<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 08 Apr 2026 01:56:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 08 Apr 2026 01:56:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پہلی بار کمپیوٹر کی 2 انسانوں سے دوبدو بحث
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1080906/</link>
      <description>&lt;p&gt;انسان اور مشین کا ویسے تو آپس کا کوئی موازنہ نہیں ہے، تاہم گزشتہ چند دہائیوں سے بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی کے باعث جدید کمپیوٹرائزڈ مشینیں انسان کی جگہ لیتی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;صنعت سے لے کر دفاتر، تعلیم، صحت اور سیکیورٹی سمیت کئی شعبوں میں اس وقت انسان کی جگہ مشینری لے چکی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگرچہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے انسان اور کمپیوٹر مشین کے درمیان خالصتا ذہنی کام کے حوالے سے بھی مقابلے منعقد ہوچکے ہیں، جس میں مختلف کھیل شامل ہیں، تاہم اب پہلی بار انسان اور کمپیوٹر میں بحث کا انعقاد کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جی ہاں، کمپیوٹر ٹیکنالوجی پر کام کرنے والی امریکی کمپنی &lt;a href="https://www.ibm.com/us-en/?lnk=m"&gt;&lt;strong&gt;’دی انٹرنیشنل بزنس مشینز کارپوریشن‘ (آئی بی ایم)&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کی جانب سے تیار کردہ ’آرٹیفیشل انٹیلی جنس‘ (اے آئی) یعنی مصنوعات ذہانت کے حامل کمپیوٹر اور 2 انسانوں کے درمیان بحث کا انعقاد کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/06/5b2e151e4ec91.jpg"  alt="بحث شروع ہونے سے قبل انسان کمپیوٹر کے سامنے تیاری کرتے ہوئے&amp;mdash;فوٹو: اے پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;بحث شروع ہونے سے قبل انسان کمپیوٹر کے سامنے تیاری کرتے ہوئے—فوٹو: اے پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق امریکی شہر سان فرانسسکو میں منعقد کی گئی بحث و مباحثے کی تقریب میں پہلی بار ایک کمپیوٹر جسے &lt;a href="http://www.research.ibm.com/artificial-intelligence/project-debater/"&gt;&lt;strong&gt;’پروجیکٹ ڈیبیٹر‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کا نام دیا گیا ہے، اس نے 2 انسانوں سے 2 مختلف موضوعات پر بحث کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق آئی بی ایم کے کمپیوٹر سے 2 انسانوں ایک مرد اور ایک خاتون نے خلائی تحقیقات پرحکومتی اخراجات اور ٹیلی میڈیسن ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری جیسے موضوعات پر بحث کی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/06/5b2e16b2e9cac.jpg"  alt="ڈین زیفرر نے کمپیوٹر کے ساتھ ٹیلی میڈیسن ٹیکنالوجی پر بحث کی&amp;mdash;فوٹو: اے پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ڈین زیفرر نے کمپیوٹر کے ساتھ ٹیلی میڈیسن ٹیکنالوجی پر بحث کی—فوٹو: اے پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگرچہ بحث کا مقصد مشین یا انسان کی ہار جیت نہیں تھا، تاہم تقریب میں شامل انسان اور ماہرین دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ایک مشین نے انٹرنیٹ کی مدد کے بغیر اپنی میموری میں موجود فائلز اور ریکارڈ کی مدد سے نہ صرف بہترین طریقے سے بحث کی، بلکہ انسانوں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات پر جوابات بھی دیے۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5b3252b132e41'&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1058320"&gt;گوگل کمپیوٹر نے انسان کو شکست دے دی&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;کمپیوٹر نے اپنی میموری میں موجود خلائی تحقیقات اور ٹیلی میڈیسن ٹیکنالوجی کے مواد سے مدد لیتے ہوئے انسانوں کے دلائل کے جواب میں اپنے دلائل پیش کیے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/06/5b2e170d43d4d.jpg"  alt="نووا اواڈیا نے کمپیوٹر کے ساتھ خلائی تحقیقات کے موضوع پر بحث کی&amp;mdash;فوٹو: اے پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;نووا اواڈیا نے کمپیوٹر کے ساتھ خلائی تحقیقات کے موضوع پر بحث کی—فوٹو: اے پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ پہلا موقع ہے کہ کسی کمپیوٹر سے انسانوں نے کھیل کے بجائے علمی و عقلی موضوعات پر بحث کی، اس سے قبل کمپیوٹر اور انسان کے درمیان شطرنج اور فٹ بال سمیت دیگر کھیلوں کے مقابلے منعقد ہوچکے ہیں، جن میں حٰیران کن طور پر مشینوں نے انسان سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/06/5b2e1769577ea.jpg"  alt="بحث سے قبل ماہرین نے کمپیوٹر کا جائزہ بھی لیا&amp;mdash;فوٹو: اے پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;بحث سے قبل ماہرین نے کمپیوٹر کا جائزہ بھی لیا—فوٹو: اے پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگرچہ انسان اور کمپیوٹر کے درمیان ہونے والی بحث کو ہار اور جیت کے تناظر میں نہیں دیکھا گیا، تاہم ماہرین نے ایک کمپیوٹر کی جانب سے علمی بحث پر خود میں فیڈ ہوئی میموری سے دلائل ڈھونڈ کر پیش کرنے کے مظاہرے کو اہم اور تاریخی قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اب آئی بی ایم کے علاوہ بھی گوگل سمیت دیگر ٹیکنالوجی کمپنیاں اس طرح کے ڈیبیٹر کمپیوٹر بناکر انہیں عالمی مباحثوں میں پیش کریں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/06/5b2e17d7b356d.jpg"  alt="پروجیکٹ ڈیبیٹر کا ڈیزائن عام کمپیوٹر سے مختلف ہے&amp;mdash;فوٹو: اے پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;پروجیکٹ ڈیبیٹر کا ڈیزائن عام کمپیوٹر سے مختلف ہے—فوٹو: اے پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انسان اور مشین کا ویسے تو آپس کا کوئی موازنہ نہیں ہے، تاہم گزشتہ چند دہائیوں سے بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی کے باعث جدید کمپیوٹرائزڈ مشینیں انسان کی جگہ لیتی جا رہی ہیں۔</p>

<p>صنعت سے لے کر دفاتر، تعلیم، صحت اور سیکیورٹی سمیت کئی شعبوں میں اس وقت انسان کی جگہ مشینری لے چکی ہے۔</p>

<p>اگرچہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے انسان اور کمپیوٹر مشین کے درمیان خالصتا ذہنی کام کے حوالے سے بھی مقابلے منعقد ہوچکے ہیں، جس میں مختلف کھیل شامل ہیں، تاہم اب پہلی بار انسان اور کمپیوٹر میں بحث کا انعقاد کیا گیا۔</p>

<p>جی ہاں، کمپیوٹر ٹیکنالوجی پر کام کرنے والی امریکی کمپنی <a href="https://www.ibm.com/us-en/?lnk=m"><strong>’دی انٹرنیشنل بزنس مشینز کارپوریشن‘ (آئی بی ایم)</strong></a> کی جانب سے تیار کردہ ’آرٹیفیشل انٹیلی جنس‘ (اے آئی) یعنی مصنوعات ذہانت کے حامل کمپیوٹر اور 2 انسانوں کے درمیان بحث کا انعقاد کیا گیا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/06/5b2e151e4ec91.jpg"  alt="بحث شروع ہونے سے قبل انسان کمپیوٹر کے سامنے تیاری کرتے ہوئے&mdash;فوٹو: اے پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">بحث شروع ہونے سے قبل انسان کمپیوٹر کے سامنے تیاری کرتے ہوئے—فوٹو: اے پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق امریکی شہر سان فرانسسکو میں منعقد کی گئی بحث و مباحثے کی تقریب میں پہلی بار ایک کمپیوٹر جسے <a href="http://www.research.ibm.com/artificial-intelligence/project-debater/"><strong>’پروجیکٹ ڈیبیٹر‘</strong></a> کا نام دیا گیا ہے، اس نے 2 انسانوں سے 2 مختلف موضوعات پر بحث کی۔</p>

<p>رپورٹ کے مطابق آئی بی ایم کے کمپیوٹر سے 2 انسانوں ایک مرد اور ایک خاتون نے خلائی تحقیقات پرحکومتی اخراجات اور ٹیلی میڈیسن ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری جیسے موضوعات پر بحث کی۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/06/5b2e16b2e9cac.jpg"  alt="ڈین زیفرر نے کمپیوٹر کے ساتھ ٹیلی میڈیسن ٹیکنالوجی پر بحث کی&mdash;فوٹو: اے پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ڈین زیفرر نے کمپیوٹر کے ساتھ ٹیلی میڈیسن ٹیکنالوجی پر بحث کی—فوٹو: اے پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اگرچہ بحث کا مقصد مشین یا انسان کی ہار جیت نہیں تھا، تاہم تقریب میں شامل انسان اور ماہرین دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ایک مشین نے انٹرنیٹ کی مدد کے بغیر اپنی میموری میں موجود فائلز اور ریکارڈ کی مدد سے نہ صرف بہترین طریقے سے بحث کی، بلکہ انسانوں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات پر جوابات بھی دیے۔</p>

<h6 id='5b3252b132e41'>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1058320">گوگل کمپیوٹر نے انسان کو شکست دے دی</a></h6>

<p>کمپیوٹر نے اپنی میموری میں موجود خلائی تحقیقات اور ٹیلی میڈیسن ٹیکنالوجی کے مواد سے مدد لیتے ہوئے انسانوں کے دلائل کے جواب میں اپنے دلائل پیش کیے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/06/5b2e170d43d4d.jpg"  alt="نووا اواڈیا نے کمپیوٹر کے ساتھ خلائی تحقیقات کے موضوع پر بحث کی&mdash;فوٹو: اے پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">نووا اواڈیا نے کمپیوٹر کے ساتھ خلائی تحقیقات کے موضوع پر بحث کی—فوٹو: اے پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>یہ پہلا موقع ہے کہ کسی کمپیوٹر سے انسانوں نے کھیل کے بجائے علمی و عقلی موضوعات پر بحث کی، اس سے قبل کمپیوٹر اور انسان کے درمیان شطرنج اور فٹ بال سمیت دیگر کھیلوں کے مقابلے منعقد ہوچکے ہیں، جن میں حٰیران کن طور پر مشینوں نے انسان سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/06/5b2e1769577ea.jpg"  alt="بحث سے قبل ماہرین نے کمپیوٹر کا جائزہ بھی لیا&mdash;فوٹو: اے پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">بحث سے قبل ماہرین نے کمپیوٹر کا جائزہ بھی لیا—فوٹو: اے پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اگرچہ انسان اور کمپیوٹر کے درمیان ہونے والی بحث کو ہار اور جیت کے تناظر میں نہیں دیکھا گیا، تاہم ماہرین نے ایک کمپیوٹر کی جانب سے علمی بحث پر خود میں فیڈ ہوئی میموری سے دلائل ڈھونڈ کر پیش کرنے کے مظاہرے کو اہم اور تاریخی قرار دیا ہے۔</p>

<p>خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اب آئی بی ایم کے علاوہ بھی گوگل سمیت دیگر ٹیکنالوجی کمپنیاں اس طرح کے ڈیبیٹر کمپیوٹر بناکر انہیں عالمی مباحثوں میں پیش کریں گی۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/06/5b2e17d7b356d.jpg"  alt="پروجیکٹ ڈیبیٹر کا ڈیزائن عام کمپیوٹر سے مختلف ہے&mdash;فوٹو: اے پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">پروجیکٹ ڈیبیٹر کا ڈیزائن عام کمپیوٹر سے مختلف ہے—فوٹو: اے پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1080906</guid>
      <pubDate>Tue, 26 Jun 2018 19:50:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/06/5b2e14563c99c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/06/5b2e14563c99c.jpg?0.17479215126949232"/>
        <media:title>کمپیوٹر سے بحث کرنے والے انسانوں کو موضوعات پر دسترس حاصل تھی—فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
