<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 16:28:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 16:28:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ: سرحد پر جاری احتجاج میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں 2 فلسطینی جاں بحق
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1083800/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسرائیلی فوج کی جانب سے سرحد کے قریب احتجاجی مظاہرے پر فائرنگ سے بچے سمیت 2 فلسطینی جاں بحق ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;غزہ میں حماس حکومت کے وزیر صحت کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں میں ایک 14 سالہ بچہ بھی شامل ہے جن کو شمالی غزہ پٹی پر سر پر گولی مار کر نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل وزارت کی جانب سے بیان جاری کیا گیا تھا کہ 43 سالہ غازی ابو مصطفیٰ کو اسرائیلی فوج نے سر پر گولی مار کر ہلاک کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فلسطینیوں کی ہلاکت پر اسرائیلی فوج کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 7 ہزار فلسطینی مظاہرین کی جانب سے ان پر پتھر برسائے گئے اور جلتے ہوئے ٹائر پھینکے گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ غزہ پٹی پر فلسطینی مظاہرین کی جانب سے رواں سال مارچ کے مہینے سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں جہاں اب تک 156 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5b5b9462f053d'&gt;جھڑپ کے بعد، اسرائیلی پولیس نے مسجد الاقصیٰ کھول دی&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;ادھر یروشلم میں اسرائیلی پولیس نے جمعے کی نماز کے دوران فلسطینیوں سے مسجد اقصیٰ میں ہونے والی جھڑپ کے بعد بند کی گئی مسجد کو دوبارہ کھول دیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق جھڑپ کے پیش نظر اسرائیلی فورسز نے اسلام کی مقدس ترین جگہوں میں سے ایک مقام کے داخلی و خارجی راستوں کو تقریباً 4 گھنٹے تک بند رکھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عینی شاہدین نے اے ایف پی کے فوٹوگرافر کو بتایا کہ مسجد کو شام کے وقت دوبارہ کھول دیا گیا تھا جس کے بعد مسجد میں نمازیوں کی آمد شروع ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/Mai_Gazan/status/1022858316425441282"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسرائیلی پولیس کے مطابق جھڑپ کا آغاز جمعے کی نماز کے بعد پولیس کی جانب فائر ورکس پھینکنے کے بعد ہوا، جس کے بعد پولیس نے مسجد میں داخل ہوکر اسے خالی کرایا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جھڑپ کے دوران اسرائیلی پولیس نے کئی مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذہبی حکام کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پولیس نے فلسطینیوں پر آنسو گیس کے شیل فائر کیے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2018/07/5b5b6efa697ec.jpg"  alt="قبۃ الصخرہ کے پاس مسلمان اسرائیلی پولیس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں &amp;mdash; فوٹو: اے ایف پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;قبۃ الصخرہ کے پاس مسلمان اسرائیلی پولیس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں — فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں پولیس نے مسجداقصیٰ کا گھیراؤ کرکے کئی درجن افراد کو گرفتار کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اردن، جس کو یروشلم کی مذہبی مقامات کا سرپرست تصور کیا جاتا ہے، نے اسرائیلی اقدام کی مذمت کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اردن کی جانب سے جاری بیان میں مسجد اقصیٰ کی خلاف ورزیوں اور اشتعال انگیزیوں، بالخصوص اسرائیلی پولیس کی مسجد میں شیلنگ اور نمازیوں کے خلاف جارحیت کی مذمت کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ مسجد اقصیٰ کا حصہ جہاں قبۃ الصخرہ واقع ہے، اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع کی اہم وجہ جانا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسرائیلی فوج کی جانب سے سرحد کے قریب احتجاجی مظاہرے پر فائرنگ سے بچے سمیت 2 فلسطینی جاں بحق ہوگئے۔</p>

<p>غزہ میں حماس حکومت کے وزیر صحت کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں میں ایک 14 سالہ بچہ بھی شامل ہے جن کو شمالی غزہ پٹی پر سر پر گولی مار کر نشانہ بنایا گیا۔</p>

<p>اس سے قبل وزارت کی جانب سے بیان جاری کیا گیا تھا کہ 43 سالہ غازی ابو مصطفیٰ کو اسرائیلی فوج نے سر پر گولی مار کر ہلاک کیا تھا۔</p>

<p>فلسطینیوں کی ہلاکت پر اسرائیلی فوج کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 7 ہزار فلسطینی مظاہرین کی جانب سے ان پر پتھر برسائے گئے اور جلتے ہوئے ٹائر پھینکے گئے تھے۔</p>

<p>خیال رہے کہ غزہ پٹی پر فلسطینی مظاہرین کی جانب سے رواں سال مارچ کے مہینے سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں جہاں اب تک 156 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔</p>

<h3 id='5b5b9462f053d'>جھڑپ کے بعد، اسرائیلی پولیس نے مسجد الاقصیٰ کھول دی</h3>

<p>ادھر یروشلم میں اسرائیلی پولیس نے جمعے کی نماز کے دوران فلسطینیوں سے مسجد اقصیٰ میں ہونے والی جھڑپ کے بعد بند کی گئی مسجد کو دوبارہ کھول دیا ہے۔</p>

<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق جھڑپ کے پیش نظر اسرائیلی فورسز نے اسلام کی مقدس ترین جگہوں میں سے ایک مقام کے داخلی و خارجی راستوں کو تقریباً 4 گھنٹے تک بند رکھا۔</p>

<p>عینی شاہدین نے اے ایف پی کے فوٹوگرافر کو بتایا کہ مسجد کو شام کے وقت دوبارہ کھول دیا گیا تھا جس کے بعد مسجد میں نمازیوں کی آمد شروع ہوئی۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/Mai_Gazan/status/1022858316425441282"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اسرائیلی پولیس کے مطابق جھڑپ کا آغاز جمعے کی نماز کے بعد پولیس کی جانب فائر ورکس پھینکنے کے بعد ہوا، جس کے بعد پولیس نے مسجد میں داخل ہوکر اسے خالی کرایا تھا۔</p>

<p>جھڑپ کے دوران اسرائیلی پولیس نے کئی مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کیا۔</p>

<p>مذہبی حکام کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پولیس نے فلسطینیوں پر آنسو گیس کے شیل فائر کیے تھے۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/medium/2018/07/5b5b6efa697ec.jpg"  alt="قبۃ الصخرہ کے پاس مسلمان اسرائیلی پولیس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں &mdash; فوٹو: اے ایف پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">قبۃ الصخرہ کے پاس مسلمان اسرائیلی پولیس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں — فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>بعد ازاں پولیس نے مسجداقصیٰ کا گھیراؤ کرکے کئی درجن افراد کو گرفتار کیا۔</p>

<p>اردن، جس کو یروشلم کی مذہبی مقامات کا سرپرست تصور کیا جاتا ہے، نے اسرائیلی اقدام کی مذمت کی۔</p>

<p>اردن کی جانب سے جاری بیان میں مسجد اقصیٰ کی خلاف ورزیوں اور اشتعال انگیزیوں، بالخصوص اسرائیلی پولیس کی مسجد میں شیلنگ اور نمازیوں کے خلاف جارحیت کی مذمت کی گئی۔</p>

<p>واضح رہے کہ مسجد اقصیٰ کا حصہ جہاں قبۃ الصخرہ واقع ہے، اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع کی اہم وجہ جانا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1083800</guid>
      <pubDate>Sat, 28 Jul 2018 02:53:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/07/5b5b8dbec9288.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/07/5b5b8dbec9288.jpg"/>
        <media:title>فلسطینی مظاہرین پر اسرائیلی فوج کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ کی جارہی ہے — فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
