<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Africa</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 02:11:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 02:11:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کینیا: ڈیم ٹوٹنے سے سیلاب کے باعث 44 افراد ہلاک
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1078519/</link>
      <description>&lt;p&gt;نیروبی: ہفتوں سے جاری شدید بارشوں سے جنوبی کینیا کے علاقے سولائی میں قائم ڈیم ٹوٹ گیا، جس کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے آس پاس کے علاقوں میں شدید تباہی پھیل گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈیم ٹوٹنے سے سیلاب کی زد میں آنے والے 2 گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گئے جس کے نتیجے میں 500 خاندان بے گھر ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق کینیا کے مقامی اخبار نے بتایا کہ ڈیم ٹوٹنے کے سبب بننے والی پانی کی لہریں 1.5 میٹر بلند اور 500 میٹر طویل تھیں، کینیا کے حکام کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ ڈیم غیر قانونی طور پر ایک فارم ہاؤس کے مالک نے بنایا تھا، ڈیم ٹوٹنے کے سبب تقریباً 70 لاکھ لیٹر پانی کا اخراج ہوا ،واقعے کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے کینیا ملٹری اور ریڈ کراس کے رضاکاروں کا کہنا تھا کہ انہوں نے پانی کی سطح پر آنے والی لاشوں کو نکال لیا تھا، لیکن اب مزید لاشوں کی تلاش کے لیے کیچڑ میں کھدائی کی جائے گی، 40 افراد تاحال لاپتہ ہیں، تفصیلات میں یہ بات سامنے آئی کہ کچھ دن پہلے ہی مقامی افراد کی جانب سے ڈیم کی دیواروں میں دراڑیں پڑنے کی شکایت کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نیروبی: ہفتوں سے جاری شدید بارشوں سے جنوبی کینیا کے علاقے سولائی میں قائم ڈیم ٹوٹ گیا، جس کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے آس پاس کے علاقوں میں شدید تباہی پھیل گئی۔</p>

<p>ڈیم ٹوٹنے سے سیلاب کی زد میں آنے والے 2 گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گئے جس کے نتیجے میں 500 خاندان بے گھر ہوگئے۔</p>

<p>برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق کینیا کے مقامی اخبار نے بتایا کہ ڈیم ٹوٹنے کے سبب بننے والی پانی کی لہریں 1.5 میٹر بلند اور 500 میٹر طویل تھیں، کینیا کے حکام کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ ڈیم غیر قانونی طور پر ایک فارم ہاؤس کے مالک نے بنایا تھا، ڈیم ٹوٹنے کے سبب تقریباً 70 لاکھ لیٹر پانی کا اخراج ہوا ،واقعے کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔</p>

<p>اس حوالے سے کینیا ملٹری اور ریڈ کراس کے رضاکاروں کا کہنا تھا کہ انہوں نے پانی کی سطح پر آنے والی لاشوں کو نکال لیا تھا، لیکن اب مزید لاشوں کی تلاش کے لیے کیچڑ میں کھدائی کی جائے گی، 40 افراد تاحال لاپتہ ہیں، تفصیلات میں یہ بات سامنے آئی کہ کچھ دن پہلے ہی مقامی افراد کی جانب سے ڈیم کی دیواروں میں دراڑیں پڑنے کی شکایت کی گئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1078519</guid>
      <pubDate>Sat, 12 May 2018 16:40:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/05/5af6bc36d0bd4.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/05/5af6bc36d0bd4.jpg"/>
        <media:title>کینیا کے فوجی، امدادی کارروائیوں کے دوران کیچڑ میں لاشیں تلاش کررہے ہیں–فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/05/5af6bc371b3ec.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/05/5af6bc371b3ec.jpg"/>
        <media:title>ڈیم ٹوٹنے کے باعث 2 گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گئے، لوگوں کو محفوظ مقام کی جانب منتقل کیا جارہا ہے— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/05/5af6bc36d3581.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/05/5af6bc36d3581.jpg"/>
        <media:title>دو خواتین سیلاب کے باعث تباہ شدہ گھر کے ملبے سے ضروری اشیا اکھٹی کررہی ہیں—فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/05/5af6bc373f324.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/05/5af6bc373f324.jpg"/>
        <media:title>سیلاب سے تباہ حال راستوں اور کیچڑ  سے گزر تے ہوئے لوگ اپنا سامان منتقل کررہے ہیں—فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/05/5af6bc36c36e5.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/05/5af6bc36c36e5.jpg"/>
        <media:title>ایک خاتون اپنی پشت پر بچے کو باندھے محفوظ مقام کی جانب جارہی ہے، تصویر میں تباہی صاف دیکھی جاسکتی ہے—فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/05/5af6bc382c755.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/05/5af6bc382c755.jpg"/>
        <media:title>ڈیم ٹوٹنے سے آنے والے سیلاب کی لہریں 1.5 میٹر بلند تھیں، جو گھروں کے ساتھ لوگوں کو بھی بہا کر لے گئیں—فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/05/5af6bc3936583.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/05/5af6bc3936583.jpg"/>
        <media:title>رضاکار اور کینیاکے فوجی تباہ شدہ فصلوں میں لاشیں تلاش کررہے ہیں —فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/05/5af6bc381c0f1.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/05/5af6bc381c0f1.jpg"/>
        <media:title>ایک شخص اپنے گھر کے تباہ شدہ حصے میں حسرت و یاس کی تصویر بنے کھڑا ہے—فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
