<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 21:08:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 23 Jun 2026 21:08:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت: طوفان سے ہلاکتوں کی تعداد 140 سے زائد ہوگئی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1078069/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت کی مختلف ریاستوں میں طوفان اور آندھی سے ہلاکتوں کی تعداد 140 سے زیادہ ہوگئی جبکہ کئی گھر تباہ اور سڑکوں کا نظام درہم برہم  ہوگیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکام کے مطابق اترپردیش، راجستھان، اترکھنڈ اور پنجاب میں طوفان اور آندھی سے 121 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنوبی ریاستوں میں آنے والے طوفان کے نتیجے میں 21 افراد ہلاک ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اترپردیش کی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں 76 افراد ہلاک ہوئے اور راجستھان میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 39 ہے جبکہ خطے میں بجلی اور سٹرکوں کی بحالی کے علاوہ بے گھر ہونے والے شہریوں کی مدد کا کام شروع کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزارت داخلہ نے اترپردیش اور راجستھان میں مزید طوفان کے حوالے سے خبردار کیا جبکہ شہریوں نے پوری رات خوف کے عالم میں گزاری۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی ادیتیاناتھ نے کرناٹکا میں جاری انتخابی مہم کو  مختصر کرکے متاثرہ علاقوں میں پہنچے اور علاقے کا دورہ کیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1077985/"&gt;بھارت: طوفانی بارش اور مٹی کے طوفان سے 125 افراد ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے آگرہ کے رہائشی 40 سالہ منا لال جھا کا کہنا تھا کہ ‘ہم سو نہیں سکے اور خوفزدہ تھے کہ طوفان دوبارہ  نہ آئے، ہم نے تمام احتیاطی تدابیر کی تھی اور ہر چیز کو محفوظ کرلیا تھا لیکن کوئی بھی چیز قدرت کا مقابلہ نہیں کرسکتی’۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/05/5aec7df1e9aa5.jpg"  alt="&amp;mdash;فوٹو: اے پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;—فوٹو: اے پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ آگرہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اضلاع میں سے ایک ہےجہاں ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق کم از کم 43 افراد ہلاک ہوئے جن میں سے 24 کا تعلق آگرہ کے قریبی علاقے خیر گڑھ سے تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ روز ریلیف کمشنر سنجے کمار نے بتایا تھا کہ اترپردیش کے شمالی شہر آگرہ میں تباہی کے اثرات انتہائی خطرناک ہیں جہاں لوگوں کے کچے گھر تیزہواؤں کے باعث منہدم ہو گئے اور بعض مقامات پر پر آسمانی بجلی گرنے کے واقعات بھی پیش آئے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات 130 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والے ہواؤں نے نظام زندگی درہم برہم کردیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ آندھی اور طوفان کے بعد ان علاقوں میں شہریوں کے گھر تباہ ہوگئے ہیں اور سڑکوں کا نطام بھی درہم برہم ہوچکا ہے جگہ جگہ درخت اور پتھروں کے باعث راستے بند ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کئی شہریوں کے گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں اور کئی گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے جبکہ اپنے پیاروں کو کھونے کے بعد ان علاقوں میں ہر طرف سوگ کا سماں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت کی مختلف ریاستوں میں طوفان اور آندھی سے ہلاکتوں کی تعداد 140 سے زیادہ ہوگئی جبکہ کئی گھر تباہ اور سڑکوں کا نظام درہم برہم  ہوگیا۔</p>

<p>حکام کے مطابق اترپردیش، راجستھان، اترکھنڈ اور پنجاب میں طوفان اور آندھی سے 121 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔</p>

<p>جنوبی ریاستوں میں آنے والے طوفان کے نتیجے میں 21 افراد ہلاک ہوگئے۔</p>

<p>اترپردیش کی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں 76 افراد ہلاک ہوئے اور راجستھان میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 39 ہے جبکہ خطے میں بجلی اور سٹرکوں کی بحالی کے علاوہ بے گھر ہونے والے شہریوں کی مدد کا کام شروع کردیا گیا ہے۔</p>

<p>وزارت داخلہ نے اترپردیش اور راجستھان میں مزید طوفان کے حوالے سے خبردار کیا جبکہ شہریوں نے پوری رات خوف کے عالم میں گزاری۔</p>

<p>اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی ادیتیاناتھ نے کرناٹکا میں جاری انتخابی مہم کو  مختصر کرکے متاثرہ علاقوں میں پہنچے اور علاقے کا دورہ کیا۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1077985/">بھارت: طوفانی بارش اور مٹی کے طوفان سے 125 افراد ہلاک</a></strong></p>

<p>اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے آگرہ کے رہائشی 40 سالہ منا لال جھا کا کہنا تھا کہ ‘ہم سو نہیں سکے اور خوفزدہ تھے کہ طوفان دوبارہ  نہ آئے، ہم نے تمام احتیاطی تدابیر کی تھی اور ہر چیز کو محفوظ کرلیا تھا لیکن کوئی بھی چیز قدرت کا مقابلہ نہیں کرسکتی’۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/05/5aec7df1e9aa5.jpg"  alt="&mdash;فوٹو: اے پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">—فوٹو: اے پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>خیال رہے کہ آگرہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اضلاع میں سے ایک ہےجہاں ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق کم از کم 43 افراد ہلاک ہوئے جن میں سے 24 کا تعلق آگرہ کے قریبی علاقے خیر گڑھ سے تھا۔</p>

<p>گزشتہ روز ریلیف کمشنر سنجے کمار نے بتایا تھا کہ اترپردیش کے شمالی شہر آگرہ میں تباہی کے اثرات انتہائی خطرناک ہیں جہاں لوگوں کے کچے گھر تیزہواؤں کے باعث منہدم ہو گئے اور بعض مقامات پر پر آسمانی بجلی گرنے کے واقعات بھی پیش آئے۔ </p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات 130 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والے ہواؤں نے نظام زندگی درہم برہم کردیا ہے۔</p>

<p>خیال رہے کہ آندھی اور طوفان کے بعد ان علاقوں میں شہریوں کے گھر تباہ ہوگئے ہیں اور سڑکوں کا نطام بھی درہم برہم ہوچکا ہے جگہ جگہ درخت اور پتھروں کے باعث راستے بند ہیں۔</p>

<p>کئی شہریوں کے گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں اور کئی گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے جبکہ اپنے پیاروں کو کھونے کے بعد ان علاقوں میں ہر طرف سوگ کا سماں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1078069</guid>
      <pubDate>Sat, 05 May 2018 00:29:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/05/5aecb31572a21.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/05/5aecb31572a21.jpg"/>
        <media:title>—فوٹو:اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
