزانہ سمندر میں پھینکا جا رہا ہے جس سے ماحولیات تیزی سے تباہی کی جانب گامزن ہے۔ </p>

<h4 id='5ca5b6ee3d3cf'>زمین کے کٹاؤ اور سمندری طوفان سے تحفظ دیتے ہیں</h4>

<p>مینگرووز کے جنگلات کا دوسرا بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ زمین کے کٹاؤ کو روکتے ہیں اور سمندر کی تیز لہروں کے خلاف ایک قدرتی دیوار کا کردار ادا کرتے ہیں۔ عمیر شاہد نے بتایا کہ پاکستان میں سال 2000ء تک مینگرووز کے جنگلات بلڈر اور ٹمبر مافیا کے ہاتھوں سکڑ کر اپنا زیادہ تر حصہ گنوا بیٹھے تھے، مگر سالہا سال کی کوششوں سے، بالخصوص 2004ء کے بحرِ ہند کے سونامی کے بعد ان کوششوں میں تیزی آئی اور اب مینگرووز کے جنگلات اپنا رقبہ بتدریج کھونے کے بجائے دوبارہ حاصل کر رہے ہیں۔ </p>

<p>عمیر شاہد بتاتے ہیں کہ تاریخی طور پر پاکستان کے پاس دنیا کے چھٹے بڑے مینگرووز جنگلات تھے، لیکن مسلسل کٹائی کی وجہ سے پاکستان آٹھویں درجے تک جا پہنچا تھا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ آگاہی اور شجرکاری مہم کی وجہ سے ان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور اس حوالے سے ہماری عالمی رینکنگ میں ایک درجہ بہتری آئی ہے، اور اب ہم ساتویں نمبر پر ہیں۔ </p>

<h4 id='5ca5b6ee3d413'>ایندھن اور غذائی ضروریات پورا کرتے ہیں</h4>

<p>ان کی ایک اور خصوصیت یہ بھی ہوتی ہے کہ ان کی جڑیں چھوٹی مچھلیوں، جھینگوں اور کیکڑوں کے لیے افزائشِ نسل کی نرسریوں کا کام انجام دیتی ہیں، مگر آلودہ پانی کی وجہ سے اب یہ نرسریاں ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ </p>

<p>وہاں موجود مقامی افراد کا کہنا تھا کہ پہلے ان چینلز میں اتنی آبی حیات ہوتی تھی کہ مقامی لوگ ان کا شکار کرکے آسانی سے گزر بسر کرسکتے تھے، مگر اب ایسا نہیں ہے۔ </p>

<p>اس حوالے سے عمیر شاہد کا کہنا تھا کہ فضلے میں امونیا اور دیگر مرکبات کی موجودگی کے سبب یہ گندہ پانی پودوں کے لیے کھاد کی خصوصیات تو فراہم کرتا ہے، مگر مینگرووز کے جنگلات میں آبی حیات اس کی وجہ سے ختم ہوتی جارہی ہیں۔ </p>

<p>مقامی آبادی مینگرووز کی لکڑی کو بطورِ ایندھن بھی استعمال کرتی ہے۔ یہ اس درخت کا انسانوں کے لیے تحفہ تو ہے، مگر یہ عمل بذاتِ خود قابلِ تحسین نہیں کیوں کہ مینگرووز کے جنگلات ویسے ہی کٹائی کے نشانے پر ہیں۔ ہونا یہ چاہیے کہ مقامی آبادی کو متبادل ایندھن فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنی ضروریات کے لیے اس کی لکڑی نہ کاٹتے رہیں۔ </p>

<p>عمیر شاہد نے بتایا کہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مینگرووز کے پتوں کو بطور چارہ استعمال کرنے سے مویشیوں کے دودھ میں اضافہ ہوتا ہے، مگر اس حوالے سے کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/04/5ae5c448f2a5a.jpg"  alt="بیک واٹرز میں پانی کی آلودگی اس کے رنگ سے واضح ہے &mdash; فوٹو بشکریہ لکھاری" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">بیک واٹرز میں پانی کی آلودگی اس کے رنگ سے واضح ہے — فوٹو بشکریہ لکھاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/04/5ae5c4493ec46.jpg"  alt="انفیکشن کا شکار ایک درخت &mdash; فوٹو بشکریہ لکھاری" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">انفیکشن کا شکار ایک درخت — فوٹو بشکریہ لکھاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/04/5ae5c4463e422.jpg"  alt="ایک درخت سے پلاسٹک کی تھیلی لٹک رہی ہے &mdash; فوٹو بشکریہ لکھاری" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ایک درخت سے پلاسٹک کی تھیلی لٹک رہی ہے — فوٹو بشکریہ لکھاری</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<h4 id='5ca5b6ee3d45b'>مینگرووز کی شجرکاری کے ورلڈ ریکارڈز کتنے فائدہ مند؟</h4>

<p>ماہرین کے مطابق کسی بھی سونامی یا سمندری طوفان کے نتیجے میں مینگرووز کے جنگلات ساحلی پٹی کے لیے ڈھال کا کردار ادا کرسکتے ہیں، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ گھنے ہوں اور ان کی کٹائی پر پابندی عائد ہو۔ اس سلسلے میں سندھ کے محکمہ جنگلات کی جانب سے سب سے بڑی کوشش 2013ء میں کی گئی تھی جب حکومت اور غیر سرکاری اداروں نے مل کر مینگرووز کے 8 لاکھ سے زائد پودے ایک دن کے اندر لگا کر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں نام درج کروایا تھا۔ اب اپریل کے ہی مہینے میں حکومتِ سندھ نے اپنا ہی ریکارڈ توڑتے ہوئے 11 لاکھ سے اوپر مینگرووز کے پودے دوبارہ لگائے ہیں۔ </p>

<p><strong>جانیے: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1042420">ڈی ایچ اے کے خلاف قیوم آباد کی طویل جنگ</a></strong></p>

<p>مگر پاکستان جیسے ملک میں جہاں ادارہ جاتی مفادات کے درمیان ٹکراؤ عام بات ہے، وہاں مینگرووز پر بھی اس ٹکراؤ کا سایہ منڈلاتا رہتا ہے کیوں کہ درخت محکمہ جنگلات کی ملکیت ہوتے ہیں جبکہ زمین محکمہ ریوینیو کی۔ لہٰذا ان کے درمیان کسی بھی قسم کے عدم اتفاق کا نقصان بالآخر ماحولیات کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اس حوالے سے متعلقہ قوانین میں تبدیلی کی ضرورت ہے تاکہ ایک بار اگر درخت لگا دیے جائیں، تو اس زمین کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ </p>

<p>مگر ماہرین کے مطابق پودے لگانے کے ورلڈ ریکارڈ جہاں خوش آئند ہیں، وہیں ساحلی علاقوں کی ماحولیات اور مینگرووز کے جنگلات کو بچانے کے لیے بڑے پیمانے پر کام کرنے کی ضرورت ہے جس میں انڈس ڈیلٹا کو صاف پانی کی دوبارہ فراہمی، بغیر ٹریٹمنٹ سیوریج کے پانی کو سمندر میں پھینکنے پر پابندی، رہائشی اسکیموں کی تعمیر اور دیگر کمرشل ضروریات کے لیے جنگلات کے کٹاؤ کی روک تھام اور عوام میں اس حوالے سے شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ </p>

<hr />

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/6 w-full  media--right    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/urdu/users/1557.jpg?180310053817"  alt="" /></div>
				
			</figure>
<p>			بلال کریم مغل ڈان کے سابق اسٹاف ممبر ہیں۔  </p></p>

<p>انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں: <a href="https://twitter.com/bilalkmughal">bilalkmughal@</a></p>

<hr />

<p>ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1077750</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Apr 2019 12:49:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بلال کریم مغل)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/04/5ae5c446c8b99.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/04/5ae5c446c8b99.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/04/5ae5c443979bf.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/04/5ae5c443979bf.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/04/5ae5c443dea01.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/04/5ae5c443dea01.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/04/5ae5c44579ada.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/04/5ae5c44579ada.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/04/5ae5c4493ec46.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/04/5ae5c4493ec46.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/04/5ae5c4463e422.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/04/5ae5c4463e422.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/04/5ae5c44751788.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/04/5ae5c44751788.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/04/5ae5c4479fd22.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/04/5ae5c4479fd22.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/04/5ae5c44820dca.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/04/5ae5c44820dca.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/04/5ae5c448f2a5a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/04/5ae5c448f2a5a.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
