<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 22:51:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 23 Jun 2026 22:51:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’میں صدر ہوتا تو شکیل آفریدی کو دو اور لو کے معاہدے پر رہا کردیتا‘
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1079259/</link>
      <description>&lt;p&gt;واشنگٹن: سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ اگر وہ اس وقت پاکستان کے صدر ہوتے تو وہ اسامہ بن لادن کا سراغ لگانے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو ’ کچھ دو اور کچھ لو‘ کے معاہدے پر رہا کردیتے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1410077/musharraf-suggests-exchanging-afridi-for-fazlullah"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکا کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات اس وقت ’انتہائی نازک‘ دور سے گزر رہے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انٹرویو کے دوران ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی سے متعلق جب ان سے سوال کیا گیا کہ اگر وہ اب ملک کے صدر ہوتے تو کیا وہ شکیل آفریدی کو رہا کردیتے ، جس پر پرویز مشرف نے کہا کہ ’ ہاں یہ معاملہ دو اور لو کی ڈیل کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے، میرے خیال سے یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں جو حل نہیں کیا جاسکتا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1077981"&gt;’شکیل آفریدی کے معاملے پر کوئی ڈیل نہیں کی جارہی‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو مئی 2011 میں ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈوز کے آپریشن میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد حراست میں لیا گیا تھا اور ان پر الزام تھا کہ انہوں نے القاعدہ کے سربراہ کی رہائش گاہ کا سراغ لگانے میں سی آئی اے کو مدد فراہم کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں اسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ باڑہ نے ایبٹ آباد آپریشن میں امریکا کی معاونت کرنے پر ڈاکٹر شکیل آفریدی کو مجموعی طور پر &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/3617"&gt;&lt;strong&gt;33 سال قید کی سزا&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; سنائی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس معاملے پر گزشتہ دنوں امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے کانگریس کمیٹی کے سامنے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو جیل سے باہر لانے کے لیے جاں فشانی سے کوششیں جاری رکھیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکی قانون سازوں کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا گیا تھا کہ امریکا میں ہیرو سمجھے جانے والے شکیل آفریدی کو واپس لائیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم ڈاکٹر شکیل آفریدی کے معاملے پر پاکستان کا دفاع کرتے ہوئے پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ ہر قوم اپنے مفادات کے مطابق اپنی پالیسیاں بناتی ہے اور اس معاملے میں پاکستان کی پالیسی امریکا کے لیے ہیجانی کیفیت پیدا کرنے والی تھی لیکن اگر واشنگٹن کو اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا تو وہ بھی یہی پالیسی اپناتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس موقع پر انہوں نے پوچھا کہ آپ بتائیں کہ امریکا کی قومی سلامتی کے انتہائی حساس ترین معاملے پر کیا آپ امریکی شہری کو آئی ایس آئی سے معاہدہ کرنے کی اجازت دیں گے؟۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1078028/"&gt;عدالت نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی ’ڈیل‘ پر حکومت سے جواب طلب کرلیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپنے انٹرویو کے دوران پرویز مشرف نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ شکیل آفریدی کے بدلے ملا فضل اللہ کا تبادلہ کیا جاسکتا ہے، ہم اس ہیجانی کیفیت کو ختم کرسکتے ہیں جبکہ امریکا اور افغانستان سے ملنسار رویہ رکھ سکتے ہیں کیونکہ ہمیں مطلوب دہشت گردی وہاں (افغانستان) میں بیٹھا ہے اور ’ میرے خیال سے امریکا یہ جانتا ہے کہ وہ وہاں موجود ہے‘۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کو اسلام آباد کی شکایات اور مشوروں کو سننا چاہیے جبکہ اسلام آباد کو بھی حقانی نیٹ ورک سے متعلق امریکی شکایات پر توجہ دینی چاہیے اور ان معاملات کو بیٹھ کر حل کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>واشنگٹن: سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ اگر وہ اس وقت پاکستان کے صدر ہوتے تو وہ اسامہ بن لادن کا سراغ لگانے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو ’ کچھ دو اور کچھ لو‘ کے معاہدے پر رہا کردیتے۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1410077/musharraf-suggests-exchanging-afridi-for-fazlullah"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکا کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات اس وقت ’انتہائی نازک‘ دور سے گزر رہے ہیں۔ </p>

<p>انٹرویو کے دوران ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی سے متعلق جب ان سے سوال کیا گیا کہ اگر وہ اب ملک کے صدر ہوتے تو کیا وہ شکیل آفریدی کو رہا کردیتے ، جس پر پرویز مشرف نے کہا کہ ’ ہاں یہ معاملہ دو اور لو کی ڈیل کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے، میرے خیال سے یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں جو حل نہیں کیا جاسکتا‘۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1077981">’شکیل آفریدی کے معاملے پر کوئی ڈیل نہیں کی جارہی‘</a></strong></p>

<p>خیال رہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو مئی 2011 میں ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈوز کے آپریشن میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد حراست میں لیا گیا تھا اور ان پر الزام تھا کہ انہوں نے القاعدہ کے سربراہ کی رہائش گاہ کا سراغ لگانے میں سی آئی اے کو مدد فراہم کی تھی۔</p>

<p>بعد ازاں اسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ باڑہ نے ایبٹ آباد آپریشن میں امریکا کی معاونت کرنے پر ڈاکٹر شکیل آفریدی کو مجموعی طور پر <a href="https://www.dawnnews.tv/news/3617"><strong>33 سال قید کی سزا</strong></a> سنائی تھی۔</p>

<p>اس معاملے پر گزشتہ دنوں امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے کانگریس کمیٹی کے سامنے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو جیل سے باہر لانے کے لیے جاں فشانی سے کوششیں جاری رکھیں گے۔</p>

<p>امریکی قانون سازوں کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا گیا تھا کہ امریکا میں ہیرو سمجھے جانے والے شکیل آفریدی کو واپس لائیں۔</p>

<p>تاہم ڈاکٹر شکیل آفریدی کے معاملے پر پاکستان کا دفاع کرتے ہوئے پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ ہر قوم اپنے مفادات کے مطابق اپنی پالیسیاں بناتی ہے اور اس معاملے میں پاکستان کی پالیسی امریکا کے لیے ہیجانی کیفیت پیدا کرنے والی تھی لیکن اگر واشنگٹن کو اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا تو وہ بھی یہی پالیسی اپناتا۔</p>

<p>اس موقع پر انہوں نے پوچھا کہ آپ بتائیں کہ امریکا کی قومی سلامتی کے انتہائی حساس ترین معاملے پر کیا آپ امریکی شہری کو آئی ایس آئی سے معاہدہ کرنے کی اجازت دیں گے؟۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1078028/">عدالت نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی ’ڈیل‘ پر حکومت سے جواب طلب کرلیا</a></strong></p>

<p>اپنے انٹرویو کے دوران پرویز مشرف نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ شکیل آفریدی کے بدلے ملا فضل اللہ کا تبادلہ کیا جاسکتا ہے، ہم اس ہیجانی کیفیت کو ختم کرسکتے ہیں جبکہ امریکا اور افغانستان سے ملنسار رویہ رکھ سکتے ہیں کیونکہ ہمیں مطلوب دہشت گردی وہاں (افغانستان) میں بیٹھا ہے اور ’ میرے خیال سے امریکا یہ جانتا ہے کہ وہ وہاں موجود ہے‘۔ </p>

<p>پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کو اسلام آباد کی شکایات اور مشوروں کو سننا چاہیے جبکہ اسلام آباد کو بھی حقانی نیٹ ورک سے متعلق امریکی شکایات پر توجہ دینی چاہیے اور ان معاملات کو بیٹھ کر حل کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1079259</guid>
      <pubDate>Sat, 26 May 2018 12:22:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انور اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/05/5b08f0d22ef3d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/05/5b08f0d22ef3d.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
