<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 11:02:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 11:02:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد میں ہیٹ اسٹروک کا خطرہ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1079316/</link>
      <description>&lt;p&gt;درجہ حرارت کے بڑھنے کی وجہ سے اسلام آباد میں اگلے 10 دنوں میں ہیٹ اسٹروک کا خطرہ سامنے آیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) نے شہریوں کو روزے کے دوران حفاظتی اقدامات کرنے کی تجویز کردی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ بزرگ افراد، بچے اور روزے دار افراد کو سورج کی تپش سے دور رہنا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ تمام افراد کو سہری اور افطار میں زیادہ سے زیادہ پانی پینا چاہیے ہلکے رنگ کے کپڑے پہننے چاہیے اور اگر سورج میں نکلنا ضروری ہو تو سر پر گیلا کپڑا رکھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ بخار، سر درد، ہونٹ اور زبان خشک ہونا، الٹی اور جسم کے درجہ حرارت میں اضافہ ہیٹ اسٹروک کی نشانیوں میں سے ہیں اور کسی کو بھی اس طرح کے مسائل کا سامنا ہو تو اسے فوری طور پر سائے میں لے جاکر اس کے کچھ کپڑے اتاریں اور جسم کو ٹھنڈا کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پمز میں گیسٹروانٹرولوجسٹ ڈاکٹر وسیم خواجہ نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہیٹ اسٹروک ہیٹ ریگولیٹنگ میکانزم کی ناکامی کے سبب ہوتا ہے اور یہ جسم کے درجہ حرارت میں نہایت اضافے کی وجہ سے پیش آتا ہے جو کہ پسینے کے نا آنے یا زیادہ آنے، خشک اور گرم جلد وغیرہ کی وجہ سے ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ان وجوہات کا نتیجہ انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اس کے علاج میں جسم پر فوری طور برف کا پانی ڈال کر اسے ٹھنڈا کرنا اور جسم کا درجہ حرارت 28.9 ڈگری سے کم رکھنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈاکٹر وسیم نے گرمی کی شدت سے ایک اور خطرناک اثر کے حوالے سے بتایا کہ اگر کوئی شخص دھوپ میں کھڑا ہو تو اس کا بلڈ پریشر گر سکتا ہے جس کی وجہ سے اس پر غنودگی طاری ہوسکتی ہے اور وہ بے ہوش بھی ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ سب کو گرمی کی شدت سے ہونے والے خطرناک مسائل سے نمٹنے کے لیے حفاظتی اقدامات کرنے چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر ڈان اخبار میں 27 مئی 2018 کو شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>درجہ حرارت کے بڑھنے کی وجہ سے اسلام آباد میں اگلے 10 دنوں میں ہیٹ اسٹروک کا خطرہ سامنے آیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) نے شہریوں کو روزے کے دوران حفاظتی اقدامات کرنے کی تجویز کردی۔</p>

<p>اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ بزرگ افراد، بچے اور روزے دار افراد کو سورج کی تپش سے دور رہنا چاہیے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ تمام افراد کو سہری اور افطار میں زیادہ سے زیادہ پانی پینا چاہیے ہلکے رنگ کے کپڑے پہننے چاہیے اور اگر سورج میں نکلنا ضروری ہو تو سر پر گیلا کپڑا رکھیں۔</p>

<p>انہوں نے بتایا کہ بخار، سر درد، ہونٹ اور زبان خشک ہونا، الٹی اور جسم کے درجہ حرارت میں اضافہ ہیٹ اسٹروک کی نشانیوں میں سے ہیں اور کسی کو بھی اس طرح کے مسائل کا سامنا ہو تو اسے فوری طور پر سائے میں لے جاکر اس کے کچھ کپڑے اتاریں اور جسم کو ٹھنڈا کریں۔</p>

<p>پمز میں گیسٹروانٹرولوجسٹ ڈاکٹر وسیم خواجہ نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہیٹ اسٹروک ہیٹ ریگولیٹنگ میکانزم کی ناکامی کے سبب ہوتا ہے اور یہ جسم کے درجہ حرارت میں نہایت اضافے کی وجہ سے پیش آتا ہے جو کہ پسینے کے نا آنے یا زیادہ آنے، خشک اور گرم جلد وغیرہ کی وجہ سے ہوتا ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ان وجوہات کا نتیجہ انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے۔</p>

<p>انہوں نے بتایا کہ اس کے علاج میں جسم پر فوری طور برف کا پانی ڈال کر اسے ٹھنڈا کرنا اور جسم کا درجہ حرارت 28.9 ڈگری سے کم رکھنا شامل ہے۔</p>

<p>ڈاکٹر وسیم نے گرمی کی شدت سے ایک اور خطرناک اثر کے حوالے سے بتایا کہ اگر کوئی شخص دھوپ میں کھڑا ہو تو اس کا بلڈ پریشر گر سکتا ہے جس کی وجہ سے اس پر غنودگی طاری ہوسکتی ہے اور وہ بے ہوش بھی ہوسکتا ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ سب کو گرمی کی شدت سے ہونے والے خطرناک مسائل سے نمٹنے کے لیے حفاظتی اقدامات کرنے چاہیے۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر ڈان اخبار میں 27 مئی 2018 کو شائع ہوئی</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1079316</guid>
      <pubDate>Sun, 27 May 2018 18:37:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/05/5b0aaffc67ae9.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/05/5b0aaffc67ae9.jpg"/>
        <media:title>Pakistani youths cool themselves off at a river during a heatwave on the outskirts of Islamabad on June 22, 2015. A heatwave in Pakistan's largest city Karachi and other districts of southern Sindh province has killed at least 122 people, health officials said. The southern port city of Karachi saw temperatures reach as high as 45 degrees Celsius (111 degrees Fahrenheit) on June 20, just short of an all-time high in the city of 47 C in June 1979. AFP PHOTO / Aamir QURESHI
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
