<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 20:28:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 20:28:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شام: رہائشی علاقے پر بمباری میں 44 افراد ہلاک
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1080044/</link>
      <description>&lt;p&gt;بیروت: شمال مغربی شام میں باغیوں کے زیر قبضہ رہائشی علاقے میں بمباری کے نتیجے میں 44 افراد ہلاک ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ نے انسانی حقوق کے شامی مبصر گروپ کے حوالے سے کہا کہ صوبہ حلب کے علاقے زَردانا میں کیے جانے والے فضائی حملے میں ہلاک ہونے والوں میں 6 بچے بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;برطانیہ کے مبصر گروپ کے مطابق فضائی حملہ ممکنہ طور پر روسی طیاروں نے کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;روس کی وزارت دفاع نے مبصر گروپ کی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’اس الزام کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1073769"&gt;شام:باغیوں کے مقبوضہ علاقے میں بمباری سے 200 کے قریب شہری جاں بحق&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;زردانا کے بڑے حصے پر باغیوں کا قبضہ ہے، جہاں ’حیات تحریر الشام‘ اتحاد کی بھی موجودگی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بمباری سے علاقے کی کئی عمارتیں مٹی کا ڈھیر بن گئیں جن کے ملبے کو ہٹانے کا کام تاحال جاری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ حلب کے بڑے حصے پر باغیوں اور جہادی گروپوں کا قبضہ ہے اور صرف ایک حصے پر روس کی حمایت یافتہ حکومت کا کنٹرول ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1074013"&gt;شام میں 121 بچوں سمیت 510 شہری جاں بحق&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;2015 میں روس کی مداخلت کے بعد شامی حکومت تقریباً نصف کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ حکومت کے خلاف خونریز مظاہروں کے بعد 2011 میں شام میں شروع ہونے والی جنگ میں اب تک ساڑھے 3 لاکھ سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بیروت: شمال مغربی شام میں باغیوں کے زیر قبضہ رہائشی علاقے میں بمباری کے نتیجے میں 44 افراد ہلاک ہوگئے۔</p>

<p>غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ نے انسانی حقوق کے شامی مبصر گروپ کے حوالے سے کہا کہ صوبہ حلب کے علاقے زَردانا میں کیے جانے والے فضائی حملے میں ہلاک ہونے والوں میں 6 بچے بھی شامل ہیں۔</p>

<p>برطانیہ کے مبصر گروپ کے مطابق فضائی حملہ ممکنہ طور پر روسی طیاروں نے کیا۔</p>

<p>روس کی وزارت دفاع نے مبصر گروپ کی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’اس الزام کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1073769">شام:باغیوں کے مقبوضہ علاقے میں بمباری سے 200 کے قریب شہری جاں بحق</a></strong></p>

<p>زردانا کے بڑے حصے پر باغیوں کا قبضہ ہے، جہاں ’حیات تحریر الشام‘ اتحاد کی بھی موجودگی ہے۔</p>

<p>بمباری سے علاقے کی کئی عمارتیں مٹی کا ڈھیر بن گئیں جن کے ملبے کو ہٹانے کا کام تاحال جاری ہے۔</p>

<p>واضح رہے کہ حلب کے بڑے حصے پر باغیوں اور جہادی گروپوں کا قبضہ ہے اور صرف ایک حصے پر روس کی حمایت یافتہ حکومت کا کنٹرول ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1074013">شام میں 121 بچوں سمیت 510 شہری جاں بحق</a></strong></p>

<p>2015 میں روس کی مداخلت کے بعد شامی حکومت تقریباً نصف کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر چکی ہے۔</p>

<p>خیال رہے کہ حکومت کے خلاف خونریز مظاہروں کے بعد 2011 میں شام میں شروع ہونے والی جنگ میں اب تک ساڑھے 3 لاکھ سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1080044</guid>
      <pubDate>Sat, 09 Jun 2018 01:00:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/06/5b1ad9a9798eb.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/06/5b1ad9a9798eb.jpg"/>
        <media:title>— فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
