<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 17:52:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 17:52:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترکی: حکمراں جماعت نے طیب اردگان کو صدارتی امیدوار نامزد کردیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1078044/</link>
      <description>&lt;p&gt;انقرہ: ترکی کی حکمراں جماعت نے رجب طیب اردگان کو جون میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے ایک مرتبہ پھر نامزد کردیا تاہم اپوزیشن جماعت نے اپنے اُمیدوار کا اعلان تا حال نہیں کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیر اعظم بینالی یلدرم کا کہنا تھا قائد جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (اے کے پی) اور دیگر سیاسی جماعتوں، جن میں نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی (ایم ایچ پی) بھی شامل ہے، کے اتحاد سے رجب طیب اردگان صدارتی امیدوار نامزد ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1077138"&gt;ترکی میں 24 جون 2018 کو قبل از وقت انتخابات کا اعلان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یلدرم کا کہنا تھا کہ ہمارے امیدوار کو طویل عرصے سے عوام کی جانب سے چنا جاتا رہا ہے اس لیے ہمارا امیدوار عوام کا امیدوار ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ 64 سالہ رجب طیب اردگان نے پہلی مرتبہ اگست 2014 میں صدر کا عہدہ سنبھالا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1008158"&gt;ترکی: صدارتی انتخابات میں اردوان کو52فیصد ووٹ حاصل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کے کاغزات نامزدگی کو سپریم الیکشن بورڈ (وائے ایس کے) میں یلدرم اور ایم ایچ پی کے رہنما دیولیت باہچیلی کی جانب سے جمع کرایا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قبل ازیں اے کے پی اور ایم ایچ پی نے رضا مندی کا اظہار کیا تھا وہ پارلیمنٹری اور صدارتی انتخابات میں مشترکہ اُمیدوار کھڑا کریں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1028756"&gt;ترکی: پارلیمانی انتخابات میں حکمراں جماعت کامیاب&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان انتخابات کو نومبر 2019 میں ہونا تھا تاہم طیب اردگان نے گزشتہ مہینے انتخابات 24 جون کو کرانے کا اعلان کرکے عوام کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب طیب اردگان سے مقابلہ کرنے کے لیے اپوزیشن جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) نے 4 جماعتوں کے اتحاد سے امیدوار کا اعلان کرنے کی تیاری کرلی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر ڈان اخبار میں 4 مئی 2018 کو شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انقرہ: ترکی کی حکمراں جماعت نے رجب طیب اردگان کو جون میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے ایک مرتبہ پھر نامزد کردیا تاہم اپوزیشن جماعت نے اپنے اُمیدوار کا اعلان تا حال نہیں کیا ہے۔</p>

<p>وزیر اعظم بینالی یلدرم کا کہنا تھا قائد جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (اے کے پی) اور دیگر سیاسی جماعتوں، جن میں نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی (ایم ایچ پی) بھی شامل ہے، کے اتحاد سے رجب طیب اردگان صدارتی امیدوار نامزد ہوں گے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1077138">ترکی میں 24 جون 2018 کو قبل از وقت انتخابات کا اعلان</a></strong></p>

<p>یلدرم کا کہنا تھا کہ ہمارے امیدوار کو طویل عرصے سے عوام کی جانب سے چنا جاتا رہا ہے اس لیے ہمارا امیدوار عوام کا امیدوار ہے۔</p>

<p>خیال رہے کہ 64 سالہ رجب طیب اردگان نے پہلی مرتبہ اگست 2014 میں صدر کا عہدہ سنبھالا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1008158">ترکی: صدارتی انتخابات میں اردوان کو52فیصد ووٹ حاصل</a></strong></p>

<p>ان کے کاغزات نامزدگی کو سپریم الیکشن بورڈ (وائے ایس کے) میں یلدرم اور ایم ایچ پی کے رہنما دیولیت باہچیلی کی جانب سے جمع کرایا جائے گا۔</p>

<p>قبل ازیں اے کے پی اور ایم ایچ پی نے رضا مندی کا اظہار کیا تھا وہ پارلیمنٹری اور صدارتی انتخابات میں مشترکہ اُمیدوار کھڑا کریں گے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1028756">ترکی: پارلیمانی انتخابات میں حکمراں جماعت کامیاب</a></strong></p>

<p>ان انتخابات کو نومبر 2019 میں ہونا تھا تاہم طیب اردگان نے گزشتہ مہینے انتخابات 24 جون کو کرانے کا اعلان کرکے عوام کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔</p>

<p>دوسری جانب طیب اردگان سے مقابلہ کرنے کے لیے اپوزیشن جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) نے 4 جماعتوں کے اتحاد سے امیدوار کا اعلان کرنے کی تیاری کرلی ہے۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر ڈان اخبار میں 4 مئی 2018 کو شائع ہوئی</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1078044</guid>
      <pubDate>Fri, 04 May 2018 16:17:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/05/5aec38483d9c9.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/05/5aec38483d9c9.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
