<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 14:59:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 14:59:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹھٹھہ میں نایاب آرہ مچھلی کو شکار کے بعد فروخت کردیا گیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1079448/</link>
      <description>&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/r8EwGPr9yuA?enablejsapi=1&amp;showinfo=0&amp;rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی وائلڈ لائف فیڈریشن (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے مطابق 15 فٹ لمبی معدوم مادہ ’آرہ مچھلی‘ کو ٹھٹھہ کے قریب مچھیروں نے شکار کرکے فروخت کر دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ادارے کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ جھینگے پکڑنے والے ٹرالر الزاہد علی نے ترکھان اور کھجر کریک کے قریب بڑی آرہ مچھلی کو پکڑا جسے مقامی زبان میں لیارا بھی کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1046699"&gt;نایاب مچھلی کا شکار کئی انسانی جانیں نگل گیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ مچھلی کے بڑے اور بھاری ہونے کی وجہ سے مچھیروں نے اسے کشتی میں لانے کے لیے کرین کا استعمال کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;1320 کلو وزنی آرہ مچھلی کو ابراہیم حیدری پر اتار کر ہفتے کے روز نیلامی کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ آرہ مچھلی سمندی حیوانوں میں انتہائی نایاب مچھلی ہے جس کی آبادی کو ضرورت سے زیادہ شکار کی وجہ سے عالمی سطح پر خطرات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی دیکھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1055354"&gt;پاکستانی سمندر میں نایاب مچھلی پکڑنے کا واقعہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آرہ مچھلی کی 3 اقسام جن میں نائف ٹوتھ، لارج ٹوتھ اور لارج کومب شامل ہیں کو پاکستانی سمندر میں دیکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;1980 کی دہائی میں پاکستان میں آرہ مچھلی کی کثیر تعداد موجود تھی تاہم اس کے خطرناک ہونے بالخصوص اس کے سر پر آرہ ہونے کے باعث پاکستان میں اس کی آبادی انتہائی کم ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/r8EwGPr9yuA?enablejsapi=1&showinfo=0&rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p><strong>عالمی وائلڈ لائف فیڈریشن (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے مطابق 15 فٹ لمبی معدوم مادہ ’آرہ مچھلی‘ کو ٹھٹھہ کے قریب مچھیروں نے شکار کرکے فروخت کر دیا۔</strong></p>

<p>ادارے کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ جھینگے پکڑنے والے ٹرالر الزاہد علی نے ترکھان اور کھجر کریک کے قریب بڑی آرہ مچھلی کو پکڑا جسے مقامی زبان میں لیارا بھی کہا جاتا ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1046699">نایاب مچھلی کا شکار کئی انسانی جانیں نگل گیا</a></strong></p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ مچھلی کے بڑے اور بھاری ہونے کی وجہ سے مچھیروں نے اسے کشتی میں لانے کے لیے کرین کا استعمال کیا۔</p>

<p>1320 کلو وزنی آرہ مچھلی کو ابراہیم حیدری پر اتار کر ہفتے کے روز نیلامی کی گئی۔</p>

<p>خیال رہے کہ آرہ مچھلی سمندی حیوانوں میں انتہائی نایاب مچھلی ہے جس کی آبادی کو ضرورت سے زیادہ شکار کی وجہ سے عالمی سطح پر خطرات کا سامنا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی دیکھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1055354">پاکستانی سمندر میں نایاب مچھلی پکڑنے کا واقعہ</a></strong></p>

<p>آرہ مچھلی کی 3 اقسام جن میں نائف ٹوتھ، لارج ٹوتھ اور لارج کومب شامل ہیں کو پاکستانی سمندر میں دیکھا گیا ہے۔</p>

<p>1980 کی دہائی میں پاکستان میں آرہ مچھلی کی کثیر تعداد موجود تھی تاہم اس کے خطرناک ہونے بالخصوص اس کے سر پر آرہ ہونے کے باعث پاکستان میں اس کی آبادی انتہائی کم ہوگئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1079448</guid>
      <pubDate>Tue, 29 May 2018 20:20:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد رضا)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/05/5b0d5c49caf1d.jpg?r=182495404" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/05/5b0d5c49caf1d.jpg?r=1743229329"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
