<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 10:55:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 10:55:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عہد ساز شخصیت "نیلسن منڈیلا"
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1082740/</link>
      <description>&lt;p&gt;آج نیلسن منڈیلا کی 100ویں سالگرہ کے موقع پردنیا بھر میں ان کا دن منایا جارہا ہے، ان کی طویل جد وجہد نے جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آج ساری دنیا جس عظیم انسان کو خراجِ تحسین پیش کررہی ہے، ایک زمانہ وہ بھی گزرا ہے، جب امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی مغربی طاقتیں اور سیاستدان اسے ایک خطرناک شخصیت قرار دیتے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سیاہ فاموں کے حقوق کے لیے طویل جدوجہد کرنے والے منڈیلا نے جیلیں بھی کاٹیں، جلا وطنیوں کا دکھ بھی سہا، تکالیف، اذیت اور اپنوں سے دوری کا غم بھی جھیلا، اور پھر بالآخر وہ وقت بھی آیا جب وہ سنہ 1994 میں جنوبی افریقہ کے صدر منتخب ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ نیلسن منڈیلا ہی تھے جن کی طویل جدوجہد نے جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کا خاتمہ کیا، صدر بننے کے بعد انہوں نے اعلان کیا، "آج قانون کی نظر میں جنوبی افریقہ کے تمام لوگ برابر ہیں وہ اپنی مرضی سے ووٹ دے سکتے ہیں اور اپنی مرضی سے زندگی گزار سکتے ہیں"۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وہ کہتے تھے "زندگی میں کبھی ناکام نہ ہونا عظمت نہیں، بلکہ گرنے کے بعد اٹھنا عظمت کی نشانی ہے"۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آج نیلسن منڈیلا کی 100ویں سالگرہ کے موقع پردنیا بھر میں ان کا دن منایا جارہا ہے، ان کی طویل جد وجہد نے جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔</p>

<p>آج ساری دنیا جس عظیم انسان کو خراجِ تحسین پیش کررہی ہے، ایک زمانہ وہ بھی گزرا ہے، جب امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی مغربی طاقتیں اور سیاستدان اسے ایک خطرناک شخصیت قرار دیتے تھے۔</p>

<p>سیاہ فاموں کے حقوق کے لیے طویل جدوجہد کرنے والے منڈیلا نے جیلیں بھی کاٹیں، جلا وطنیوں کا دکھ بھی سہا، تکالیف، اذیت اور اپنوں سے دوری کا غم بھی جھیلا، اور پھر بالآخر وہ وقت بھی آیا جب وہ سنہ 1994 میں جنوبی افریقہ کے صدر منتخب ہوئے۔</p>

<p>یہ نیلسن منڈیلا ہی تھے جن کی طویل جدوجہد نے جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کا خاتمہ کیا، صدر بننے کے بعد انہوں نے اعلان کیا، "آج قانون کی نظر میں جنوبی افریقہ کے تمام لوگ برابر ہیں وہ اپنی مرضی سے ووٹ دے سکتے ہیں اور اپنی مرضی سے زندگی گزار سکتے ہیں"۔</p>

<p>وہ کہتے تھے "زندگی میں کبھی ناکام نہ ہونا عظمت نہیں، بلکہ گرنے کے بعد اٹھنا عظمت کی نشانی ہے"۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1082740</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Jul 2018 15:17:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/07/5b4f0c021a4ce.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/07/5b4f0c021a4ce.jpg"/>
        <media:title>منڈیلا کی پیدائش 1918ء میں جنوبی افریقہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ہوئی تھی — فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/07/5b4f0c03ec831.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/07/5b4f0c03ec831.jpg"/>
        <media:title>وہ مديبا قبیلے سے تھے اور جنوبی افریقہ میں انہیں اکثر ان کے قبیلے کے نام یعنی مدیبا کہہ کر بلایا جاتا تھا  — فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/07/5b4f0c0436faf.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/07/5b4f0c0436faf.jpg"/>
        <media:title>ان کے قبیلے نے ان کا نام ”رولہلاہلا دالب ہگا“ رکھا تھا لیکن ان کے اسکول کے ایک ٹیچر نے ان کا انگریزی نام نیلسن رکھا  — فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/07/5b4f0c03989f9.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/07/5b4f0c03989f9.jpg"/>
        <media:title>ان کے والد تھیبو راج خاندان میں مشیر تھے اور جب ان کی وفات ہوئی تو نیلسن منڈیلا 9 سال کے تھے  — فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/07/5b4f0c0498e06.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/07/5b4f0c0498e06.jpg"/>
        <media:title>ان کا بچپن تھیبو قبیلے کے سربراہ جوگنتابا دلنديابو کی نگرانی میں گزرا — فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/07/5b4f0c05a40f5.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/07/5b4f0c05a40f5.jpg"/>
        <media:title>انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی تھی اور 1952ء میں جوہانسبرگ میں اپنے دوست اولیور ٹیبو کے ساتھ وکالت شروع کی ان دونوں نے نسل پرستانہ پالیسیوں کے خلاف مہم چلائی — فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/07/5b4f0c05a7d69.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/07/5b4f0c05a7d69.jpg"/>
        <media:title>منڈیلا افریقہ کے کئی ممالک میں بحالیٔ امن کے عمل میں بھی شامل رہے — فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/07/5b4f0c050011c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/07/5b4f0c050011c.jpg"/>
        <media:title>وہ لوگ جنہوں نے نیلسن مینڈیلا کو جیل میں قید رکھا، انہیں اذیتیں دیں، انہوں نے ان کے لیے کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی — فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/07/5b4f0c05990e0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/07/5b4f0c05990e0.jpg"/>
        <media:title>وہ ہمیشہ خوش مزاج نظر آئے اور ان کی شخصیت اور زندگی کی داستان نے پوری دنیا کو متاثر کیا — فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/07/5b4f0c0533f58.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/07/5b4f0c0533f58.jpg"/>
        <media:title>ان کی پہلی شادی 1944ء میں ہوئی تھی، اور اس سے ان کی 3 اولادیں ہوئیں،13 برس کے بعد ان کی علیحدگی ہوگئی — فوٹو: اے  پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/07/5b4f0c9d47c6c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/07/5b4f0c9d47c6c.jpg"/>
        <media:title>5 سال صدر کے عہدے پر فائز رہنے کے بعد 1999ء میں انہوں نے اقتدار چھوڑدیا اور جنوبی افریقہ کے سب سے زیادہ بااثر سفارتکار ثابت ہوئے — فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/07/5b4f0c03aa9de.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/07/5b4f0c03aa9de.jpg"/>
        <media:title>نیلسن مینڈیلا کہتے تھے کہ "میرے ذہن میں ایک ایسے جمہوری اور آزاد معاشرے کا تصور ہے جہاں تمام لوگ پُرامن طریقے سے رہیں اور اُنہیں برابری کا موقع ملے۔ یہ وہ سوچ ہے جسے حاصل کرنے کے لیے میں جینا چاہتا ہوں، لیکن اگر ضرورت پڑی تو اس کے لیے میں مرنے کو بھی تیار ہوں" — فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
