<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 21 Jun 2026 18:50:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 21 Jun 2026 18:50:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھوجا طیارہ حادثہ:سول ایوی ایشن کا تحقیقاتی ٹیم کو فائل دینے سے انکار
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1084011/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے  2012 میں   ہونے والےبھوجا ایئرلائن کے طیارہ حادثے کی تفتیش کرنے والی  خصوصی تحقیقاتی ٹیم سے  تعاون کرنے سے انکار کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ تحقیقاتی ٹیم حال ہی میں کراچی سے واپس اسلام آبادلوٹی ہے، جہاں انہوں نے سی اے اے کے ڈائریکٹوریٹ فلائٹ اسٹینڈرڈ کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی ، تاہم انہوں  نے بھوجا ایئر حادثے کی فائل کے لیے کی گئی درخواست کو رد کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ ایئر لائنز کے آپریشن کے حوالے سے  درخواستوں  کی فائلز مرتب کرنا   ڈی ایف سی   کی ذمہ داری ہے، جبکہ وہ  طیاروں کی فٹنس ، ایئرلائنز کو جاری کردہ لائسنس  اور سرٹیفکیٹ  کے حوالے سے ریکارڈ بھی مرتب رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1081486"&gt;بھوجا طیارہ حادثے کی ذمہ دار انتظامیہ قرار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ20 اپریل 2012 کو  کراچی سے اسلام آباد جانے والی بھوجا ایئر  کی فلائٹ نمبر بی4-213 بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئر پورٹ  پر  لینڈنگ سے قبل اسلام آباد کے نواحی گاؤں حسین آباد گاؤں میں حادثے کا شکار ہوگئی تھی ،  جس کے نتیجے میں کریو اراکین سمیت تمام مسافر ہلاک ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے بھوجا ایئر لائن کے مالک سمیت کئی افراد کے خلاف کورل پولیس نے جرم کا مقدمہ درج کیا تھا، اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق  حادثےکی تحقیقات کے لیے کمیشن بھی قائم کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمیشن کی رپورٹ میں  بھوجاایئر کے مالک اور فضائی کمپنی کے عملے  کے ساتھ سی اے اے  حکام کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا ، اور رپورٹ میں ملزمان قرار دیے گئے افراد کے خلاف ایک اور مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1068002"&gt;طیارہ حادثہ: پانچ سال بعد بھوجا ایئر مالکان کے خلاف مقدمہ درج&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ضمن میں ایک عہدیدار نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ رپورٹ کی روشنی میں حادثے کی مزید تحقیقات کے لیے تفتیشی ونگ کے تحت سپریٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) کی سربراہی میں 4 رکنی ٹیم قائم کی گئی تھی، جو ڈی ایف سی اسے بھوجا ایئر کی فائل حاصل کرنے کی کوشش کررہی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ فائل میں موجود دستاویزات سے  حادثے میں ملوث افراد کی نشاندہی کرنے میں مدد ملے گی، اس لیے تفتیشی اہلکار فائل پر خصوصی توجہ دے رہے تھے،تاہم ٹیم کے کراچی سے واپس لوٹنے پر علم ہوا کہ فائل تک رسائی دینے سے انکار کردیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اب ٹیم کے چیئرمین، سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل  کو  تفیتشی ٹیم کے سامنے فائل کے ہمراہ پیش ہونے کے لیے نوٹس جاری کر یں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1002090"&gt;بھوجا طیارہ حادثہ، پائلٹ آٹومیشن ڈیک سے ناواقف تھے، رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ضمن میں ایک اور عہدیدار نے بتایا کہ بھوجا ایئر کے چیئرمین، چیف ایگزیکٹو، ڈائریکٹر ، مینیجنگ ڈائریکٹر ، ڈائریکٹر نارتھ، چیف فنانس آفیسر، مارکیٹنگ ڈائریکٹر، ایم آئی ایس ڈائریکٹر، انجینئرنگ ڈائریکٹر سمیت 9 مشتبہ افراد کے واررنٹ جاری ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق  مذکورہ افراد میں سے 5 افراد پاکستان چھوڑ چکےہیں تاہم وہ اشتہاری قرار دیےجاچکے ہیں  اور  ان کی گرفتاری کیلئے انٹرپول  سے ریڈ وارنٹ کے اجرا کی کوششوں کا آغاز کردیا گیا ہے، جبکہ مقدمے میں نامزد 4 دیگر ملزمان نے اسلام آباد کی ماتحت عدالت سے ضمانت حاصل کرلی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ  خبر 31 جولائی 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے  2012 میں   ہونے والےبھوجا ایئرلائن کے طیارہ حادثے کی تفتیش کرنے والی  خصوصی تحقیقاتی ٹیم سے  تعاون کرنے سے انکار کردیا۔</p>

<p>واضح رہے کہ تحقیقاتی ٹیم حال ہی میں کراچی سے واپس اسلام آبادلوٹی ہے، جہاں انہوں نے سی اے اے کے ڈائریکٹوریٹ فلائٹ اسٹینڈرڈ کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی ، تاہم انہوں  نے بھوجا ایئر حادثے کی فائل کے لیے کی گئی درخواست کو رد کردیا۔</p>

<p>خیال رہے کہ ایئر لائنز کے آپریشن کے حوالے سے  درخواستوں  کی فائلز مرتب کرنا   ڈی ایف سی   کی ذمہ داری ہے، جبکہ وہ  طیاروں کی فٹنس ، ایئرلائنز کو جاری کردہ لائسنس  اور سرٹیفکیٹ  کے حوالے سے ریکارڈ بھی مرتب رکھتا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1081486">بھوجا طیارہ حادثے کی ذمہ دار انتظامیہ قرار</a></strong> </p>

<p>خیال رہے کہ20 اپریل 2012 کو  کراچی سے اسلام آباد جانے والی بھوجا ایئر  کی فلائٹ نمبر بی4-213 بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئر پورٹ  پر  لینڈنگ سے قبل اسلام آباد کے نواحی گاؤں حسین آباد گاؤں میں حادثے کا شکار ہوگئی تھی ،  جس کے نتیجے میں کریو اراکین سمیت تمام مسافر ہلاک ہوگئے تھے۔</p>

<p>اس حوالے سے بھوجا ایئر لائن کے مالک سمیت کئی افراد کے خلاف کورل پولیس نے جرم کا مقدمہ درج کیا تھا، اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق  حادثےکی تحقیقات کے لیے کمیشن بھی قائم کیا گیا تھا۔</p>

<p>کمیشن کی رپورٹ میں  بھوجاایئر کے مالک اور فضائی کمپنی کے عملے  کے ساتھ سی اے اے  حکام کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا ، اور رپورٹ میں ملزمان قرار دیے گئے افراد کے خلاف ایک اور مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1068002">طیارہ حادثہ: پانچ سال بعد بھوجا ایئر مالکان کے خلاف مقدمہ درج</a></strong></p>

<p>اس ضمن میں ایک عہدیدار نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ رپورٹ کی روشنی میں حادثے کی مزید تحقیقات کے لیے تفتیشی ونگ کے تحت سپریٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) کی سربراہی میں 4 رکنی ٹیم قائم کی گئی تھی، جو ڈی ایف سی اسے بھوجا ایئر کی فائل حاصل کرنے کی کوشش کررہی تھی۔</p>

<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ فائل میں موجود دستاویزات سے  حادثے میں ملوث افراد کی نشاندہی کرنے میں مدد ملے گی، اس لیے تفتیشی اہلکار فائل پر خصوصی توجہ دے رہے تھے،تاہم ٹیم کے کراچی سے واپس لوٹنے پر علم ہوا کہ فائل تک رسائی دینے سے انکار کردیا گیا۔</p>

<p>انہوں نے بتایا کہ اب ٹیم کے چیئرمین، سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل  کو  تفیتشی ٹیم کے سامنے فائل کے ہمراہ پیش ہونے کے لیے نوٹس جاری کر یں گے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1002090">بھوجا طیارہ حادثہ، پائلٹ آٹومیشن ڈیک سے ناواقف تھے، رپورٹ</a></strong> </p>

<p>اس ضمن میں ایک اور عہدیدار نے بتایا کہ بھوجا ایئر کے چیئرمین، چیف ایگزیکٹو، ڈائریکٹر ، مینیجنگ ڈائریکٹر ، ڈائریکٹر نارتھ، چیف فنانس آفیسر، مارکیٹنگ ڈائریکٹر، ایم آئی ایس ڈائریکٹر، انجینئرنگ ڈائریکٹر سمیت 9 مشتبہ افراد کے واررنٹ جاری ہوچکے ہیں۔</p>

<p>ذرائع کے مطابق  مذکورہ افراد میں سے 5 افراد پاکستان چھوڑ چکےہیں تاہم وہ اشتہاری قرار دیےجاچکے ہیں  اور  ان کی گرفتاری کیلئے انٹرپول  سے ریڈ وارنٹ کے اجرا کی کوششوں کا آغاز کردیا گیا ہے، جبکہ مقدمے میں نامزد 4 دیگر ملزمان نے اسلام آباد کی ماتحت عدالت سے ضمانت حاصل کرلی ہے۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ  خبر 31 جولائی 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong> </p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1084011</guid>
      <pubDate>Tue, 31 Jul 2018 11:33:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (منور عظیم)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/07/5b5ffbf29a2ee.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="350" width="670">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/07/5b5ffbf29a2ee.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
