<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 26 May 2026 17:09:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 26 May 2026 17:09:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈان اخبار کی ترسیل میں رکاوٹ آئین کے آرٹیکل19 کی خلاف ورزی قرار
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1080763/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: ڈان اخبار کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے سے متعلق خبر شائع ہونے کے بعد ملک بھر کے صحافیوں، مختلف سماجی تنظیموں، سیاستدانوں اور دائیں بازو کے فعال کارکنان کی جانب سے شدید مخالفت سامنے آئی ہے، انہوں نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو جبراً خاموش کرانے کی کوششوں، صحافیوں پر تشدد اور اغوا سمیت ٹی وی چینلز کی نشریات روکے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ روز ڈان اخبار کی انتظامیہ کی جانب سے بیان سامنے آیا تھا جس میں بتایا گیا کہ گزشتہ ماہ سے مخلتف علاقوں اور شہروں میں اخبار کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے کا سلسلہ جاری ہے، ہاکرز کو ڈان اخبار کی تقسیم کے دوران مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں اور جسمانی تشدد سے خوفزدہ کر کے ہراساں کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1080697"&gt;ڈان اخبار کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا کرنے کا سلسلہ جاری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ضمن میں انتظامیہ کی جانب سے نگراں وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصرالملک ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر باجوہ اور چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار سے اس صورتحال کا نوٹس لینے کی درخواست کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1415079/disruption-in-distribution-of-dawn-termed-violation-of-article-19"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق مذکورہ معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ (سی جے پی) ایشیا نے مذمتی بیان جاری کیا اور پاکستانی حکام پر زور دیا کہ ڈان اخبار کی ترسیل میں حائل مشکلات کو دور کریں، میڈیا کے خلاف مذموم کارروائیوں سے جولائی میں ہونے والے انتخابات کی شفافیت پر اثر پڑے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے سینیٹ کے سابق چیئرمین رضا ربانی کا کہنا تھا کہ صحافت مخالف کارروائیاں آئین کے آرٹیکل 19 کی خلاف وزری ہیں،‘صحافت کو آزاد ہونا چاہیے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1078994"&gt;پاکستان میں ڈان اخبار کی ترسیل میں رکاوٹ کی اطلاعات&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ اس قسم کے اقدامات آرٹیکل 19(اے) کے تحت حاصل بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں، ہر شہری کو عوامی مفاد کے معاملات جاننے کا حق حاصل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ’وفاق کے ستونوں کو کمزور کرنے کی کوششوں کے پیچھے کوئی خفیہ ہاتھ ملوث ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سینیئر رہنما افراسیاب خٹک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’اختلاف رائے کی آوازوں کو دبانا جمہوریت کا قتل ہے، ہماری آنکھوں کے سامنے فاشسٹ طریقوں سے ایک معتبر اور موقر روزنامے کا گلہ گھونٹا جارہا ہے، عدلیہ، سیاسی جماعتیں، اور سول سوسائٹی اس معاملے کا نوٹس نہیں لے رہیں، اس کے خلاف آواز اٹھائی جانی چاہیے اس سے قبل کہ بہت دیر ہوجائے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;&lt;blockquote class="twitter-tweet"&gt;&lt;p lang="en" dir="ltr"&gt;A prestigious independent national daily newspaper getting strangulated by fascist methods before our eyes. Judiciary, political parties &amp;amp; civil society aren&amp;rsquo;t taking notice.Silencing dissent is sure path to murder of democracy. Speak before it&amp;rsquo;s too late. &lt;a href="https://t.co/zVZgezGFCo"&gt;https://t.co/zVZgezGFCo&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&amp;mdash; Afrasiab Khattak (@a_siab) &lt;a href="https://twitter.com/a_siab/status/1009298646037356544?ref_src=twsrc%5Etfw"&gt;June 20, 2018&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;
&lt;script async src="https://platform.twitter.com/widgets.js" charset="utf-8"&gt;&lt;/script&gt;
&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ معاملے پر سابق وزیر اطلاعات اور سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دیے گئے میڈیا کمیشن کے رکن جاوید جبار نے بیان دیتے ہوئے ڈان اخبار کی ترسیل میں رکاوٹیں ڈالنے کی کارروائیوں کی مذمت کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ انہیں باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اشتہاری ایجنسیز، جو ذرائع ابلاغ کی آمدنی  کا بڑا ذریعہ ہوتی ہیں، کو ٹیلی فون پر رقم کی ادائیگیاں روکنے کی ہدایات دی گئیں تاکہ میڈیا کے لیے مشکلات پیدا کی جاسکیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ذرائع ابلاغ کو درپیش رکاوٹوں پر ایکشن لینا چاہیے، ان کامزید کہنا تھا کہ ہر شخص کو اس کی مرضی کا اخبار خریدنے اور پڑھنے کا حق حاصل ہے، اور کسی بھی شہری کو اس حق سے زبردستی روکنا آئین کے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1079165"&gt;میڈیا کی آزادی محدود کرنے کی کوششوں پر سی پی این ای کا اظہار تشویش&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ضمن میں پاکستان مسلم  لیگ (ن) کی ترجمان اور سابق وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ آزاد پریس تہذیب یافتہ معاشروں اور جمہوریت کا بنیادی ستون ہے، جبکہ آزادانہ صحافت اور آزادی اظہار رائے مسلم لیگ (ن) کا منشور میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کے ذریعے بیان دیا کہ ڈان کی بنیاد قائد اعظم محمد علی جناح نے رکھی، جو تحریک آزادی کا محافظ تھا، اب ’سرکاری طور پر تصدیق شدہ سچائی‘ نہ بتانے کے جرم میں دباؤ کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;&lt;blockquote class="twitter-tweet"&gt;&lt;p lang="en" dir="ltr"&gt;DAWN, founded by Quaid-e-Azam Muhammed Ali Jinnah, a newspaper which was in vanguard of Freedom Movement, is now under pressure for not speaking the &amp;lsquo;officially certified truth&amp;rsquo;! Salute to its brave CEO, Hameed Haroon + Editor for standing up for Article 19 of the Constitution! &lt;a href="https://t.co/g64TNcfXJu"&gt;pic.twitter.com/g64TNcfXJu&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&amp;mdash; Mushahid Hussain (@Mushahid) &lt;a href="https://twitter.com/Mushahid/status/1009295431053045761?ref_src=twsrc%5Etfw"&gt;June 20, 2018&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;
&lt;script async src="https://platform.twitter.com/widgets.js" charset="utf-8"&gt;&lt;/script&gt;
&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) حمید ہارون اور ایڈیٹرز کو سلام ہے جو آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت حاصل حقوق کی پاسداری کے لیے ڈٹے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: ڈان اخبار کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے سے متعلق خبر شائع ہونے کے بعد ملک بھر کے صحافیوں، مختلف سماجی تنظیموں، سیاستدانوں اور دائیں بازو کے فعال کارکنان کی جانب سے شدید مخالفت سامنے آئی ہے، انہوں نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو جبراً خاموش کرانے کی کوششوں، صحافیوں پر تشدد اور اغوا سمیت ٹی وی چینلز کی نشریات روکے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔</p>

<p>واضح رہے کہ گزشتہ روز ڈان اخبار کی انتظامیہ کی جانب سے بیان سامنے آیا تھا جس میں بتایا گیا کہ گزشتہ ماہ سے مخلتف علاقوں اور شہروں میں اخبار کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے کا سلسلہ جاری ہے، ہاکرز کو ڈان اخبار کی تقسیم کے دوران مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں اور جسمانی تشدد سے خوفزدہ کر کے ہراساں کیا جارہا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1080697">ڈان اخبار کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا کرنے کا سلسلہ جاری</a></strong> </p>

<p>اس ضمن میں انتظامیہ کی جانب سے نگراں وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصرالملک ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر باجوہ اور چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار سے اس صورتحال کا نوٹس لینے کی درخواست کی گئی تھی۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1415079/disruption-in-distribution-of-dawn-termed-violation-of-article-19">رپورٹ</a></strong> کے مطابق مذکورہ معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ (سی جے پی) ایشیا نے مذمتی بیان جاری کیا اور پاکستانی حکام پر زور دیا کہ ڈان اخبار کی ترسیل میں حائل مشکلات کو دور کریں، میڈیا کے خلاف مذموم کارروائیوں سے جولائی میں ہونے والے انتخابات کی شفافیت پر اثر پڑے گا۔</p>

<p>اس حوالے سے سینیٹ کے سابق چیئرمین رضا ربانی کا کہنا تھا کہ صحافت مخالف کارروائیاں آئین کے آرٹیکل 19 کی خلاف وزری ہیں،‘صحافت کو آزاد ہونا چاہیے‘۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1078994">پاکستان میں ڈان اخبار کی ترسیل میں رکاوٹ کی اطلاعات</a></strong></p>

<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ اس قسم کے اقدامات آرٹیکل 19(اے) کے تحت حاصل بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں، ہر شہری کو عوامی مفاد کے معاملات جاننے کا حق حاصل ہے۔</p>

<p>پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ’وفاق کے ستونوں کو کمزور کرنے کی کوششوں کے پیچھے کوئی خفیہ ہاتھ ملوث ہے‘۔</p>

<p>اس حوالے سے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سینیئر رہنما افراسیاب خٹک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’اختلاف رائے کی آوازوں کو دبانا جمہوریت کا قتل ہے، ہماری آنکھوں کے سامنے فاشسٹ طریقوں سے ایک معتبر اور موقر روزنامے کا گلہ گھونٹا جارہا ہے، عدلیہ، سیاسی جماعتیں، اور سول سوسائٹی اس معاملے کا نوٹس نہیں لے رہیں، اس کے خلاف آواز اٹھائی جانی چاہیے اس سے قبل کہ بہت دیر ہوجائے‘۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '><blockquote class="twitter-tweet"><p lang="en" dir="ltr">A prestigious independent national daily newspaper getting strangulated by fascist methods before our eyes. Judiciary, political parties &amp; civil society aren&rsquo;t taking notice.Silencing dissent is sure path to murder of democracy. Speak before it&rsquo;s too late. <a href="https://t.co/zVZgezGFCo">https://t.co/zVZgezGFCo</a></p>&mdash; Afrasiab Khattak (@a_siab) <a href="https://twitter.com/a_siab/status/1009298646037356544?ref_src=twsrc%5Etfw">June 20, 2018</a></blockquote>
<script async src="https://platform.twitter.com/widgets.js" charset="utf-8"></script>
</div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>مذکورہ معاملے پر سابق وزیر اطلاعات اور سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دیے گئے میڈیا کمیشن کے رکن جاوید جبار نے بیان دیتے ہوئے ڈان اخبار کی ترسیل میں رکاوٹیں ڈالنے کی کارروائیوں کی مذمت کی۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ انہیں باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اشتہاری ایجنسیز، جو ذرائع ابلاغ کی آمدنی  کا بڑا ذریعہ ہوتی ہیں، کو ٹیلی فون پر رقم کی ادائیگیاں روکنے کی ہدایات دی گئیں تاکہ میڈیا کے لیے مشکلات پیدا کی جاسکیں۔</p>

<p>دوسری جانب سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ذرائع ابلاغ کو درپیش رکاوٹوں پر ایکشن لینا چاہیے، ان کامزید کہنا تھا کہ ہر شخص کو اس کی مرضی کا اخبار خریدنے اور پڑھنے کا حق حاصل ہے، اور کسی بھی شہری کو اس حق سے زبردستی روکنا آئین کے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1079165">میڈیا کی آزادی محدود کرنے کی کوششوں پر سی پی این ای کا اظہار تشویش</a></strong> </p>

<p>اس ضمن میں پاکستان مسلم  لیگ (ن) کی ترجمان اور سابق وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ آزاد پریس تہذیب یافتہ معاشروں اور جمہوریت کا بنیادی ستون ہے، جبکہ آزادانہ صحافت اور آزادی اظہار رائے مسلم لیگ (ن) کا منشور میں شامل ہے۔</p>

<p>اس سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کے ذریعے بیان دیا کہ ڈان کی بنیاد قائد اعظم محمد علی جناح نے رکھی، جو تحریک آزادی کا محافظ تھا، اب ’سرکاری طور پر تصدیق شدہ سچائی‘ نہ بتانے کے جرم میں دباؤ کا شکار ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '><blockquote class="twitter-tweet"><p lang="en" dir="ltr">DAWN, founded by Quaid-e-Azam Muhammed Ali Jinnah, a newspaper which was in vanguard of Freedom Movement, is now under pressure for not speaking the &lsquo;officially certified truth&rsquo;! Salute to its brave CEO, Hameed Haroon + Editor for standing up for Article 19 of the Constitution! <a href="https://t.co/g64TNcfXJu">pic.twitter.com/g64TNcfXJu</a></p>&mdash; Mushahid Hussain (@Mushahid) <a href="https://twitter.com/Mushahid/status/1009295431053045761?ref_src=twsrc%5Etfw">June 20, 2018</a></blockquote>
<script async src="https://platform.twitter.com/widgets.js" charset="utf-8"></script>
</div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) حمید ہارون اور ایڈیٹرز کو سلام ہے جو آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت حاصل حقوق کی پاسداری کے لیے ڈٹے ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1080763</guid>
      <pubDate>Thu, 21 Jun 2018 18:28:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عامر وسیم)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/06/5b2b4988926b4.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/06/5b2b4988926b4.jpg?0.6289361983323563"/>
        <media:title>ڈان اخبار کی ترسیل میں رکاوٹ کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے—فوٹو: ثوبیہ شاہد
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
