<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 16:27:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 16:27:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انتخابی نشان کیلئے 15 مئی سے درخواستیں دی جائیں، ای سی پی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1078485/</link>
      <description>&lt;p&gt;الیکشن کمیشن  آف پاکستان (ای سی پی) نے عام انتخابات 2018  میں حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشان کے لیے 15مئی سے درخواستیں دینے کی ہدایت کردی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ای سی پی کی جانب سے سیاسی جماعتوں کو بھجوائے گئے مراسلے میں مختلف شرائط درج کی گئیں جن پر سیاسی جماعتوں کو پورا اترنا چاہیے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مراسلے میں کہا گیا ہے کہ کم از کم 5 فیصد خواتین کو ٹکٹ جاری نہ کرنے والی جماعت کو انتخابی نشان جاری نہیں کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہر اس سیاسی جماعت کو بھی عام انتخابات کے لیے انتخابی نشان نہیں دیا جائے گا جو انٹراپارٹی الیکشن کا سرٹیفکیٹ اور سالانہ گوشوارے جمع نہ کرواتی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1078264/"&gt;الیکشن 2018 کے لیے ڈی آر اوز اور آر اوز تعینات&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;الیکنش کمیشن کے مطابق نئے انتخابی بل کے سیکشن 206، 209، 210، 215 اور 216 پر پورا اترنے والی جماعت کو انتخابی نشان الاٹ ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں سے کہا گیا ہے کہ شرائط پر پورا اترنے والی سیاسی جماعتوں سے 15 مئی سے درخواستیں طلب کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ  الیکشن کمیشن نے رواں ہفتے ہی عام انتخابات 2018 کے لیے ملک بھر میں ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران (ڈی آر اوز)، ریٹرننگ افسران (آر اوز) کو تعینات کرنے کا اعلان کرچکا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران کا تعلق ماتحت عدالتوں سے ہوگا جبکہ چند اضلاع اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) میں ڈی آر اوز ضلعی انتظامیہ سے لیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;الیکشن کمیشن کا مزید کہنا تھا کہ جوڈیشل افسران کی عدم دستیابی کے باعث انتظامیہ سے افسران لیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ای سی پی کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں 131 ڈی آر اوز تعینات کئے گئے ہیں جبکہ فاٹا کی 7 ایجنسیوں میں ڈی آر اوز پولیٹیکل ایجنٹ ہوں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>الیکشن کمیشن  آف پاکستان (ای سی پی) نے عام انتخابات 2018  میں حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشان کے لیے 15مئی سے درخواستیں دینے کی ہدایت کردی۔</p>

<p>ای سی پی کی جانب سے سیاسی جماعتوں کو بھجوائے گئے مراسلے میں مختلف شرائط درج کی گئیں جن پر سیاسی جماعتوں کو پورا اترنا چاہیے۔ </p>

<p>مراسلے میں کہا گیا ہے کہ کم از کم 5 فیصد خواتین کو ٹکٹ جاری نہ کرنے والی جماعت کو انتخابی نشان جاری نہیں کیا جائے گا۔</p>

<p>ہر اس سیاسی جماعت کو بھی عام انتخابات کے لیے انتخابی نشان نہیں دیا جائے گا جو انٹراپارٹی الیکشن کا سرٹیفکیٹ اور سالانہ گوشوارے جمع نہ کرواتی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1078264/">الیکشن 2018 کے لیے ڈی آر اوز اور آر اوز تعینات</a></strong></p>

<p>الیکنش کمیشن کے مطابق نئے انتخابی بل کے سیکشن 206، 209، 210، 215 اور 216 پر پورا اترنے والی جماعت کو انتخابی نشان الاٹ ہوگا۔</p>

<p>انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں سے کہا گیا ہے کہ شرائط پر پورا اترنے والی سیاسی جماعتوں سے 15 مئی سے درخواستیں طلب کی جائیں گی۔</p>

<p>واضح رہے کہ  الیکشن کمیشن نے رواں ہفتے ہی عام انتخابات 2018 کے لیے ملک بھر میں ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران (ڈی آر اوز)، ریٹرننگ افسران (آر اوز) کو تعینات کرنے کا اعلان کرچکا ہے۔</p>

<p>الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران کا تعلق ماتحت عدالتوں سے ہوگا جبکہ چند اضلاع اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) میں ڈی آر اوز ضلعی انتظامیہ سے لیے گئے ہیں۔</p>

<p>الیکشن کمیشن کا مزید کہنا تھا کہ جوڈیشل افسران کی عدم دستیابی کے باعث انتظامیہ سے افسران لیے گئے ہیں۔</p>

<p>ای سی پی کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں 131 ڈی آر اوز تعینات کئے گئے ہیں جبکہ فاٹا کی 7 ایجنسیوں میں ڈی آر اوز پولیٹیکل ایجنٹ ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1078485</guid>
      <pubDate>Sat, 12 May 2018 01:11:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فہد چوہدری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/05/5af5f7c6c1bb2.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/05/5af5f7c6c1bb2.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
