<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 15:15:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 15:15:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>2018ء کے انتخابات ’الیکٹیبلز‘ کے لیے مشکل ثابت کیوں ہوسکتے ہیں؟
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1078909/19may2018-independents-as-kingmakers-tahir-mehdi</link>
      <description>&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2016/10/580d04e14e44e.jpg"  alt="لکھاری الیکشن اور گورننس میں دلچسپی رکھنے والے آزاد محقق ہیں" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;لکھاری الیکشن اور گورننس میں دلچسپی رکھنے والے آزاد محقق ہیں&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے شریک چئیرمین آصف زرداری نے حال ہی میں کہا ہے کہ عام انتخابات میں جیتنے والے آزاد امیدوار اگلی حکومت کے قیام میں اہم کردار ادا کریں گے۔ نظریاتی طور پر دیکھیں تو یہ بات اس وقت درست ہوگی جب 2018ء میں مینڈیٹ بڑی جماعتوں کے درمیان متوازن طور پر تقسیم ہو، بے مثال تعداد میں آزاد امیدوار جیتیں اور پھر ان کی اکثریت جیتنے والی سیاسی جماعت میں سے کسی ایک میں شامل ہوجائے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ سب مفروضے ہیں اور سب ایک چیز کے گرد گھومتے ہیں، اور وہ ہے الیکٹیبلز، یعنی قابلِ انتخاب افراد اور جماعتوں کے درمیان تعلقات۔ چنانچہ سوال یہ ہے کہ ایک الیکٹیبل کب اور کیسے یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اسے کسی جماعت کے پلیٹ فارم کے بجائے آزاد حیثیت میں انتخاب لڑنا ہے؟ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہمارے انتخابی نظام میں کامیاب آزاد امیدواروں کو ابتدائی نتائج کے اعلان کے بعد کسی بھی جماعت میں شمولیت کی اجازت ہوتی ہے۔ حیرت کی بات نہیں کہ وہ اس جماعت میں شامل ہوتے ہیں جو حکومت بنانے والی ہوتی ہے۔ 2013ء میں آزاد امیدوار (فاٹا کو چھوڑ کر) 22 حلقوں میں کامیاب ہوئے جن میں سے صرف 3 کے علاوہ باقی سب نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی۔ 2008ء میں جیتنے والے 19 کامیاب آزاد امیدواروں میں سے 9 نے پی پی پی میں جبکہ 2002ء میں 18 میں سے 16 کامیاب آزاد امیدواروں نے مسلم لیگ (ق) میں شمولیت اختیار کی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1077747/29apr2018-seats-that-change-loyalties-tahir-mehdi"&gt;الیکشن قریب آتے ہی پارٹیاں بدلنے کی حقیقی وجہ؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اکثریتی جماعتوں کے لیے یہ رحمت ثابت ہوتے ہیں کیوں کہ اس سے نہ صرف جماعت کی نشستوں میں اضافہ ہوجاتا ہے، بلکہ اسے ملنے والی مخصوص نشستوں کی تعداد بھی بڑھ جاتی ہے۔ ہر 9 عمومی نشستیں جیتنے پر ایک جماعت کو خواتین کے لیے 2 مخصوص نشستیں ملتی ہیں۔ چنانچہ 2013ء میں جب 19 کامیاب آزاد امیدواروں نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی، تو جماعت کو خواتین کے لیے مخصوص 4 نشستیں اور مل گئیں اور یوں اس کی نشستوں کی تعداد میں کُل 23 نشستوں کا اضافہ ہوگیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ 2 انتخابات میں کامیاب آزاد امیدواروں نے صرف اس جماعت کو مضبوط کرنے کا کام کیا ہے جس کے پاس پہلے سے ہی حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ نشستیں موجود تھیں۔ مگر 2002ء میں اگر آزاد امیدوار مسلم لیگ (ق) میں شامل نہ ہوتے تو جماعت کو اکثریت حاصل نہ ہوپاتی۔ تو کیا کامیاب آزاد امیدوار 2018ء میں وہی فیصلہ کن کردار ادا کریں گے جیسا کہ زرداری صاحب سمجھ رہے ہیں؟ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;2013ء میں آزاد امیدوار قومی اسمبلی کے ہر پانچویں حلقے میں یا تو فاتح تھے یا پھر دوسرے نمبر پر۔ حقیقی اعداد و شمار میں 2013ء میں ایسے 56 حلقے تھے اور اس سے پہلے کے 2 انتخابات میں بالترتیب 46 اور 40۔ مگر اس اہم موجودگی کے باوجود حلقوں، الیکٹیبلز اور آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑنے کے ان کے فیصلے کے درمیان کوئی واضح تعلق موجود نہیں ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئیں کچھ حقائق کا جائزہ لیں: صرف 2 ایسے حلقے ہیں جنہوں نے گزشتہ 3 میں سے 2 انتخابات میں ایک ہی آزاد امیدوار کو کامیابی دلوائی۔ ثمینہ بھروانہ 2002ء اور 2008ء میں این اے 90 جھنگ 5 سے آزاد امیدوار کے طور پر کامیاب ہوئیں اور علی محمد مہر انہی انتخابات میں این اے 201 گھوٹکی 2 سے آزاد امیدوار کے طور پر کامیاب ہوئے۔ مہر 2013ء میں بھی کامیاب ہوئے مگر پی پی پی کے ٹکٹ پر، جبکہ بھروانہ 2013ء میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر انتخابات ہار گئیں۔ اس کے علاوہ قومی اسمبلی کی صرف 4 دیگر نشستیں ایسی ہیں جنہوں نے گزشتہ 3 میں سے 2 انتخابات میں آزاد امیدوار کو جتوایا، مگر ہر دفعہ کامیاب امیدوار پہلے سے مختلف تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چنانچہ یہ واضح ہے کہ شاید ہی ایسے کوئی حلقے ہیں جنہیں آزاد امیدواروں کو جتوانے کی 'عادت' ہے، اور ایسے کوئی بھی الیکٹیبلز نہیں ہیں، جو پارٹی سے الحاق کے بغیر یقینی طور پر انتخاب جیت سکتے ہوں۔ الیکٹیبلز آزاد امیدوار کے طور پر لڑنے یا نہ لڑنے کا فیصلہ کسی بھی انتخابات میں سیاسی ماحول کو دیکھ کر ہی کرتے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تو وہ یہ فیصلہ کیسے لیتے ہیں؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کے لیے یہ اہم فیصلہ مضبوط عوامی تاثر (یا مقامی زبان میں 'ہوا') کی وجہ سے آسان ہوجاتا ہے کہ کون سی سیاسی جماعت اگلی حکومت بنائے گی۔ پھر وہ اس جماعت کا ٹکٹ لینے کے لیے قطار میں لگ جاتے ہیں اور صرف تب آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑتے ہیں جب انہیں وہاں سے منع کردیا جائے، چنانچہ ان کے پاس اس جماعت میں شمولیت کا راستہ اس صورت میں کھلا رہتا ہے جب ممکنہ طور پر وہ فرد اور وہ جماعت، دونوں ہی انتخابات میں کامیاب ہوجائیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیے: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1078802"&gt;’اسٹیبلشمنٹ لوگوں کو ایک مخصوص جماعت میں شمولیت کیلئے مجبور کررہی ہے‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لیکن اگر ’ہوا‘ کسی مخصوص سمت میں نہ چل رہی ہو، تو الیکٹیبلز خود کو کسی مخصوص سیاسی جماعت کے ساتھ وابستہ کرنے میں ہچکچاتے ہوئے آزاد امیدوار کے طور پر لڑنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ بظاہر موجودہ حالات میں ان کے پاس ایسا کرنے کے لیے اچھی وجوہات موجود ہیں کیوں کہ سیاسی پنڈتوں نے ایک تقسیم شدہ مینڈیٹ اور ایک معلق پارلیمنٹ کی پیشگوئی کی ہے، اور کوئی بھی الیکٹیبل شکست خوردہ جماعت کے ساتھ وابستہ نہیں ہونا چاہے گا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پھر کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جن پر اندرونی اختلافات کی وجہ سے جماعت کی نظرِ کرم ختم ہوچکی ہے۔ نئی حلقہ بندیوں کی وجہ سے بھی الیکٹیبلز اپنے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں۔ پرانے حلقوں کے کچھ حصوں کو ملا کر نئے حلقے بنانے کی وجہ سے پچھلی بار کے کامیاب امیدوار ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں، بھلے ہی وہ ایک ہی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں۔ اب چوں کہ ان کی جماعت ان میں سے صرف ایک کو ٹکٹ دے گی، اس لیے دوسرے کو بہرحال آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑنا ہوگا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کئی الیکٹیبلز، خاص طور پر مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والوں کو طاقت کے دوسرے مراکز بشمول اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ کچھ گارنٹیوں کے بدلے میں وفاداریاں تبدیل کرلیں۔ حکمران جماعت کی انتخابی مہم کو ختمِ نبوت کے مذہبی گروہوں کی جانب سے تشدد کا بھی خطرہ ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ سے جماعت کے کئی الیکٹیبلز اگلے انتخابات آزاد حیثیت میں لڑیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;الیکٹیبلز ماہرین کی پیشگوئیوں اور 'خفیہ مشوروں' کو اہمیت دیتے ہیں مگر وہ ’ہوا‘ کی سمت یا عوامی رجحان کے اپنے ذاتی تجزیوں کو بالکل نظرانداز نہیں کرتے۔ آزاد امیدوار کے طور پر لڑنا کبھی بھی ان کا پہلا انتخاب نہیں ہوتا، کیوں کہ 'پارٹی ووٹ' سے ہاتھ دھونا وہ خطرہ ہے جو کہ آخر میں انہیں بھاری پڑسکتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جانیے: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1075388/delimitation-paradox-tahir-mehdi"&gt;نئی حلقہ بندیاں متنازع کیوں ہیں؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;2013ء میں آزاد امیدواروں کی جیتی گئی نشستوں کا اوسط مارجن 13,201 تھا جبکہ آزاد امیدواروں کے خلاف جماعتی امیدواروں کا 32,758 تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آزاد امیدواروں کے لیے جماعت کے نامزد کردہ امیدواروں کے مقابلے میں جیتنا زیادہ مشکل تھا۔ مگر 2002ء میں دونوں گروہوں کی جیت کا مارجن ایک جیسا ہی تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے معلوم ہوتا ہے کہ 2002ء میں بھلے ہی کسی الیکٹیبل نے جماعت کے ٹکٹ پر انتخاب لڑا ہو یا آزاد حیثیت میں، اس سے ان کے مقابلے کی صلاحیت پر کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ مگر جب اگلے 2 انتخابات میں جماعتی سیاست مضبوط ہوئی، تو جماعت کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنے کے واضح فوائد سامنے آئے۔ اشارے یہ کہتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہمات اس دفعہ اور بھی زیادہ تند و تیز ہوں گی، بالخصوص پنجاب میں۔ اس کی وجہ سے جماعتوں کے ووٹ بینکس میں اضافہ ہوگا اور آزاد الیکٹیبلز کی شخصی دھاک کافی کمزور پڑجائے گی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چنانچہ بھلے ہی الیکٹیبلز کی ایک بڑی تعداد آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑے، یا ایسا کرنے کے لیے مجبور کردیا جائے، مگر اس کا ضروری مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ بڑی تعداد میں کامیاب بھی ہوں گے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس صورتحال میں سینیٹ انتخابات میں جادو چلانے والے زرداری صاحب کے جوڑ توڑ کے ہنر اگلی حکومت بنانے میں شاید کام نہ آئیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ مضمون ڈان اخبار میں 19 مئی 2018 کو شائع ہوا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1408637/independents-as-kingmakers"&gt;انگلش میں پڑھیں۔&lt;/a&gt; &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2016/10/580d04e14e44e.jpg"  alt="لکھاری الیکشن اور گورننس میں دلچسپی رکھنے والے آزاد محقق ہیں" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">لکھاری الیکشن اور گورننس میں دلچسپی رکھنے والے آزاد محقق ہیں</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے شریک چئیرمین آصف زرداری نے حال ہی میں کہا ہے کہ عام انتخابات میں جیتنے والے آزاد امیدوار اگلی حکومت کے قیام میں اہم کردار ادا کریں گے۔ نظریاتی طور پر دیکھیں تو یہ بات اس وقت درست ہوگی جب 2018ء میں مینڈیٹ بڑی جماعتوں کے درمیان متوازن طور پر تقسیم ہو، بے مثال تعداد میں آزاد امیدوار جیتیں اور پھر ان کی اکثریت جیتنے والی سیاسی جماعت میں سے کسی ایک میں شامل ہوجائے۔ </p>

<p>یہ سب مفروضے ہیں اور سب ایک چیز کے گرد گھومتے ہیں، اور وہ ہے الیکٹیبلز، یعنی قابلِ انتخاب افراد اور جماعتوں کے درمیان تعلقات۔ چنانچہ سوال یہ ہے کہ ایک الیکٹیبل کب اور کیسے یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اسے کسی جماعت کے پلیٹ فارم کے بجائے آزاد حیثیت میں انتخاب لڑنا ہے؟ </p>

<p>ہمارے انتخابی نظام میں کامیاب آزاد امیدواروں کو ابتدائی نتائج کے اعلان کے بعد کسی بھی جماعت میں شمولیت کی اجازت ہوتی ہے۔ حیرت کی بات نہیں کہ وہ اس جماعت میں شامل ہوتے ہیں جو حکومت بنانے والی ہوتی ہے۔ 2013ء میں آزاد امیدوار (فاٹا کو چھوڑ کر) 22 حلقوں میں کامیاب ہوئے جن میں سے صرف 3 کے علاوہ باقی سب نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی۔ 2008ء میں جیتنے والے 19 کامیاب آزاد امیدواروں میں سے 9 نے پی پی پی میں جبکہ 2002ء میں 18 میں سے 16 کامیاب آزاد امیدواروں نے مسلم لیگ (ق) میں شمولیت اختیار کی۔ </p>

<p><strong>پڑھیے: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1077747/29apr2018-seats-that-change-loyalties-tahir-mehdi">الیکشن قریب آتے ہی پارٹیاں بدلنے کی حقیقی وجہ؟</a></strong></p>

<p>اکثریتی جماعتوں کے لیے یہ رحمت ثابت ہوتے ہیں کیوں کہ اس سے نہ صرف جماعت کی نشستوں میں اضافہ ہوجاتا ہے، بلکہ اسے ملنے والی مخصوص نشستوں کی تعداد بھی بڑھ جاتی ہے۔ ہر 9 عمومی نشستیں جیتنے پر ایک جماعت کو خواتین کے لیے 2 مخصوص نشستیں ملتی ہیں۔ چنانچہ 2013ء میں جب 19 کامیاب آزاد امیدواروں نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی، تو جماعت کو خواتین کے لیے مخصوص 4 نشستیں اور مل گئیں اور یوں اس کی نشستوں کی تعداد میں کُل 23 نشستوں کا اضافہ ہوگیا۔ </p>

<p>گزشتہ 2 انتخابات میں کامیاب آزاد امیدواروں نے صرف اس جماعت کو مضبوط کرنے کا کام کیا ہے جس کے پاس پہلے سے ہی حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ نشستیں موجود تھیں۔ مگر 2002ء میں اگر آزاد امیدوار مسلم لیگ (ق) میں شامل نہ ہوتے تو جماعت کو اکثریت حاصل نہ ہوپاتی۔ تو کیا کامیاب آزاد امیدوار 2018ء میں وہی فیصلہ کن کردار ادا کریں گے جیسا کہ زرداری صاحب سمجھ رہے ہیں؟ </p>

<p>2013ء میں آزاد امیدوار قومی اسمبلی کے ہر پانچویں حلقے میں یا تو فاتح تھے یا پھر دوسرے نمبر پر۔ حقیقی اعداد و شمار میں 2013ء میں ایسے 56 حلقے تھے اور اس سے پہلے کے 2 انتخابات میں بالترتیب 46 اور 40۔ مگر اس اہم موجودگی کے باوجود حلقوں، الیکٹیبلز اور آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑنے کے ان کے فیصلے کے درمیان کوئی واضح تعلق موجود نہیں ہے۔ </p>

<p>آئیں کچھ حقائق کا جائزہ لیں: صرف 2 ایسے حلقے ہیں جنہوں نے گزشتہ 3 میں سے 2 انتخابات میں ایک ہی آزاد امیدوار کو کامیابی دلوائی۔ ثمینہ بھروانہ 2002ء اور 2008ء میں این اے 90 جھنگ 5 سے آزاد امیدوار کے طور پر کامیاب ہوئیں اور علی محمد مہر انہی انتخابات میں این اے 201 گھوٹکی 2 سے آزاد امیدوار کے طور پر کامیاب ہوئے۔ مہر 2013ء میں بھی کامیاب ہوئے مگر پی پی پی کے ٹکٹ پر، جبکہ بھروانہ 2013ء میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر انتخابات ہار گئیں۔ اس کے علاوہ قومی اسمبلی کی صرف 4 دیگر نشستیں ایسی ہیں جنہوں نے گزشتہ 3 میں سے 2 انتخابات میں آزاد امیدوار کو جتوایا، مگر ہر دفعہ کامیاب امیدوار پہلے سے مختلف تھا۔ </p>

<p>چنانچہ یہ واضح ہے کہ شاید ہی ایسے کوئی حلقے ہیں جنہیں آزاد امیدواروں کو جتوانے کی 'عادت' ہے، اور ایسے کوئی بھی الیکٹیبلز نہیں ہیں، جو پارٹی سے الحاق کے بغیر یقینی طور پر انتخاب جیت سکتے ہوں۔ الیکٹیبلز آزاد امیدوار کے طور پر لڑنے یا نہ لڑنے کا فیصلہ کسی بھی انتخابات میں سیاسی ماحول کو دیکھ کر ہی کرتے ہیں۔ </p>

<p><strong>تو وہ یہ فیصلہ کیسے لیتے ہیں؟</strong></p>

<p>ان کے لیے یہ اہم فیصلہ مضبوط عوامی تاثر (یا مقامی زبان میں 'ہوا') کی وجہ سے آسان ہوجاتا ہے کہ کون سی سیاسی جماعت اگلی حکومت بنائے گی۔ پھر وہ اس جماعت کا ٹکٹ لینے کے لیے قطار میں لگ جاتے ہیں اور صرف تب آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑتے ہیں جب انہیں وہاں سے منع کردیا جائے، چنانچہ ان کے پاس اس جماعت میں شمولیت کا راستہ اس صورت میں کھلا رہتا ہے جب ممکنہ طور پر وہ فرد اور وہ جماعت، دونوں ہی انتخابات میں کامیاب ہوجائیں۔ </p>

<p><strong>مزید پڑھیے: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1078802">’اسٹیبلشمنٹ لوگوں کو ایک مخصوص جماعت میں شمولیت کیلئے مجبور کررہی ہے‘</a></strong></p>

<p>لیکن اگر ’ہوا‘ کسی مخصوص سمت میں نہ چل رہی ہو، تو الیکٹیبلز خود کو کسی مخصوص سیاسی جماعت کے ساتھ وابستہ کرنے میں ہچکچاتے ہوئے آزاد امیدوار کے طور پر لڑنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ بظاہر موجودہ حالات میں ان کے پاس ایسا کرنے کے لیے اچھی وجوہات موجود ہیں کیوں کہ سیاسی پنڈتوں نے ایک تقسیم شدہ مینڈیٹ اور ایک معلق پارلیمنٹ کی پیشگوئی کی ہے، اور کوئی بھی الیکٹیبل شکست خوردہ جماعت کے ساتھ وابستہ نہیں ہونا چاہے گا۔ </p>

<p>پھر کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جن پر اندرونی اختلافات کی وجہ سے جماعت کی نظرِ کرم ختم ہوچکی ہے۔ نئی حلقہ بندیوں کی وجہ سے بھی الیکٹیبلز اپنے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں۔ پرانے حلقوں کے کچھ حصوں کو ملا کر نئے حلقے بنانے کی وجہ سے پچھلی بار کے کامیاب امیدوار ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں، بھلے ہی وہ ایک ہی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں۔ اب چوں کہ ان کی جماعت ان میں سے صرف ایک کو ٹکٹ دے گی، اس لیے دوسرے کو بہرحال آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑنا ہوگا۔ </p>

<p>یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کئی الیکٹیبلز، خاص طور پر مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والوں کو طاقت کے دوسرے مراکز بشمول اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ کچھ گارنٹیوں کے بدلے میں وفاداریاں تبدیل کرلیں۔ حکمران جماعت کی انتخابی مہم کو ختمِ نبوت کے مذہبی گروہوں کی جانب سے تشدد کا بھی خطرہ ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ سے جماعت کے کئی الیکٹیبلز اگلے انتخابات آزاد حیثیت میں لڑیں۔ </p>

<p>الیکٹیبلز ماہرین کی پیشگوئیوں اور 'خفیہ مشوروں' کو اہمیت دیتے ہیں مگر وہ ’ہوا‘ کی سمت یا عوامی رجحان کے اپنے ذاتی تجزیوں کو بالکل نظرانداز نہیں کرتے۔ آزاد امیدوار کے طور پر لڑنا کبھی بھی ان کا پہلا انتخاب نہیں ہوتا، کیوں کہ 'پارٹی ووٹ' سے ہاتھ دھونا وہ خطرہ ہے جو کہ آخر میں انہیں بھاری پڑسکتا ہے۔ </p>

<p><strong>جانیے: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1075388/delimitation-paradox-tahir-mehdi">نئی حلقہ بندیاں متنازع کیوں ہیں؟</a></strong></p>

<p>2013ء میں آزاد امیدواروں کی جیتی گئی نشستوں کا اوسط مارجن 13,201 تھا جبکہ آزاد امیدواروں کے خلاف جماعتی امیدواروں کا 32,758 تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آزاد امیدواروں کے لیے جماعت کے نامزد کردہ امیدواروں کے مقابلے میں جیتنا زیادہ مشکل تھا۔ مگر 2002ء میں دونوں گروہوں کی جیت کا مارجن ایک جیسا ہی تھا۔ </p>

<p>اس سے معلوم ہوتا ہے کہ 2002ء میں بھلے ہی کسی الیکٹیبل نے جماعت کے ٹکٹ پر انتخاب لڑا ہو یا آزاد حیثیت میں، اس سے ان کے مقابلے کی صلاحیت پر کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ مگر جب اگلے 2 انتخابات میں جماعتی سیاست مضبوط ہوئی، تو جماعت کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنے کے واضح فوائد سامنے آئے۔ اشارے یہ کہتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہمات اس دفعہ اور بھی زیادہ تند و تیز ہوں گی، بالخصوص پنجاب میں۔ اس کی وجہ سے جماعتوں کے ووٹ بینکس میں اضافہ ہوگا اور آزاد الیکٹیبلز کی شخصی دھاک کافی کمزور پڑجائے گی۔ </p>

<p>چنانچہ بھلے ہی الیکٹیبلز کی ایک بڑی تعداد آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑے، یا ایسا کرنے کے لیے مجبور کردیا جائے، مگر اس کا ضروری مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ بڑی تعداد میں کامیاب بھی ہوں گے۔ </p>

<p>اس صورتحال میں سینیٹ انتخابات میں جادو چلانے والے زرداری صاحب کے جوڑ توڑ کے ہنر اگلی حکومت بنانے میں شاید کام نہ آئیں۔ </p>

<p>یہ مضمون ڈان اخبار میں 19 مئی 2018 کو شائع ہوا۔ </p>

<p><a href="https://www.dawn.com/news/1408637/independents-as-kingmakers">انگلش میں پڑھیں۔</a> </p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1078909</guid>
      <pubDate>Sat, 19 May 2018 16:04:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر مہدی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/05/5affe3cf0e100.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/05/5affe3cf0e100.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
