<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 13:13:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 13:13:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اصغر خان کیس: نواز شریف،سابق ڈی جی آئی ایس آئی سمیت دیگر افراد کو نوٹس جاری
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1079646/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور: چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے اصغر خان عملدرآمد کیس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف، انٹرسروس انٹیلی جنس ( آئی ایس آئی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل اسد درانی، سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی، عابدہ حسین سمیت 21 افراد کو نوٹس جاری کردیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے ساتھ ہی عدالت نے کیس سے متعلقہ فوجی افسران، قومی احتساب بیورو ( نیب ) اور وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے ) کے ڈائریکٹر جنرلز کو بھی نوٹس جاری کیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس کی سربراہی میں اصغر خان کیس کے فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، اس دوران اٹارنی جنرل اشتر اوصاف عدالت میں پیش ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سماعت کے دوران اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کابینہ کے اجلاس میں کیے گئے فیصلے سے متعلق سربمہر رپورٹ عدالت میں پیش کی اور عدالت سے درخواست کی کہ اسے دوبارہ سیل کردیا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1079537/"&gt;اصغر خان کیس: کابینہ کا اجلاس نہ بلانے پر چیف جسٹس برہم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس معاملے میں پیسے وصول کرنے والوں سے رقم کی واپسی کا کیا طریقہ کار بنایا گیا ہے، جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کابینہ نے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا ہے اور  ایف آئی اے کو تفتیش جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس دوران اشتر اوصاف کی جانب سے کابینہ کے فیصلے سے متعلق رپورٹ دوبارہ سیل کرنے کی درخواست کی گئی، جس پر عدالت نے اسے تسلیم کرتے ہوئے رپورٹ سیل کرنے کا حکم دے دیا، بعد ازاں کیس کی سماعت 6 جون تک ملتوی کردی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ اس سے قبل اصغر خان عملدرآمد کیس میں کابینہ کا اجلاس نہ بلانے پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا تھا کہ اس کیس سے متعلق اجلاس بلایا جائے اور فیصلے سے متعلق عدالت کو آگاہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5b178ec901ef1'&gt;اصغر خان کیس میں اب تک کیا ہوا!&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس 1996 میں دائر ہوا، مقدمے کی رو سے صدر غلام اسحٰق خان کی ہدایت پر ایوان صدر میں 1990 کے انتخابات کے لیے الیکشن سیل بنایا، جس میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ اور ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی نے ان کی معاونت کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مقدمے میں کہا گیا تھا کہ 1990 کے انتخابات میں بے نظیر بھٹو کو شکست دینے کے لیے آئی ایس آئی کے سیاسی ونگ نے مبینہ طور پر مہران بینک کے یونس حبیب کے ذریعے سیاستدانوں میں 14 کروڑ روپے تقسیم کیے، جس سے عوام کو شفاف انتخابات اور حق رائے دہی سے محروم رکھ کر حلف کی رو گردانی کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں 16 سال بعد عدالت نے 2012 میں مذکورہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ریٹائر جرنیلوں اسلم بیگ، اسد درانی اور مہران بینک کے سربراہ یونس حبیب کے خلاف کارروائی کا حکم دیا اور رقم وصول کرنے والے سیاستدانوں کے خلاف ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ضمن میں تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا تھا کہ اس وقت کے صدر، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے اپنے عہدوں کا ناجائز استعمال کیا، 1990 کے انتخابات میں دھاندلی کی گئی جبکہ اسلم بیگ اور اسد درانی غیر قانونی سرگرمیوں میں شریک ہوئے، ان کا یہ عمل انفرادی فعل تھا، اداروں کا نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تفصیلی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ خفیہ اداروں کا کام الیکشن سیل بنانا نہیں بلکہ سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے، صدر مملکت ریاست کا سربراہ ہوتا ہے، صدر حلف سے وفا نہ کرے تو آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے، ایوان صدرمیں کوئی سیل ہے تو فوری بند کیاجائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اس کیس میں کافی ثبوث جمع کیے گئے، لہٰذا ایف آئی اے فنڈز وصول کرنے والوں کے خلاف ٹرائل کے لیے مقدمات کی تیاری کرے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس کے بعد سپریم کورٹ کے 2012 کے فیصلے کی روشنی میں ایف آئی اے کی جانب سے ایک ٹیم تشکیل دی گئی تھی، جس میں سابق ڈائریکٹر جنرل غالب بندیشہ، ڈاکٹر عثمان انور، قدرت اللہ مروت اور نجف مرزا شامل تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے اصغر خان کیس کے فیصلے کے تقریباً ایک سال بعد 2013 کے اختتام پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپنی تحقیقات کے دوران 2015 تک ایف آئی اے کی جانب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف، ایئرمارشل (ر) اصغر خان، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) اسد درانی، مہران بینک کے مالک یونس حبیب، ایڈووکیٹ یوسف میمن اور معروف صحافی الطاف حسین قریشی کے بیان ریکارڈ کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1078277"&gt;وفاقی حکومت کو اصغر خان کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کا حکم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ضمن میں فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس میں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی نے نظرثانی کی درخواستیں دائر کی تھیں جو رواں سال 6 مئی کومسترد کر دی گئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے تین رکنی بینچ نے اصغر خان کیس نظرثانی درخواستوں کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ عدالت نے 6 سال قبل فیصلہ دیا تھا، اب تک فیصلے پر کیا عملدرآمد ہوا ہے؟&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ اس کیس میں نظرثانی کی درخواستیں خارج کی جاچکی ہیں اور اب عدالتی فیصلے پر عمل درآمد ہونا چاہیے، چناچہ ایف آئی اے نے اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے 2012 کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے 10 مئی کو ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن نے بتایا تھا کہ یہ کمیٹی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل احسان صادق کی سربراہی میں قائم کی گئی اور اسے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی کارکردگی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور: چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے اصغر خان عملدرآمد کیس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف، انٹرسروس انٹیلی جنس ( آئی ایس آئی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل اسد درانی، سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی، عابدہ حسین سمیت 21 افراد کو نوٹس جاری کردیے۔</p>

<p>اس کے ساتھ ہی عدالت نے کیس سے متعلقہ فوجی افسران، قومی احتساب بیورو ( نیب ) اور وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے ) کے ڈائریکٹر جنرلز کو بھی نوٹس جاری کیے۔</p>

<p>سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس کی سربراہی میں اصغر خان کیس کے فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، اس دوران اٹارنی جنرل اشتر اوصاف عدالت میں پیش ہوئے۔</p>

<p>سماعت کے دوران اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کابینہ کے اجلاس میں کیے گئے فیصلے سے متعلق سربمہر رپورٹ عدالت میں پیش کی اور عدالت سے درخواست کی کہ اسے دوبارہ سیل کردیا جائے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1079537/">اصغر خان کیس: کابینہ کا اجلاس نہ بلانے پر چیف جسٹس برہم</a></strong> </p>

<p>سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس معاملے میں پیسے وصول کرنے والوں سے رقم کی واپسی کا کیا طریقہ کار بنایا گیا ہے، جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کابینہ نے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا ہے اور  ایف آئی اے کو تفتیش جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔</p>

<p>اس دوران اشتر اوصاف کی جانب سے کابینہ کے فیصلے سے متعلق رپورٹ دوبارہ سیل کرنے کی درخواست کی گئی، جس پر عدالت نے اسے تسلیم کرتے ہوئے رپورٹ سیل کرنے کا حکم دے دیا، بعد ازاں کیس کی سماعت 6 جون تک ملتوی کردی گئی۔</p>

<p>خیال رہے کہ اس سے قبل اصغر خان عملدرآمد کیس میں کابینہ کا اجلاس نہ بلانے پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا تھا کہ اس کیس سے متعلق اجلاس بلایا جائے اور فیصلے سے متعلق عدالت کو آگاہ کیا جائے۔</p>

<h3 id='5b178ec901ef1'>اصغر خان کیس میں اب تک کیا ہوا!</h3>

<p>سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس 1996 میں دائر ہوا، مقدمے کی رو سے صدر غلام اسحٰق خان کی ہدایت پر ایوان صدر میں 1990 کے انتخابات کے لیے الیکشن سیل بنایا، جس میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ اور ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی نے ان کی معاونت کی۔</p>

<p>مقدمے میں کہا گیا تھا کہ 1990 کے انتخابات میں بے نظیر بھٹو کو شکست دینے کے لیے آئی ایس آئی کے سیاسی ونگ نے مبینہ طور پر مہران بینک کے یونس حبیب کے ذریعے سیاستدانوں میں 14 کروڑ روپے تقسیم کیے، جس سے عوام کو شفاف انتخابات اور حق رائے دہی سے محروم رکھ کر حلف کی رو گردانی کی گئی۔</p>

<p>بعد ازاں 16 سال بعد عدالت نے 2012 میں مذکورہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ریٹائر جرنیلوں اسلم بیگ، اسد درانی اور مہران بینک کے سربراہ یونس حبیب کے خلاف کارروائی کا حکم دیا اور رقم وصول کرنے والے سیاستدانوں کے خلاف ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔</p>

<p>اس ضمن میں تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا تھا کہ اس وقت کے صدر، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے اپنے عہدوں کا ناجائز استعمال کیا، 1990 کے انتخابات میں دھاندلی کی گئی جبکہ اسلم بیگ اور اسد درانی غیر قانونی سرگرمیوں میں شریک ہوئے، ان کا یہ عمل انفرادی فعل تھا، اداروں کا نہیں۔</p>

<p>تفصیلی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ خفیہ اداروں کا کام الیکشن سیل بنانا نہیں بلکہ سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے، صدر مملکت ریاست کا سربراہ ہوتا ہے، صدر حلف سے وفا نہ کرے تو آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے، ایوان صدرمیں کوئی سیل ہے تو فوری بند کیاجائے۔</p>

<p>عدالت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اس کیس میں کافی ثبوث جمع کیے گئے، لہٰذا ایف آئی اے فنڈز وصول کرنے والوں کے خلاف ٹرائل کے لیے مقدمات کی تیاری کرے۔</p>

<p>جس کے بعد سپریم کورٹ کے 2012 کے فیصلے کی روشنی میں ایف آئی اے کی جانب سے ایک ٹیم تشکیل دی گئی تھی، جس میں سابق ڈائریکٹر جنرل غالب بندیشہ، ڈاکٹر عثمان انور، قدرت اللہ مروت اور نجف مرزا شامل تھے۔</p>

<p>اس تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے اصغر خان کیس کے فیصلے کے تقریباً ایک سال بعد 2013 کے اختتام پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا۔</p>

<p>اپنی تحقیقات کے دوران 2015 تک ایف آئی اے کی جانب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف، ایئرمارشل (ر) اصغر خان، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) اسد درانی، مہران بینک کے مالک یونس حبیب، ایڈووکیٹ یوسف میمن اور معروف صحافی الطاف حسین قریشی کے بیان ریکارڈ کیے گئے تھے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1078277">وفاقی حکومت کو اصغر خان کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کا حکم</a></strong></p>

<p>اس ضمن میں فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس میں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی نے نظرثانی کی درخواستیں دائر کی تھیں جو رواں سال 6 مئی کومسترد کر دی گئیں۔</p>

<p>چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے تین رکنی بینچ نے اصغر خان کیس نظرثانی درخواستوں کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ عدالت نے 6 سال قبل فیصلہ دیا تھا، اب تک فیصلے پر کیا عملدرآمد ہوا ہے؟</p>

<p>دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ اس کیس میں نظرثانی کی درخواستیں خارج کی جاچکی ہیں اور اب عدالتی فیصلے پر عمل درآمد ہونا چاہیے، چناچہ ایف آئی اے نے اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے 2012 کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی تھی۔</p>

<p>اس حوالے سے 10 مئی کو ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن نے بتایا تھا کہ یہ کمیٹی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل احسان صادق کی سربراہی میں قائم کی گئی اور اسے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی کارکردگی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1079646</guid>
      <pubDate>Wed, 06 Jun 2018 12:35:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رانا بلالویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/06/5b124a226c25f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/06/5b124a226c25f.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
