<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 15:43:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 15:43:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی ساختہ سیٹلائٹ آئندہ ماہ خلا میں روانہ کیا جائے گا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1080996/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: وزارت خارجہ امورکی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ پاکستان میں تیار کردہ 2 سو 85 کلوگرام وزن کا حامل پاک ٹیس-اے ون نامی آبزرویٹری سیٹلائٹ آئندہ ماہ جولائی میں خلا میں روانہ کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حساس آلات اور کیمروں سے لیس پاک ٹیس-اے ون نامی یہ سیٹیلائٹ خلا میں 610 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود رہے گا اور سورج کے حساب سے اپنی جگہ تبدیل نہیں کرے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1000130"&gt;پاکستان کا پہلا کیوب سیٹ سیٹیلائٹ روس سے لانچ کردیا گیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے دفتر خارجہ کے ترجمان  ڈاکٹر محمد فیصل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ٹوئٹ کے ذریعے سائنسدانوں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے پاکستان کو قابل فخر بنایا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;&lt;blockquote class="twitter-tweet"&gt;&lt;p lang="en" dir="ltr"&gt;PakTES-1A - an indigenously developed 285 kg remote sensing satellite of Pakistan. It will be launched at 610 km sun-synchronous orbit in July 2018. &amp;#128077; &amp;#128079;&amp;#128074;&amp;#127477;&amp;#127472; &lt;a href="https://twitter.com/hashtag/proudofpakistaniscientists?src=hash&amp;amp;ref_src=twsrc%5Etfw"&gt;#proudofpakistaniscientists&lt;/a&gt; &lt;a href="https://t.co/ijpSJrrAzs"&gt;pic.twitter.com/ijpSJrrAzs&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&amp;mdash; Dr Mohammad Faisal (@DrMFaisal) &lt;a href="https://twitter.com/DrMFaisal/status/1010738517536894976?ref_src=twsrc%5Etfw"&gt;June 24, 2018&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt;
&lt;script async src="https://platform.twitter.com/widgets.js" charset="utf-8"&gt;&lt;/script&gt;
&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ (آر ایس ایس) کے نام سے معروف اس سیٹلائٹ کی مدد سے زمین کے کئی خدوخال کا جائزہ لیا جاسکتا ہے اور معدنی ذخائر کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے  ساتھ سیٹلائٹ میں نصب حساسیت محسوس کرنے والے آلات کے سبب آر ایس ایس موسمیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے میں بھی مددگار ثابت ہوگا، جس میں گلیشیئرز پگھلنے کا عمل، گرین ہاؤس گیسز کا اخراج، جنگلات میں لگی آگ کو جانچنا اور زراعت اور جنگلات سے متعلق مسائل کو حل کرنا بھی شامل ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم مذکورہ کاموں کے علاوہ بھی سیٹلائٹ مزید فعال اور غیر فعال سرگرمیاں انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1057277"&gt;بھارت نے ’مواصلاتی سیٹلائٹ‘ خلا میں چھوڑ دیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ سیٹلائٹ کے لیے سمت کا تعین کرنے والی ٹیکنالوجی سال 2012 میں چین سے حاصل کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے جب قومی خلائی ادارے، پاکستانی اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن(سپارکو) اور پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے سیٹلائٹ کے حوالے سے معلومات فراہم کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وا ضح رہے بھارت کی جانب سے اس قسم کی سیٹیلائٹ خلا میں بھیجنے کا سلسلہ 1970 سے جاری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ضمن میں سابق وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی ڈاکٹر عطا الرحمٰن نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی سائنسدانوں کو مبارکباد پیش کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ آئندہ ماہ سیٹلائٹ خلا میں بھیجنا ایک قبل فخر لمحہ اور مثبت قدم ہے، کیونکہ ہمارے سائنسدان سیٹلائٹ بنانے اور خلا میں بھیجنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1080636"&gt;امریکا اب خلا میں بھی فوج بھیجے گا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ بھاری بھرکم اور بڑے مواصلاتی سیٹلائٹس کے مقابلے میں آبزرویٹری سیٹلائٹ ایک سادہ ٹیکنالوجی ہے جس میں نصب مختلف قسم کے مشاہداتی آلات کے سبب کئی سرگرمیاں سرانجام دی جاسکتی ہیں جبکہ اس سے برقی مقناطیسی لہروں اور زمین سے اٹھنے والی شعاعوں کے اخراج کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں پاکستان خلائی سرگرمیوں میں بہت زیادہ پیچھے ہے جبکہ بھارت کے مقابے میں بھی ہم ابھی 25-30 سال پیچھے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 25 جون 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: وزارت خارجہ امورکی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ پاکستان میں تیار کردہ 2 سو 85 کلوگرام وزن کا حامل پاک ٹیس-اے ون نامی آبزرویٹری سیٹلائٹ آئندہ ماہ جولائی میں خلا میں روانہ کردیا جائے گا۔</p>

<p>حساس آلات اور کیمروں سے لیس پاک ٹیس-اے ون نامی یہ سیٹیلائٹ خلا میں 610 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود رہے گا اور سورج کے حساب سے اپنی جگہ تبدیل نہیں کرے گا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1000130">پاکستان کا پہلا کیوب سیٹ سیٹیلائٹ روس سے لانچ کردیا گیا</a></strong></p>

<p>اس حوالے سے دفتر خارجہ کے ترجمان  ڈاکٹر محمد فیصل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ٹوئٹ کے ذریعے سائنسدانوں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے پاکستان کو قابل فخر بنایا۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '><blockquote class="twitter-tweet"><p lang="en" dir="ltr">PakTES-1A - an indigenously developed 285 kg remote sensing satellite of Pakistan. It will be launched at 610 km sun-synchronous orbit in July 2018. &#128077; &#128079;&#128074;&#127477;&#127472; <a href="https://twitter.com/hashtag/proudofpakistaniscientists?src=hash&amp;ref_src=twsrc%5Etfw">#proudofpakistaniscientists</a> <a href="https://t.co/ijpSJrrAzs">pic.twitter.com/ijpSJrrAzs</a></p>&mdash; Dr Mohammad Faisal (@DrMFaisal) <a href="https://twitter.com/DrMFaisal/status/1010738517536894976?ref_src=twsrc%5Etfw">June 24, 2018</a></blockquote>
<script async src="https://platform.twitter.com/widgets.js" charset="utf-8"></script>
</div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>خیال رہے کہ ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ (آر ایس ایس) کے نام سے معروف اس سیٹلائٹ کی مدد سے زمین کے کئی خدوخال کا جائزہ لیا جاسکتا ہے اور معدنی ذخائر کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔</p>

<p>اس کے  ساتھ سیٹلائٹ میں نصب حساسیت محسوس کرنے والے آلات کے سبب آر ایس ایس موسمیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے میں بھی مددگار ثابت ہوگا، جس میں گلیشیئرز پگھلنے کا عمل، گرین ہاؤس گیسز کا اخراج، جنگلات میں لگی آگ کو جانچنا اور زراعت اور جنگلات سے متعلق مسائل کو حل کرنا بھی شامل ہے۔ </p>

<p>تاہم مذکورہ کاموں کے علاوہ بھی سیٹلائٹ مزید فعال اور غیر فعال سرگرمیاں انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1057277">بھارت نے ’مواصلاتی سیٹلائٹ‘ خلا میں چھوڑ دیا</a></strong></p>

<p>خیال رہے کہ سیٹلائٹ کے لیے سمت کا تعین کرنے والی ٹیکنالوجی سال 2012 میں چین سے حاصل کی گئی تھی۔</p>

<p>اس حوالے سے جب قومی خلائی ادارے، پاکستانی اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن(سپارکو) اور پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے سیٹلائٹ کے حوالے سے معلومات فراہم کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔</p>

<p>وا ضح رہے بھارت کی جانب سے اس قسم کی سیٹیلائٹ خلا میں بھیجنے کا سلسلہ 1970 سے جاری ہے۔</p>

<p>اس ضمن میں سابق وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی ڈاکٹر عطا الرحمٰن نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی سائنسدانوں کو مبارکباد پیش کی۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ آئندہ ماہ سیٹلائٹ خلا میں بھیجنا ایک قبل فخر لمحہ اور مثبت قدم ہے، کیونکہ ہمارے سائنسدان سیٹلائٹ بنانے اور خلا میں بھیجنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1080636">امریکا اب خلا میں بھی فوج بھیجے گا</a></strong> </p>

<p>دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ بھاری بھرکم اور بڑے مواصلاتی سیٹلائٹس کے مقابلے میں آبزرویٹری سیٹلائٹ ایک سادہ ٹیکنالوجی ہے جس میں نصب مختلف قسم کے مشاہداتی آلات کے سبب کئی سرگرمیاں سرانجام دی جاسکتی ہیں جبکہ اس سے برقی مقناطیسی لہروں اور زمین سے اٹھنے والی شعاعوں کے اخراج کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔</p>

<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں پاکستان خلائی سرگرمیوں میں بہت زیادہ پیچھے ہے جبکہ بھارت کے مقابے میں بھی ہم ابھی 25-30 سال پیچھے ہیں۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 25 جون 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1080996</guid>
      <pubDate>Mon, 25 Jun 2018 10:13:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (جمال شاہد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/06/5b305e5d5d8e3.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/06/5b305e5d5d8e3.jpg"/>
        <media:title>پاکستانی ساختہ سیٹلائٹ، پاک ٹیس-اے ون — فوٹو بشکریہ، دفتر خارجہ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
