<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - KP-FATA</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 16:48:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 16:48:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عدالت نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی ’ڈیل‘ پر حکومت سے جواب طلب کرلیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1078028/</link>
      <description>&lt;p&gt;پشاور ہائی کورٹ کے بینچ نے خیبر ایجنسی کے سابق سرجن ڈاکٹر شکیل آفریدی کو حکومت کی جانب سے امریکا سے خفیہ ڈیل کے تحت بیرون ملک نہ بھیجنے کے احکامات سے متعلق دائر پٹیشن پر وزارت داخلہ سے جواب طلب کرلیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1405458/phc-seeks-govts-reply-to-petition-against-dr-shakil-deal"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس محمد ایوب خان نے درخواست گزار اور سابق اٹارنی جنرل محمد خورشید خان کے اعتراضات سنے جس میں ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو بیرون ملک بھیجنے کے لیے حکومت کا کوئی بھی قدم غیر قانونی اور غیر آئینی ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے سرجن ڈاکٹر شکیل آفریدی کو حالیہ دنوں میں پشاور کی سینٹرل جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا ہے، جنہیں مئی 2001 کو ایبٹ آباد میں جعلی ویکسینیشن مہم کے ذریعے امریکا کو اسامہ بن لادن کی تلاش میں مدد فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1077981/"&gt;’شکیل آفریدی کے معاملے پر کوئی ڈیل نہیں کی جارہی‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ شکیل آفریدی کو دہشت گردوں سے تعلقات کا جرم ثابت ہونے پر مئی 2012 میں 33 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ اس الزام کی شکیل آفریدی نے ہمیشہ تردید کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست گزار نے عدالت سے التجاء کی کہ حکومت کو احکامات جاری کیے جائیں کہ پٹیشن کے خارج ہونے تک ڈاکٹر شکیل آفریدی کو بیرون ملک نہ بھیجا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو بیرون ملک منتقل کیے جانے سے قبل ہائی کورٹ کی اجازت لی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1077663"&gt;شکیل آفریدی جیل سے ’محفوظ مقام‘ پر منتقل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے متعدد مرتبہ وفاقی حکومت سے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ڈاکٹر شکیل آفریدی کو پشاور سے منتقل کرنے کی درخواست کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کی اڈیالہ جیل میں حالیہ منتقلی پر کئی بیانات سامنے آئے، جن میں ان کی بیرون ملک منتقلی کا بیان نمایاں تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست گزار نے پٹیشن گزشتہ سال ڈاکٹر شکیل آفریدی کو بیرون ملک بھیجنے اور امریکا کے حوالے کرنے کی افواہوں کے بعد درج کرائی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں معلوم ہوا کہ وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور نے کہا ہے کہ اگر امریکا درخواست کرے گا تو پاکستان ڈاکٹر شکیل آفریدی کو امریکا کے حوالے کرنے پر غور کرے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست گزار نے الزام لگایا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی نے جعلی ویکسینیشن مہم چلائی اور تمام معلومات امریکا کو فراہم کیں جس کی وجہ سے پاکستان پر حملہ کیا گیا اور اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1001706"&gt;'امریکی دباؤ پر شکیل آفریدی کی رہائی کا امکان نہیں'&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر شکیل ایک مجرم ہیں، جنہوں نے ملک کی تذلیل کی اور حکومت کے پاس مجرم کو بیرون ممالک بھیجنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ ڈاکٹر شکیل کی جانب سے ان کی سزا کے خلاف ایف سی آر کمشنر کی جانب سے فاٹا ٹریبونل میں 3 سال سے پٹیشن زیر التواء ہے جس پر اب تک کوئی واضح کارروائی نہیں کی گئی، تاہم ٹریبونل نے پٹیشن کی سماعت 31 مئی کو طے کی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیبر ایجنسی کی جانب سے بھی فاٹا ٹیبونل میں کمشنر کی پٹیشن کے خلاف درخواست دائر کی گئی جو زیر التواء ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ گزشتہ روز دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے معاملے میں کوئی ڈیل نہیں کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پشاور ہائی کورٹ کے بینچ نے خیبر ایجنسی کے سابق سرجن ڈاکٹر شکیل آفریدی کو حکومت کی جانب سے امریکا سے خفیہ ڈیل کے تحت بیرون ملک نہ بھیجنے کے احکامات سے متعلق دائر پٹیشن پر وزارت داخلہ سے جواب طلب کرلیا۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1405458/phc-seeks-govts-reply-to-petition-against-dr-shakil-deal"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس محمد ایوب خان نے درخواست گزار اور سابق اٹارنی جنرل محمد خورشید خان کے اعتراضات سنے جس میں ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو بیرون ملک بھیجنے کے لیے حکومت کا کوئی بھی قدم غیر قانونی اور غیر آئینی ہوگا۔</p>

<p>خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے سرجن ڈاکٹر شکیل آفریدی کو حالیہ دنوں میں پشاور کی سینٹرل جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا ہے، جنہیں مئی 2001 کو ایبٹ آباد میں جعلی ویکسینیشن مہم کے ذریعے امریکا کو اسامہ بن لادن کی تلاش میں مدد فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1077981/">’شکیل آفریدی کے معاملے پر کوئی ڈیل نہیں کی جارہی‘</a></strong></p>

<p>واضح رہے کہ شکیل آفریدی کو دہشت گردوں سے تعلقات کا جرم ثابت ہونے پر مئی 2012 میں 33 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ اس الزام کی شکیل آفریدی نے ہمیشہ تردید کی۔</p>

<p>درخواست گزار نے عدالت سے التجاء کی کہ حکومت کو احکامات جاری کیے جائیں کہ پٹیشن کے خارج ہونے تک ڈاکٹر شکیل آفریدی کو بیرون ملک نہ بھیجا جائے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو بیرون ملک منتقل کیے جانے سے قبل ہائی کورٹ کی اجازت لی جانی چاہیے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1077663">شکیل آفریدی جیل سے ’محفوظ مقام‘ پر منتقل</a></strong></p>

<p>یاد رہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے متعدد مرتبہ وفاقی حکومت سے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ڈاکٹر شکیل آفریدی کو پشاور سے منتقل کرنے کی درخواست کی تھی۔</p>

<p>ان کی اڈیالہ جیل میں حالیہ منتقلی پر کئی بیانات سامنے آئے، جن میں ان کی بیرون ملک منتقلی کا بیان نمایاں تھا۔</p>

<p>درخواست گزار نے پٹیشن گزشتہ سال ڈاکٹر شکیل آفریدی کو بیرون ملک بھیجنے اور امریکا کے حوالے کرنے کی افواہوں کے بعد درج کرائی گئی تھی۔</p>

<p>انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں معلوم ہوا کہ وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور نے کہا ہے کہ اگر امریکا درخواست کرے گا تو پاکستان ڈاکٹر شکیل آفریدی کو امریکا کے حوالے کرنے پر غور کرے گا۔</p>

<p>درخواست گزار نے الزام لگایا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی نے جعلی ویکسینیشن مہم چلائی اور تمام معلومات امریکا کو فراہم کیں جس کی وجہ سے پاکستان پر حملہ کیا گیا اور اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا گیا تھا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1001706">'امریکی دباؤ پر شکیل آفریدی کی رہائی کا امکان نہیں'</a></strong></p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر شکیل ایک مجرم ہیں، جنہوں نے ملک کی تذلیل کی اور حکومت کے پاس مجرم کو بیرون ممالک بھیجنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں۔</p>

<p>خیال رہے کہ ڈاکٹر شکیل کی جانب سے ان کی سزا کے خلاف ایف سی آر کمشنر کی جانب سے فاٹا ٹریبونل میں 3 سال سے پٹیشن زیر التواء ہے جس پر اب تک کوئی واضح کارروائی نہیں کی گئی، تاہم ٹریبونل نے پٹیشن کی سماعت 31 مئی کو طے کی ہے۔</p>

<p>خیبر ایجنسی کی جانب سے بھی فاٹا ٹیبونل میں کمشنر کی پٹیشن کے خلاف درخواست دائر کی گئی جو زیر التواء ہے۔</p>

<p>یاد رہے کہ گزشتہ روز دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے معاملے میں کوئی ڈیل نہیں کی جارہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1078028</guid>
      <pubDate>Fri, 04 May 2018 15:39:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/05/5aebffcf6df93.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/05/5aebffcf6df93.jpg?0.06447662518128161"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
