<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 03:30:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 03:30:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پھولوں کی وادی ’پھلاوئی‘
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1078913/pholon-ki-waadi-phulawai-nasr-ahmed-bhatti</link>
      <description>&lt;ul class="story__toc" style="display:none;"&gt;&lt;li class='story__toc__item'&gt;&lt;a href='#&amp;lt;div-style=-&amp;quot;color:-#000000;-text-align:-center;&amp;quot;-markdown=&amp;quot;1&amp;quot;&gt;پھولوں-کی-وادی-’پھلاوئی‘&amp;lt;/div&gt;5b094276b3dcf'&gt;&lt;div style= "color: #000000; text-align: center;" markdown="1"&gt;پھولوں کی وادی ’پھلاوئی‘&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;/li&gt;&lt;/ul&gt;&lt;h1 id="&amp;lt;div-style=-&amp;quot;color:-#000000;-text-align:-center;&amp;quot;-markdown=&amp;quot;1&amp;quot;&gt;پھولوں-کی-وادی-’پھلاوئی‘&amp;lt;/div&gt;5b094276b3dcf"&gt;&lt;div style= "color: #000000; text-align: center;" markdown="1"&gt;پھولوں کی وادی ’پھلاوئی‘&lt;/div&gt;&lt;/h1&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/authors/2180/nasr-ahmed-bhatti"&gt;نصر احمد بھٹی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;2002ء میں مظفرآباد سے تقریباً 7 گھنٹوں کی تھکا دینے والی مسافت کے بعد جب ہم پہلی مرتبہ آٹھمقام پہنچے تو لائن آف کنٹرول پر دوسری طرف سے ہونے والی گولہ باری نے آٹھمقام شہر کو شدید متاثر کیا تھا جس کی وجہ سے ہم آگے نہیں جاسکے تھے، لیکن واپسی پر یہ ارادہ کرکے نکلے تھے کہ جلد دوبارہ واپس آئیں گے اور پھر تب سے یعنی گزشتہ 16 برسوں سے وادئ نیلم سے نین لڑائے رکھے ہیں۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;2015ء میں تاؤبٹ سے کیل کا پیدل سفر کیا۔ اس دوران مقامی لوگوں کی مدد کا یہ فائدہ ہوا کہ کئی چھوٹے بڑے گاؤں اور ندی نالوں اور سیاحوں کی نظروں سے اوجھل رہنے والی جھیلوں کا مفصل تعارف ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وادئ نیلم میں آنے والے سیاح عام طور پر وادی کے دامن میں بہتے دریائے نیلم اور وادی میں دستیاب واحد سڑک کے ذریعے تاؤبٹ تک آکر اپنی سیاحت کا اختتام کردیتے ہیں۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ وہاں سے آگے قدرت کے وہ راز چھپے ہیں جنہیں ایک بار دیکھنے والا کبھی نہ بھول پائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کیل اور تاؤبٹ کے درمیان تحصیل شاردا میں ‘پھلاوئی‘ نامی ایک خوبصورت گاؤں ہے، جو مظفرآباد سے تقریباً 200 کلومیٹر دور ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’پھلاوئی‘ نام 2 لفظوں، یعنی پھول اور وئی کا مرکب ہے، جس کے معنی پھول اور پانی کے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/05/5b00096db3b07.jpg"  alt="پھلاوئی کا مرکزی بازار &amp;mdash; تصویر عبد النوربھٹی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;پھلاوئی کا مرکزی بازار — تصویر عبد النوربھٹی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/05/5b000a4c9eb95.jpg"  alt="شیشہ کور گھنے بادلوں کے نرغے میں&amp;mdash; تصویر عبد النوربھٹی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شیشہ کور گھنے بادلوں کے نرغے میں— تصویر عبد النوربھٹی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وادی کے شمال میں شیشہ پہاڑ (شیشہ کور) اور جنوب میں سبزی مائل دریائے نیلم بہتا نظر آتا ہے۔ اس طرح پھلاوئی کے مغرب میں 3 کلومیٹر کے فاصلے پر جانوئی اور مشرق میں مرناٹ کا نہایت خوبصورت گاؤں واقع ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مشرق میں بہنے والے 2 بڑے نالے، گجرنالہ اور سروالا نالہ دریائے نیلم میں گر کر اس کی زینت بڑھاتے ہیں۔ گجرنالہ استور کے گاؤں گشاٹ جبکہ سروالا نالہ استور کے گاؤں امیر ملک تک جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پھلاوئی سطح سمندر سے 9 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور اس کے ارد گرد 12 ڈھوکیں (چھوٹے گاؤں) آباد ہیں، جبکہ یہاں کی 95 فیصد آبادی شینا زبان بولتی ہے۔ گاؤں کو آباد کرنے والے مچک (شین) قبیلے کے لوگ 18ویں صدی میں یہاں آکر آباد ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/05/5b000ae90dc1f.jpg"  alt="وادی کے بیچوں بیچ بہتا سروالا نالہ&amp;mdash;تصویر عبد النوربھٹی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;وادی کے بیچوں بیچ بہتا سروالا نالہ—تصویر عبد النوربھٹی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ وادی جنگلات، معدنیات، نباتات اور آبی ذخائر اور جنگلی حیات سے مالا مال ہے۔ مقامی دوست خرم جمال شاہد کی کال پر مچک قبیلے کی دریافت شدہ 3 جھیلوں کا دیدار کرنے اگست میں پھلاوئی پہنچے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جب وہاں جانے کا ارادہ کیا تو معلوم ہوا کہ اس سے قبل ان جھیلوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے لیے مقامی لوگوں کے علاوہ کوئی وہاں نہیں گیا ہے۔ یہ جان کر وہاں جانے کی خوشی اور جوش دونوں ہی بڑھ گئے اور موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ہلکی ہلکی بارش کی معیت میں پائن سیری سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور بالا سیری پہنچ گئے۔ مقامی دوستوں کے مطابق اس مرتبہ بارشیں اگست کے آخر تک جاری رہیں، یہی وجہ تھی کہ ابتداء سے ہی ہمیں ہائیکنگ میں مسائل کا سامنا رہا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/05/5b000b24d6804.jpg"  alt="پڑیاں کی عمودی چڑھائی چڑھتے ہوئے&amp;mdash;تصویر عبد النوربھٹی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;پڑیاں کی عمودی چڑھائی چڑھتے ہوئے—تصویر عبد النوربھٹی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/05/5b000bc097f48.jpg"  alt="سر والی ڈھوک زیادہ دور نہیں&amp;mdash;تصویر اعجازبھٹی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;سر والی ڈھوک زیادہ دور نہیں—تصویر اعجازبھٹی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/05/5b000d5ca940a.jpg"  alt="سر والی ڈھوک کا خوبصورت منظر&amp;mdash;تصویر:اعجازبھٹی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;سر والی ڈھوک کا خوبصورت منظر—تصویر:اعجازبھٹی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کبھی ہلکی بارش تو کبھی ہلکی دھوپ، دونوں کی اس آنکھ مچولی نے سفر کا مزہ دوبالا کردیا تھا۔ سروالا نالہ کے ساتھ جاری رہنے والے اس سفر میں پہلے ’ٹھنڈا پانی‘ اور پھر ’بزراٹ‘ کے خوبصورت علاقے دیکھے، جس کے بعد کالابن کے گھنے جنگل ہمارے سامنے تھے۔ ایک مقامی دوست کے مطابق اس جنگل کا بیشتر حصہ کاٹا جاچکا ہے، حالانکہ ایک وقت تھا کہ جب یہ جنگل ریچھ اور چیتے جیسے کئی جانوروں کی آماجگاہ ہوا کرتا تھا اور مقامی آبادی بھی دن کے اجالے میں وہاں اکیلے جانے سے گریز کیا کرتی تھی۔ جنگل کی کٹائی سے جہاں علاقے کی خوبصورتی ماند پڑگئی ہے وہیں جنگلی حیات بھی کافی متاثر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک گھنٹے کی مسافت کے بعد بڑا گوژبیک، بچے بیک اور پھر زرگر بیک پہنچے۔ ایک بڑے پتھر کی اوٹ میں بنا یہ گھر کبھی ایک زرگر کی آماجگاہ ہوا کرتا تھا۔ تھکاوٹ اور شدید بھوک کے باعث کچھ دیر کے لیے سستانے کے لیے رکے، پھر بھوک کو مٹانے کے لیے نوڈلز بنائے اور ایک بار پھر اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;زرگر کی ڈھوک کے گرد نالہ انتہائی چوڑا ہوکر چھوٹی سی جھیل بن جاتا ہے۔ یہاں موجود خوبصورت اور وسیع چراہ گاہ کا نظارہ دل کو موہ لیتا ہے۔ یہاں سے ایک گھنٹے کی مسافت پر عمودی چڑھائی شروع ہوجاتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جانگ والی اور پڑیاں بیک ایسے مقامات ہیں جہاں سے سخت چڑھائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سامان کے ساتھ یہ چڑھائی کسی چیلنج سے کم نہیں۔ ابھی چڑھائی چڑھتے ہوئے کچھ وقت ہی گزرا تھا کہ شدید بارش برسنے لگی لہٰذا ایک مقامی چرواہے کی مدد سے ہم ایک غار میں کچھ دیر کے لیے رک گئے۔ لیکن سردی کی شدت کی وجہ سے تھکاوٹ کا زیادہ احساس ہونے لگا۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/05/5b000da9bba9b.jpg"  alt="موسلادھار برسات میں یہاں ٹریکنگ کرنا خطرے سے خالی نہیں&amp;mdash;تصویر عبد النوربھٹی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;موسلادھار برسات میں یہاں ٹریکنگ کرنا خطرے سے خالی نہیں—تصویر عبد النوربھٹی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/05/5b000e77ed8d2.jpg"  alt="ہائیکنگ اسٹکس پر باربی کیو کرنے کا ایک منفرد انداز&amp;mdash;تصویر اعجازبھٹی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ہائیکنگ اسٹکس پر باربی کیو کرنے کا ایک منفرد انداز—تصویر اعجازبھٹی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جب بارش ہلکی ہوئی تو سفر کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوا جو مسلسل سر والی بیک پہنچنے تک جاری رہا۔ سر والی بیک میں ہم نے مقامی طرزِ تعمیر کے مطابق بڑے پہاڑی پتھروں کی سلوں سے تیار کردہ ایک چھوٹی سی مسجد میں قیام کیا۔ مسجد کے سامنے ہی جھیل موجود ہے، اسی وجہ سے ہی اس مقام کو سر والی بیک پکارا جاتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہاں کے نظارے ناقابلِ بیان ہیں۔ شاید ہی اتنا خوبصورت مقام اس سے پہلے کبھی میں نے دیکھا ہو۔ میرے نزدیک اس مقام کو جنت نظیر کہنا بالکل بھی غلط نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;موسم کی شدت اور نہ تھمنے والی بارش کی وجہ سے ہم نے سروالی بیک پر ہی اپنی ٹریکنگ کا اختتام کردیا اور اگلے روز واپس پھلاوئی کی طرف نکل پڑے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/05/5b000dac0a66e.jpg"  alt="کھلی چراگاہیں پھلاوئی کے حسن کا جھومر ہیں&amp;mdash;تصویراعجازبھٹی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کھلی چراگاہیں پھلاوئی کے حسن کا جھومر ہیں—تصویراعجازبھٹی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/05/5b000dac0a250.jpg"  alt="یہاں کے نظارے ناقابلِ بیان ہیں&amp;mdash;تصویر نصر احمد بھٹی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;یہاں کے نظارے ناقابلِ بیان ہیں—تصویر نصر احمد بھٹی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/05/5b000da7e3404.jpg"  alt="کالا بن کا جنگل &amp;mdash;تصویر اعجازبھٹی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کالا بن کا جنگل —تصویر اعجازبھٹی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پھلاوئی سے مچک جھیل تک تقریباً 15 کلومیٹر سے زائد کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق جھیل کی اونچائی 16 ہزار فٹ سے زائد ہے۔ مقامی آبادی کے مطابق جولائی کے وسط یا اگست کے آخر میں اس وادی کا نظارہ بالکل ہی مختلف ہوتا ہے، یہاں آنے کے خواہشمند سیاحوں کو تجویز دینا چاہوں گا اس مقام کی ٹریکنگ کے لیے موزون موسم کا ہی انتخاب کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/05/5b000dac84e3f.jpg"  alt="کالابن کا جنگل کبھی جنگلی حیات کا پسندیدہ مسکن تھا&amp;mdash; تصویر اعجازبھٹی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کالابن کا جنگل کبھی جنگلی حیات کا پسندیدہ مسکن تھا— تصویر اعجازبھٹی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہاں کے خوبصورت اور دلکش نظاروں کی طرح یہاں کی مقامی آبادی کی مہمان نوازی بھی دل کو کافی بھاتی ہے۔ اپنے قدیم رسم و رواج، مہمان نوازی، بہادری اور سخت جان کی بدولت شینا قبیلے کے مہمان بن کر پھلاوئی کی وادی میں آنا ہمارے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں تھا۔ مہمان نوازی کا وصف مقامی آباد کا طرہ امتیاز ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/05/5b000f30ce2b3.jpg"  alt="مچک جھیل کی عمودی چڑھائی سے پہلے بڑی ٹھوکی کے قرب میں بہتی آبشاریں نظر آئیں &amp;mdash;تصویر خرم جمال شاہد" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;مچک جھیل کی عمودی چڑھائی سے پہلے بڑی ٹھوکی کے قرب میں بہتی آبشاریں نظر آئیں —تصویر خرم جمال شاہد&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/05/5b000ed12be94.jpg"  alt="مچک جھیلوں میں سے وسطی جھیل کی تصویر &amp;mdash;خرم جمال شاہد" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;مچک جھیلوں میں سے وسطی جھیل کی تصویر —خرم جمال شاہد&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لیکن یہاں سب کچھ اچھا نہیں، بلکہ ہمارے دوست کے مطابق مقامی آبادی کو کئی مسائل کا سامنا ہے، پھلاوئی میں فرسٹ ایڈ (فوری طبی امداد) فراہم کرنے کے لیے صرف ایک ہی پوسٹ ہے جو اردگرد کی 10 ہزار کی آبادی والے علاقے کے لیے ناکافی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس کی وجہ سے کسی حادثے یا ایمرجنسی کی صورت میں زخمیوں یا مریضوں کو مظفرآباد لے جانا پڑتا ہے، جس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ طویل سفر کرنے کی وجہ سے کئی مریض اور زخمی راستے میں ہی دم توڑ جاتے ہیں۔ لیکن بی ایچ یو سینٹرز یا بنیادی مرکز صحت کے قیام سے اس خوبصورت وادی کے مہمان نواز لوگوں کے لیے آسانی پیدا کی جاسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/6 w-full  media--right    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/urdu/users/2180.jpg?160818112551"  alt="" /&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			لکھاری تھیولوجی کے طالب علم ہیں اور عربی ادب کے طالب علم رہ چکے ہیں۔ ہائی کنگ اور ٹریکنگ کے ذریعے قدرت کو بغور دیکھنے کے انتہائی شوقین ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<ul class="story__toc" style="display:none;"><li class='story__toc__item'><a href='#&lt;div-style=-&quot;color:-#000000;-text-align:-center;&quot;-markdown=&quot;1&quot;>پھولوں-کی-وادی-’پھلاوئی‘&lt;/div>5b094276b3dcf'><div style= "color: #000000; text-align: center;" markdown="1">پھولوں کی وادی ’پھلاوئی‘</div></a></li></ul><h1 id="&lt;div-style=-&quot;color:-#000000;-text-align:-center;&quot;-markdown=&quot;1&quot;>پھولوں-کی-وادی-’پھلاوئی‘&lt;/div>5b094276b3dcf"><div style= "color: #000000; text-align: center;" markdown="1">پھولوں کی وادی ’پھلاوئی‘</div></h1>

<p><strong><a href="https://www.dawnnews.tv/authors/2180/nasr-ahmed-bhatti">نصر احمد بھٹی</a></strong></p>

<p>2002ء میں مظفرآباد سے تقریباً 7 گھنٹوں کی تھکا دینے والی مسافت کے بعد جب ہم پہلی مرتبہ آٹھمقام پہنچے تو لائن آف کنٹرول پر دوسری طرف سے ہونے والی گولہ باری نے آٹھمقام شہر کو شدید متاثر کیا تھا جس کی وجہ سے ہم آگے نہیں جاسکے تھے، لیکن واپسی پر یہ ارادہ کرکے نکلے تھے کہ جلد دوبارہ واپس آئیں گے اور پھر تب سے یعنی گزشتہ 16 برسوں سے وادئ نیلم سے نین لڑائے رکھے ہیں۔  </p>

<p>2015ء میں تاؤبٹ سے کیل کا پیدل سفر کیا۔ اس دوران مقامی لوگوں کی مدد کا یہ فائدہ ہوا کہ کئی چھوٹے بڑے گاؤں اور ندی نالوں اور سیاحوں کی نظروں سے اوجھل رہنے والی جھیلوں کا مفصل تعارف ہوا۔</p>

<p>وادئ نیلم میں آنے والے سیاح عام طور پر وادی کے دامن میں بہتے دریائے نیلم اور وادی میں دستیاب واحد سڑک کے ذریعے تاؤبٹ تک آکر اپنی سیاحت کا اختتام کردیتے ہیں۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ وہاں سے آگے قدرت کے وہ راز چھپے ہیں جنہیں ایک بار دیکھنے والا کبھی نہ بھول پائے۔</p>

<p>کیل اور تاؤبٹ کے درمیان تحصیل شاردا میں ‘پھلاوئی‘ نامی ایک خوبصورت گاؤں ہے، جو مظفرآباد سے تقریباً 200 کلومیٹر دور ہے۔</p>

<p>’پھلاوئی‘ نام 2 لفظوں، یعنی پھول اور وئی کا مرکب ہے، جس کے معنی پھول اور پانی کے ہیں۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/05/5b00096db3b07.jpg"  alt="پھلاوئی کا مرکزی بازار &mdash; تصویر عبد النوربھٹی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">پھلاوئی کا مرکزی بازار — تصویر عبد النوربھٹی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/05/5b000a4c9eb95.jpg"  alt="شیشہ کور گھنے بادلوں کے نرغے میں&mdash; تصویر عبد النوربھٹی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شیشہ کور گھنے بادلوں کے نرغے میں— تصویر عبد النوربھٹی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>وادی کے شمال میں شیشہ پہاڑ (شیشہ کور) اور جنوب میں سبزی مائل دریائے نیلم بہتا نظر آتا ہے۔ اس طرح پھلاوئی کے مغرب میں 3 کلومیٹر کے فاصلے پر جانوئی اور مشرق میں مرناٹ کا نہایت خوبصورت گاؤں واقع ہے۔ </p>

<p>مشرق میں بہنے والے 2 بڑے نالے، گجرنالہ اور سروالا نالہ دریائے نیلم میں گر کر اس کی زینت بڑھاتے ہیں۔ گجرنالہ استور کے گاؤں گشاٹ جبکہ سروالا نالہ استور کے گاؤں امیر ملک تک جاتا ہے۔</p>

<p>پھلاوئی سطح سمندر سے 9 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور اس کے ارد گرد 12 ڈھوکیں (چھوٹے گاؤں) آباد ہیں، جبکہ یہاں کی 95 فیصد آبادی شینا زبان بولتی ہے۔ گاؤں کو آباد کرنے والے مچک (شین) قبیلے کے لوگ 18ویں صدی میں یہاں آکر آباد ہوئے تھے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/05/5b000ae90dc1f.jpg"  alt="وادی کے بیچوں بیچ بہتا سروالا نالہ&mdash;تصویر عبد النوربھٹی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">وادی کے بیچوں بیچ بہتا سروالا نالہ—تصویر عبد النوربھٹی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>یہ وادی جنگلات، معدنیات، نباتات اور آبی ذخائر اور جنگلی حیات سے مالا مال ہے۔ مقامی دوست خرم جمال شاہد کی کال پر مچک قبیلے کی دریافت شدہ 3 جھیلوں کا دیدار کرنے اگست میں پھلاوئی پہنچے۔ </p>

<p>جب وہاں جانے کا ارادہ کیا تو معلوم ہوا کہ اس سے قبل ان جھیلوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے لیے مقامی لوگوں کے علاوہ کوئی وہاں نہیں گیا ہے۔ یہ جان کر وہاں جانے کی خوشی اور جوش دونوں ہی بڑھ گئے اور موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ہلکی ہلکی بارش کی معیت میں پائن سیری سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور بالا سیری پہنچ گئے۔ مقامی دوستوں کے مطابق اس مرتبہ بارشیں اگست کے آخر تک جاری رہیں، یہی وجہ تھی کہ ابتداء سے ہی ہمیں ہائیکنگ میں مسائل کا سامنا رہا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/05/5b000b24d6804.jpg"  alt="پڑیاں کی عمودی چڑھائی چڑھتے ہوئے&mdash;تصویر عبد النوربھٹی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">پڑیاں کی عمودی چڑھائی چڑھتے ہوئے—تصویر عبد النوربھٹی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/05/5b000bc097f48.jpg"  alt="سر والی ڈھوک زیادہ دور نہیں&mdash;تصویر اعجازبھٹی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">سر والی ڈھوک زیادہ دور نہیں—تصویر اعجازبھٹی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/05/5b000d5ca940a.jpg"  alt="سر والی ڈھوک کا خوبصورت منظر&mdash;تصویر:اعجازبھٹی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">سر والی ڈھوک کا خوبصورت منظر—تصویر:اعجازبھٹی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>کبھی ہلکی بارش تو کبھی ہلکی دھوپ، دونوں کی اس آنکھ مچولی نے سفر کا مزہ دوبالا کردیا تھا۔ سروالا نالہ کے ساتھ جاری رہنے والے اس سفر میں پہلے ’ٹھنڈا پانی‘ اور پھر ’بزراٹ‘ کے خوبصورت علاقے دیکھے، جس کے بعد کالابن کے گھنے جنگل ہمارے سامنے تھے۔ ایک مقامی دوست کے مطابق اس جنگل کا بیشتر حصہ کاٹا جاچکا ہے، حالانکہ ایک وقت تھا کہ جب یہ جنگل ریچھ اور چیتے جیسے کئی جانوروں کی آماجگاہ ہوا کرتا تھا اور مقامی آبادی بھی دن کے اجالے میں وہاں اکیلے جانے سے گریز کیا کرتی تھی۔ جنگل کی کٹائی سے جہاں علاقے کی خوبصورتی ماند پڑگئی ہے وہیں جنگلی حیات بھی کافی متاثر ہوئی ہے۔</p>

<p>ایک گھنٹے کی مسافت کے بعد بڑا گوژبیک، بچے بیک اور پھر زرگر بیک پہنچے۔ ایک بڑے پتھر کی اوٹ میں بنا یہ گھر کبھی ایک زرگر کی آماجگاہ ہوا کرتا تھا۔ تھکاوٹ اور شدید بھوک کے باعث کچھ دیر کے لیے سستانے کے لیے رکے، پھر بھوک کو مٹانے کے لیے نوڈلز بنائے اور ایک بار پھر اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگئے۔</p>

<p>زرگر کی ڈھوک کے گرد نالہ انتہائی چوڑا ہوکر چھوٹی سی جھیل بن جاتا ہے۔ یہاں موجود خوبصورت اور وسیع چراہ گاہ کا نظارہ دل کو موہ لیتا ہے۔ یہاں سے ایک گھنٹے کی مسافت پر عمودی چڑھائی شروع ہوجاتی ہے۔</p>

<p>جانگ والی اور پڑیاں بیک ایسے مقامات ہیں جہاں سے سخت چڑھائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سامان کے ساتھ یہ چڑھائی کسی چیلنج سے کم نہیں۔ ابھی چڑھائی چڑھتے ہوئے کچھ وقت ہی گزرا تھا کہ شدید بارش برسنے لگی لہٰذا ایک مقامی چرواہے کی مدد سے ہم ایک غار میں کچھ دیر کے لیے رک گئے۔ لیکن سردی کی شدت کی وجہ سے تھکاوٹ کا زیادہ احساس ہونے لگا۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/05/5b000da9bba9b.jpg"  alt="موسلادھار برسات میں یہاں ٹریکنگ کرنا خطرے سے خالی نہیں&mdash;تصویر عبد النوربھٹی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">موسلادھار برسات میں یہاں ٹریکنگ کرنا خطرے سے خالی نہیں—تصویر عبد النوربھٹی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/05/5b000e77ed8d2.jpg"  alt="ہائیکنگ اسٹکس پر باربی کیو کرنے کا ایک منفرد انداز&mdash;تصویر اعجازبھٹی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ہائیکنگ اسٹکس پر باربی کیو کرنے کا ایک منفرد انداز—تصویر اعجازبھٹی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>جب بارش ہلکی ہوئی تو سفر کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوا جو مسلسل سر والی بیک پہنچنے تک جاری رہا۔ سر والی بیک میں ہم نے مقامی طرزِ تعمیر کے مطابق بڑے پہاڑی پتھروں کی سلوں سے تیار کردہ ایک چھوٹی سی مسجد میں قیام کیا۔ مسجد کے سامنے ہی جھیل موجود ہے، اسی وجہ سے ہی اس مقام کو سر والی بیک پکارا جاتا ہے۔ </p>

<p>یہاں کے نظارے ناقابلِ بیان ہیں۔ شاید ہی اتنا خوبصورت مقام اس سے پہلے کبھی میں نے دیکھا ہو۔ میرے نزدیک اس مقام کو جنت نظیر کہنا بالکل بھی غلط نہیں ہوگا۔</p>

<p>موسم کی شدت اور نہ تھمنے والی بارش کی وجہ سے ہم نے سروالی بیک پر ہی اپنی ٹریکنگ کا اختتام کردیا اور اگلے روز واپس پھلاوئی کی طرف نکل پڑے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/05/5b000dac0a66e.jpg"  alt="کھلی چراگاہیں پھلاوئی کے حسن کا جھومر ہیں&mdash;تصویراعجازبھٹی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کھلی چراگاہیں پھلاوئی کے حسن کا جھومر ہیں—تصویراعجازبھٹی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/05/5b000dac0a250.jpg"  alt="یہاں کے نظارے ناقابلِ بیان ہیں&mdash;تصویر نصر احمد بھٹی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">یہاں کے نظارے ناقابلِ بیان ہیں—تصویر نصر احمد بھٹی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/05/5b000da7e3404.jpg"  alt="کالا بن کا جنگل &mdash;تصویر اعجازبھٹی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کالا بن کا جنگل —تصویر اعجازبھٹی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>پھلاوئی سے مچک جھیل تک تقریباً 15 کلومیٹر سے زائد کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق جھیل کی اونچائی 16 ہزار فٹ سے زائد ہے۔ مقامی آبادی کے مطابق جولائی کے وسط یا اگست کے آخر میں اس وادی کا نظارہ بالکل ہی مختلف ہوتا ہے، یہاں آنے کے خواہشمند سیاحوں کو تجویز دینا چاہوں گا اس مقام کی ٹریکنگ کے لیے موزون موسم کا ہی انتخاب کریں۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/05/5b000dac84e3f.jpg"  alt="کالابن کا جنگل کبھی جنگلی حیات کا پسندیدہ مسکن تھا&mdash; تصویر اعجازبھٹی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کالابن کا جنگل کبھی جنگلی حیات کا پسندیدہ مسکن تھا— تصویر اعجازبھٹی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>یہاں کے خوبصورت اور دلکش نظاروں کی طرح یہاں کی مقامی آبادی کی مہمان نوازی بھی دل کو کافی بھاتی ہے۔ اپنے قدیم رسم و رواج، مہمان نوازی، بہادری اور سخت جان کی بدولت شینا قبیلے کے مہمان بن کر پھلاوئی کی وادی میں آنا ہمارے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں تھا۔ مہمان نوازی کا وصف مقامی آباد کا طرہ امتیاز ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/05/5b000f30ce2b3.jpg"  alt="مچک جھیل کی عمودی چڑھائی سے پہلے بڑی ٹھوکی کے قرب میں بہتی آبشاریں نظر آئیں &mdash;تصویر خرم جمال شاہد" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">مچک جھیل کی عمودی چڑھائی سے پہلے بڑی ٹھوکی کے قرب میں بہتی آبشاریں نظر آئیں —تصویر خرم جمال شاہد</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/05/5b000ed12be94.jpg"  alt="مچک جھیلوں میں سے وسطی جھیل کی تصویر &mdash;خرم جمال شاہد" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">مچک جھیلوں میں سے وسطی جھیل کی تصویر —خرم جمال شاہد</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>لیکن یہاں سب کچھ اچھا نہیں، بلکہ ہمارے دوست کے مطابق مقامی آبادی کو کئی مسائل کا سامنا ہے، پھلاوئی میں فرسٹ ایڈ (فوری طبی امداد) فراہم کرنے کے لیے صرف ایک ہی پوسٹ ہے جو اردگرد کی 10 ہزار کی آبادی والے علاقے کے لیے ناکافی ہے۔</p>

<p>جس کی وجہ سے کسی حادثے یا ایمرجنسی کی صورت میں زخمیوں یا مریضوں کو مظفرآباد لے جانا پڑتا ہے، جس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ طویل سفر کرنے کی وجہ سے کئی مریض اور زخمی راستے میں ہی دم توڑ جاتے ہیں۔ لیکن بی ایچ یو سینٹرز یا بنیادی مرکز صحت کے قیام سے اس خوبصورت وادی کے مہمان نواز لوگوں کے لیے آسانی پیدا کی جاسکتی ہیں۔</p>

<hr />

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/6 w-full  media--right    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/urdu/users/2180.jpg?160818112551"  alt="" /></div>
				
			</figure>
<p>			لکھاری تھیولوجی کے طالب علم ہیں اور عربی ادب کے طالب علم رہ چکے ہیں۔ ہائی کنگ اور ٹریکنگ کے ذریعے قدرت کو بغور دیکھنے کے انتہائی شوقین ہیں۔</p>

<hr />

<p>ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1078913</guid>
      <pubDate>Sat, 26 May 2018 16:18:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نصر احمد بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/05/5b000dac0a250.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/05/5b000dac0a250.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
