<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 05:01:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 05:01:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلاول بھٹو نے گلگت بلتستان اصلاحات پیکیج کو عوام کی توہین قرار دے دیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1079361/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی ) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے گلگت بلتستان کے لیے اعلان کردہ اصلاحات پیکیج کو علاقے کے عوام کی توہین قرار دے دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1410393/bilawal-rejects-gilgit-baltistan-reforms-package"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اسلام آباد میں بیورو کریسی کو قانون سازی کا اختیار دینا اور لوگوں کے حقوق سے انکار کرنا گلگت بلتسان کے عوام کی ایسی توہین ہے جس کے سیاسی استحکام کے لیے دوررست نتائج برآمد ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بلاول بھٹو نے 31 ویں آئینی ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ پارلیمان نے حال ہی میں ایک آئینی ترمیم کہ ہے جس میں صدر سے اختیارات لے کر قبائلی علاقوں کے عوام کو بااختیار بنایا گیا جبکہ دوسری طرف وفاقی حکومت گلگت بلتستان کے لوگوں سے ان کے اختیارات لے کر وزیر اعظم کو دے دیے گئے ہیں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1079292"&gt;گلگت بلتستان آڈر 2018 کے خلاف احتجاج میں متعدد مظاہرین زخمی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس نام نہاد اصلاحات پیکیج کے مطابق گلگت بلتستان کے لیے وزیر اعظم قانون بنائیں گے اور گلگت کی قانون ساز اسمبلی سے پاس کردہ کسی بھی قانون کو ختم بھی کرسکتے ہیں، انہوں نے سوال کیا کہ کیا اس سے زیادہ کچھ اور مضحکہ خیز اور اشتعال انگیز چیز ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے عوام کو یقین دلایا کہ پیپلز پارٹی اس بات کو یقینی بنائی گی کہ وہ قانون سازی کا اختیار گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کو دیا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے نہ پہلے بیوروکریسی یا کسی فرد کو گلگت بلتستان کے لیے قانون سازی کا اختیار دیا تھا نہ اب دینے دے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1079054"&gt;گلگت بلتستان آڈر 2018: ‘نئے قانون سے جوڈیشل، سیاسی طاقت حاصل ہوگی’&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بلاول بھٹو نے سوال کیا کہ اگر صدر قبائلی علاقوں کے لیے قانون سازی نہیں کرسکتا تو کیوں وزیر اعظم کو گلگت بلتساتن کے لیے یہ اختیار حاصل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق سے متعلق قانون چھوڑ کر فوجی عدالتوں کو گلگت بلتستان میں قائم کرنے سمیت دیگر جبری قانون بنائے جارہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے کے بہت دیر ہو گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ غیر انسانی رویے اور برتاؤ کو فوری طور پر ختم کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی ) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے گلگت بلتستان کے لیے اعلان کردہ اصلاحات پیکیج کو علاقے کے عوام کی توہین قرار دے دیا۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1410393/bilawal-rejects-gilgit-baltistan-reforms-package"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق اسلام آباد میں بیورو کریسی کو قانون سازی کا اختیار دینا اور لوگوں کے حقوق سے انکار کرنا گلگت بلتسان کے عوام کی ایسی توہین ہے جس کے سیاسی استحکام کے لیے دوررست نتائج برآمد ہوں گے۔</p>

<p>بلاول بھٹو نے 31 ویں آئینی ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ پارلیمان نے حال ہی میں ایک آئینی ترمیم کہ ہے جس میں صدر سے اختیارات لے کر قبائلی علاقوں کے عوام کو بااختیار بنایا گیا جبکہ دوسری طرف وفاقی حکومت گلگت بلتستان کے لوگوں سے ان کے اختیارات لے کر وزیر اعظم کو دے دیے گئے ہیں‘۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1079292">گلگت بلتستان آڈر 2018 کے خلاف احتجاج میں متعدد مظاہرین زخمی</a></strong></p>

<p>انہوں نے کہا کہ اس نام نہاد اصلاحات پیکیج کے مطابق گلگت بلتستان کے لیے وزیر اعظم قانون بنائیں گے اور گلگت کی قانون ساز اسمبلی سے پاس کردہ کسی بھی قانون کو ختم بھی کرسکتے ہیں، انہوں نے سوال کیا کہ کیا اس سے زیادہ کچھ اور مضحکہ خیز اور اشتعال انگیز چیز ہوگی۔</p>

<p>بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے عوام کو یقین دلایا کہ پیپلز پارٹی اس بات کو یقینی بنائی گی کہ وہ قانون سازی کا اختیار گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کو دیا جائے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے نہ پہلے بیوروکریسی یا کسی فرد کو گلگت بلتستان کے لیے قانون سازی کا اختیار دیا تھا نہ اب دینے دے گی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1079054">گلگت بلتستان آڈر 2018: ‘نئے قانون سے جوڈیشل، سیاسی طاقت حاصل ہوگی’</a></strong> </p>

<p>بلاول بھٹو نے سوال کیا کہ اگر صدر قبائلی علاقوں کے لیے قانون سازی نہیں کرسکتا تو کیوں وزیر اعظم کو گلگت بلتساتن کے لیے یہ اختیار حاصل ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق سے متعلق قانون چھوڑ کر فوجی عدالتوں کو گلگت بلتستان میں قائم کرنے سمیت دیگر جبری قانون بنائے جارہے۔</p>

<p>چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے کے بہت دیر ہو گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ غیر انسانی رویے اور برتاؤ کو فوری طور پر ختم کرنا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1079361</guid>
      <pubDate>Mon, 28 May 2018 14:40:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/05/5b0bce0b8f637.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/05/5b0bce0b8f637.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
