<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 19:13:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 19:13:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد ہائی کورٹ نے مزید 6 اضلاع کی حلقہ بندیوں کو کالعدم قرار دے دیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1079507/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے مزید 6 اضلاع کی حلقہ بندیوں کو کالعدم قرار دے دیا جس کے بعد گزشتہ دو روز میں کالعدم قرار دی گئی حلقہ بندیوں کی تعداد 10 ہوگئی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جسٹس عامر فاروقی جنہوں نے ای سی پی کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی مختلف پٹیشنز پر سماعت کی نے خاران، گھوٹکی، قصور، شیخوپورہ، بہاولپور اور ہری پور کی حلقہ بندیوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ای سی پی کو کیسز واپس بھجوادیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب عدالت نے خانیوال، چنیوٹ، کرم ایجنسی، راجن پور، مانسہرہ، صوابی، جیکب آباد، گجرانوالا، عمرکوٹ، رحیم یارخان، سیالکوٹ، بنو اور چکوال کی حلقہ بندیوں کے حوالے سے ای سی پی کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے ان کے خلاف پٹیشنز کو خارج کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1079454"&gt;ملک کے 4 اضلاع کی حلقہ بندیاں کالعدم، 5 پر فیصلہ محفوظ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ نے جہلم، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور لوئر دیر کی حلقہ بندیوں کو کالعم قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ای سی پی کی کالعدم قرار دی گئیں حلقہ بندیوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے کیسز کی فائلز ٹرانسفر کیے جانے کے بعد سماعتیں ہوں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہائی کورٹ میں حلقہ بندیوں کے حوالے سے 31 مزید پٹیشنز پر سماعت کل ہوں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ حلقہ بندی ایکٹ 1974 کے تحت قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مردم شماری کے بعد انتخابات کے لیے نئی حلقہ بندیاں کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1076261"&gt;الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں سے متعلق تنازعات کو خطرہ قرار دے دیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ سال ہونے والی مردم شماری کے بعد ہونے والی حلقہ بندیوں کے خلاف صرف اسلام آباد ہائی کورٹ میں 108 پٹیشنز دائر کی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان پٹیشنز میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) و دیگر نے اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ ای سی پی کی جانب سے کی گئی حلقہ بندیاں سیاسی بنیادوں پر کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پٹیشنرز کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیاں کرتے ہوئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو بھی شامل کیا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے مزید 6 اضلاع کی حلقہ بندیوں کو کالعدم قرار دے دیا جس کے بعد گزشتہ دو روز میں کالعدم قرار دی گئی حلقہ بندیوں کی تعداد 10 ہوگئی ہیں۔</p>

<p>جسٹس عامر فاروقی جنہوں نے ای سی پی کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی مختلف پٹیشنز پر سماعت کی نے خاران، گھوٹکی، قصور، شیخوپورہ، بہاولپور اور ہری پور کی حلقہ بندیوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ای سی پی کو کیسز واپس بھجوادیے۔</p>

<p>دوسری جانب عدالت نے خانیوال، چنیوٹ، کرم ایجنسی، راجن پور، مانسہرہ، صوابی، جیکب آباد، گجرانوالا، عمرکوٹ، رحیم یارخان، سیالکوٹ، بنو اور چکوال کی حلقہ بندیوں کے حوالے سے ای سی پی کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے ان کے خلاف پٹیشنز کو خارج کردیا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1079454">ملک کے 4 اضلاع کی حلقہ بندیاں کالعدم، 5 پر فیصلہ محفوظ</a></strong></p>

<p>قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ نے جہلم، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور لوئر دیر کی حلقہ بندیوں کو کالعم قرار دیا تھا۔</p>

<p>ای سی پی کی کالعدم قرار دی گئیں حلقہ بندیوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے کیسز کی فائلز ٹرانسفر کیے جانے کے بعد سماعتیں ہوں گی۔</p>

<p>ہائی کورٹ میں حلقہ بندیوں کے حوالے سے 31 مزید پٹیشنز پر سماعت کل ہوں گی۔</p>

<p>خیال رہے کہ حلقہ بندی ایکٹ 1974 کے تحت قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مردم شماری کے بعد انتخابات کے لیے نئی حلقہ بندیاں کی جائیں گی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1076261">الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں سے متعلق تنازعات کو خطرہ قرار دے دیا</a></strong></p>

<p>گزشتہ سال ہونے والی مردم شماری کے بعد ہونے والی حلقہ بندیوں کے خلاف صرف اسلام آباد ہائی کورٹ میں 108 پٹیشنز دائر کی گئی تھیں۔</p>

<p>ان پٹیشنز میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) و دیگر نے اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ ای سی پی کی جانب سے کی گئی حلقہ بندیاں سیاسی بنیادوں پر کی گئی ہیں۔</p>

<p>پٹیشنرز کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیاں کرتے ہوئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو بھی شامل کیا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1079507</guid>
      <pubDate>Wed, 30 May 2018 20:24:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکملک اسد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/05/5b0ec16a79840.jpg?r=2029051031" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/05/5b0ec16a79840.jpg?r=1524687274"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
