<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 13:17:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 13:17:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اصغر خان کیس: ایف آئی اے کا نواز شریف کو دوبارہ نہ طلب کرنے کا عندیہ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1079106/</link>
      <description>&lt;ul class="story__toc" style="display:none;"&gt;&lt;li class='story__toc__item'&gt;&lt;a href='#اصغر-خان-کیس-میں-اب-تک-کیا-ہوا!5b051bdbd9390'&gt;اصغر خان کیس میں اب تک کیا ہوا!&lt;/a&gt;&lt;/li&gt;&lt;/ul&gt;&lt;p&gt;لاہور: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے 1990 کے انتخابات میں مبینہ طور پر انٹر سروسز ایجنسی (آئی ایس آئی) سے رقم وصول کرنے سے متعلق اصغر خان کیس میں ٹھوس شواہد موصول ہونے تک سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو سمن نہ جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ ایف آئی اے اس مقدمے میں ملوث آئی ایس آئی کے دیگر عہدیداروں کے بیانات قلمبند کرے گی اور اگر نواز شریف کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت پایا گیا تو انہیں طلب کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بصورت دیگر اس ضمن میں کچھ سال قبل نواز شریف کے قلمبند کرائے گئے بیان کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے گا، جس میں انہوں نے رقم وصول کرنے کی تردید کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1078277"&gt;وفاقی حکومت کو اصغر خان کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کا حکم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ سال 2015 میں نواز شریف نے ایف آئی اے کی 4 رکنی کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر اپنا &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1027993"&gt;بیان ریکارڈ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کرایا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1409447/fia-relying-on-nawazs-2015-statement-in-asghar-khan-case"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق سپریم کورٹ نے 7 مئی کو اٹارنی جنرل اشتر اوصاف اور ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو اصغر خان کیس کے فیصلے پر عملدرآمد سے آگاہ کرنے کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹرجنرل احسان صادق کی سربراہی میں ایف آئی اے کی ٹیم نے گزشتہ ہفتے سابق آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل (ر) اسد درانی کے بیانات ریکارڈ کیے، تاہم دونوں نے ایف آئی اے ٹیم کے سوالات کا جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں ان کی نظر ثانی درخواست زیر التوا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1078217"&gt;اصغر خان کیس: اسلم بیگ، اسد درانی کی نظرثانی درخواستیں مسترد&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق آئندہ چند روز میں ایف آئی اے کمیٹی اصغر خان کیس میں مبینہ طور پر ملوث آئی ایس آئی کے عہدیداران کو سمن جاری کرے گی اور سیاستدانوں سمیت دیگر افراد کو رقم فراہم کرنے کے حوالے سے دستاویزی ثبوت بھی طلب کرے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id="اصغر-خان-کیس-میں-اب-تک-کیا-ہوا!5b051bdbd9390"&gt;اصغر خان کیس میں اب تک کیا ہوا!&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس 1996 میں دائر ہوا، جس کے مطابق اصغر خان نے اس وقت کے صدر غلام اسحٰق خان کی ہدایت پر ایوان صدر میں 1990 کے انتخابات کے لیے الیکشن سیل بنایا، جس میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ اور ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی نے ان کی معاونت کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1078757"&gt;اصغر خان کیس: سابق آرمی چیف اسلم بیگ ایف آئی اے کمیٹی کے سامنے پیش&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مقدمے میں کہا گیا تھا کہ 1990 کے انتخابات میں بے نظیر بھٹو کو شکست دینے کے لیے آئی ایس آئی کے سیاسی ونگ نے مبینہ طور پر مہران بینک کے یونس حبیب کے ذریعے سیاستدانوں میں 14 کروڑ روپے تقسیم کیے، جس سے عوام کو شفاف انتخابات اور حق رائے دہی سے محروم رکھ کر حلف کی رو گردانی کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں 16 سال بعد عدالت نے 2012 میں مذکورہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ریٹائر جرنیلوں اسلم بیگ، اسد درانی اور یونس حبیب کے خلاف کارروائی کا حکم دیا اور رقم وصول کرنے والے سیاستدانوں کے خلاف ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ضمن میں تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا تھا کہ اس وقت کے صدر، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے اپنے عہدوں کا ناجائز استعمال کیا، 1990 کے انتخابات میں دھاندلی کی گئی جبکہ اسلم بیگ اور اسد درانی غیر قانونی سرگرمیوں میں شریک ہوئے، ان کا یہ عمل انفرادی فعل تھا، اداروں کا نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تفصیلی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ خفیہ اداروں کا کام الیکشن سیل بنانا نہیں بلکہ سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے، صدر مملکت ریاست کا سربراہ ہوتا ہے، صدر حلف سے وفا نہ کرے تو آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے، ایوان صدرمیں کوئی سیل ہے تو فوری بند کیاجائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں:  &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1078378"&gt;اصغر خان کیس: فیصلے پر عملدرآمد کیلئے ایف آئی اے کی کمیٹی تشکیل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اس کیس میں کافی ثبوث جمع کیے گئے، لہٰذا ایف آئی اے فنڈز وصول کرنے والوں کے خلاف ٹرائل کے لیے کیسز کی تیاری کرے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس کے بعد سپریم کورٹ کے 2012 کے فیصلے کی روشنی میں ایف آئی اے کی جانب سے ایک ٹیم تشکیل دی گئی تھی، جس میں سابق ڈائریکٹر جنرل غالب بندیشہ، ڈاکٹر عثمان انور، قدرت اللہ مروت اور نجف مرزا شامل تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے اصغر خان کیس کے فیصلے کے تقریباً ایک سال بعد 2013 کے اختتام پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپنی تحقیقات کے دوران 2015 تک ایف آئی اے کی جانب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف، ایئرمارشل (ر) اصغر خان، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) اسد درانی، مہران بینک کے مالک یونس حبیب، ایڈووکیٹ یوسف میمن اور معروف صحافی الطاف حسین قریشی کے بیان ریکارڈ کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/32969"&gt;اصغر خان کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ضمن میں فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس میں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی نے نظرثانی کی درخواستیں دائر کی تھیں جورواں سال 6 مئی کومسترد کر دی گئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے تین رکنی بینچ نے اصغر خان کیس نظرثانی درخواستوں کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ عدالت نے 6 سال قبل فیصلہ دیا تھا، اب تک فیصلے پر کیا عملدرآمد ہوا ہے؟&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ اس کیس میں نظرثانی کی درخواستیں خارج کی جاچکی ہیں اور اب عدالتی فیصلے پر عمل درآمد ہونا چاہیے، چناچہ ایف آئی اے نے اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے 2012 کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے 10 مئی کو ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن نے بتایا تھا کہ یہ کمیٹی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل احسان صادق کی سربراہی میں قائم کی گئی اور اسے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی کارکردگی کی رپورٹ آئندہ ہفتے سپریم کورٹ میں جمع کرائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<ul class="story__toc" style="display:none;"><li class='story__toc__item'><a href='#اصغر-خان-کیس-میں-اب-تک-کیا-ہوا!5b051bdbd9390'>اصغر خان کیس میں اب تک کیا ہوا!</a></li></ul><p>لاہور: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے 1990 کے انتخابات میں مبینہ طور پر انٹر سروسز ایجنسی (آئی ایس آئی) سے رقم وصول کرنے سے متعلق اصغر خان کیس میں ٹھوس شواہد موصول ہونے تک سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو سمن نہ جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا۔</p>

<p>ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ ایف آئی اے اس مقدمے میں ملوث آئی ایس آئی کے دیگر عہدیداروں کے بیانات قلمبند کرے گی اور اگر نواز شریف کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت پایا گیا تو انہیں طلب کیا جائے گا۔</p>

<p>بصورت دیگر اس ضمن میں کچھ سال قبل نواز شریف کے قلمبند کرائے گئے بیان کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے گا، جس میں انہوں نے رقم وصول کرنے کی تردید کی تھی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1078277">وفاقی حکومت کو اصغر خان کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کا حکم</a></strong> </p>

<p>واضح رہے کہ سال 2015 میں نواز شریف نے ایف آئی اے کی 4 رکنی کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر اپنا <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1027993">بیان ریکارڈ</a></strong> کرایا تھا۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1409447/fia-relying-on-nawazs-2015-statement-in-asghar-khan-case">رپورٹ</a></strong> کے مطابق سپریم کورٹ نے 7 مئی کو اٹارنی جنرل اشتر اوصاف اور ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو اصغر خان کیس کے فیصلے پر عملدرآمد سے آگاہ کرنے کا حکم دیا تھا۔</p>

<p>ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹرجنرل احسان صادق کی سربراہی میں ایف آئی اے کی ٹیم نے گزشتہ ہفتے سابق آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل (ر) اسد درانی کے بیانات ریکارڈ کیے، تاہم دونوں نے ایف آئی اے ٹیم کے سوالات کا جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں ان کی نظر ثانی درخواست زیر التوا ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1078217">اصغر خان کیس: اسلم بیگ، اسد درانی کی نظرثانی درخواستیں مسترد</a></strong></p>

<p>ذرائع کے مطابق آئندہ چند روز میں ایف آئی اے کمیٹی اصغر خان کیس میں مبینہ طور پر ملوث آئی ایس آئی کے عہدیداران کو سمن جاری کرے گی اور سیاستدانوں سمیت دیگر افراد کو رقم فراہم کرنے کے حوالے سے دستاویزی ثبوت بھی طلب کرے گی۔</p>

<h3 id="اصغر-خان-کیس-میں-اب-تک-کیا-ہوا!5b051bdbd9390">اصغر خان کیس میں اب تک کیا ہوا!</h3>

<p>سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس 1996 میں دائر ہوا، جس کے مطابق اصغر خان نے اس وقت کے صدر غلام اسحٰق خان کی ہدایت پر ایوان صدر میں 1990 کے انتخابات کے لیے الیکشن سیل بنایا، جس میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ اور ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی نے ان کی معاونت کی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1078757">اصغر خان کیس: سابق آرمی چیف اسلم بیگ ایف آئی اے کمیٹی کے سامنے پیش</a></strong></p>

<p>مقدمے میں کہا گیا تھا کہ 1990 کے انتخابات میں بے نظیر بھٹو کو شکست دینے کے لیے آئی ایس آئی کے سیاسی ونگ نے مبینہ طور پر مہران بینک کے یونس حبیب کے ذریعے سیاستدانوں میں 14 کروڑ روپے تقسیم کیے، جس سے عوام کو شفاف انتخابات اور حق رائے دہی سے محروم رکھ کر حلف کی رو گردانی کی گئی۔</p>

<p>بعد ازاں 16 سال بعد عدالت نے 2012 میں مذکورہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ریٹائر جرنیلوں اسلم بیگ، اسد درانی اور یونس حبیب کے خلاف کارروائی کا حکم دیا اور رقم وصول کرنے والے سیاستدانوں کے خلاف ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ </p>

<p>اس ضمن میں تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا تھا کہ اس وقت کے صدر، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے اپنے عہدوں کا ناجائز استعمال کیا، 1990 کے انتخابات میں دھاندلی کی گئی جبکہ اسلم بیگ اور اسد درانی غیر قانونی سرگرمیوں میں شریک ہوئے، ان کا یہ عمل انفرادی فعل تھا، اداروں کا نہیں۔</p>

<p>تفصیلی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ خفیہ اداروں کا کام الیکشن سیل بنانا نہیں بلکہ سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے، صدر مملکت ریاست کا سربراہ ہوتا ہے، صدر حلف سے وفا نہ کرے تو آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے، ایوان صدرمیں کوئی سیل ہے تو فوری بند کیاجائے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں:  <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1078378">اصغر خان کیس: فیصلے پر عملدرآمد کیلئے ایف آئی اے کی کمیٹی تشکیل</a></strong></p>

<p>عدالت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اس کیس میں کافی ثبوث جمع کیے گئے، لہٰذا ایف آئی اے فنڈز وصول کرنے والوں کے خلاف ٹرائل کے لیے کیسز کی تیاری کرے۔</p>

<p>جس کے بعد سپریم کورٹ کے 2012 کے فیصلے کی روشنی میں ایف آئی اے کی جانب سے ایک ٹیم تشکیل دی گئی تھی، جس میں سابق ڈائریکٹر جنرل غالب بندیشہ، ڈاکٹر عثمان انور، قدرت اللہ مروت اور نجف مرزا شامل تھے۔</p>

<p>اس تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے اصغر خان کیس کے فیصلے کے تقریباً ایک سال بعد 2013 کے اختتام پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا۔</p>

<p>اپنی تحقیقات کے دوران 2015 تک ایف آئی اے کی جانب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف، ایئرمارشل (ر) اصغر خان، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) اسد درانی، مہران بینک کے مالک یونس حبیب، ایڈووکیٹ یوسف میمن اور معروف صحافی الطاف حسین قریشی کے بیان ریکارڈ کیے گئے تھے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/32969">اصغر خان کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری</a></strong></p>

<p>اس ضمن میں فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس میں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی نے نظرثانی کی درخواستیں دائر کی تھیں جورواں سال 6 مئی کومسترد کر دی گئیں۔</p>

<p>چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے تین رکنی بینچ نے اصغر خان کیس نظرثانی درخواستوں کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ عدالت نے 6 سال قبل فیصلہ دیا تھا، اب تک فیصلے پر کیا عملدرآمد ہوا ہے؟</p>

<p>دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ اس کیس میں نظرثانی کی درخواستیں خارج کی جاچکی ہیں اور اب عدالتی فیصلے پر عمل درآمد ہونا چاہیے، چناچہ ایف آئی اے نے اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے 2012 کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی تھی۔</p>

<p>اس حوالے سے 10 مئی کو ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن نے بتایا تھا کہ یہ کمیٹی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل احسان صادق کی سربراہی میں قائم کی گئی اور اسے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی کارکردگی کی رپورٹ آئندہ ہفتے سپریم کورٹ میں جمع کرائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1079106</guid>
      <pubDate>Wed, 23 May 2018 12:44:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/05/5b0515e24d086.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/05/5b0515e24d086.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
